المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. قِصَّةُ وِلَادَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی ولادت کا واقعہ
حدیث نمبر: 4202
حدثني علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن محمد بن الأزهر، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا علي بن مُسْهِر، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن جابر: أنَّ وَفْد نَجْرانَ أتَوا النبيَّ ﷺ، فقالوا: ما تقولُ في عيسى ابن مَريم؟ فقال:"هو رُوح اللهِ وَكَلِمَتُه وعبدُ الله ورسولُه" قالوا له: هل لك أن نُلاعِنَك أنه ليس كذلك؟ قال:"وذاك أحبُّ إليكم؟" قالوا: نعم، قال:"فإذا شئتُم" فجاء النبيُّ ﷺ وجَمَعَ ولدَه والحسنَ والحُسينَ، فقال رئيسُهم: لا تُلاعِنُوا هذا الرجلَ، فواللهِ لئن لاعَنْتُمُوه لَيُخسَفَنَّ بأحدِ الفريقَين، فجاؤوا، فقالوا: يا أبا القاسم، إنما أرادَ أن يُلاعِنكَ سُفهاؤُنا، وإنَّا نُحِبُّ أن تُعْفِيَنا، قال:"قد أعفَيتُكُم". ثم قال:"إنَّ العذابَ قد أظَلَّ نَجْرانَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4157 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4157 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ روح اللہ، کلمۃ اللہ، عبداللہ اور اس کے رسول تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: اگر فی الواقع ایسا نہ ہو تو کیا ہم ایک دوسرے پر لعنت کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ کام بہت اچھا لگتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، جیسے تمہاری مرضی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلوا لیا، ان کا سردار کہنے لگا: اس آدمی (محمد) پر لعنت مت کرو، خدا کی قسم! اگر تم اس کے ساتھ ملاعنہ کرو گے تو دونوں فریقوں میں سے ایک برباد ہو جائے گا۔ تو یہ لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے ابوالقاسم! ملاعنہ کی بات تو ہم میں سے بے وقوفوں نے کی ہے جبکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کیا۔ پھر فرمایا: عذاب تو نجران پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4202]
77. طَعْنُ الشَّيْطَانِ لِكُلِّ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا
ہر انسان کے بچے کو شیطان کا چھونا، سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے
حدیث نمبر: 4203
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله المَدِيني، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن [عبد الله بن] (1) يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"كل وَلَدِ آدمَ الشيطانُ نائلٌ منه تلك الطَّعْنةَ، ولهذا يَستَهِلُّ المولودُ صارخًا، إلّا ما كان من مريمَ بنت عِمران وابنها"، فإنَّ مريم حين وضعتْها - يعني - أمُّها، قالت: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [آل عِمران: 36] فضُرب دونَها الحِجابُ، فطَعَنَ فيه، ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾ [مريم:36] وهَلَكَتْ أمُّها، فضَمّتْها إلى خالتِها أمِّ يحيى (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4158 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4158 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نومولود کو شیطان چوبھ مارتا ہے جس کی وجہ سے نومولود روتا ہے، سوائے سیدنا مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کے کہ جب مریم کی ماں نے ان کو جنا تو وہ بولیں: اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا (آل عمران: 36، 37) ” میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں تو اسے اس کے رب نے بڑی اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا “ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو پھر ان کی خالہ سیدنا یحیی علیہ السلام کی والدہ نے ان کی پرورش کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4203]
حدیث نمبر: 4204
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبَهاني، حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن مَيْسرة، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"فيأتُون عيسى بالشفاعةِ، فيقول: هل تَعلَمُون أحدًا هو كَلِمةُ اللهِ ورُوحُه، ويُبرئُ الأَكْمَهَ والأبْرصَ ويُحيي الموتَى غَيري؟ فيقولون: لا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4159 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4159 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر سب لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کے لئے آئیں گے تو آپ فرمائیں گے: کیا تم میرے سوا کسی اور کو جانتے ہو جو کلمۃ اللہ ہو؟ جو روح اللہ ہو؟ جو مادر زاد اندھوں کو اور برص کے مریضوں کو شفا دیتا ہو؟ اور جو مردوں کو زندہ کرتا ہو؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4204]
78. ذِكْرُ أَفْضَلِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
دنیا کی افضل ترین عورتوں کا ذکر
حدیث نمبر: 4205
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا داود بن أبي الفُرات، حدثنا عِلْباء بن أحمرَ، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"أفضلُ نساءِ العالَمين خديجةُ بنتُ خَوَيلِد، وفاطمةُ بنتُ محمدٍ، ومريمُ بنت عِمران، وآسيةُ بنت مُزاحمٍ امرأةُ فِرعَون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4160 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا جہاں کی تمام عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4205]
حدیث نمبر: 4206
حدثنا أبو الطَّيِّب محمد بن محمد الشَّعِيري، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا جَرير بن حازم، حدثنا محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لم يتكلّم في المَهْد إلّا ثلاثةٌ (2) : عيسى ابن مريم، وشاهدُ يوسف، وصاحبُ جُرَيج، وابنُ ماشِطَةِ بنتِ فِرعَون" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4161 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4161 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گہوارے میں صرف تین اشخاص نے گفتگو کی ہے: (1) عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام۔ (2) یوسف علیہ السلام کا گواہ۔ (3) جریج کا گواہ۔ (4) ماشطہ بنت فرعون کا بیٹا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4206]
79. هُبُوطُ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَقَتْلُ الدَّجَّالِ وَإِشَاعَةُ الْإِسْلَامِ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دجال کا قتل اور اسلام کا غلبہ
حدیث نمبر: 4207
أخبرني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الحِيْرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عطاء مولى أم صُبيّة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لَيَهبِطَنّ عيسى ابن مريم حَكَمًا عَدْلًا، وإمامًا مُقسِطًا، ولَيَسلُكنَّ فَجًّا حاجًّا (1) أو مُعتَمِرًا، أو لَيُثنيِّهما، ولَيأتِيَنَّ قَبْري حتى يُسلِّم عَلَيَّ، ولأَرُدَّنَّ عليه". يقول أبو هُريرة: أيْ بَنِي أخي، إن رأيتُمُوه فقولوا: أبو هريرة يُقرِئُك السلامَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ضرور عادل فیصلہ کرنے والے اور منصف حکمران بن کر اتریں گے اور وہ اس گلی میں سے حج کرتے یا عمرہ کرتے یا ان دونوں کی نیت سے گزریں گے اور وہ میری قبر انور پر آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے۔ میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے میرے بھائی کے بیٹو! اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے کہیے گا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4207]
حدیث نمبر: 4208
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة والحسن بن الفضل، قالا: حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا همّام، حدثنا قَتَادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"إنَّ رُوحَ اللهِ عيسى ابنَ مريم نازِلٌ فيكم، فإذا رأيتُمُوه فاعرفُوه: رجلٌ مربُوعٌ إلى الحُمْرة والبَياض، عليه ثَوبانِ مُمَصَّران، كأنَّ رأسَه يَقطُر وإن لم يُصِبْه بَلَلٌ، فيَدُقُّ الصَّليبَ، ويَقتُل الخِنزيرَ، ويَضعُ الجِزيةَ، ويَدعُو الناس إلى الإسلام، فيُهلِكُ اللهُ في زمانِه المسيحَ الدَّجّال، وتقعُ الأمَنَةُ على أهلِ الأرض، حتى تَرْتَعَنَّ (1) الأسُودُ مع الإبِل، والنمُورُ مع البقر، والذئابُ مع الغَنَم، ويَلعبَ الصبيانُ مع الحيَّات، لا تَضرُّهنّ فيَمكُث أربعين سنةً، ثم يُتَوَفَّى ويُصلِّي عليه المُسلِمون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4163 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4163 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روح اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تم میں اترنے والے ہیں۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لو، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخی مائل سفید ہو گا۔ ان کے اوپر ہلکے زرد رنگ کے رنگے ہوئے دو کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے قطرے ٹپکتے ہوں گے اگرچہ ان کو تری نہ پہنچے گی۔ وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، ٹیکس معاف کر دیں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، روئے زمین پر امن کا دور دورہ ہو گا حتیٰ کہ شیر اور اونٹ ایک جگہ چریں گے، چیتا گایوں کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ہمراہ چرے گا۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے پھر بھی سانپ ان کو کچھ نہ کہیں گے۔ آپ چالیس سال قیام کریں گے۔ پھر آپ کا وصال ہو جائے گا اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ ٭٭ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4208]
80. ذِكْرُ عُمْرِ مَرْيَمَ وَعِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی عمروں کا ذکر
حدیث نمبر: 4209
حدثنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: تَوفّى اللهُ عيسى ابنَ مريم ثلاثَ ساعاتٍ من نهارٍ حين رفعَه إليه، والنصارى تزعُم أنه تَوفّاه سبعَ ساعاتٍ من النهار ثم أحياهُ، قال وهب: وزعمَتِ النصارى أنَّ مريم وَلَدَتْ عيسى لِمُضيِّ ثلاث مئة سنة وثلاثٍ وستين مِن وقتِ وِلادة الإسكندر، وزعَمُوا أنَّ مَولِدَ يحيى بن زكريا كان قبلَ مَولِد عيسى بستةِ أشهرٍ، وزعَمُوا أنَّ مريم حَمَلَتْ بعيسى ولها ثلاثَ عشرةَ سنةً، وأنَّ عيسى عاش إلى أن رُفع اثنتين وثلاثين سنةً، وأنَّ مريم بقيت بعد رفعِه ستَّ سنين، فكان جميعُ عُمرِها نَيِّفًا وخمسين سنةً، وكان زكريا بن بَرْخِيا أبُ يحيى بن زكريا وعمران (1) بن ماثان [أبو مريم متزوِّجين بأختين، إحداهما عند زكريا، وهي أم يحيى، والأخرى منهما عند عمران بن ماثان، وهي أم مريم، فمات عمران بن ماثان] (2) وأمُّ مريم حاملٌ بمريم، فلما وَلَدَت مريمَ كَفَلَها زكريا بعد موتِ أُمِّها، لأنَّ خالتَها أختَ أمِّها كانت عندَه، واسمُ أم مريم حَنَّة بنت فاقود بن قبيل (3) . قال الحاكم: قد اختلفت الروايات في عدد المُرسَلين من الأنبياء وسائر الأنبياء، والذي أدّى إليه الاجتهادُ من لَدُنْ آدمَ إلى أن بَعَثَ اللهُ نبيَّنا المصطفى ﷺ فقد ذَكَرتُهم. وقد ذكر المُرسَلين منهم وهبُ بن مُنبِّه في الحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4164 - عبد المنعم بن إدريس ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4164 - عبد المنعم بن إدريس ساقط
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو اٹھایا تو دن کی تین ساعتیں ان کو فوت کئے رکھا، جبکہ عیسائی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو سات ساعتیں وفات دئیے رکھی، پھر ان کو زندہ کر دیا۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور عیسائی یہ بھی گمان رکھتے ہیں کہ سکندر کی ولادت کے 363 برس بعد سیدنا مریم علیہا السلام کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور وہ یہ بھی گمان رکھتے ہیں کہ یحیی بن زکریا علیہما السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے 6 ماہ پہلے پیدا ہوئے اور وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ تیرہ سال کی عمر میں سیدنا مریم حاملہ ہوئیں اور حمل میں عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تھے اور یہ کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے جانے تک 32 سال عمر گزار چکے تھے اور یہ کہ سیدنا مریم علیہا السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بعد چھ سال تک زندہ رہیں۔ اس طرح ان کی کل عمر 56 سال بنتی ہے اور زکریا بن برخیا رضی اللہ عنہ، یحیی بن زکریا علیہما السلام کے والد تھے۔ وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ جب سیدنا مریم علیہا السلام کو حمل ہوا تو اس وقت سیدنا زکریا علیہ السلام کی عمر 200 سال تھی۔ جب مریم پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ کی وفات کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام نے ان کی کفالت کی۔ کیونکہ سیدنا مریم علیہا السلام کی خالہ، یعنی ان کی والدہ کی بہن، سیدنا زکریا علیہ السلام کے نکاح میں تھیں، سیدنا مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام حنہ بنت فاقوذ بن قیل تھا۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کی تعداد کے سلسلے میں روایات مختلف ہیں۔ انتہائی جدوجہد کے بعد سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی تعداد جو ثابت ہوئی ہے وہ درج ذیل ہے۔ درج ذیل حدیث میں سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ نے مرسلین کا ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4209]
81. ذِكْرُ حِرَفِ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ -
انبیاء علیہم السلام کے پیشوں کا ذکر
حدیث نمبر: 4210
حدَّثَناه الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، عن عبد الله بن عبّاس: أنه قال لرجلٍ جالسٍ عندَه وهو يُحدَّث أصحابه: ادْنُ منّي، فقال له الرجلُ: أبقاك اللهُ، والله ما أُحسِنُ أن أسألك كما سأل هؤلاء، فقال: ادْنُ منّي فأُحدّثَك عن الأنبياء المذكورين في كتاب الله، أُحدِّثُك عن آدمَ أنه كان عبدًا حَرّاثًا، وأحدِّثُك عن نوح أنه كان عبدًا نجّارًا، وأحدِّثُك عن إدريس أنه كان عبدًا خَيّاطًا، وأحدِّثُك عن داود أنه كان عبدًا زَرّادًا، وأحدّثُك عن موسى أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن إبراهيم أنه كان عبدًا زَرّاعًا، عظيمَ الضِّيافة، يُؤثِرُ المساكين على نفسه، ويَجبُرهم في ماله، وأحدِّثُك عن شعيب أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن لوط أنه كان عبدًا زَرّاعًا، وأحدِّثُك عن صالح أنه كان عبدًا، تاجِرًا، وأحدِّثُك عن سليمان أنه كان عبدًا آتاه الله المُلكَ وكان يَصومُ في أول الشهر ستةَ أيام، وفي وسطِه ثلاثةَ أيام، وفي آخره ثلاثةَ أيام، وكانت له تسعُ مئة سُرِّيّة، وثلاثُ مئة مَهْرِيّة (1) ، وأحدِّثُك عن ابن العَذْراء البَتُول عيسى ابن مريم أنه كان لا يَخبَأُ شيئًا لِغَدٍ، ويقول: الذي غَدَّاني سوف يُعشِّيني، والذي عَشَّاني سوف يُغدِّيني، يَعبُدُ الله ليلتَه كلَّها، يُصلِّي حتى تَطلُعَ الشمسُ، وهو بالنهار سائِحٌ، ويصوم الدهرَ كلَّه، ويقوم الليلَ كلَّه. وأحدِّثُك عن النبي المصطفى ﷺ أنه كان يَرعى غنمَ أهل بيتِه بأجيادٍ، وكان يصومُ فنقول: لا يُفطِر، ويُفطِر، فنقول: لا يصومُ، قَلَّما (2) رأيناهُ صائمًا، ويصومُ من كل شهر ثلاثةَ أيام، وكان ألْينَ الناس جانبًا، وأطيَبَهم خَبَرًا، وأطولَهم علمًا، وأُخبِرُك عن حَوّاء أنها كانت تَغزِلُ الشعرَ فتحوّلُه بيدِها، فتَكسُو نفسَها وولدَها، وأنَّ مريم بنت عِمران كانت تَصنعُ ذلك (3) . قال الحاكم: فأما الحديثُ المُسنَد العالي الذي يَدلُّ على الجُملة مُفسّرًا فهو الذي:
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھیوں سے محو گفتگو تھا۔ آپ نے اس سے کہا: میرے قریب آ جائیے۔ اس آدمی نے کہا: خدا کی قسم! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کر رہے ہیں، اسی طرح میرا آپ سے سوال کرنا کتنا ہی اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا: میرے قریب آ جائیے! میں تمہیں ان انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بتاتا ہوں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ سیدنا نوح علیہ السلام بڑھئی تھے۔ سیدنا ادریس علیہ السلام درزی تھے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام زرہیں بنایا کرتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ سیدنا صالح علیہ السلام تاجر تھے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شاندار حکومت عطا کی تھی۔ آپ ہر مہینے کے پہلے 6 دن، درمیان میں 3 دن اور آخر میں 3 دن روزہ رکھا کرتے تھے، آپ کے 700 فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔ اور میں تجھے یہ بھی بتاتا ہوں کہ کنواری مریم علیہا السلام کے بیٹے، سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اگلے دن کے لئے کبھی کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے، جس ذات نے مجھے ناشتہ دیا ہے، وہ شام کا کھانا بھی دے گی اور جس ذات نے مجھے شام کا کھانا دیا ہے، وہ ناشتہ بھی دے گی۔ آپ پوری پوری رات نماز میں گزار دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ آپ دن میں سیاحت کرتے تھے، آپ کا تمام دن روزے سے گزرتا اور تمام رات قیام میں گزرتی اور میں تجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتا ہوں۔ آپ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور آپ روزے رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ کبھی روزہ کا ناغہ نہیں کریں گے اور جب آپ ناغہ کرتے تو اتنے کرتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھا کریں گے۔ بہرحال ہم نے آپ کو اکثر روزے سے دیکھا۔ آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ سب سے زیادہ نرم مزاج، اچھی خبر دینے والے اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور میں تجھے سیدنا حواء کے بارے میں بتاتا ہوں، آپ چرخہ کاتا کرتی تھیں۔ آپ روئی کات کر اپنے ہاتھ سے اس کو بن کر پہنتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی پہناتی تھیں اور سیدنا مریم بنت عمران بھی یہی کام کیا کرتی تھیں۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: وہ حدیث جو سند عالی کے ہمراہ مروی ہے جس میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی تعداد کی وضاحت موجود ہے درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4210]
82. نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات و اوصاف
حدیث نمبر: 4211
حدّثَناه أبو الحسن علي بن الفضل بن إدريس السامِرِيّ ببغداد، حدثنا الحسن بن عَرَفة بن يزيد العَبْدي، حدثني يحيى بن سعيد السَّعْدي البصري، حدثنا عبد الملك بن جُريج عن عطاءٍ، عن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبي ذَرٍّ قال: دخلتُ على رسول الله ﷺ وهو في المسجد، فاغتنَمْتُ خَلْوتَه، فقال لي:"يا أبا ذَرٍّ، إنَّ للمسجدِ تحيةً" قلت: وما تحيتُه يا رسول الله؟ قال"ركعتان" فركَعْتُهما، ثم التفتُّ إليه فقلتُ: يا رسول الله، إنك أمرتَني بالصلاةِ، فما الصلاةُ؟ قال:"خَيرُ موضوعٍ، فمن شاء أقَلَّ، ومن شاء أكثَرَ" قلت: يا رسول الله، أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ قال:"الإيمانُ بالله"، ثم ذكر الحديثَ، إلى أن قال: فقلتُ: يا رسول الله، كم النبيُّون؟ قال:"مئةُ ألفِ نبيٍّ وأربعةٌ وعشرون ألفَ نبيٍّ" قلت: كم المرسَلُون منهم؟ قال:"ثلاثُ مئة وثلاثَ عشرةَ"، وذكر باقيَ الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4166 - السعدي ليس بثقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4166 - السعدي ليس بثقة
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ خلوت کو غنیمت جانا (اور سیدھا آپ کے پاس جا کر بیٹھ گیا) آپ نے فرمایا: اے ابوذر! مسجد کا بھی سلام ہوتا ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کا سلام کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: دو رکعتیں۔ میں نے دو رکعت نوافل پڑھے۔ پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے نماز کا حکم تو دے دیا ہے لیکن کتنی نماز پڑھنی ہے یہ نہیں بتایا۔ آپ نے فرمایا: یہ نیکی ہے، جو کم پڑھنا چاہے کم پڑھ لے اور جو زیادہ پڑھنا چاہے، زیادہ پڑھ لے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا (پھر اس کے بعد انہوں نے تفصیلی حدیث ذکر کی حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے) میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انبیاء کرام کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا: 1,24,000 ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں۔ میں نے پوچھا: ان میں مرسلین کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا: 313 تین سو تیرہ ہیں۔ پھر باقی حدیث بھی ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4211]