سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا
باب: عرایا کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3366
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ:" الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ، فَيَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا، فَيَبِيعُهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا".
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل (کھانے کے لیے) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3366]
ابن اسحاق نے بیان کیا کہ ” «الْعَرَايَا» ”عرایا“ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو کھجوروں کے درخت ہبہ کرے، مگر بعد ازاں ان لوگوں کا آنا جانا اسے شاق گزرے تو ان کے پھل کا اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے خرید لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19285) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: عریہ کی مختلف تعریفات ہیں: (۱) جو حدیث نمبر (۳۳۶۲) کے تحت گزری۔ (۲،۳) عبدربہ کی دو تعریفیں جو نمبر (۳۳۶۵) میں مذکور ہوئیں۔ (۴) ابن اسحاق کی یہ تعریف، پہلی تعریف امام مالک نیز دیگر بہت سے ائمہ سے منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
23. باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3367
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3367]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”پھلوں کو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کر دیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 58 (1486)، البیوع 82 (2183)، 85 (2194)، 87 (2199)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1226)، سنن النسائی/البیوع 26 (4526)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2214)، (تحفة الأشراف: 8302، 8355)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 8، 16، 46، 56، 59، 61، 80، 123)، سنن الدارمی/البیوع 21 (2597) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2194) صحيح مسلم (1534)
حدیث نمبر: 3368
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3368]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع کیا ہے کہ کھجوروں کو زرد یا سرخ ہونے سے پہلے فروخت کر دیا جائے، یا غلے کو جبکہ وہ بالیوں میں ہو حتیٰ کہ سفید ہو جائے اور آفت زدگی سے محفوظ ہو جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسے معاملے سے فروخت کرنے والے اور خریدار دونوں کو منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 13 (1535)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1227)، سنن النسائی/البیوع 38 (4555)، (تحفة الأشراف: 7515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/5) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1535)
حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقَسَّمَ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے (کہ کہیں ستر کھل نہ جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3369]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”غنیمتوں کو تقسیم سے پہلے ہی فروخت کر دیا جائے یا کھجوروں کو فروخت کیا جائے حتیٰ کہ تمام عوارض سے محفوظ ہو جائیں اور اس سے بھی منع کیا ہے کہ انسان کمر بند (پیٹی) کے بغیر نماز پڑھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15493)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/387، 458، 472) (ضعیف الإسناد)» (اس کی سند میں مولی لقریش ایک مبہم آدمی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لقريش : مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 260/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
إسناده ضعيف
مولي لقريش : مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 260/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
حدیث نمبر: 3370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشْقِحَ، قِيلَ: وَمَا تُشْقِحُ؟، قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہو جائیں اور انہیں کھایا جانے لگے“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3370]
جناب سعید بن میناء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو «تُشْقِحَ» ”مشقح“ تک پہنچنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ان کے «تُشْقِحَ» ”مشقح“ ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ”جب کھجور سرخ یا زرد ہو جائے اور کھانے کے قابل ہو جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 85 (2196)، 87 (2198)، 93 (2208)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1536)، (تحفة الأشراف: 2259)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/319، 361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2196) صحيح مسلم (1536 بعد ح1543)
حدیث نمبر: 3371
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ، حَتَّى يَشْتَدَّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو جب تک کہ وہ پختہ نہ ہو جائے اور غلہ کو جب تک کہ وہ سخت نہ ہو جائے بیچنے سے منع فرمایا ہے (ان کا کچے پن میں بیچنا درست نہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3371]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”انگوروں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ سیاہ ہو جائیں اور کھیتی کو بیچنے سے روکا ہے حتیٰ کہ دانے سخت ہو جائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 21 (1228)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2217)، (تحفة الأشراف: 613)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 8 (11)، مسند احمد (3/115، 221، 250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2862)
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
مشكوة المصابيح (2862)
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
حدیث نمبر: 3372
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ، عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ. فَقَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ، وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ: الْمُبْتَاعُ قَدْ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ، وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ، عَاهَاتٌ، يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومَتُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ".
یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ۱؎ ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ (وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3372]
یونس کہتے ہیں میں نے جناب ابوالزناد سے پوچھا کہ پھلوں کو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنا کیسا ہے اور اس بارے میں کیا آیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”جناب عروہ بن زبیر بواسطہ سہل بن ابی حثمہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے تھے کہ لوگ پھلوں کو ان کی صلاحیت نمایاں ہونے سے پہلے فروخت کر دیا کرتے تھے۔ پھر جب لوگوں کے پکے پھل چننے کا وقت آتا اور ان کے تقاضا کرنے والے آتے تو خریدار کہتے کہ پھل کو سڑاؤ، جھڑاؤ اور آفت لگ گئی ہے اور اس طرح وہ سودے میں حیل و حجت کرتے، جب ان لوگوں کے مقدمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ آنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطور مشورہ فرمایا: ”اگر تم ان تنازعات سے باز نہیں آتے ہو تو اپنے پھل ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچا ہی نہ کرو۔“” [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3719)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 85 (2192) تعلیقاً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دمان، قشام اور مراض کھجور کو لگنے والی بیماریوں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3373
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ أَوْ بِالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میوہ کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے اور فرمایا ہے: ”پھل (میوہ) درہم و دینار (روپیہ پیسہ) ہی سے بیچا جائے سوائے عرایا کے (عرایا میں پکا پھل کچے پھل سے بیچا جا سکتا ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3373]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ اسے درہم و دینار (نقد قیمت) ہی سے فروخت کیا جائے، الا یہ کہ «الْعَرَايَا» ”عرایا“ کی صورت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المساقاة 16(2387)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2216)، (تحفة الأشراف: 2454)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/البیوع 26 (4527)، مسند احمد (3/360، 381، 392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2381) صحيح مسلم (1536 بعد ح1543)
24. باب فِي بَيْعِ السِّنِينَ
باب: کئی سال کے لیے پھل بیچ دینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3374
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثُّلُثِ شَيْءٌ، وَهُوَ رَأْيُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3374]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”متعدد سالوں کے لیے درختوں کے پھل بیچ دینے سے منع فرمایا ہے اور آفات سے نقصان کی تلافی کرائی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہائی تک تلافی کے بارے میں کوئی روایت درست نہیں، یہ اہل مدینہ کی رائے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن النسائی/البیوع 29 (4535)، سنن ابن ماجہ/التجارات 33 (2218)، (تحفة الأشراف: 2269)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/309)، 29 (4535) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ یہ بیع معدوم اور غیر موجود کی بیع ہے، اور آفات سے پہنچے نقصانات کا معاوضہ کیا ہے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ اہل مدینہ میں سے بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر آفت ثلث اور اس سے زیادہ مال پر آئی ہے تو یہ نقصان بیچنے والے کے ذمہ ہوگا اور اگر ثلث سے کم ہے تو مشتری یعنی خرید ار خود اس کا ذمہ دار ہوگا تو ثلث کی قید کے ساتھ کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ اہل مدینہ میں سے بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر آفت ثلث اور اس سے زیادہ مال پر آئی ہے تو یہ نقصان بیچنے والے کے ذمہ ہوگا اور اگر ثلث سے کم ہے تو مشتری یعنی خرید ار خود اس کا ذمہ دار ہوگا تو ثلث کی قید کے ساتھ کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1554 بعد ح1555)
حدیث نمبر: 3375
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"نَهَى عَنِ الْمُعَاوَمَةِ، وَقَالَ: أَحَدُهُمَا بَيْعُ السِّنِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ (کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک (یعنی ابو الزبیر) نے (معاومہ کی جگہ) «بيع السنين» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3375]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «بَيْعُ الْمُعَاوَمَةِ» ”بیع معاومہ“ (سالہا سال کے لیے بیع) سے منع فرمایا ہے“، جبکہ (ابولزبیر اور سعید بن میناء میں سے کسی) ایک نے «بَيْعُ السِّنِيْنِ» ”بیع السنین“ کا لفظ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ البیوع 17 (1536)، سنن ابن ماجہ/ التجارات 45 (2266)، (تحفة الأشراف: 2261) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1554)