🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ
باب: تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3326
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ:" كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ، وَالْحَلِفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ ۱؎ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3326]
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم تاجروں کو «سَمَاسِرَةُ» (دلال) کہا جاتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت اور لین دین میں بہت سی بے جا باتیں ہوتی ہیں اور قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں، تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن النسائی/الأیمان 21 (3828)، البیوع 7 (4468)، سنن ابن ماجہ/التجارات 3 (2145)، (تحفة الأشراف: 11103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/6،280) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎«سماسرہ» : «سمسار» کی جمع ہے، عجمی لفظ ہے چونکہ عرب میں اس وقت زیادہ تر عجمی لوگ خرید و فروخت کیا کرتے تھے، اس لئے ان کے لئے یہی لفظ رائج تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے  «تجار» کا لفظ پسند کیا جو عربی ہے، «سمسار» اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائع اور مشتری کے درمیان دلالی کرتا ہے۔
۲؎: یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کر لیا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2798)
رواه الترمذي (1208 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3327
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَعَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَالْحَلْفُ يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ: اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ.
اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «يحضره اللغو والحلف» کے بجائے: «يحضره الكذب والحلف» ہے عبداللہ الزہری کی روایت میں: «اللغو والكذب» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3327]
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا: لین دین اور تجارتی امور طے کرتے ہوئے جھوٹ اور قسم شامل ہو جاتی ہے۔ عبداللہ الزہری نے لغو اور جھوٹ کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11103) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (438 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي اسْتِخْرَاجِ الْمَعَادِنِ
باب: معدنیات نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3328
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟، قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا، وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ، فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (لے جاؤ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے (قرض کو) خود ادا کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3328]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کے ساتھ چمٹ گیا جس نے اس کے دس دینار دینے تھے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! جب تک تو مجھے دے نہیں دیتا میں تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا، سوائے اس کے کہ تو کوئی ضامن یا کفیل لے آئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنے ذمے لے لیے۔ پھر وہ آدمی حسب وعدہ مال لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: تمہیں یہ سونا کہاں سے مل گیا ہے؟ اس نے کہا: ایک کان سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں (اور) اس میں خیر نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے قرض ادا فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 9 (2406)، (تحفة الأشراف: 6178) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (2406 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ
باب: شبہات سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَلَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ، وَأَحْيَانًا يَقُولُ مُشْتَبِهَةٌ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں (جن کی حلت و حرمت میں شک ہے) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے (اپنے لیے) محفوظ جگہ (چراگاہ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں (یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3329]
جناب شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان کے بعد کسی اور سے سننے کی مجھے کوئی حاجت نہیں (کیونکہ وہ ایک سچے صحابی تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے مابین کئی امور شبہے والے ہیں۔ میں تمہیں اس کی بابت مثال بیان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ایک چراگاہ ہے (محفوظ مخصوص علاقہ جسے رکھ یا محفوظہ کہا جاتا ہے) اور اللہ کی رکھ اور اس کا محفوظہ وہی ہے جو اس نے حرام کیا ہے، جو شخص اس محفوظ علاقے کے قریب اپنے جانور چرائے گا قریب ہے کہ وہ اس میں جا پڑے۔ اور جو شک والی باتوں میں پڑتا ہے قریب ہے کہ وہ ان میں (بے دھڑک) جرات کرنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 39 (52)، والبیوع 2 (2051)، صحیح مسلم/المساقاة 20 (1599)، سنن الترمذی/البیوع 1 (1205)، سنن النسائی/البیوع 2 (4458)، سنن ابن ماجہ/الفتن 14 (3984)، (تحفة الأشراف: 11624)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 270، 271، 275)، سنن الدارمی/البیوع 1 (2573) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2051) صحيح مسلم (1599)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3330]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ان (حلال و حرام) کے درمیان کچھ شبہے والی چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، تو جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنی عزت اور اپنے دین کو محفوظ کر لیا اور جو شبہے والی چیزوں میں جا پڑا وہ حرام میں داخل ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11624) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (52) صحيح مسلم (1599)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ"، قَالَ ابْنُ عِيسَى: أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ایک وقت آنے والا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہ بچے گا جو سود نہ کھاتا ہو، پس اگر کسی نے نہ بھی کھایا تب بھی اس کی بھاپ تو اسے پہنچے گی۔ ابن عیسیٰ نے یہ الفاظ ذکر کیے ہیں: اس کا کچھ غبار اسے پہنچے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 2 (4460)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2278)، مسند احمد (2/494)، (تحفة الأشراف: 9203، 12241) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سعید لین الحدیث ہیں، نیز حسن بصری کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر ظاہر ہو کر رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4460) ابن ماجه (2278)
الحسن البصري عنعن والجمهور علي أنه لم يسمع من أبي هريرة رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ، فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَوَضَعَ يَدَهُ، ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا، فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا، فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً، فَلَمْ أَجِدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا بِثَمَنِهَا، فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطْعِمِيهِ الْأَسَارَى".
ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: پیروں کی جانب سے (قبر) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے فراغت پا کر) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے یہاں) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا (کھانا شروع کیا) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو (اتفاق سے) وہ ہمسایہ (گھر پر) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3332]
جناب عاصم بن کلیب اپنے والد سے، وہ ایک انصاری جوان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کھودنے والے کو ہدایات دے رہے تھے: پائینتی کی طرف سے کھلی کرو، سر کی طرف سے کھلی کرو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عورت کی طرف سے دعوت دینے والا ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں تشریف لے آئے، کھانا پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا پھر لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھائے اور کھانے لگے۔ ہمارے بڑوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی لقمہ اپنے منہ میں گھمائے جا رہے ہیں مگر نگلتے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے۔ پھر (اس عورت کو بلوایا گیا تو) اس نے پیغام بھجوایا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع کی طرف آدمی بھیجا کہ میرے لیے بکری خرید لائے مگر نہیں ملی۔ پھر میں نے اپنے ہمسائے کی طرف بھیجا جس نے ایک بکری خریدی تھی، میں نے کہلوایا کہ اسی قیمت پر بکری مجھے دے دے مگر وہ بھی نہیں ملا۔ تب میں نے اس آدمی کی بیوی کو کہلا بھیجا تو اس نے مجھے یہ بھیج دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293، 408) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت ۱؎: چونکہ بکری، صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کر ڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5942)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي آكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ
باب: سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ، وَكَاتِبَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3333]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے، کھلانے، اس کے گواہ اور لکھنے والے (سب) پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقات 19 (1597)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، (تحفة الأشراف: 9356)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطلاق 13 (3445)، مسند احمد (1/392، 394، 402، 453) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1206 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (2277 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي وَضْعِ الرِّبَا
باب: سود معاف کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، يَقُولُ:" أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ، لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، قَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے (نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب ۱؎ کا خون ہے وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے تین بار کہا: ہاں (آپ نے پہنچا دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3334]
جناب سلیمان بن عمرو اپنے والد (عمرو بن احوص جشمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: خبردار! جاہلیت کے تمام سود باطل کیے جاتے ہیں، تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے، ظلم کرو نہ ظلم کیے جاؤ، خبردار! جاہلیت کے تمام خون باطل کیے جاتے ہیں اور سب سے پہلا خون جو میں ختم کر رہا ہوں حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، جو بنو لیث میں دودھ پیتا بچہ تھا اور بنو ہذیل نے اسے قتل کر دیا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» اے اللہ! میں نے پہنچا دیا۔ سب حاضرین نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کہلوایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ» اے اللہ! گواہ رہنا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 1 (1259)، تفسیرالقرآن 10 (3087)، سنن ابن ماجہ/المناسک 76 (3055)، (تحفة الأشراف: 1191)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 498) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (3055 وسنده حسن) ورواه الترمذي (3087 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں (جھوٹی) قسم کھانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3335
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبسة، عن يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ"، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: لِلْكَسْبِ، وقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (جھوٹی) قسم (قسم کھانے والے کے خیال میں) سامان کو رائج کر دیتی ہے، لیکن برکت کو ختم کر دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3335]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قسم سے سودا بک جاتا ہے مگر برکت اٹھ جاتی ہے۔ ابن السرح نے «سِلْعَة» کی بجائے «كَسْب» کہا اور سند میں یوں کہا: «عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 26 (2087)، صحیح مسلم/المساقاة 27 (1606)، سنن النسائی/البیوع 5 (4466)، (تحفة الأشراف: 13321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/235،242، 413) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2087) صحيح مسلم (1606)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں