سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ
باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3346
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3346]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) ایک جوان اونٹ ادھار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”اس کا (جوان) اونٹ ادا کر دوں۔“ میں نے عرض کیا: ”گلے میں اس کے اونٹ سے عمدہ رباعی اونٹ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، لوگوں میں بہترین وہی ہوتے ہیں جو ادائیگی میں بہترین ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1600)
حدیث نمبر: 3347
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3347]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا کچھ قرضہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ادا فرمایا تو اس سے زیادہ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، والوکالة 8 (2309)، والاستقراض 7 (2394)، والھبة 32 (3603)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن النسائی/البیوع 51 (4594)، (تحفة الأشراف: 2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 302، 319، 363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (443) صحيح مسلم (715 بعد ح1599)
مشكوة المصابيح (2925)
مشكوة المصابيح (2925)
12. باب فِي الصَّرْفِ
باب: بیع صرف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3348
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“ (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3348]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کے بدلے چاندی سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، گندم کے بدلے گندم سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، کھجور کے بدلے کھجور سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، جو کے بدلے جو سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260، 2259)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے،اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2174) صحيح مسلم (1586)
حدیث نمبر: 3349
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، بِإِسْنَادِهِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3349]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کے بدلے سونا ڈلا ہو یا ڈھلا ہوا (سکہ یا زیور)، چاندی کے بدلے چاندی ڈلا ہو یا ڈھلا ہوا (سکہ)، گندم کے بدلے گندم، ایک مدی کے بدلے ایک مدی، جو کے بدلے جو ایک مدی کے بدلے ایک مدی، کھجور کھجور کے بدلے ایک مدی کے بدلے ایک مدی، نمک کے بدلے نمک ایک مدی کے بدلے ایک مدی (بیچا جائے) جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی کے بدلے بیچنا جب کہ چاندی زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں جبکہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، لیکن ادھار نہیں۔ گندم کو جو کے بدلے بیچنا جبکہ جو زیادہ ہوں کوئی حرج نہیں جبکہ ہاتھوں ہاتھ ہو، لیکن ادھار جائز نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے بواسطہ قتادہ، مسلم بن یسار سے اس کی سند سے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15 (1587)، سنن الترمذی/ البیوع (1240)، سنن النسائی/البیوع 42 (4567)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 320) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مد: شام اور مصر کا ایک پیمانہ ہے، جو پندرہ مکوک کا ہوتا ہے، اور مکوک ڈیڑھ صاع کا ہوتا ہے۔
۲؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
۲؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (3350)
انظر الحديث الآتي (3350)
حدیث نمبر: 3350
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَزَادَ، قَالَ: فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے (قسم مختلف ہو جائے) تو جس طرح چاہو بیچو (مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3350]
ابواشعث صنعانی نے یہ حدیث بواسطہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قدر کمی بیشی سے روایت کی ہے اور اضافہ یہ کیا: ”جب یہ انواع مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو جبکہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5089) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1587)
13. باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ
باب: تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3351
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ مَنِيعٍ: فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ، أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا"، وقَالَ ابْنُ عِيسَى: أَرَدْتُ التِّجَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ، فَغَيَّرَهُ، فَقَالَ التِّجَارَةُ.
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ (جڑے ہوئے) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یہ خریداری درست نہیں) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو“ اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے (نگ) لینے کا تھا (یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو“ یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3351]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونا اور نگینے تھے۔ ابوبکر اور ابن منیع نے کہا: ”سونے سے لٹکے ہوئے نگینے تھے“، تو ایک آدمی نے اسے نو یا سات دینار میں خرید لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یہ خرید و فروخت درست نہیں) حتیٰ کہ تو ان نگینوں اور سونے کو جدا جدا کر لے۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں نے صرف قیمتی پتھر لینے چاہے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تو ان کو جدا جدا نہ کر لے۔“ چنانچہ اس نے اسے واپس کر دیا حتیٰ کہ انہیں جدا جدا کیا گیا۔ ابن عیسیٰ کے لفظ تھے: «أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ» ”میں نے تجارت کا ارادہ کیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی اصل کتاب میں لفظ «حِجَارَةَ» ہی تھا مگر اسے «تِجَارَةَ» سے بدل دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 17 (1591)، سنن الترمذی/البیوع 32 (1255)، سنن النسائی/ البیوع 46 (4577)، (تحفة الأشراف: 11027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19، 21) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس بیع سے آپ نے اس لئے منع فرمایا کیونکہ سونے کے عوض جو دینار دئے گئے اس میں سونے کے بالمقابل دینار میں کمی بیشی کا خدشہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1591)
حدیث نمبر: 3352
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا (۱۲) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3352]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور نگینے تھے۔ پس میں نے انہیں جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ کا سونا ملا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جدا کیے بغیر نہ بیچا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1591)
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر والے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور یہودیوں سے ایک اوقیہ سونا (مساوی چالیس درہم) ایک دینار میں خریدتے تھے۔ قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا: ”دو یا تین دینار میں خریدتے تھے،“ پھر دوسرے راوی حدیث کے اگلے الفاظ بیان کرنے میں متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے مت بیچو سوائے اس کے کہ وزن برابر برابر ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (3351)، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1591)
14. باب فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ
باب: چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3354
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل وَاحِدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ، وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں (اسے) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3354]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو ایسے ہوتا تھا کہ دیناروں میں سودا کرتا اور درہم وصول کرتا یا درہموں میں سودا کرتا اور دینار وصول کرتا، انہیں ایک دوسرے کے بدلے میں لے لیا کرتا یا دے دیا کرتا تھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریے، مجھے آپ سے ایک سوال کرنا ہے، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، تو دیناروں سے سودا کر کے درہم وصول کر لیتا ہوں یا درہموں سے سودا کر کے دینار لے لیتا ہوں۔ انہیں ایک دوسرے کے بدلے لیتا بھی ہوں اور دیتا بھی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اگر تم اسی دن کے نرخ سے لو اور تمہارے جدا ہونے پر تم میں کوئی چیز باقی نہ ہو۔“ (حساب اس وقت بالکل بے باق ہو جائے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن النسائی/البیوع 48 (4586)، سنن ابن ماجہ/التجارات 51 (2262)، (تحفة الأشراف: 7053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/33، 59، 89، 101، 139)، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623) (ضعیف)» (اس کے راوی سماک مختلط ہوگئے تھے اور تلقین کو قبول کر لیتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما پر ہی موقوف کردیا ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی تم دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے ذمہ کچھ باقی ہو، بلکہ جدا ہونے سے پیشتر معاملہ صاف ہو جانا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2871)
أخرجه الترمذي (1242 وسنده حسن) والنسائي (4586 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2871)
أخرجه الترمذي (1242 وسنده حسن) والنسائي (4586 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3355
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ لَمْ يَذْكُرْ بِسِعْرِ يَوْمِهَا.
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں ”اس دن کے بھاؤ“ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3355]
جناب سماک نے اپنی سند سے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، پہلا سیاق زیادہ کامل ہے اور اس میں ”اس دن کے نرخ“ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7053) (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3354)
انظر الحديث السابق (3354)