🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب فِي الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3356]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن النسائی/البیوع 63 (4624)، سنن ابن ماجہ/التجارات 56 (2270)، (تحفة الأشراف: 4583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 21، 22)، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح) حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء 2416)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2821، 2822)
وللحديث شواھد عند ابن حبان (1113) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا، فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ (ادھار) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3357]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ لشکر کی تیاری کریں مگر اونٹ ختم ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیاں آنے تک ادھار لے لیں۔ چنانچہ وہ صدقہ کے آنے تک دو دو اونٹوں کے بدلے ایک ایک اونٹ حاصل کر لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/171، 216) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة مسلم، ابو سفیان اور عمرو سب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن حريش مجھول الحال كما في التقريب (5010)
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ
باب: ایک جاندار کو دوسرے جاندار کے بدلے نقد بیچنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3358]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں کے بدلے ایک غلام خرید فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن النسائی/البیعة 21 (4189)، البیوع 64 (4625)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 41 (2869)، (تحفة الأشراف: 2904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/349، 372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1602)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب فِي التَّمْرِ بِالتَّمْرِ
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3359
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ نَحْوَ، مَالِكٍ.
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو «سلت» (بغیر چھلکے کے جو) سے بیچنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (جب) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3359]
جناب زید ابوعیاش نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سفید گندم کو «السُّلْت» (جَو کی ایک قسم) کے بدلے بیچنا کیسا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان میں سے افضل کون سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سفید گندم۔ تو انہوں نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ خشک کھجور کو تازہ کھجور کے بدلے بیچنا کیسا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بھلا تازہ کھجور خشک ہونے پر کم ہو جاتی ہے؟ صحابہ نے کہا: ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ نے مالک کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4559)، سنن ابن ماجہ/التجارات 53 (2264)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جمہور علماء کا یہی مذہب ہے، مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک برابر برابر بیچنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2820)
أخرجه الترمذي (1225 وسنده حسن) والنسائي (4549 وسنده حسن) وابن ماجه (2264 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3360
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3360]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجور خشک کھجور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو عمران بن ابی انس نے بنو مخزوم کے ایک مولیٰ کے واسطے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3854) (شاذ)» ‏‏‏‏ (اصل حدیث (3358) کے مطابق ہے لیکن  «نسیئة»  کا لفظ ثابت نہیں ہے، یہ یحییٰ بن ابی کثیر کا اضافہ ہے، جس پر کسی ثقہ نے موافقت نہیں کی ہے) ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل (5؍200) «قال أبو داود رواه عمران بن أبي أنس عن مولى لبني مخزوم عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه (صحیح) » (اس میں نسیئتہ کا ذکر نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث کی رو سے اگر نقد ہو تو بھی منع ہے، لیکن امام ابو حنیفہ نے اسے ادھار پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ليس فيه نسيئة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب فِي الْمُزَابَنَةِ
باب: مزابنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3361
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3361]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے کھجور کے پھل کو (خشک) کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے جبکہ خشک کی مقدار معلوم ہو۔ اور اسی طرح انگوروں کو کشمش کے بدلے بیچنا جبکہ کشمش کی مقدار معلوم ہو، اور کھیتی کی بیع خشک گندم کے بدلے جبکہ اس کی مقدار معلوم ہو۔ (ممنوع ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 8273، 8131)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 82 (2185)، سنن النسائی/البیوع 30 (4537)، 37 (4553)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2265)، موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 168) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: درخت پر لگے ہوے پھل کا اندازہ کر کے اسے اسی قدر توڑے ہوے پھل کے بدلے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2171، 2205) صحيح مسلم (1542)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب فِي بَيْعِ الْعَرَايَا
باب: بیع عرایا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3362]
جناب خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «العَرَايَا» عرایا کی رخصت عنایت فرمائی، یعنی انسان خشک کھجور کا تازہ سے تبادلہ کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 31 (4541)، (تحفة الأشراف: 3723، 3705)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 75 (2173)، 82 (2184)، 84 (2188)، المساقاة 17 (2380)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1539)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1302)، سنن ابن ماجہ/التجارات 55 (2268)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، مسند احمد (5/181، 182، 188، 192)، سنن الدارمی/ البیوع 24 (2600) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے دو ایک درخت کا پھل کسی مسکین کو دے دے، لیکن دینے کے بعد باربار اس کے آنے جانے سے اسے تکلیف پہنچے تو کہے بھائی اس کا اندازہ لگا کر خشک یا تر کھجوریں ہم سے لے لو، ہر چند کہ یہ مزابنہ ہے لیکن اس میں مسکینوں کا فائدہ ہے اس لئے اسے مزابنہ سے مستثنیٰ کر کے جائز رکھا گیا ہے، اور اسی کو بیع عرایا یعنی عاریت والی بیع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (4541 وسنده صحيح) ورواه البخاري (2173) ومسلم (1539)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درخت پر پھلے) کھجور کو (سوکھے) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» (سوکھی کھجور) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3363]
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجور کی خشک کھجور کے ساتھ بیع سے منع فرمایا ہے، لیکن «الْعَرَايَا» کی رخصت دی ہے کہ انسان تازہ کھجور کا اندازہ کر کے (خشک کے بدلے خرید لے) تاکہ وہ لوگ تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، سنن النسائی/البیوع 33 (4548)، (تحفة الأشراف: 4646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً عرایا والے کسی شخص کے پاس سوکھی کھجور تھی لیکن «رطب» یعنی تر کھجور اس کے پاس کھانے کو نہ تھی، اس کو باغ والے نے ایک درخت کی تر کھجوریں اندازہ کر کے سوکھی کھجور سے فروخت کر دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2191) صحيح مسلم (1540)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب فِي مِقْدَارِ الْعَرِيَّةِ
باب: بیع عریہ کس مقدار تک درست ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ لَنَا الْقَعْنَبِيُّ: فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَاسْمُهُ قُزْمَانُ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ" شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ جَابِرٍ، إِلَى أَرْبَعَةِ أَوْسُقٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے (یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3364]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعِ عرایا میں پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق کی اجازت دی ہے۔ یہ شک داؤد بن حصین کو ہوا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں چار وسق تک کا بیان آیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، والمساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، سنن النسائی/البیوع 33 (4545)، (تحفة الأشراف: 14943)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/237) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2382) صحيح مسلم (1541)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا
باب: عرایا کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:"الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ، يَأْكُلُهَا، فَيَبِيعُهَا بِتَمْرٍ".
عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3365]
جناب عبدربہ بن سعید انصاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «الْعَرَايَا» یہ ہے کہ انسان کسی کو کھجور کا کوئی درخت دے دے یا باغ فروخت کرے تو اس میں سے ایک دو درخت مستثنیٰ کر لے تاکہ تازہ پھل کھا سکے، لیکن پھر اسے خشک کھجور کے بدلے بیچ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18951) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں