سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فِي الْحِلْمِ وَأَخْلاَقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4773
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَابِضٌ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: يَا أُنَيسُ، اذْهَبْ حَيْثُ أَمَرْتُكَ"، قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَذّهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ننھے انس! جاؤ جہاں میں نے تمہیں حکم دیا ہے“ میں نے عرض کیا: ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں، اللہ کے رسول، انس کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے سات سال یا نو سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے سب بڑھ کر عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا،“ حالانکہ میرے دل میں تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی فرمایا ہے میں اس کے لیے جاؤں گا۔ کہتے ہیں: پس میں نکلا حتیٰ کہ بچوں کے پاس سے میرا گزر ہوا جو بازار میں کھیل رہے تھے۔ تو اچانک (کیا دیکھتا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انیس! ادھر جاؤ جہاں کا میں نے تمہیں کہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول! جا رہا ہوں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں نے سات سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے یا نو سال، مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے مجھے کسی کام پر جو میں نے کیا ہو، کبھی یوں کہا ہو: ”تو نے ایسے کیوں کیا؟“ یا کوئی کام جو میں نے چھوڑ دیا ہو، تو کہا ہو کہ ”ایسے ایسے کیوں نہیں کیا؟“” [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 13 (2310)، (تحفة الأشراف: 184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 25 (2768)، الأدب 39 (6038)، الدیات 27 (6911)، سنن الترمذی/البر والصلة 69 (2015) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2310)
حدیث نمبر: 4774
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَنَا غُلَامٌ لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ أَكُونَ عَلَيْهِ، مَا قَالَ لِي فِيهَا: أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِي: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا، أَوْ: أَلَّا فَعَلْتَ هَذَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4774]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ میں دس سال تک خدمت کی جبکہ میں ایک نوخیز لڑکا تھا۔ میرے سب کام اس معیار کے نہیں ہوتے تھے جیسے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی تھی۔ (اس کے باوجود) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی «أُفٍّ» ”اف“ تک نہیں کہا اور نہ یوں کہا: ”تو نے یہ کیوں کیا؟ اور اس طرح کیوں نہیں کیا؟“” [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 427)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/195) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وأصله عند البخاري (6038) ومسلم (2309)
وأصله عند البخاري (6038) ومسلم (2309)
حدیث نمبر: 4775
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَجْلِسِ يُحَدِّثُنَا،" فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ، فَحَدَّثَنَا يَوْمًا، فَقُمْنَا حِينَ قَامَ، فَنَظَرْنَا إِلَى أَعْرَابِيٍّ قَدْ أَدْرَكَهُ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ، فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَانَ رِدَاءً خَشِنًا، فَالْتَفَتَ، فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ: احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَيَّ هَذَيْنِ، فَإِنَّكَ لَا تَحْمِلُ لِي مِنْ مَالِكَ، وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِنْ جَبْذَتِكَ الَّتِي جَبَذْتَنِي، فَكُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا رَجُلًا، فَقَالَ لَه: احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرَيْهِ هَذَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا، وَعَلَى الْآخَرِ تَمْرًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: انْصَرِفُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى".
ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے باتیں کرتے تھے تو جب آپ اٹھ کھڑے ہوتے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن گفتگو کی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہو گئے، تو ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر اور آپ کے اوپر چادر ڈال کر آپ کو کھینچ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن لال ہو گئی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں: وہ ایک کھردری چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مڑے تو اعرابی نے آپ سے کہا: میرے لیے میرے ان دونوں اونٹوں کو (غلے سے) لاد دو، اس لیے کہ نہ تو تم اپنے مال سے لادو گے اور نہ اپنے باپ کے مال سے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ۱؎ اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۲؎ میں تمہیں نہیں دوں گا یہاں تک کہ تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہ دے دو“ لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا: اللہ کی قسم میں تمہیں اس کا بدلہ نہ دوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس کے لیے اس کے دونوں اونٹوں پر لاد دو: ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”واپس جاؤ اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4775]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے اور باتیں کرتے رہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے، حتیٰ کہ ہم دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے ساتھ باتیں کرتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ایک بدوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ کے کھینچنے لگا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سرخ ہو گئی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چادر بھی بڑی کھردری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”مجھے میرے یہ دو اونٹ لا دیں۔ بلاشبہ آپ مجھے کوئی اپنے ذاتی مال سے نہیں دیں گے اور نہ اپنے باپ کے مال سے دیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» ”اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔“ نہیں، میں «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» ”اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔“ نہیں، میں «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» ”اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور میں تجھے اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک مجھے چھوڑ نہ دو جو یہ تم نے مجھے پکڑا ہوا ہے۔““ اور وہ بدوی ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہتا تھا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔“ اور راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے کہا: ”اس کو اس کے یہ دونوں اونٹ لا دو، ایک پر جو اور ایک پر کھجور۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم لوگ جاؤ، «عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ» ”تم پر اللہ کی برکتیں ہوں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 18 (4780)، (تحفة الأشراف: 14801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جو میں تمہیں دوں گا وہ یقیناً میرا اپنا مال نہیں ہو گا۔
۲؎: اگر معاملہ اس طرح نہ ہو۔
۳؎: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال اخلاق و حلم کا بیان ہے۔
۲؎: اگر معاملہ اس طرح نہ ہو۔
۳؎: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال اخلاق و حلم کا بیان ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4780)
ھلال مستور (مجھول الحال)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
نسائي (4780)
ھلال مستور (مجھول الحال)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
2. باب فِي الْوَقَارِ
باب: سنجیدگی اور وقار سے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4776
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالِاقْتِصَادَ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4776]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک چلن، عمدہ کردار اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5402)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/296) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ یہ خصلتیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو عطا کی ہیں، لہٰذا انہیں اپنانے میں ان کی پیروی کرو، یہ معنیٰ نہیں کہ نبوت کوئی ذو اجزاء چیز ہے، اور جس میں یہ خصلتیں پائی جائیں گی اس کے اندر نبوّت کے کچھ حصے پائے جائیں گے کیونکہ نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک اعزاز ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس اعزاز سے نوازتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5059، 5060)
وله شاھد عند الترمذي (2010 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (5059، 5060)
وله شاھد عند الترمذي (2010 وسنده حسن)
3. باب مَنْ كَظَمَ غَيْظًا
باب: غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4777
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِن الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ" , قال أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ.
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4777]
جناب سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غصہ پی جائے جبکہ وہ اس پر عمل درآمد کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ اسے قیامت کے دن برسرِ مخلوق بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حورِ عین میں سے جسے چاہے منتخب کر لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”سند کے راوی ابو مرحوم کا نام عبدالرحمٰن بن میمون ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 74 (2021)، صفة القیامة 48 (3493)، سنن ابن ماجہ/الزھد 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 11298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/438، 440) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5088)
أخرجه ابن ماجه (4186 وسنده حسن، عبد الله بن وھب صرح بالسماع عنده)
مشكوة المصابيح (5088)
أخرجه ابن ماجه (4186 وسنده حسن، عبد الله بن وھب صرح بالسماع عنده)
حدیث نمبر: 4778
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: مَلَأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ دَعَاهُ اللَّهُ زَادَ، وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ بِشْرٌ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: تَوَاضُعًا، كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَعَالَى تَوَّجَهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب (تواضع و فروتنی میں) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4778]
اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کے بیٹے نے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور مندرجہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا (اور) کہا: ”اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا۔“ مگر اس میں یہ نہیں: ”اللہ اسے بلائے گا۔“ مزید کہا: ”جس شخص نے زینت اور جمال والا لباس ترک کیا، حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو۔“ بشر بن منصور نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وہ اس نے تواضع کی وجہ سے چھوڑا ہو تو اللہ اسے عزت اور کرامت کا جوڑا پہنائے گا، اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے نکاح کر دیا ہو تو اللہ اسے تاجِ شاہی پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15704) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «من زوج لله» میں مفعول محذوف ہے، اصل عبارت یوں ہے «من زوج من يحتاج إلى الزواج» یعنی جو کسی ایسے شخص کی شادی کرائے گا جو شادی کا ضرورت مند ہو، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا مفعول «كريمته» ہے یعنی جو اپنی بیٹی کی شادی کرے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ «من زوَّج» کے معنی «من أعطى لله اثنين من الأشياء» کے ہیں، یعنی جس نے اللہ کی خاطر کسی کو دو چیز دی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عجلان عنعن وشيخه سويد بن وھب مجهول (تق: 2701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
ابن عجلان عنعن وشيخه سويد بن وھب مجهول (تق: 2701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
حدیث نمبر: 4779
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4779]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ زبردست پہلوان (بہت زیادہ پچھاڑنے والا) کسے کہتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 30 (2608)، (تحفة الأشراف: 9193)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2608)
4. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ
باب: غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ يَتَمَزَّعُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُهُ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ فَأَبَى وَمَحِكَ، وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا“ عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4780]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ ان میں ایک اس قدر غضبناک ہو گیا کہ میں نے سمجھا کہ انتہائی غصے سے اس کی ناک ہی چر جائے گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے، اگر یہ کہہ لے تو اس کا یہ غصہ دور ہو جائے۔“ (معاذ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہہ لے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! میں شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“”چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس شخص سے کہنے لگے کہ یہ کلمہ پڑھ لے مگر اس نے انکار کر دیا بلکہ اور لڑنے لگا اور غصے ہونے لگا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 52 (3452)، (تحفة الأشراف: 11342)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (5/240، 244) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
ترمذي (3452)
عبد الرحمٰن بن أبي ليلي لم يدرك سيدنا معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه
و للحديث شاھد ضعيف عند النسائي في الكبري (10223) فيه عبد الملك بن عمير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
سنده ضعيف
ترمذي (3452)
عبد الرحمٰن بن أبي ليلي لم يدرك سيدنا معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه
و للحديث شاھد ضعيف عند النسائي في الكبري (10223) فيه عبد الملك بن عمير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
حدیث نمبر: 4781
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا هَذَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" فَقَالَ الرَّجُلُ: هَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ؟.
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا، وہ کلمہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم»، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4781]
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے حتیٰ کہ ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گلے کی رگیں پھول گئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک کلمہ معلوم ہے، اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ لے تو اس سے یہ کیفیت دور ہو جائے گی۔ (اور وہ کلمہ یہ ہے) «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔“”مگر وہ آدمی کہنے لگا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میں مجنون ہوں؟“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3282)، الأدب 44 (6050)، 75 (6115)، صحیح مسلم/البر والصلة 30 (2610)، (تحفة الأشراف: 4566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/394) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غالباً اس نے یہ سمجھا کہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» پڑھنا جنون ہی کے ساتھ مخصوص ہے، یا ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی منافق یا غیر مہذب اور غیر مہذب بدوی رہا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2382) صحيح مسلم (2610)
حدیث نمبر: 4782
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا: إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہو جائے (تو بہتر ہے) ورنہ پھر لیٹ جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4782]
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو، تو بیٹھ جائے، اسی طرح اگر اس کا غصہ فرو ہو جائے (تو بہتر) ورنہ لیٹ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5114)
وھو في مسند أحمد (5/152 ح21348) واتحاف المھرة لابن حجر بحواله مسند أحمد (17527) وجامع المسانيد لابن كثير (11486) وتھذيب الكمال للمزي (21170) وسنده صحيح
مشكوة المصابيح (5114)
وھو في مسند أحمد (5/152 ح21348) واتحاف المھرة لابن حجر بحواله مسند أحمد (17527) وجامع المسانيد لابن كثير (11486) وتھذيب الكمال للمزي (21170) وسنده صحيح