🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: الْفِطْرَةِ
باب: امور فطرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنَ الْفِطْرَةِ، الْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَالسِّوَاكُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَالِانْتِضَاحُ، وَالِاخْتِتَانُ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں فطرت سے ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، (زیر ناف صفائی کے لیے) لوہے کی چیز استعمال کرنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 29 (54)، (تحفة الأشراف: 10350)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/264) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود(54)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294M
اس سند سے علی بن زید سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294M]
قال الشيخ الألباني: حسن

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کر دی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 295]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مونچھیں کاٹنے، زیر ناف بال مونڈنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور ناخن کاٹنے کے لیے ہمارے لیے یہ حد مقرر کی گئی ہے کہ انہیں چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 16 (258)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4200)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2758)، سنن النسائی/الطہارة 14 (14)، (تحفة الأشراف: 1070)، وقد أخرجہ: حم (3/122) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بال اور ناخن جب بڑے ہوں تو انہیں کاٹ لینا چاہئے، اگر کسی مجبوری سے نہ کاٹ سکیں تو زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس کے بعد ضرور کاٹ دینا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ
باب: قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیت الخلاء (شیطانوں کے) حاضر ہونے کی جگہیں ہیں۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی (بیت الخلاء میں) داخل ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 3 (6)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296M
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3681) وانظر ماقبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ ، حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ ، عَنِ الْحَكَمِ النَّصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتْرُ مَا بَيْنَ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ، أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو  «بسم اللہ»  کہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 297]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم (انسانوں) کے پردے کے اعضاء اور جنوں کی نظروں کے درمیان یہ چیز پردہ بن جاتی ہے کہ جب کوئی بیت الخلاء میں داخل ہو تو «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام کے ساتھ کہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 73 (606)، (تحفة الأشراف: 10312) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» یعنی: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 298]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنّیوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض32 (375)، سنن النسائی/الطہارة 18 (19)، (تحفة الأشراف: 997)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن ابی داود/الطہارة 3 (4)، سنن الترمذی/الطہارة 4 (5)، مسند احمد (3/101، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 10 (696) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَخَلَ مِرْفَقَهُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ، الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» کسی کو اس بات سے عاجز نہیں ہونا چاہیے کہ جائے ضرورت میں داخل ہوتے وقت یوں کہہ لے: اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں گندے، پلید، ناپاک، گندے کام سکھانے والے مردود شیطان سے۔ ابو حاتم نے ابن ابی مریم سے اسی طرح روایت بیان کی لیکن انہوں نے اپنی روایت میں «مِنَ الرِّجْسِ النَّجَسِ» کے الفاظ بیان نہیں کیے بلکہ صرف «مِنَ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4914، ومصباح الزجاجة: 121) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور القاسم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2189)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد:ضعيف
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ إِنَّمَا، قَالَ:" مِنَ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
اس سند سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں: «من الرجس النجس» کے الفاظ مذکور نہیں ہیں، بلکہ «من الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299M]

10. بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ
باب: قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَمِعْتُهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے: «غفرانك» یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 300]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تھے تو فرماتے تھے: «غُفْرَانَكَ» اے اللہ! میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 17 (30)، سنن الترمذی/الطہارة 5 (7)، (تحفة الأشراف: 17694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 155)، سنن الدارمی/الطہارة 16 (770) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں