سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّه سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِك.
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے“ اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 317]
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب نہ کرے۔“ اور سب سے پہلے میں نے ہی لوگوں کو یہ حدیث سنائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5236، ومصباح الزجاجة: 127)، مسند احمد (4/190، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ:" شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 318]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لیے جانے والے کو قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (264)، سنن ابی داود/الطہارة 4 (9)، سنن الترمذی/الطہارة 6 (8)، سنن النسائی/الطہارة 20 (21)، 21 (22)، (تحفة الأشراف: 3478)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 1 (1)، مسند احمد (5/416، 417، 421)، سنن الدارمی/الطہارة 6 (691) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".
معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد الحرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 319]
حضرت معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاخانہ پیشاب کرتے وقت دونوں قبلوں (کعبہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے ہمیں منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 4 (10)، (تحفة الأشراف: 11463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (ضعیف)» (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''أبو زید'' مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ،" نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 320]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دی کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3984، ومصباح الزجاجة: 128)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 12، 15) (صحیح)» (حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 10)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
-
-
حدیث نمبر: 321
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ" 27.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 321]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3984، ومصباح الزجاجة: 129) (صحیح)» (سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی نباء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 10)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن لھيعة مدلس،ضعيف بعد اختلاطه وعنعن
أبو الزبير عنعن و في السند إليھما نظر
و الحديث السابق (الأصل: 318) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن لھيعة مدلس،ضعيف بعد اختلاطه وعنعن
أبو الزبير عنعن و في السند إليھما نظر
و الحديث السابق (الأصل: 318) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
18. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى
باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا،" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 322]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو تمہارا رخ قبلہ کی طرف نہیں ہونا چاہیے۔ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کیے ہوئے دو کچی اینٹوں پر بیٹھے دیکھا۔“ یہ روایت یزید بن ہارون کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 12 (145)، 14 (148)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (266)، سنن ابی داود/الطہارة 5 (12)، سنن الترمذی/الطہارة 7 (11)، سنن النسائی/الطہارة 22 (23)، (تحفة الأشراف: 8552)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 2 (3)، مسند احمد (2/12، 13)، سنن الدارمی/الطہارة 8 (694) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا"، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت الخلاء میں قبلے کی طرف کر کے بیٹھے ہوئے دیکھا۔“ (حدیث کی سند میں ایک راوی) عیسیٰ خیاط بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مطلب ہے کہ صحرا (اور کھلے میدان) میں قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیت الخلاء کے اندر قبلے کا خیال رکھنا ضروری نہیں، وہاں تم جدھر چاہو منہ کر سکتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8251، ومصباح الزجاجة: 130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97، 99، 114) (ضعیف جدًا)» (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
عيسي بن أبي عيسي الحناط: متروك (تقريب: 5317)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
ضعيف جدًا
عيسي بن أبي عيسي الحناط: متروك (تقريب: 5317)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
حدیث نمبر: 323M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبیداللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ:" أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16331، ومصباح الزجاجة: 132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 127، 137، 183، 219، 227، 239) (ضعیف)» (سند میں خالد بن ابوصلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کا سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن أبي الصلت: مقبول (تقريب: 1643) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
إسناده ضعيف
خالد بن أبي الصلت: مقبول (تقريب: 1643) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
حدیث نمبر: 324M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی خالد بن ابی الصلت سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 324M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف