🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابٌ في الْبَوْلِ قَاعِدًا
باب: بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ".
‏‏‏‏ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 308]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10569، ومصباح الزجاجة: 124)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الطہارة 8 (12 تعلیقًا) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''عبد الکریم بن المخارق ابو امیہ'' ضعیف ہیں، اور عبید اللہ بن العمری ثقہ نے اس خبر کے معارض روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 934)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،عبدالكريم متفق علي تضعيفه‘‘ (وانظر ضعيف سنن الترمذي: 12)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ قَائِمًا"، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ:" أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا"، قَالَ: الرَّجُلُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْهَا، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ الْعَرَبِ الْبَوْلُ قَائِمًا، أَلَا تَرَاهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، يَقُولُ:" قَعَدَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید (یعنی: ابن ماجہ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: «أنا رأيته يبول قاعدا»  کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ جانتے ہیں، (احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں)۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں ہے: دیکھو! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 309]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد احمد بن عبدالرحمن مخزومی رحمہ اللہ کے واسطے سے حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس مسئلہ میں مردوں کو زیادہ معلومات ہو سکتی ہیں۔ یعنی امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہمیشہ) بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا ہے پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (حدیث: 305) کو ترجیح دی ہے۔ احمد بن عبدالرحمن مخزومی رحمہ اللہ نے فرمایا: عربوں میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا رواج تھا، اس لیے عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: (یہودیوں نے کہا) یہ تو بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں جس طرح عورتیں پیشاب کیا کرتی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3113، ومصباح الزجاجة: 125) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (اس سند میں عدی بن الفضل متروک راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 638)
وضاحت: ۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودی کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عدي بن الفضل: متروك (تقريب: 4545)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: كَرَاهَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالاِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے شرمگاہ چھونے یا استنجاء کرنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جب کوئی شخص پیشاب کرے تو اسے چاہیے کہ عضو خاص کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، والأشربة 25 (5630)، صحیح مسلم/الطہارة 18 (267) سنن ابی داود/الطہارة 18 (31)، سنن الترمذی/ الطہارة 11 (15)، سنن النسائی/ الطہارة 23 (24، 25)، (تحفة الأشراف: 12105)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/296، 300، 310)، سنن الدارمی/الطہارة 13 (700) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لئے آدمی دایاں ہاتھ استعمال نہ کرے تاکہ اس کا وقار و احترام باقی رہے، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عام اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ انہوں نے دائیں ہاتھ سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اوزاعی نے اس طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ:" مَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا مَسِسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 311]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نہ کبھی گانا گایا، نہ جھوٹ بولا، اور نہ عضوِ خاص کو دائیں ہاتھ سے چھوا، جب سے میں نے اس (ہاتھ) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9831، ومصباح الزجاجة: 126) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں صلت بن دینار متروک اور ناصبی الحدیث ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی داہنے ہاتھ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کرنے کے بعد سے اس کو شرمگاہ سے نہیں لگایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
الصلت بن دينار: متروك ناصبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 312]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے، اسے اپنے بائیں ہاتھ سے استنجا کرنا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن النسائی/الطہارة 36 (40)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 20 (155) مناقب الأنصار 32 (3860)، مسند احمد (2/ 247، 250)، سنن الدارمی/الطہارة 14 (701) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ
باب: پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ، أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ، وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا، اور گوبر اور ہڈی سے، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 313]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے اس طرح ہوں جس طرح اولاد کے لیے باپ ہوتا ہے۔ (اس لیے) میں تمہیں (بظاہر معمولی سمجھے جانے والے امور کی بھی) تعلیم دیتا ہوں۔ جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور اس کی طرف پیٹھ بھی نہ کرو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم دیا، لید اور ہڈی استعمال کرنے سے منع فرمایا، اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن النسائی/الطہارة 36 (40)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 247، 250) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض روایتوں میں تین سے کم پتھر پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے تین پتھر کے استعمال کا وجوب ثابت ہوتا ہے، بعض احادیث میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے، نیز یہاں «رمَّۃ» (بوسیدہ ہڈی) سے مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آتا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو نجس نہیں ہوتی، جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هِيَ رِكْسٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: میرے پاس تین پتھر لاؤ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 314]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: مجھے تین پتھر لا دو۔ میں دو پتھر اور ایک لید لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: «هٰذَا رِكْسٌ» یہ ناپاک ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 21 (156)، سنن النسائی/الطہارة 38 (42)، (تحفة الأشراف: 9170)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوضوء 13 (17)، مسند احمد (1/388، 418، 450) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: گوبر نجس ہے، ایک اور پتھر لاؤ (ورجاله ثقات)، علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: ممکن ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی تیسرا پتھر اٹھا لیا ہو، ملاحظہ ہو تحفۃ الأحوذی (۱/۶۹)، چنانچہ آگے کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تین پتھر لینا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجا میں تین پتھر (استعمال) ہوتے ہیں، ان میں گوبر، لید نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 21 (41)، (تحفة الأشراف: 3529)، مسند احمد (5/213، 214)، سنن الدارمی/الطہارة 11 (698) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (41)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ، قَالَ: أَجَلْ،" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، وَلَا عَظْمٌ".
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی مشرک نے بطور استہزاء کے کہا: میں تمہارے ساتھی (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں، یہاں تک کہ قضائے حاجت کے آداب بھی بتاتے ہیں! سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں، دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں، اور تین پتھر سے کم استعمال نہ کریں، ان میں کوئی گوبر ہو نہ ہڈی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 316]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بعض مشرکین ان کا مذاق اڑانے لگے، ایک مشرک نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں سب کچھ سکھاتا ہے حتی کہ پاخانہ کرنا بھی (سکھاتا ہے)۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم (قضائے حاجت کے لیے) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں، اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں، اور تین پتھروں سے کم استعمال نہ کریں، ان میں لید یا ہڈی شامل نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 17 (262)، سنن ابی داود/الطہارة 4 (7)، سنن الترمذی/الطہارة 12 (16)، سنن النسائی/الطہارة 37 (40)، (تحفة الأشراف: 4505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 437، 438، 439) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں