🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى
باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ"، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 325]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے ایک سال پہلے اس طرح منہ کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 5 (13)، سنن الترمذی/الطہارة 7 (9)، (تحفة الأشراف: 2574)، مسند احمد (3/360) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جابر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور «بنیان» (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہو گئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہو گا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: الاِسْتِبْرَاءِ بَعْدَ الْبَوْلِ
باب: پیشاب کے بعد طہارت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ سونت لے (زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 326]
حضرت عیسیٰ بن یزداد یمانی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پیشاب کرے تو عضو کو تین بار سونت لے (زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 82، ومصباح الزجاجة: 133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف اور عیسیٰ بن زیاد الیمانی مجہول الحال ہیں، نیز یزداد کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1621)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف …… وزمعة ضعيف ‘‘ وعيسي بن يزداد مجهول الحال (تقريب: 5338)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی زمعہ نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 326M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف

20. بَابُ: مَنْ بَالَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
باب: پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟" قَالَ: مَاءٌ، قَالَ:" مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 327]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے (باہر) تشریف لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پانی لے کر آپ کے پیچھے چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: پانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں۔ اگر میں ایسا کروں گا تو یہ (لازمی) سنت بن جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 22 (42)، (تحفة الأشراف: 17982)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/95) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی، رقم: 296، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (42)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ
باب: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا، فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا، وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلَاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِفَاقٌ، وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَالظِّلِّ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ".
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 328]
ابو سعید حمیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ وہ احادیث بیان کیا کرتے تھے جو دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں سنی ہوتی تھیں، اور جو حدیثیں دوسروں نے سنی ہوتی تھیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انہیں بیان نہیں کرتے تھے۔ ان کی بیان کردہ کوئی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان نہیں سنا۔ ممکن ہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ (کے یہ حدیث بیان کرنے) کی وجہ سے تم لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جاؤ۔ یہ بات حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی۔ (ایک موقع پر) ان کی آپس میں ملاقات ہوئی تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے جھوٹ بولنا منافقت ہے۔ جو شخص ایسی بات کرے گا، خود گناہ گار ہو گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: لعنت کا سبب بننے والے تین کاموں سے اجتناب کرو، یعنی گھاٹ پر، سائے میں اور راستے کے درمیان قضائے حاجت کرنے سے (پرہیز کرو)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 14 (26)، (تحفة الأشراف: 11370، ومصباح الزجاجة: 134) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوسعید الحمیری کا سماع معاذ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 62)
وضاحت: ۱؎: جن مقامات پر لوگ اپنے یا جانوروں کے پانی کے لئے جاتے ہوں، جہاں آرام کے لئے سایہ میں بیٹھتے ہوں، یا جس راستہ پر چلتے ہوں اس پر پاخانہ کرنا لعنت کا سبب ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کو ایذاء پہنچتی ہے، اور لوگ لعن و طعن کرتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (26)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالصَّلَاةَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلَاعِنِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 329]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے کے درمیان (رات کو آرام کرنے اور سونے کے لیے) نہ ٹھہرو، اور وہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ سانپوں اور درندوں کا ٹھکانا ہے، اور وہاں قضائے حاجت نہ کرو کیونکہ یہ لعنت کا باعث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2229، ومصباح الزجاجة: 135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/5 30) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سالم بن عبد اللہ الخیاط البصری ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں صدوق سئی الحفظ کہا ہے، مگر زہیر بن محمد التمیمی اور عمرو بن أبی سلمہ دونوں ضعیف ہیں، اور حسن بصری اور جابر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز اس حدیث میں «والصلاة عليها» کا لفظ ثابت نہیں ہے، لیکن حدیث کے جملے متفرق طور پر صحیح ہیں، پہلا جملہ «إياكم والتعريس» صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور آخری ٹکڑے: «وقضاء الحاجة عليها فإنها من الملاعن» کے کافی شواہد ہیں: ملاحظہ ہو: ا لإرواء: 1/ 101، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2433)
قال الشيخ الألباني: حسن دون الصلاة عليها
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عمرو بن أبي سلمة الشامي يروي عن زهير بن محمد أحاديث مناكير (انظر ضعيف سنن الترمذي: 296 وضعيف سنن أبي داود: 4877)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، أَوْ يُضْرَبَ الْخَلَاءُ عَلَيْهَا، أَوْ يُبَالَ فِيهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 330]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے سے یا قضائے حاجت کرنے سے یا پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6904، ومصباح الزجاجة: 136) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ اور عمرو بن خالد ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإراوء: 1/101 - 102 - 319)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن واختلط
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ
باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْن عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 331]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/الطہارة 16 (20)، سنن النسائی/الطہارة 16 (17)، (تحفة الأشراف: 11540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244)، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مقصود اس سے پردہ ہے، جہاں سے اور جیسے بھی حاصل ہو جائے کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 332]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے گئے، پھر واپس آکر وضو کے لیے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1092، ومصباح الزجاجة: 137) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 33)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف (عمر بن المثني) الأشجعي وقال أبو زرعة: عطاء لم يسمع من أنس ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 333]
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11852، ومصباح الزجاجة: 138) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یونس بن خباب ضعیف ہیں لیکن حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہے، اس لئے صحیح ہے، کما تقدم (331) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1159)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں