🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: مِيرَاثِ أَهْلِ الإِسْلاَمِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ
باب: مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، المغازي 48 (4283)، الفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1614)، سنن ابی داود/الفرائض 10 (2909)، سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، (تحفة الأشراف: 113)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض13 (10)، مسند احمد (5/200، 201، 208، 209)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3041) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ"، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، قَالَ أُسَامَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں (ابوطالب کے انتقال کے وقت) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مسلمان کافر کا وارث ہو گا، اور نہ ہی کافر مسلمان کا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں تشریف رکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان گھر چھوڑا ہے؟ ابو طالب کی وراثت عقیل اور طالب کو ملی تھی اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی وجہ سے کہا کرتے تھے: مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث '' لایرث المسلم الکافر '' تقدم تخریجہ بالحدیث السابق (2729)، وحدیث '' وہل ترک لنا عقیل '' أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، الجہاد 180 (3058)، المغازي 48 (4282)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابی داود/المناسک (2010)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3036) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مذہب والے (جیسے کافر اور مسلمان) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2731]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 8780)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفرائض 10 (2911)، سنن الترمذی/الفرائض 16 (2109)، مسند احمد (2/178، 195) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: مِيرَاثِ الْوَلاَءِ
باب: ولاء یعنی غلام آزاد کرنے پر حاصل ہونے والے حق وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رِئَابُ بْنُ حُذَيْفَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَهْمٍ أُمَّ وَائِلٍ بِنْتَ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيَّةَ فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةً فَتُوُفِّيَتْ أُمُّهُمْ فَوَرِثَهَا بَنُوهَا رِبَاعًا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا. فَخَرَجَ بِهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا فِي طَاعُونِ عَمْوَاسٍ فَوَرِثَهُمْ عَمْرُو وَكَانَ عَصَبَتَهُمْ فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَاءَ بَنُو مَعْمَرٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ"، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِهِ، وَكَتَبَ لَنَا بِهِ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَآخَرَ حَتَّى إِذَا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ تُوُفِّيَ مَوْلًى لَهَا، وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِينَارٍ فَبَلَغَنِي أَنَّ ذَلِكَ الْقَضَاءَ قَدْ غُيِّرَ فَخَاصَمُوهُ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيل، فَرَفَعَنَا إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَتَيْنَاهُ بِكِتَابِ عُمَرَ فَقَالَ:" إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنَّ هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي لَا يُشَكُّ فِيهِ وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَمْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَلَغَ هَذَا أَنْ يَشُكُّوا فِي هَذَا الْقَضَاءِ فَقَضَى لَنَا فِيهِ فَلَمْ نَزَلْ بِهِ بَعْدُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے نکاح کیا، اور ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو اس کے بیٹے زمین جائیداد اور ان کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے، ان سب کو لے کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام گئے، وہ سب طاعون عمواس میں مر گئے تو ان کے وارث عمرو رضی اللہ عنہ ہوئے، جو ان کے عصبہ تھے، اس کے بعد جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام سے لوٹے تو معمر کے بیٹے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی بہن کے ولاء (حق میراث) کا مقدمہ لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسی کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس ولاء کو لڑکا اور والد حاصل کریں وہ ان کے عصبہ کو ملے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا، اور ہمارے لیے ایک دستاویز لکھ دی، جس میں عبدالرحمٰن بن عوف، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرے شخص کی گواہی درج تھی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو ام وائل کا ایک غلام مر گیا، جس نے دو ہزار دینار میراث میں چھوڑے تھے، مجھے پتہ چلا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا فیصلہ بدل دیا گیا ہے، اور اس کا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس گیا ہے، تو ہم نے معاملہ عبدالملک کے سامنے اٹھایا، اور ان کے سامنے عمر رضی اللہ عنہ کی دستاویز پیش کی جس پر عبدالملک نے کہا: میرے خیال سے تو یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں کسی کو بھی شک نہیں کرنا چاہیئے، اور میں یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ مدینہ والوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ اس جیسے (واضح) فیصلے میں شک کر رہے ہیں، آخر کار عبدالملک نے ہماری موافقت میں فیصلہ کیا، اور ہم برابر اس میراث پر قابض رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2732]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے شادی کی، ان سے ان کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوئے، پھر ان کی والدہ (ام وائل) کی وفات ہو گئی، تو ام وائل کے بیٹوں کو وراثت میں کچھ زمین اور غلاموں کی ولاء ملی۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان (بیٹوں) کو لے کر شام گئے، (وہاں) عمواس کے طاعون میں وہ (سب بیٹے) فوت ہو گئے، چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان کے عصبہ ہونے کی وجہ سے ان کے وارث ہوئے۔ جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو معمر کے بیٹوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں اپنی بہن (ام وائل) کی ولاء کے حصول کے لیے دعویٰ کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان اسی ارشاد کے مطابق فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا ہے: بیٹا یا باپ جو ولاء حاصل کرے، وہ اس کے عصبہ کو ملے گی، خواہ کوئی ہو۔(حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ ہمارے حق میں دے دیا اور اس مضمون کی ایک تحریر لکھ کر ہمیں دی جس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک (دیگر) آدمی (رضی اللہ عنہ) کی گواہی ثبت تھی۔ اس کے بعد خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ خلافت میں اس خاتون کا ایک آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا، اس نے دو ہزار دینار ترکہ چھوڑا، مجھے خبر ملی کہ اس فیصلے میں (جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا) تبدیلی کر دی گئی ہے (فیصلہ مذکورہ بالا قانون کے مطابق نہیں کیا گیا)۔ یہ معاملہ ہشام بن اسماعیل کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ہمیں (خلیفہ) عبدالملک کے پاس بھیج دیا (تاکہ وہی اس مقدمے کا فیصلہ کریں)۔ چنانچہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر انہیں دکھائی، عبدالملک نے کہا: میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں شک نہیں کیا جا سکتا، میں نہیں سمجھتا تھا کہ مدینہ والوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ اس میں شک کریں۔ پھر عبدالملک نے اس کا فیصلہ ہمارے حق میں کر دیا اور ہم اب تک اس (میراث) پر قابض ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 12 (2917)، (تحفة الأشراف: 10581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/27) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ولاء کا قاعدہ یہ ہے کہ اس غلام یا لونڈی کے ذوی الفروض سے جو بچ رہے گا وہ آزاد کرنے والے کو ملے گا، اگر ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو اور نہ قریبی عصبات میں سے تو کل مال آزاد کرنے والے کو مل جائے گا، اور جب ایک مرتبہ ام وائل کے غلاموں کی ولاء اس کے بیٹوں کی وجہ سے سسرال والوں میں آ گئی تو وہ اب کبھی پھر ام وائل کے خاندان میں جانے والی نہیں تھی جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2733
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور کے درخت پر سے گر کر مر گیا، اور کچھ مال چھوڑ گیا، اس نے کوئی اولاد یا رشتہ دار نہیں چھوڑا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی میراث اس کے گاؤں میں سے کسی کو دے دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2733]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ غلام کھجور کے درخت سے گر کر فوت ہو گیا، اس نے کچھ مال چھوڑا تھا لیکن اس کی کوئی اولاد یا رشتے دار نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی میراث اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 8 (2902)، سنن الترمذی/الفرائض 13 (2105)، (تحفة الأشراف: 16381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137، 174، 181) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ میراث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی مگر انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے اور نہ ان کا کوئی وارث ہوتا ہے اس لیے آپ نے میراث نہیں لی، بیت المال میں ایسی میراث رکھنے کا امام کو اختیار ہے، آپ نے یہی مناسب سمجھا کہ اس کی بستی والے اس کے مال سے فائدہ اٹھائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ بِنْتِ حَمْزَةَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى وَهِيَ أُخْتُ ابْنِ شَدَّادٍ لِأُمِّهِ، قَالَتْ:" مَاتَ مَوْلَايَ وَتَرَكَ ابْنَةً فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِهِ فَجَعَلَ لِي النِّصْفَ وَلَهَا النِّصْفَ".
عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، (بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2734]
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی (امامہ یا امة اللہ رضی اللہ عنہا) جو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کی ماں شریک بہن ہیں، ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرا آزاد کردہ غلام ایک بیٹی چھوڑ کر فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کر دیا، یعنی آدھا مجھے دیا اور آدھا اس کو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18372، ومصباح الزجاجة: 966)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 31 (3056) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1696)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي ضعيف
وخالفه شعبة عن الحكم عن عبد اللّٰه بن شداد به مرسلاً،وأخرجه أبو داود في المراسيل (ح364)
وتابعه غير واحد عن الحكم به فالحديث منقطع كما قال البيھقي (6/ 241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: مِيرَاثِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کی میراث کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفرائض 17 (2109)، (تحفة الأ شراف: 12286) وقد مضی برقم: (2645) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ:" الْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا، وَمَالِهَا مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا، وَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: عورت اپنے شوہر کی دیت اور مال دونوں میں وارث ہو گی، اور شوہر بیوی کی دیت اور مال میں وارث ہو گا، جب کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، لیکن جب ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ہو تو اس دیت اور مال سے کسی بھی چیز کا وارث نہیں ہو گا، اور اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کر دیا ہو تو اس کے مال سے تو وارث ہو گا، لیکن دیت سے وارث نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2736]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن (خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے اور (خطبے) میں فرمایا: عورت اپنے خاوند کی دیت اور اس کے مال میں سے وراثت (کا حصہ) حاصل کرتی ہے اور خاوند اس کی دیت اور مال میں سے وراثت حاصل کرتا ہے بشرطیکہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو۔ اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو عمداً قتل کیا تو وہ نہ اس کی دیت سے وراثت پائے گا، نہ اس کے مال سے۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا ہو (قتلِ خطا کا ارتکاب کیا ہو) تو اس کے مال میں سے وراثت پائے گا اور اس کی دیت میں سے وراثت نہیں پائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8766، ومصباح الزجاجة: 968) (موضوع) (سند میں محمد بن سعید ابو سعید مصلوب فی الزند قہ ہے، جو حدیثیں وضع کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4674)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: ذَوِيِ الأَرْحَامِ
باب: ذوی الارحام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2737
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ إِلَّا خَالٌ فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو تیر مارا، جس سے وہ مر گیا، اور اس کا ماموں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تھا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ لکھ بھیجا، جس کے جواب میں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اس کا مولیٰ اللہ اور اس کے رسول ہیں، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث اس کا ماموں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2737]
حضرت ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تیر مار کر قتل کر دیا، مقتول کا ایک ماموں کے سوا کوئی وارث نہ تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر یہ مسئلہ دریافت فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (جواب میں) خط لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کا مولیٰ ہے، اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفرائض 12 (2103)، (تحفة الأشراف: 10384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/28، 46) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اللہ تعالی نے فرمایا: «وأولوا الأرحام بعضهم أولى ببعض» (سورة الأنفال: 75) یعنی رشتے ناتے والے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، اور یہ شامل ہے ذوی الارحام کو بھی اور جمہور اسی کے قائل ہیں کہ ذوی الارحام وارث ہوں گے اور وہ بیت المال پر مقدم ہوں گے، اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ عصبات اور ذوی الفروض نہ ہوں تو ذوی الارحام وارث ہوں گے اور وہ بیت المال پر مقدم ہیں۔ (الروضۃ الندیۃ)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2103)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا"، وَرُبَّمَا قَالَ:" فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ (جو اہل شام میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو شخص بوجھ (قرض یا محتاج اہل و عیال) چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہے، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کی دیت دوں گا، اور میں ہی میراث لوں گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہی اس کی طرف سے دیت دے گا، اور وہی اس کا وارث بھی ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2738]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شامی صحابی حضرت مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مال چھوڑ (کر فوت ہو) جائے تو وہ مال اس کے وارث کا ہے اور جو کوئی بوجھ (قرض یا نابالغ بچے) چھوڑ جائے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے، یا فرمایا: اس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہے اور جس کا کوئی وارث نہیں، اس کا میں وارث ہوں، اس کے ذمے دیت بھی میں ہی دوں گا اور اس کی وراثت بھی میں لوں گا اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہے، اس کے ذمے دیت بھی وہی دے گا اور اس کی وراثت بھی وہی لے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 8 (2899، 2900)، (تحفة الأشراف: 11569) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں