سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ
باب: عصبہ کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ إِخْوَتِهِ لِأَبِيهِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، علاتی کے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا علاتی بھائیوں کا نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2739]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماں کے بیٹے، یعنی سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، سوتیلے بھائی نہیں۔ آدمی اپنے اس بھائی کا وارث ہے جو اس کے باپ اور اس کی ماں کا بیٹا ہے، اس کا وارث نہیں جو اس کے باپ کا بیٹا ہے (ماں کا نہیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفرائض 5 (2094، 2095)، (تحفة الأشراف: 10043)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 28 (3027)، وقد مضی برقم: 2715 (حسن) (سند میں ابو بحرالبکراوی اور الحارث الاعور دونوں ضعیف ہیں، لیکن سعد بن الاطول رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)»
وضاحت: حقیقی (سگے) بھائی یعنی وہ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں، اور علاتی سے مراد وہ بھائی ہیں جن کے باپ ایک ہو، اور ماں الگ الگ ہو، اور جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ ہوں، انہیں اخیافی بھائی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2715)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
ضعيف
انظر الحديث السابق (2715)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
حدیث نمبر: 2740
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال کو اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق ذوی الفروض (میراث کے حصہ داروں) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2740]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصحاب الفروض میں اللہ کی کتاب کے مطابق مال تقسیم کرو، پھر مقررہ حصے دینے کے بعد جو بچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفرائض 5 (6732)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1615)، سنن ابی داود/الفرائض 7 (2898)، سنن الترمذی/الفرائض 8 (2098)، (تحفة الأشراف: 5705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292، 313، 325)، سنن الدارمی/الفرائض 28 (3030) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
11. بَابُ: مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ
باب: لاوارث میت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2741]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا، صرف ایک غلام تھا جسے اس نے آزاد کر دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ترکہ اس (آزاد کردہ غلام) کو دے دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 8 (2905)، سنن الترمذی/الفرائض 14 (2106)، (تحفة الأشراف: 6326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 358) (ضعیف)» (سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1669)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
12. بَابُ: تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثَ مَوَارِيثَ
باب: عورت تین آدمیوں کا ترکہ پاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2742
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقِهَا وَلَقِيطِهَا وَوَلَدِهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ"قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ هِشَامٍ.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے“۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2742]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت تین ترکے حاصل کرتی ہے: اپنے آزاد کردہ غلام کا، اس لاوارث بچے کا جسے اس نے پالا ہو، اور اپنے اس بچے کا جس پر اس نے لعان کیا ہو۔“ محمد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: ”اس روایت کو ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 9 (2906)، سنن الترمذی/الفرائض 23 (2115)، (تحفة الأشراف: 11744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/106، 107) (ضعیف)» (سند میں عمر بن رؤبہ التغلبی کی وجہ سے ضعف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2906) ترمذي (2115)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2906) ترمذي (2115)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
13. بَابُ: مَنْ أَنْكَرَ وَلَدَهُ
باب: جو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہہ دے کہ یہ میرا نہیں ہے اس پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2743
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَلْحَقَتْ بِقَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ وَقَدْ عَرَفَهُ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے کسی قوم میں ایسے (بچہ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2743]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت کسی قوم میں اس (بچے) کو شامل کرے جو (درحقیقت) ان میں سے نہیں، اس عورت کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، وہ اسے اپنی جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا اور جو مرد اپنے بیٹے کو پہچان کر اسے (اپنا بیٹا) تسلیم کرنے سے انکار کر دے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے پردے میں رہے گا (اسے اپنے دیدار سے محروم رکھے گا) اور اسے سب لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13075، ومصباح الزجاجة: 969)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 29 (2263)، سنن النسائی/الطلاق 47 (3511)، سنن الدارمی/النکاح 42 (2284) (ضعیف)» (سند میں یحییٰ بن حرب مجہول، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2744
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُفْرٌ بِامْرِئٍ ادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يَعْرِفُهُ أَوْ جَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک (دقیق) ہو یہ بھی کفر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2744]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کا یہ کام بھی کفر ہے کہ وہ اس نسب کا دعویٰ کرے یا انکار کرے جس کے بارے میں اسے یقینی علم نہیں، اگرچہ (یہ انکار یا دعویٰ) صراحت سے نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8817 ألف، ومصباح الزجاجة: 970)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/215) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں پر کفر سے مراد نسب کی ناشکری ہے، کیونکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر جو کہ اس کے وجود کا سبب ہے، دوسرے کا بیٹا بنا چاہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
14. بَابٌ في ادِّعَاءِ الْوَلَدِ
باب: بچے کا دعویٰ کرنا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2745
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2745]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت شعیب بن محمد) سے اور وہ اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی لونڈی سے یا کسی آزاد عورت سے زنا کیا تو اس کا (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا) بیٹا، ناجائز اولاد ہے۔ وہ (اس زانی کا) وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کی وراثت (زانی کو) ملے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8778)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 21 (2113) (حسن)» (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الدِّمَشْقِيُّ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يُورَثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں (کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: ”اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، (اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی“۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2746]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بچے کا نسب اس کے باپ کے مرنے کے بعد، یعنی جس کا وہ بچہ کہلاتا تھا، اس سے ملانے کا دعویٰ کیا جائے، یعنی اس شخص کے مرنے کے بعد اس کے وارث اس بچے کا دعویٰ کریں (کہ وہ فوت ہونے والے کا بیٹا ہے، اس لیے ہم اس کے سرپرست ہوں گے، اور وہ ہم میں شمار ہوگا) اس کا فیصلہ یہ ہے کہ جو بچہ اس لونڈی سے ہو جس سے ملاپ کے موقع پر وہ اس شخص (بچے کے باپ) کی ملکیت تھی تو وہ اس سے ملایا جائے گا جس نے (اپنے خاندان میں) ملانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور اسے اس ترکے میں سے کچھ نہیں ملے گا جو اس (کو ملانے) سے پہلے تقسیم ہو چکا، اور جو میراث ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی اس میں سے اسے حصہ ملے گا۔ اگر اس کے باپ نے اسے بیٹا تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا جس کا وہ بیٹا کہلاتا ہے تو اسے اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔ اگر یہ بچہ اس لونڈی سے پیدا ہوا ہے جو مرنے والے کی ملکیت نہ تھی، یا اس آزاد عورت سے پیدا ہوا ہے جس سے مرنے والے نے زنا کیا تھا تو اسے اس (مرنے والے) سے نہیں ملایا جائے گا، نہ اسے وراثت دی جائے گی، اگرچہ وہ جس کا بیٹا مشہور ہے، اس نے اس کا دعویٰ کیا ہو (کہ یہ مجھ سے ہے) کیونکہ یہ ناجائز اولاد ہے۔ یہ اپنی ماں کے خاندان سے شمار ہوگا، وہ جو کوئی بھی ہوں، خواہ اس کی ماں آزاد ہو یا لونڈی۔“ محمد بن راشد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ تقسیم ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں ہو چکی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8712ألف، ومصباح الزجاجة: 971)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 30 (2265)، مسند احمد (2/181، 219)، سنن الدارمی/الفرائض 45 (3154) (حسن)» (بوصیری نے کہا کہ ابوداود اور ترمذی نے بعض حدیث ذکر کی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
15. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ
باب: حق ولا ء (میراث) کو بیچنا اور ہبہ کرنا ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 2747
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2747]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 10 (2535)، الفرائض 21 (6756)، صحیح مسلم/العتق 3 (1506)، سنن ابی داود/الفرائض 14 (2919)، سنن الترمذی/البیوع 20، (1236)، سنن النسائی/البیوع 85 (4663)، (تحفة الأشراف: 715، 7189)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق والولاء 10 (20)، مسند احمد (3/9، 79، 107)، سنن الدارمی/البیوع 36 (2614) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ولاء (میراث) ایک طرح کی رشتہ داری ہے اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا کیونکر جائز ہو گا، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2748]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأ شراف: 8222)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 20 (1236)، 54 (1287)، (صحیح)» (سند میں محمد بن عبدالملک صدوق ہیں، اس لئے یہ اسناد حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح