🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ الْعَدُوَّ، أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2812]
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص دشمن کی طرف ایک تیر پھینکے اور وہ دشمن تک پہنچ جائے، خواہ دشمن کو لگے یا نہ لگے، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10765)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، أَلَا وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» (سورۃ الانفال: ۶۰) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2813]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت تلاوت کرتے سنا: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾ [سورة الأنفال: 60] دشمن کے مقابلے کے لیے جتنی ہو سکے طاقت تیار رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: خبردار! «أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ» طاقت سے مراد تیر اندازی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 52 (1917)، سنن ابی داود/الجہاد 24 (2514)، (تحفة الأشراف: 9911)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 9 (3083)، مسند احمد (4/157)، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2448) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جنگجو کفار و مشرکین اور اعداء اسلام کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ اپنی طاقت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت جنگ کے لئے مستعد رہو گو جنگ نہ ہو، اس لئے کہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے، ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہاری طاقت کم ہونے کے وقت غفلت میں حملہ کر بیٹھے اور تم پر غالب ہو جائے، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن شریف کو مدت سے بالائے طاق رکھ دیا، ہزاروں میں سے ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آتا جو قرآن کو اس پر عمل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَقَدْ عَصَانِي".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2814]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جس نے تیراندازی سیکھی، پھر چھوڑ دی اس نے میری نافرمانی کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9971)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 24 (2513)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1637)، سنن النسائی/الجہاد 26 (3148)، الخیل 8 (3608)، مسند احمد (4/144، 146، 148، 154، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2449) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے، اور «فلیس منّا» کے لفظ سے صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ فليس منا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853)
و حديث مسلم (1919) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ:" رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيل، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد (اسماعیل) بڑے تیر انداز تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2815]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کے بیٹو! تیر چلاؤ، تمہارے جدِ امجد بھی تیر انداز تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5428، ومصباح الزجاجة: 996)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسماعیل علیہ السلام کو ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ
باب: (جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2816
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ".
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2816]
حضرت حارث بن حسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں مدینہ آیا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ گلے میں تلوار لٹکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں۔ مجھے ایک سیاہ جھنڈا نظر آیا۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں، جہاد سے آئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآ ن 51 (2) (3273، 3274)، (تحفة الأشراف: 3277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/482) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2817
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2817]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 76 (2592)، سنن الترمذی/الجہاد 9 (1679)، سنن النسائی/الحج 106 (2869)، (تحفة الأشراف: 2889) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2818
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2818]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا سیاہ اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجہاد 10 (1681)، (تحفة الأشراف: 6542) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «رایہ» اور «لواء» کا لفظ ہے، «رایہ» یعنی بڑا جھنڈا کالا تھا،اور «لواء» چھوٹا جھنڈا سفید تھا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو لشکروں کو ترتیب دینا اور جھنڈے اور نشان بنانا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2819
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2819]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ریشم کے بٹنوں والا ایک جبہ نکالا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لباس اس وقت پہنتے تھے جب (جنگ میں) دشمن کے مقابل ہوتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس و الزینة 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 12 (4054)، سنن النسائی/الکبری الزینة (9619)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 348، 353)، الأدب المفرد (348) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و عنعن
وأصل الحديث في صحيح مسلم (2069) وغيره بدون ’’إذا لقي العدو‘‘ و انظر الحديث الآتي (الأصل: 3594)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2820
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ الرَّابِعَةِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حریر اور دیباج (ریشمی کپڑوں کے استعمال) سے منع کرتے تھے مگر جو اتنا ہو، پھر انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری سے پھر تیسری سے پھر چوتھی سے، اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2820]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ باریک ریشم اور موٹے ریشم سے منع فرماتے تھے مگر جو اتنا سا ہو، اسے جائز فرماتے تھے۔ یہ کہتے ہوئے راوی (ابوعثمان رضی اللہ عنہ) نے ایک انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری انگلی سے، پھر تیسری انگلی سے، پھر چوتھی انگلی سے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4042)، سنن النسائی/الزینة 38 (5314)، (تحفة الأشراف: 10597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 36، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی چار انگل تک اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: لُبْسِ الْعَمَائِمِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2821]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (وہ منظر اب بھی میرے تصور میں ہے) گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا ہے اور اس کے دونوں کنارے (پست کی طرف) دونوں کندھوں کے درمیان لٹک رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، (تحفة الأشراف: 10716)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108، 109)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 56 (5348)، مسند احمد (4/307)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1982) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمامہ باندھنا سنت ہے اور کئی حدیثوں میں اس کی فضیلت آئی ہے، اور عمامہ میں شملہ لٹکانا بہتر ہے لیکن ہمیشہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شملہ لٹکایا ہے کبھی نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ شملہ پیٹھ کی طرف لٹکائے اور کبھی داہنے ہاتھ کی طرف، لیکن بائیں ہاتھ کی طرف لٹکانا سنت کے خلاف ہے اور شملہ کی مقدار چار انگل سے لے کر ایک ہاتھ تک ہے اور آدھی پیٹھ سے زیادہ لٹکانا اسراف اور فضول خرچی اور خلاف سنت ہے، اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کالے رنگ کا عمامہ باندھنا مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں