🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}:
باب: اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (سورۃ المائدہ) کی تفسیر ”بلاشبہ شراب، جوا، بت اور پانسے گندے کام ہیں شیطان کے کاموں سے پس تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5575
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ» .
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5575]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی پھر اس سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5576
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ، وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ، غَوَتْ أُمَّتُكَ"، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، وَابْنُ الْهَادِ، وعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَالزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بیت المقدس کے شہر) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5576]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی، اس رات ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دینِ فطرت کے انتخاب کی ہدایت فرمائی! اگر آپ نے شراب کا پیالہ پکڑا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ معمر، ابنِ ہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5577
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ غَيْرِي، قَالَ:" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَقِلَّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمُهُنَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا (کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5577]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے، تمہیں وہ میرے علاوہ کوئی دوسرا بیان نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ جہالت عام ہو گی اور علم کم ہو جائے گا، زنا کاری بڑھ جائے گی، شراب نوشی کا دور دورہ ہو گا، مرد کم ہوں گے اور عورتیں بکثرت ہوں گی، حتیٰ کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک مرد ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5578
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولَانِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص (دن دھاڑے) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5578]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا، جب کوئی شراب پیتا ہے تو عین شراب نوشی کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا، جب چور چوری کرتا ہے تو عین چوری کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ ایک روایت میں (راوئ حدیث) ابوبکر بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں مذکورہ امور کے ساتھ یہ اضافہ کرتے تھے: جب کوئی کسی قدر اور شرافت والے مال و متاع پر ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے رہ جائیں تو وہ بھی لوٹ مار کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَغَيْرِهِ:
باب: شراب انگور وغیرہ سے بھی بنتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5579
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5579]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب شراب حرام کی گئی تو مدینہ طیبہ میں انگور کی شراب نہیں ملتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5580
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5580]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم پر جب شراب حرام کی گئی تو مدینہ طیبہ میں انگور کی شراب بہت کم دستیاب ہوتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5580]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَامَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ" أَمَّا بَعْدُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب (خمر) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5581]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو۔ «الْخَمْرُ» (شراب) ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ:
باب: شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5582
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ، وَأَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، مِنْ فَضِيخِ زَهْوٍ وَتَمْرٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: قُمْ يَا أَنَسُ فَأَهْرِقْهَا، فَأَهْرَقْتُهَا".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5582]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت ابو عبیدہ، حضرت ابو طلحہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی پکی کھجوروں سے تیار کردہ شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے اطلاع دی کہ شراب حرام کر دی گئی ہے، اس وقت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے انس! اٹھو اس شراب کو بہا دو، چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5582]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5583
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي، وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: أَكْفِئْهَا، فَكَفَأْتُهَا، قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا شَرَابُهُمْ؟، قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ، وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب (کھجور کی) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5583]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک قبیلے میں کھڑا اپنے چچاؤں کو کھجوروں سے تیار کردہ شراب پلا رہا تھا کیونکہ میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ اس دوران میں کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ حاضرین نے کہا: اب اسے بہا دو، چنانچہ میں نے شراب کو بہا دیا۔ راوی نے پوچھا کہ یہ شراب کس چیز سے بنتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: تازہ کچی پکی کھجوروں سے۔ حضرت ابوبکر بن انس نے کہا: ان کی شراب یہی ہوتی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہ کیا، میرے کچھ ساتھیوں نے خبر دی انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس وقت ان کی شراب اس قسم کی ہوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5583]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ" أَنَّ الْخَمْرَ حُرِّمَتْ" وَالْخَمْرُ يَوْمَئِذٍ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یوسف ابومعشر براء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے ایک دوسری روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں