صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
The Book of Cultivation and Agriculture
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَرْسِ:
21. باب: درخت بونے کا بیان۔
(21) Chapter. What is said about planting trees.
حدیث نمبر: 2350
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال:" يقولون إن ابا هريرة يكثر الحديث والله الموعد، ويقولون ما للمهاجرين، والانصار لا يحدثون مثل احاديثه، وإن إخوتي من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالاسواق، وإن إخوتي من الانصار كان يشغلهم عمل اموالهم، وكنت امرا مسكينا الزم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ملء بطني، فاحضر حين يغيبون، واعي حين ينسون، وقال النبي صلى الله عليه وسلم:" يوما لن يبسط احد منكم ثوبه حتى اقضي مقالتي هذه، ثم يجمعه إلى صدره فينسى من مقالتي شيئا ابدا، فبسطت نمرة ليس علي ثوب غيرها حتى قضى النبي صلى الله عليه وسلم مقالته، ثم جمعتها إلى صدري، فوالذي بعثه بالحق ما نسيت من مقالته تلك إلى يومي هذا، والله لولا آيتان في كتاب الله ما حدثتكم شيئا ابد إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدى إلى قوله الرحيم سورة البقرة آية 160".(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَحْضُرُ حِينَ يَغِيبُونَ، وَأَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمًا لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا، فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ غَيْرُهَا حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَتِهِ تِلْكَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا أَبَدً إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى قَوْلِهِ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 160".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ بہت حدیث بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ مجھے بھی اللہ سے ملنا ہے (میں غلط بیانی کیسے کر سکتا ہوں) یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار آخر اس کی طرح کیوں احادیث بیان نہیں کرتے؟ بات یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے اور میرے بھائی انصار کو ان کی جائیداد (کھیت اور باغات وغیرہ) مشغول رکھا کرتی تھی۔ صرف میں ایک مسکین آدمی تھا۔ پیٹ بھر لینے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ہی میں برابر حاضر رہا کرتا۔ جب یہ سب حضرات غیر حاضر رہتے تو میں حاضر ہوتا۔ اس لیے جن احادیث کو یہ یاد نہیں کر سکتے تھے، میں انہیں یاد رکھتا تھا، اور ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے کپڑے کو میری اس تقریر کے ختم ہونے تک پھیلائے رکھے پھر (تقریر ختم ہونے پر) اسے اپنے سینے سے لگا لے تو وہ میری احادیث کو کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی کملی کو پھیلا دیا۔ جس کے سوا میرا بدن پر اور کوئی کپڑا نہیں تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تقریر ختم فرمائی تو میں نے وہ چادر اپنے سینے سے لگا لی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا، پھر آج تک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کی وجہ سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں بھولا) اللہ گواہ ہے کہ اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کوئی حدیث کبھی بیان نہ کرتا آیت «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الرحيم‏» تک۔ (جس میں) اس دین کے چھپانے والے پر، جسے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں بھیجا ہے، سخت لعنت کی گئی ہے۔

Narrated Abu Huraira: The people say that Abu Huraira narrates too many narrations. In fact Allah knows whether I say the truth or not. They also ask, "Why do the emigrants and the Ansar not narrate as he does?" In fact, my emigrant brethren were busy trading in the markets, and my Ansar brethren were busy with their properties. I was a poor man keeping the company of Allah's Apostle and was satisfied with what filled my stomach. So, I used to be present while they (i.e. the emigrants and the Ansar) were absent, and I used to remember while they forgot (the Hadith). One day the Prophet said, "Whoever spreads his sheet till I finish this statement of mine and then gathers it on his chest, will never forget anything of my statement." So, I spread my covering sheet which was the only garment I had, till the Prophet finished his statement and then I gathered it over my chest. By Him Who had sent him (i.e. Allah's Apostle) with the truth, since then I did not forget even a single word of that statement of his, until this day of mine. By Allah, but for two verses in Allah's Book, I would never have related any narration (from the Prophet). (These two verses are): "Verily! Those who conceal the clear signs and the guidance which we have sent down .....(up to) the Merciful.' (2.159-160)
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 39, Number 540


   صحيح البخاري2350عبد الرحمن بن صخرلن يبسط أحد منكم ثوبه حتى أقضي مقالتي هذه ثم يجمعه إلى صدره فينسى من مقالتي شيئا أبدا فبسطت نمرة ليس علي ثوب غيرها حتى قضى النبي مقالته ثم جمعتها إلى صدري فوالذي بعثه بالحق ما نسيت من مقالته تلك إلى يومي هذا والله لولا آيتان
   صحيح البخاري3648عبد الرحمن بن صخرابسط رداءك فبسطت فغرف بيده فيه ثم قال ضمه فضممته فما نسيت حديثا بعد
   صحيح البخاري7354عبد الرحمن بن صخرمن يبسط رداءه حتى أقضي مقالتي ثم يقبضه فلن ينسى شيئا سمعه مني فبسطت بردة كانت علي فوالذي بعثه بالحق ما نسيت شيئا سمعته منه
   صحيح البخاري119عبد الرحمن بن صخرابسط رداءك فبسطته قال فغرف بيديه ثم قال ضمه فضممته فما نسيت شيئا بعده
   صحيح مسلم6400عبد الرحمن بن صخرأيكم يبسط ثوبه فيأخذ من حديثي هذا ثم يجمعه إلى صدره فإنه لم ينس شيئا سمعه فبسطت بردة علي حتى فرغ من حديثه ثم جمعتها إلى صدري فما نسيت بعد ذلك اليوم شيئا حدثني به ولولا آيتان أنزلهما الله في كتابه ما حدثت شيئا أبدا إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات واله
   صحيح مسلم6397عبد الرحمن بن صخرمن يبسط ثوبه فلن ينسى شيئا سمعه مني فبسطت ثوبي حتى قضى حديثه ثم ضممته إلي فما نسيت شيئا سمعته منه
   جامع الترمذي3835عبد الرحمن بن صخرابسط رداءك فبسطته فحدث حديثا كثيرا فما نسيت شيئا
   جامع الترمذي3834عبد الرحمن بن صخربسطت ثوبي عنده ثم أخذه فجمعه على قلبي فما نسيت بعده حديثا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 119  
´ علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں `
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ، قَالَ: ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ، قَالَ: فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ضُمَّهُ، فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ . . .»
. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت باتیں سنتا ہوں، مگر بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھیلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چلو بنائی اور (میری چادر میں ڈال دی) فرمایا کہ (چادر کو) لپیٹ لو۔ میں نے چادر کو (اپنے بدن پر) لپیٹ لیا، پھر (اس کے بعد) میں کوئی چیز نہیں بھولا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ حِفْظِ الْعِلْمِ:: 119]

تشریح:
آپ کی اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ بعد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حفظ حدیث کے میدان میں سب سے سبقت لے گئے اور اللہ نے ان کو دین اور دنیا ہر دو سے خوب ہی نوازا۔ چادر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چلو ڈالنا نیک فالی تھی۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 119   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2350  
2350. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: لوگ ابوہریرہ ؓ کے متعلق بکثرت احادیث بیان کرنے کا ا عتراض کرتے ہیں۔ آخر اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ دوسرے مہاجرین اور انصار اس (ابوہریرہ ؓ) کی طرح احادیث کیوں نہیں بیان کرتے؟بات دراصل یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی بازاروں میں کاروبار کے لیے مشغول رہتے تھے اور میرے انصاری بھائی اپنے مویشیوں کی ذمہ داری میں لگے رہتے تھے جبکہ میں ایک قلاش آدمی تھا، پیٹ بھر جاتا تو ہروقت رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتا تھا۔ جب یہ لوگ غائب ہوتے تو میں وہاں موجود رہتا اور جب وہ بھول جاتے تو میں یادرکھتا تھا ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنا کپڑا اس وقت تک پھیلائے رکھے جب تک میں اپنی گفتگو ختم کروں پھر اسے سمیٹ کراپنے سینے سے لگالے تو وہ میری گفتگو کو کبھی نہیں بولے گا۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر بچھادی جبکہ اس چادر کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کپڑا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2350]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث کئی جگہ نقل ہوئی ہے، اور مجتہد مطلق حضرات امام بخاری ؒ نے اس سے بہت سے مسائل کا استخراج فرمایا ہے، یہاں اس حدیث کے لانے کا مقصد یہ دکھلانا ہے کہ انصار مدینہ عام طور پر کھیتی باڑی کا کام کیا کرتے تھے۔
اس سے ثابت ہوا کہ کھیتوں اور باغوں کو ذریعہ معاش بنانا کوئی امر معیوب نہیں ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے کہ جتنی مخلوق ان سے فائدہ اٹھائے گی اس کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی کا موجب ہوگا۔
والحمد للہ علی ذلك۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2350   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2350  
2350. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: لوگ ابوہریرہ ؓ کے متعلق بکثرت احادیث بیان کرنے کا ا عتراض کرتے ہیں۔ آخر اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ دوسرے مہاجرین اور انصار اس (ابوہریرہ ؓ) کی طرح احادیث کیوں نہیں بیان کرتے؟بات دراصل یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی بازاروں میں کاروبار کے لیے مشغول رہتے تھے اور میرے انصاری بھائی اپنے مویشیوں کی ذمہ داری میں لگے رہتے تھے جبکہ میں ایک قلاش آدمی تھا، پیٹ بھر جاتا تو ہروقت رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتا تھا۔ جب یہ لوگ غائب ہوتے تو میں وہاں موجود رہتا اور جب وہ بھول جاتے تو میں یادرکھتا تھا ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنا کپڑا اس وقت تک پھیلائے رکھے جب تک میں اپنی گفتگو ختم کروں پھر اسے سمیٹ کراپنے سینے سے لگالے تو وہ میری گفتگو کو کبھی نہیں بولے گا۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر بچھادی جبکہ اس چادر کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کپڑا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2350]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ اس روایت کو شجرکاری کے باب میں لائے ہیں کیونکہ اس روایت میں انصار کے کام میں شجرکاری بھی داخل ہے۔
چونکہ انصار نخلستان کے علاقے میں آباد تھے، اس لیے باغات کی دیکھ بھال کا کام بھی عمل اموال میں شامل ہے۔
یہی عنوان کا مقصد ہے۔
(2)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان حدیث کے ضمن میں جن آیات کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہیں:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَـٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّـهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ﴿١٥٩﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَـٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٦٠﴾ )
بےشک جو لوگ ہماری نزل کردہ بینات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، اس کے بعد کہ ہم نے لوگوں کے لیے ان کو کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے، وہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں، مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ اور اپنی اصلاح کر لی اور (چھپائی ہوئی آیات کی)
وضاحت کر دی تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا انتہائی مہربان ہوں۔
(البقرة: 160،159: 2)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ عمل اموال سے مراد انصار کا کھیتی باڑی اور شجرکاری میں مصروف ہونا ہے، اس طرح یہ حدیث عنوان کے مطابق ہو جاتی ہے۔
(فتح الباري: 36/5)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2350   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.