صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. باب فضل السجود:
باب: سجدہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أن أبا هريرة أخبرهما، أن الناس قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا أَرَادَ اللَّهُ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟، فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ فَيُعْطِي اللَّهَ مَا يَشَاءُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ بِهِ عَلَى الْجَنَّةِ رَأَى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَ ذَلِكَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَيَضْحَكُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ أُمْنِيَّتُهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مِنْ كَذَا وَكَذَا أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمْ أَحْفَظْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت میں دیکھ سکیں گے؟ آپ نے (جواب کے لیے) پوچھا، کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے؟ لوگ بولے ہرگز نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا اور کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے فرمایا کہ رب العزت کو تم اسی طرح دیکھو گے۔ لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو جسے پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے۔ چنانچہ بہت سے لوگ سورج کے پیچھے ہو لیں گے، بہت سے چاند کے اور بہت سے بتوں کے ساتھ ہو لیں گے۔ یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں منافقین بھی ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک نئی صورت میں آئے گا اور ان سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ وہ منافقین کہیں گے کہ ہم یہیں اپنے رب کے آنے تک کھڑے رہیں گے۔ جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ عزوجل ان کے پاس (ایسی صورت میں جسے وہ پہچان لیں) آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ وہ بھی کہیں گے کہ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بلائے گا۔ پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھا جائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا۔ اس روز سوا انبیاء کے کوئی بھی بات نہ کر سکے گا اور انبیاء بھی صرف یہ کہیں گے۔ اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو! اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو! اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس ہوں گے۔ سعدان کے کانٹے تو تم نے دیکھے ہوں گے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہا ہاں! (آپ نے فرمایا) تو وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے۔ البتہ ان کے طول و عرض کو سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ آنکس لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق کھینچ لیں گے۔ بہت سے لوگ اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ بہت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ پھر ان کی نجات ہو گی۔ جہنمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو ملائکہ کو حکم دے گا کہ جو خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے تھے انہیں باہر نکال لو۔ چنانچہ ان کو وہ باہر نکالیں گے اور موحدوں کو سجدے کے آثار سے پہچانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر سجدہ کے آثار کا جلانا حرام کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو اثر سجدہ کے سوا ان کے جسم کے تمام ہی حصوں کو آگ جلا چکی ہو گی۔ جب جہنم سے باہر ہوں گے تو بالکل جل چکے ہوں گے۔ اس لیے ان پر آب حیات ڈالا جائے گا۔ جس سے وہ اس طرح ابھر آئیں گے۔ جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ پر سیلاب کے تھمنے کے بعد سبزہ ابھر آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان اب بھی باقی رہ جائے گا۔ یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری دوزخی شخص ہو گا۔ اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا۔ اس لیے کہے گا کہ اے میرے رب! میرے منہ کو دوزخ کی طرف سے پھیر دے۔ کیونکہ اس کی بدبو مجھ کو مارے ڈالتی ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر تیری یہ تمنا پوری کر دوں تو تو دوبارہ کوئی نیا سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا نہیں تیری بزرگی کی قسم! اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول و قرار کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے اس کا منہ پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کی شادابی نظروں کے سامنے آئی تو اللہ نے جتنی دیر چاہا وہ چپ رہے گا۔ لیکن پھر بول پڑے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ اس ایک سوال کے سوا اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔ بندہ کہے گا اے میرے رب! مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ ہونا چاہئے۔ اللہ رب العزت فرمائے گا کہ پھر کیا ضمانت ہے کہ اگر تیری یہ تمنا پوری کر دی گئی تو دوسرا کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔ بندہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب دوسرا سوال کوئی تجھ سے نہیں کروں گا۔ چنانچہ اپنے رب سے ہر طرح عہد و پیمان باندھے گا اور جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا۔ دروازہ پر پہنچ کر جب جنت کی پنہائی، تازگی اور مسرتوں کو دیکھے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ بندہ چپ رہے گا۔ لیکن آخر بول پڑے گا کہ اے اللہ! مجھے جنت کے اندر پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ افسوس اے ابن آدم! تو ایسا دغا باز کیوں بن گیا؟ کیا (ابھی) تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا، اس سے زیادہ اور کچھ نہ مانگوں گا۔ بندہ کہے گا اے رب! مجھے اپنی سب سے زیادہ بدنصیب مخلوق نہ بنا۔ اللہ پاک ہنس دے گا اور اسے جنت میں بھی داخلہ کی اجازت عطا فرما دے گا اور پھر فرمائے گا مانگ کیا ہے تیری تمنا۔ چنانچہ وہ اپنی تمنائیں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) رکھے گا اور جب تمام تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں چیز اور مانگو، فلاں چیز کا مزید سوال کرو۔ خود اللہ پاک ہی یاددہانی کرائے گا۔ اور جب وہ تمام تمنائیں پوری ہو جائیں گی تو فرمائے گا کہ تمہیں یہ سب اور اتنی ہی اور دی گئیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا اور زیادہ تمہیں دی گئیں۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی بات صرف مجھے یاد ہے کہ تمہیں یہ تمنائیں اور اتنی ہی اور دی گئیں۔ لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا تھا کہ یہ اور اس کی دس گنا تمنائیں تجھ کو دی گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 806]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم روز قیامت اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب بدر کے چاند جس پر کوئی ابر نہ ہو (اسے دیکھنے میں) تمہیں کوئی شک ہوتا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم آفتاب (کے دیکھنے) میں شک کرتے ہو جبکہ اس پر ابر نہ ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن جب لوگ اٹھائے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو (دنیا میں) جس کی پوجا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے جائے، چنانچہ کوئی تو سورج کے ساتھ ہو جائے گا اور کوئی چاند کے پیچھے ہو لے گا اور کوئی بتوں اور شیاطین کے پیچھے چلے گا۔ باقی اس امت کے (مسلمان) لوگ رہ جائیں گے جن میں منافق بھی ہوں گے۔ ان کے پاس اللہ تعالیٰ (ایک نئی صورت میں) تشریف لائے گا اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ عرض کریں گے ہم (تجھے نہیں پہچانتے ہم) اسی جگہ کھڑے رہیں گے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس (اپنی اصلی شکل و صورت میں) جلوہ گر ہو گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ تو وہ کہیں گے: ہاں، تو ہمارا رب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا۔ اس وقت جہنم کی پشت پر پل رکھ دیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنی امت کے ساتھ اس پر سے گزروں گا۔ اس روز رسولوں کے علاوہ کسی اور کو کلام کی ہمت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس روز رسول کہیں گے: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ» ”الہٰی! سلامتی دے۔ الہٰی! سلامتی دے۔“ جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے مگر ان کی لمبائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ آنکڑے لوگوں کو ان کے (برے) اعمال کے مطابق گھسیٹیں گے۔ بعض شخص تو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور کچھ زخموں سے چور ہو کر بچ جائیں گے حتی کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جہنم میں سے جن پر مہربانی کرنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ نکال لیے جائیں، چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان کر نکال لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدوں کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ ان لوگوں کو جہنم سے اس حالت میں نکالا جائے گا کہ نشانات سجود کے علاوہ ان کی ہر چیز کو آگ کھا چکی ہو گی۔ یہ لوگ کوئلے کی طرح سوختہ حالت میں جہنم سے نکلیں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا تو وہ ایسے نمو پائیں گے جس طرح قدرتی بیج پانی کے بہاؤ میں اُگتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان رہ جائے گا۔ وہ جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہونے کے اعتبار سے آخری ہو گا۔ اس کا منہ دوزخ کی جانب ہو گا اور وہ عرض کرے گا: اے اللہ! میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبو نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کے شعلے نے مجھے جلا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو آئندہ ایسا تو نہیں کرے گا کہ اگر تیرے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور مانگے؟ وہ عرض کرے گا: ہرگز نہیں، تیری عزت کی قسم! پھر اللہ تعالیٰ کو اس کی مشیت کے مطابق عہد و پیمان دے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس کا منہ دوزخ کی جانب سے پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا تو اس کی تروتازگی اور بہار دیکھ کر جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا خاموش رہے گا۔ اس کے بعد کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے اس پر قول و قرار نہ کیا تھا کہ جو کچھ تو مانگ چکا ہے اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا؟ اس پر وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! تیری مخلوق میں سب سے بڑھ کر میں ہی بدنصیب نہ ہو جاؤں۔ ارشاد ہو گا: اگر تجھے یہ بھی عطا کر دیا جائے تو اس کے علاوہ کچھ اور سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ عرض پرداز ہو گا: تیری بزرگی کی قسم! میں اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو اس کی مشیت کے مطابق قول و قرار دے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے پر پہنچا دے گا اور جب وہ جنت کے دروازے کے پاس پہنچ جائے گا وہاں کی شادابی تازگی اور فرحت دیکھ کر جتنی دیر اللہ کو منظور ہو گا خاموش رہے گا، پھر یوں گویا ہو گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تجھ پر افسوس تو کتنا عہد شکن اور دغا باز ہے؟ کیا تو نے اس بات کا عہد نہ کیا تھا کہ اب میں کوئی درخواست نہیں کروں گا؟ تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ کر۔ تب اس کی باتوں پر اللہ تعالیٰ ہنس دے گا اور اسے جنت میں جانے کی اجازت دے کر فرمائے گا کہ خواہش کر، چنانچہ وہ خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ فرمائے گا: یہ یہ چیزیں اور مانگ۔ اس کا پروردگار اسے خود یاد دلائے گا یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشیں پوری ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے یہ بھی بلکہ اس کی مثل اور بھی دیا جاتا ہے۔“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے یہ بھی اور اس کے ساتھ دس گنا مزید بھی ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گویا ہوئے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی یاد رہا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تیرے لیے یہ اور اتنا اور ہے۔“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ سب کچھ تجھے دیا اور اس سے دس گنا مزید بھی دیا جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 554
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً يَعْنِي الْبَدْرَ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَرَأَ: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39"، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: افْعَلُوا لَا تَفُوتَنَّكُمْ.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے۔ انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو (آخرت میں) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی، پس اگر تم ایسا کر سکتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز (فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز (عصر) سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ” پس اپنے مالک کی حمد و تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔ “ اسماعیل (راوی حدیث) نے کہا کہ (عصر اور فجر کی نمازیں) تم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ ان کا ہمیشہ خاص طور پر دھیان رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 554]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے ایک رات ماہِ کامل کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”بے شک تم اپنے پروردگار کو (روزِ قیامت) اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت نہیں ہو گی، لہٰذا اگر تم پابندی کر سکتے ہو تو طلوعِ آفتاب سے پہلے (فجر کی) اور غروبِ آفتاب سے پہلے (عصر کی) نمازوں سے مغلوب نہ ہو جاؤ، یعنی پابندی سے انہیں ادا کر سکو تو ضرور کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴾ [سورة ق: 39] ”طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، یعنی نماز پڑھو۔“ (حدیث کے راوی) اسماعیل بن ابی خالد نے کہا: «افْعَلُوا» کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ نمازیں تم سے فوت نہ ہو جائیں، انہیں ضرور پڑھا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُّونَ أَوْ لَا تُضَاهُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَالَ: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا سورة طه آية 130".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے اسماعیل سے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ نے بیان کیا، کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو (اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے (فجر اور عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو۔ (کیونکہ ان ہی کے طفیل دیدار الٰہی نصیب ہو گا یا ان ہی وقتوں میں یہ رویت ملے گی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ” پس اپنے رب کے حمد کی تسبیح پڑھ سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔ “ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن شہاب نے اسماعیل کے واسطہ سے جو قیس سے بواسطہ جریر (راوی ہیں) یہ زیادتی نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم اپنے رب کو صاف دیکھو گے “۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 573]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: ”تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں کوئی دشواری یا اشتباہ نہیں ہو گا، لہٰذا اگر تم پابندی کر سکتے ہو تو طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے نمازوں سے مغلوب نہ ہو جاؤ، یعنی پابندی سے انہیں ادا کر سکو تو ضرور کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ [سورة طه: 130] ”طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، یعنی نماز پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4581
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ، تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ، وَغُبَّرَاتُ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ فَقَالُوا: عَطِشْنَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا تَبْغُونَ؟ فَكَذَلِكَ مِثْلَ الْأَوَّلِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا، فَيُقَالُ: مَاذَا تَنْتَظِرُونَ؟ تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالُوا: فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَلَى أَفْقَرِ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
مجھ سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، کیا سورج کو دوپہر کے وقت دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے، جبکہ اس پر بادل بھی نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کچھ دشواری پیش آتی ہے، جبکہ اس پر بادل نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس اسی طرح تم بلا کسی دقت اور رکاوٹ کے اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ ہر امت اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر ہو جائے۔ اس وقت اللہ کے سوا جتنے بھی بتوں اور پتھروں کی پوجا ہوتی تھی، سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر جب وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا گنہگار اور اہل کتاب کے کچھ لوگ، تو پہلے یہود کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ تم (اللہ کے سوا) کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے کہ عزیر ابن اللہ کی، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا لیکن تم جھوٹے تھے، اللہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے، ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا دے۔ انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ کیا ادھر نہیں چلتے۔ چنانچہ سب کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ وہاں چمکتی ریت پانی کی طرح نظر آئے گی، بعض بعض کے ٹکڑے کئے دے رہی ہو گی۔ پھر سب کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے بھی کہا جائے گا کہ تم جھوٹے تھے۔ اللہ نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا چاہتے ہو؟ اور ان کے ساتھ یہودیوں کی طرح برتاؤ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب ان لوگوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ وہ نیک ہوں یا گنہگار، تو ان کے پاس ان کا رب ایک صورت میں جلوہ گر ہو گا، جو پہلی صورت سے جس کو وہ دیکھ چکے ہوں گے، ملتی جلتی ہو گی (یہ وہ صورت نہ ہو گی) اب ان سے کہا جائے گا۔ اب تمہیں کس کا انتظار ہے؟ ہر امت اپنے معبودوں کو ساتھ لے کر جا چکی، وہ جواب دیں گے کہ ہم دنیا میں جب لوگوں سے (جنہوں نے کفر کیا تھا) جدا ہوئے تو ہم ان میں سب سے زیادہ محتاج تھے، پھر بھی ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اب ہمیں اپنے سچے رب کا انتظار ہے جس کی ہم دنیا میں عبادت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ اس پر تمام مسلمان بول اٹھیں گے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، دو یا تین مرتبہ یوں کہیں گے ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 4581]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔ کیا تمہیں دوپہر کے وقت آفتاب دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ وہ خوب روشن ہو اور درمیان میں کوئی بادل بھی حائل نہ ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری آتی ہے جبکہ وہ چاندنی بکھیر رہا ہو اور اس میں کوئی بادل بھی رکاوٹ نہ ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”نہیں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ رب العزت کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہو سکتی ہے جتنی سورج یا چاند کو دیکھنے میں ہو سکتی ہے۔“ (یعنی بالکل دشواری نہیں ہوگی۔) جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ”ہر گروہ اس کے پیچھے ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتا تھا“، چنانچہ اللہ کے سوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ سب دوزخ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور ان میں اچھے برے سب طرح کے مسلمان اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ ہوں گے۔ (سب سے پہلے) یہودیوں کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ”وہ کون ہے جس کی تم عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے جو اللہ کا بیٹا ہے۔“ تب ان سے کہا جائے گا کہ ”تم جھوٹے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی بیوی اور بیٹا نہیں بنایا۔ اچھا اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا۔“ چنانچہ انہیں ایک سراب کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا: ”وہاں جاؤ۔“ درحقیقت وہ پانی نہیں بلکہ جہنم ہوگا جس کا ایک حصہ دوسرے کو چکنا چور کر رہا ہوگا۔ وہ بے تاب ہو کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور آگ میں کود جائیں گے۔ ان کے بعد عیسائیوں کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے۔“ ان سے کہا جائے گا: ”تم جھوٹے ہو، بھلا اللہ کے لیے بیوی اور اولاد کہاں سے آئی؟“ پھر ان سے کہا جائے گا: ”اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ بھی ایسا ہی کہیں گے جیسا یہودیوں نے کہا تھا۔ (اور وہ بھی دوزخ میں جا گریں گے۔) اب وہی لوگ رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ ہوں گے۔ (اس وقت) ان کے پاس اللہ تعالیٰ ایک صورت میں جلوہ گر ہوگا جو اس پہلی صورت سے ملتی جلتی ہوگی جسے وہ دیکھ چکے ہوں گے۔ ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ ”تم کس کے انتظار میں کھڑے ہو؟ ہر امت تو اپنے معبود کے پاس چلی گئی ہے۔“ وہ عرض کریں گے: ”ہمیں دنیا میں جہاں لوگوں کی زیادہ ضرورت تھی، اس وقت تو ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا تو اس وقت کیوں دیں؟ بلکہ ہم تو اپنے سچے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم دنیا میں عبادت کرتے تھے۔“ اس وقت پروردگار فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ پھر سب دو یا تین بار یوں کہیں گے: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے نہیں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4851
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَرَأَ: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے اسمٰعیل نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے چودہویں رات تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا کہ یقیناً تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کی رؤیت میں تم دھکم پیل نہیں کرو گے (بلکہ بڑے اطمینان سے ایک دوسرے کو دھکا دیئے بغیر دیکھو گے) اس لیے اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔ پھر آپ نے آیت «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے آفتاب نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے۔“ کی تلاوت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 4851]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”یقینا تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمہیں دھکم پیل نہیں کرنی پڑے گی، اس لیے اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴾ [سورة ق: 39] ”آفتاب نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 4851]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6573
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أن أبا هريرة، أخبرهما، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا، فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ، وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدُعَاءُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهَا لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ: أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، فَيَقُولُ: لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا، فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل (ابر) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے ہو لیں گے۔ جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے تجھ سے اللہ کی پناہ۔ ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آئے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے (کیونکہ وہ حشر میں ایک بار اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے) پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا (آؤ میرے ساتھ ہو لو) میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو۔ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو اور وہاں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دیکھے ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پھر سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ اس کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے اور اس طرح ان میں سے بعض تو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور بعض کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہو گا، پھر وہ نجات پا جائے گا۔ آخر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہو گی۔ یعنی وہ جنہوں نے کلمہ «لا إله إلا الله» کی گواہی دی ہو گی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم میں سجدوں کے نشان کو کھائے۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو نکالیں گے۔ یہ جل کر کوئلے ہو چکے ہوں گے پھر ان پر پانی چھڑکا جائے گا جسے «ماء الحياة» زندگی بخشنے والا پانی کہتے ہیں۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جیسے سیلاب کے بعد زرخیز زمین میں دانہ اگ آتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہو گا اور وہ کہے گا اے میرے رب! اس کی بدبوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، ذرا میرا منہ آگ کی طرف سے دوسری طرف پھیر دے۔ وہ اسی طرح اللہ سے دعا کرتا رہے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو کہیں تو کوئی دوسری چیز مانگنی شروع نہ کر دے۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں مانگوں گا۔ چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا۔ اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے ابھی یقین نہیں دلایا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ افسوس! اے ابن آدم! تو بہت زیادہ وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ برابر اسی طرح دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور چیز مانگنے لگے گا۔ وہ شخص کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب وہ جنت کے اندر کی نعمتوں کو دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا، پھر کہے گا اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے سوا کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ اے ابن آدم! افسوس، تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت بندہ نہ بنا۔ وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کر چنانچہ وہ اس کی خواہش کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کرو، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں اور دی جاتی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے کہا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6573]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل وغیرہ نہ ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم قیامت کے دن اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور ان سے کہے گا: جو کوئی کسی کی پوجا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پرستش کرتے تھے وہ اس کے پیچھے ہو لیں گے اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں منافقین کی جماعت بھی ہوگی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور ان سے کہے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ لوگ کہیں گے: ”تجھ سے اللہ کی پناہ! ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک ہمارا رب ہمارے سامنے نہ آئے، جب ہمارا رب ہمارے سامنے آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ لوگ کہیں گے: ”واقعی تو ہمارا رب ہے“، پھر اسی کے پیچھے ہو لیں گے اور جہنم پر پل رکھا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو عبور کروں گا۔ اس دن رسولوں کی دعا یہ ہوگی: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی سے گزار دے، اے اللہ! سلامتی سے گزار دے۔“ پل صراط کے ساتھ سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہاں دیکھے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے، البتہ ان کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق پکڑ لیں گے۔ ان میں سے کچھ تو اپنے اعمال کی پاداش میں ہلاک ہو جائیں گے اور کچھ زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے سے فارغ ہوگا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہوگی، وہ جو گواہی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اللہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچانتے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم سے سجدوں کے نشانات کو کھائے، چنانچہ جب فرشتے ان کو نکالیں گے تو وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر ان پر پانی بہایا جائے گا جسے «مَاءُ الْحَيَاةِ» ”آب حیات“ کہا جاتا ہے۔ وہ اس وقت اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کے خس و خاشاک میں دانہ اگتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! اس کی بدبو نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، میرا چہرہ دوزخ سے دوسری طرف کر دے۔“ وہ مسلسل اسی طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا، آخرکار اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا مطالبہ پورا کر دوں تو اس کے علاوہ کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کروں گا“، چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کے علاوہ دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے یقین نہیں دلایا تھا کہ میں اس کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کروں گا؟ افسوس اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن اور وعدہ فراموش ہے۔“ پھر وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو پھر اس کے علاوہ کوئی اور چیز تو نہیں مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا۔“ وہ اللہ تعالیٰ کو مضبوط عہد و پیمان دے گا کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا، پھر جب وہ جنت کی اشیاء دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ اے ابن آدم! تو کس قدر وعدہ خلاف ہے۔“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑا بدبخت نہ کر۔“ وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اس سے ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا: ”تو ایسی ایسی چیز کی خواہش کر۔“ وہ خواہش کرے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: ”تو فلاں فلاں چیز کی تمنا کر“، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: ”تیری تمام خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں مزید دی جاتی ہیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شخص سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7434
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَافْعَلُوا".
ہم سے عمر بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد اور ہشیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند تھا اور فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل نہیں ہو گی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7434]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل یا مشقت نہیں ہوگی۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نمازوں میں سستی نہ کرو تو ایسا کرلو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7434]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7435
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف الیربوعی نے بیان کیا، ان سے ابوشہاب نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے رب کو صاف صاف دیکھو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7435]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم اپنے رب کو صاف صاف علانیہ کھلی آنکھ سے ضرور دیکھو گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7436
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ".
ہم سے عبدۃ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا ان سے زائد نے، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو قیامت کے دن اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔ کھلم کھلا دیکھو گے، بےتکلف، بےمشقت، بےزحمت۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7436]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں کی رات ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھو گے جیسے تم چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت و رکاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی مشقت ہی اٹھانا پڑے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7436]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7437
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ النَّاس قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا شَافِعُوهَا أَوْ مُنَافِقُوهَا شَكَّ إِبْرَاهِيمُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ؟ هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، أَوِ الْمُوثَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ أَوِ الْمُجَازَى أَوْ نَحْوُهُ، ثُمَّ يَتَجَلَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ تَحْتَهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَى رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ هُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَدْعُو اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ أَبَدًا؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، وَيَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَقُولَ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي مَا شَاءَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ، فَيَقُولُ: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، لَا أَكُونَنَّ أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ قَالَ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَهَا، قَالَ: اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ، فَسَأَلَ رَبَّهُ وَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا حَتَّى انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا (اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے) پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے (یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ ( «اللھم ارزقنا آمین») [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7437]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوں نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اللہ کے رسول!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم اسی طرح اپنے رب کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور فرمائے گا: ”جو کوئی جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے“، چنانچہ جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے ہو جائیں گے اور چاند کی پوجا کرنے والے چاند کے پیچھے لگ جائیں گے۔ پھر یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں سفارش کرنے والے یا نفاق رکھنے والے بھی ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (راوی حدیث) ابراہیم کو (الفاظ بیان کرنے میں) شک ہوا ہے۔۔۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں“۔ وہ کہیں گے: ”ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آجائے، جب ہمارا رب آجائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں“۔ وہ اقرار کریں گے۔ اس کے بعد دوزخ کی پشت پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا تو میں اور میری امت اس پر سب سے پہلے گزریں گے۔ اس دن انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی شخص گفتگو کرنے کی ہمت نہیں رکھے گا۔ اس روز رسولوں کی زبان پر ہوگا: «اللّٰهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی سے رکھ، اے اللہ! سلامتی سے رکھ۔“ دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان درخت دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہا: ”ہاں، اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ ان کی لمبائی، چوڑائی اور موٹائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے۔ ان میں سے کچھ تباہ ہونے والے ہوں گے یا اپنے اعمال سے جکڑے ہوئے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے یا انہیں بدلہ دیا جائے گا یا اس طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا حتیٰ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہوگا اور اہل جہنم میں سے کسی کو اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکال لو۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ اپنا رحم و کرم کرنا چاہے گا اور انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کیا ہوگا۔ وہ (فرشتے) ایسے لوگوں کو سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے۔ دوزخ سجدوں کے نشانات کے علاوہ ابن آدم کے ہر عضو کو جلا کر بھسم کر دے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ سجدوں کے نشانات کو جلائے، چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر «مَاءُ الْحَيَاةِ» ”آبِ حیات“ ڈالا جائے گا۔ وہ اس کے نیچے سے اس طرح نکلیں گے جیسے دانہ سیلاب کے خس و خاشاک کے نیچے سے اگتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوگا، صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا۔ وہ اہل جہنم میں سے آخری شخص ہوگا جسے سب کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! میرا چہرہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ اس کے شعلوں نے مجھے جلا دیا ہے۔“ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر تجھے یہ دے دیا جائے تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت کی قسم! میں کوئی اور سوال نہیں کروں گا“ اور وہ اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا، پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہوگا خاموش رہے گا پھر وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیے تھے کہ جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے، اس کے علاوہ تو مجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگے گا؟ افسوس اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن ہے؟“ پھر وہ کہے گا: ”اے میرے رب!“ نیز اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: ”اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت کی قسم! اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگوں گا“ اور اللہ جو چاہے گا عہد و پیمان کرے گا چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوگا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور وہ دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر فرحت و مسرت کا سامان ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیے تھے کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟“ اللہ تعالیٰ مزید فرمائے گا: ”اے ابن آدم! افسوس تو کس قدر وعدہ خلاف ہے۔“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ وہ ہمیشہ اللہ کو پکارتا رہے گا اور مسلسل دعائیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا۔ جب ہنس دے گا تو فرمائے گا: ”تو جنت میں داخل ہو جا“، جب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا تو اس سے فرمائے گا کہ ”اپنی تمنائیں بیان کر“۔ تب وہ اپنی تمام خواہشات بیان کرے گا اور اللہ سے مانگے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا اور فرمائے گا: ”فلاں فلاں چیز کی تمنا کر“ یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی۔ (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7437]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7438
قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
عطا بن یزید نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ”یہ اور انہیں جیسی تمہیں اور ملیں گی“ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے دس گنا ملیں گی اے ابوہریرہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد یاد ہے کہ ”یہ اور انہیں جیسی اور“ اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے آپ کا یہ ارشاد یاد کیا ہے کہ ”تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گی اور اس سے دس گنا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخری داخل ہونے والا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7438]
حضرت عطاء بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کی بیان کردہ حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے البتہ جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہ بیان کیا کہ ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل اور بھی ہے“ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو ہریرہ! یہ اور اس کے ساتھ دس گنا اور۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی فرمان یاد کیا ہے: ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہے“”اس پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی یاد رکھا ہے کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ دس گنا اور بھی ہے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7438]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة