🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب في الدعاء بعد الوتر
باب: وتر کے بعد کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اسے پڑھ لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1431]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وتر پڑھنے سے سو جائے (اور نہ پڑھ سکے) یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 225 (الوتر 9) (465)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 122 (1188)، (تحفة الأشراف:4168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 44) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، جیسا کہ بعض روایتوں میں رات کے وظیفہ کے بارے میں آیا ہے کہ اگر رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں قضا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1279)
وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (1178، 1981) ومسلم (721) وغيرھما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ، قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ، فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0"، قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ عَنْبَسَةُ يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لِذِكْرِي، قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: اے بلال! انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت: «أقم الصلاة للذكرى» (سورۃ طہٰ: ۱۴) ہے)۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: «الكرى» «نعاس» (اونگھ) کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 435]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک رات، رات بھر چلتے رہے، حتیٰ کہ جب ہم کو نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کے لیے اتر گئے اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج رات ہمارا پہرہ دینا۔ بیان کرتے ہیں کہ پھر بلال رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھی ان پر غالب آ گئیں (یعنی سو گئے) اور وہ اپنے اونٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، چنانچہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، نہ بلال رضی اللہ عنہ ہی اور نہ کوئی اور صحابی رضی اللہ عنہ۔ حتیٰ کہ جب انہیں دھوپ لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جاگنے والے تھے، آپ گھبرائے اور فرمایا: اے بلال! انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اسی چیز نے پکڑ لیا جس نے آپ کو پکڑا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم) وہاں سے چل دیے (اور کچھ دور جا کر اترے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت پڑھ لیا کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى﴾ [سورة طه: 14] نماز قائم کرو جب یاد آئے۔یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ اسی طرح «للذِّكْرَى» (الف مقصورہ کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے۔ احمد رحمہ اللہ نے بواسطہ عنبسہ، یونس رحمہ اللہ سے «لِذِكْرِي» (یائے متکلم کے ساتھ) روایت کیا ہے (یعنی میری یاد کے لیے یا میری یاد آنے کے وقت)۔ احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (متن حدیث میں وارد لفظ) «الْكَرَى» کا معنی اونگھ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (697)، (تحفة الأشراف: 13326)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 20 (3163)، سنن النسائی/المواقیت 53 (619،620)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 6(25 مرسلاً) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (680)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ، فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ، حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلَاةٍ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، (یہ کون آ رہے ہیں)؟، اس پر میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہماری نماز کا (یعنی نماز فجر کا) خیال رکھنا، اس کے بعد انہیں نیند آ گئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چنانچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 437]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ سے ایک طرف کو ہو گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک طرف کو ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذرا دیکھو۔ تو میں نے کہا: یہ ایک سوار (آ رہا) ہے، یہ دو ہیں اور وہ تین ہیں حتیٰ کہ ہم سات افراد ہو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری نماز کا خیال کرنا۔ یعنی فجر کا، لیکن ان کے کان بند کر دیے گئے (یعنی سوتے رہ گئے) پس ان کو سورج کی کرنوں ہی نے جگایا۔ وہ اٹھے اور کچھ وقت چلے، پھر اترے، وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔ سب نے فجر کی سنتیں پڑھیں پھر فجر کی نماز ادا کی اور سوار ہو گئے۔ تو لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں بہت تقصیر کی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوئی تقصیر (کوتاہی) نہیں ہے۔ تقصیر (کوتاہی) تب ہوتی ہے جب انسان جاگتا ہو۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز (پڑھنا) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اور پھر (آئندہ کے لیے) اگلے دن اسے بروقت ہی ادا کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (698)، (تحفة الأشراف: 12089)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53 (618)، مسند احمد (5/305) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 441]
جناب عبداللہ بن رباح سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند میں قصور نہیں۔ قصور جاگنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ (وہ اس طرح) کہ تم کسی نماز کو اس حد تک مؤخر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53(618)، (تحفة الأشراف: 12085) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (681)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 442]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز کو بھول جائے تو وہ اسے اسی وقت ادا کرے جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، سنن النسائی/المواقیت 51 (614)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (696)، (تحفة الأشراف: 1430)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 37 (597)، مسند احمد (3/100، 243، 266، 269، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 26 (1265) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (597) صحيح مسلم (684)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1436
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1436]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 226 (467)، (تحفة الأشراف:8132)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 20 (750)، مسند احمد 1(2/37، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (467 وسنده صحيح) وله طريق آخر عند مسلم (750)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں