سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ الزُّهْرِيِّ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ
باب: چوری کرنے والی مخزومی عورت کے بارے میں زہری کی روایت میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4900
أَخْبَرَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ، فَقَطَعَهُ، قَالُوا: مَا كُنَّا نُرِيدُ أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا، قَالَ:" لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ۱؎ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، انہوں نے کہا: ہمیں آپ سے ایسی امید نہ تھی، آپ نے فرمایا: ”اگر فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4900]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، لوگ کہنے لگے: ہمیں یہ خیال نہ تھا کہ آپ اس کو اس حد تک سزا دیں گے، آپ نے فرمایا: ”اگر (اس کے بجائے) فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4898 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد وہی مخزومیہ عورت ہے جس کا تذکرہ پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4896
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:" أَنّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ اسْتَعَارَتْ حُلِيًّا عَلَى لِسَانِ أُنَاسٍ فَجَحَدَتْهَا، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے کچھ لوگوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ زیورات مانگے پھر ان سے مکر گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4896]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے دوسرے لوگوں کے واسطے سے زیور استعمال کے لیے لیا، بعد میں مکر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18705) (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن سابقہ سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4898
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ مَتَاعًا، وَتَجْحَدُهُ، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلِّمَ فِيهَا، فَقَالَ:" لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، قِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَهُ؟، قَالَ: أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی پھر مکر جاتی۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، اس سلسلے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”اگر فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا“۔ سفیان سے کہا گیا: اسے کس نے بیان کیا؟ تو انہوں نے کہا: ایوب بن موسیٰ نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4898]
حضرت سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مخزومی عورت لوگوں سے سامان مانگ کر لے جاتی، پھر (واپس کرنے سے) مکر جایا کرتی تھی۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، نیز اس کے بارے میں (معافی کی) سفارش بھی کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر (میری بیٹی) فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: (یہ روایت) کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: ایوب بن موسیٰ نے زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے عروہ رحمہ اللہ سے اور انہوں نے سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے، «إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ”اگر اللہ عزوجل نے چاہا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «فضائل الصحابة 18 (3733)، (تحفة الأشراف: 16415)، مسند احمد (6/41)، ویأتي عند المؤلف بالأرقام: 4899، 4900 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4899
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أُسَامَةَ , فَكَلَّمُوا أُسَامَةَ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ , إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ الشَّرِيفُ فِيهِمُ الْحَدَّ تَرَكُوهُ وَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا أَصَابَ الْوَضِيعُ أَقَامُوا عَلَيْهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسامہ کے سوا کون (اس کی سفارش سے متعلق گفتگو کرنے کی) ہمت کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ! بنی اسرائیل صرف اس وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اس پر حد نافذ نہیں کرتے اور جب کوئی نچلے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے نافذ کرتے، اگر (اس جگہ) فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4899]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے چوری کر لی۔ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ لوگوں (عورت کے رشتے داروں) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سفارش کی کون جرأت کر سکتا ہے؟ اسامہ شاید کرے۔ انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا۔ اسامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس عورت کی معافی کی) سفارش کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ! بنو اسرائیل اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ جب ان میں کوئی بلند مرتبہ شخص کوئی حد پھلانگ لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور حد نہ لگاتے۔ اور جب کوئی کم مرتبہ شخص غلطی کر بیٹھتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ اگر اس کی بجائے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4901
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا نُكَلِّمُهُ فِيهَا مَا مِنْ أَحَدٍ يُكَلِّمُهُ إِلَّا حِبُّهُ أُسَامَةُ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ:" يَا أُسَامَةُ , إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ هَلَكُوا بِمِثْلِ هَذَا، كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِنْ سَرَقَ فِيهِمُ الدُّونُ قَطَعُوهُ، وَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوری کی، ان لوگوں نے کہا: اس سلسلے میں ہم آپ سے بات نہیں کر سکتے، آپ سے صرف آپ کے محبوب اسامہ ہی بات کر سکتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے اس سلسلے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسامہ! ٹھہرو، بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر اس جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4901]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں چوری کر لی۔ لوگ کہنے لگے: ہم تو اس کے بارے میں آپ سے بات نہیں کر سکتے اور بھی کوئی نہیں کر سکتا مگر اسامہ جو آپ کو بہت پیارے ہیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے سفارش کی تو آپ نے فرمایا: ”اے اسامہ! بنی اسرائیل اس جیسے کاموں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کر لیتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کم مرتبہ شخص ان میں چوری کر بیٹھتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر (چوری کرنے والی) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16454) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4902
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَهِيَ لَا تُعْرَفُ حُلِيًّا فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ ثَمَنَهُ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَعَى أَهْلُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ إِلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟"، فَقَالَ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّتَئِذٍ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ فِيهِمْ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، ثُمَّ قَطَعَ تِلْكَ الْمَرْأَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک غیر معروف عورت نے کچھ معروف لوگوں (کی گواہی) کے ذریعہ زیورات عاریۃً مانگے، پھر اس نے زیورات بیچ کر اس کی قیمت لے لی، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے گھر والوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس دوڑ بھاگ کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟“ اسامہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری بخشش کے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شام کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر اس کے بعد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہو گئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“، پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4902]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت نے دوسرے لوگوں کی معرفت کچھ زیورات عارضی طور پر استعمال کے لیے لیے، وہ لوگ تو معروف تھے مگر وہ عورت معروف نہیں تھی، اس نے وہ زیورات بیچ دیے اور قیمت ہضم کر لی۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس کے گھر والے (سفارش کے لیے) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی طرف بھاگے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میرے پاس اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد نہ لگانے کی سفارش کر رہا ہے؟“ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیے۔ پھر اسی دن ظہر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطاب کے لیے) اٹھے، اللہ تعالیٰ کی تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: ”سن لو! تم سے پہلے لوگ اس بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کر لیتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کر لیتا تو اسے حد لگا دیتے۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4903
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ , فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات چیت کرے گا؟ لوگوں نے کہا: آپ سے بات چیت کی جرات آپ کے محبوب اسامہ کے سوا کون کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کا معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان کا کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4903]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی، کی وجہ سے قریش بڑے فکر مند ہوئے۔ وہ کہنے لگے: اس کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کرے گا؟ پھر (خود ہی) کہنے لگے: اس کی جرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا کون کر سکتا ہے! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کی سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں اسے ایک حد (کو نافذ نہ کرنے) کی بابت سفارش کر رہا ہے؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم لوگوں سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کر لیتا تو اس کو حد لگا دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر (بالفرض) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3475)، فضائل الصحابة 18 (3732)، الحدود 11 (6787)، 12 (6788)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن ابی داود/الحدود 4 (4373)، سنن الترمذی/الحدود 6 (1430)، سنن ابن ماجہ/الحدود 6 (2547)، (تحفة الأشراف: 16578)، سنن الدارمی/الحدود 5 (2348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4904
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَرَقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُهُ فِيهَا؟، قَالُوا: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , فَأَتَاهُ فَكَلَّمَهُ فَزَبَرَهُ، وَقَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الْوَضِيعُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش یعنی بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سے اس کے بارے میں کون بات چیت کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: اسامہ بن زید، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا تو آپ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا: ”بنی اسرائیل کا جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4904]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قریش کے ایک قبیلے بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی، اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس کے رشتے دار کہنے لگے کہ کون اس کی سفارش کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہنے لگے: حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ یہ کام کر سکتے ہیں، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس عورت کی سفارش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا: ”بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ جب ان کا کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے (کچھ نہیں کہتے تھے۔) اور جب کوئی کم مرتبہ شخص چوری کر لیتا تھا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر (میری بیٹی) فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16414) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4905
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا؟، قَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مَنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ سَرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: اس کی جرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اسامہ بن زید کے سوا اور کون کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور باوقار آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بے حیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4905]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے پریشان کر دیا جس نے چوری کر لی تھی۔ وہ کہنے لگے: اس کے بارے میں کون سفارش کرے گا؟ پھر خود ہی کہنے لگے: اس کی جرأت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا کون کر سکتا ہے! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں کوئی بڑا (چودھری) چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کم مرتبہ شخص چوری کر لیتا تھا تو اس پر حد لگا دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16412) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4906
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا كَلَّمَهُ تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ"، فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , إِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ"، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ قَطَعْتُ يَدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے وقت چوری کی، چنانچہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے اس کے بارے میں آپ سے بات کی۔ جب انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: میرے لیے اللہ کے رسول! اللہ سے مغفرت طلب کیجئیے۔ جب شام ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا معزز اور باحیثیت آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بے حیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4906]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں غزوہ فتح مکہ کے موقع پر ایک عورت نے چوری کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے اس کے بارے میں آپ سے بات کی (معافی کی سفارش کی۔) جب انہوں نے آپ سے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر (غصے سے سرخ) ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد (کو ساقط کرنے) کی بابت سفارش کر رہا ہے؟“ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے معافی کی دعا فرمائیے۔ پھر جب ظہر (کی نماز) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ عزوجل کی تعریف کی جو اللہ عزوجل کی شان جلیلہ کے مطابق تھی۔ پھر فرمایا: ”سن لو! تم سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچا (بڑا) آدمی چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے (کچھ نہ کہتے تھے) اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کر بیٹھتا تھا تو اس پر حد لاگو کر دیتے (اسے سزا دیتے) تھے۔“ پھر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 8 (2648)، المغازي (53 (4304)، الحدود 14 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن ابی داود/الحدود 4 (4396)، (تحفة الأشراف: 16694) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4907
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ مُرْسَلٌ، فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ، قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمَّا كَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ"، قَالَ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا , فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ تِلْكَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ , فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ , فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی (”فتح مکہ کے وقت“ کا لفظ مرسل ہے) تو اس کے خاندان کے لوگ گھبرا کر سفارش کا مطالبہ کرنے کے لیے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ جب اسامہ نے آپ سے اس کے بارے میں بات چیت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: ”تم مجھ سے اللہ کی حدوں میں سے کسی ایک حد کے بارے میں بات کر رہے ہو؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، جب شام ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے، پھر فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اسے کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اس نے اچھی طرح سے توبہ کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اس کے بعد میرے پاس آتی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4907]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں فتح مکہ کی جنگ کے وقت ایک عورت نے چوری کر لی، اس کی قوم کے لوگ گھبرا کر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے کہ وہ اس کی سفارش فرما دیں، جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت بات چیت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار فرمائیں، ظہر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد“ (اے لوگو!) تم سے پہلے لوگ اس بنا پر تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی طاقت ور شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر (بالفرض) فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، لیکن اس کے بعد اس نے بہت اچھی توبہ کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی اور میں اس کی گزارشات و ضروریات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4910
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ"، كَذَا قَالَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا، جس کی قیمت پانچ درہم تھی، راوی نے اسی طرح کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4910]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ (امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:) راوی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ (اسے غلطی لگی ہے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 1 (1686)، (تحفة الأشراف: 7653) (صحیح) (لفظ ’’ثلاثة‘‘ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ راوی کا وہم ہے کہ ڈھال کی قیمت پانچ درہم تھی، صحیح یہ ہے کہ اس کی قیمت تین درہم تھی، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ ثلاثة
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، شاذ انظر الحديث الآتي (الأصل: 4911) وصحيح مسلم (6 /1686) وهو المحفوظ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
حدیث نمبر: 4911
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ , أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ:" قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4912
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4912]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 13 (6795)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1686)، سنن ابی داود/الحدود 11 (4385)، (تحفة الأشراف: 8333)، موطا امام مالک/الحدود 7 (21)، مسند احمد (2/64) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4913
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4913]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹ دیا تھا جس نے عورتوں والے چھپر سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 1 (1686)، سنن ابی داود/الحدود11(4386)، (تحفة الأشراف: 7496)، مسند احمد (2/145)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2347) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4914
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ , وَعَبْدُ اللَّهِ , وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4914]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4915
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4915]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال چرانے پر ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: یہ غلط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1388) (صحیح) (امام نسائی کے نزدیک انس سے مروی یہ مرفوع حدیث غلط ہے، اور صحیح اس سند سے ابوبکر رضی الله عنہ کی موقوف روایت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، لیکن اصل حدیث ابن عمر سے مروی ہے، جو اوپر گزری اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، گرچہ انس رضی الله عنہ کی روایت پر امام نسائی کا کلام ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند سے اس حدیث کی مرفوع روایت خطا ہے، اور صحیح موقوف ہے، جیسا کہ حدیث رقم (۴۹۱۶) سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4918
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوتھائی دینار میں (چور کا) ہاتھ کاٹا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4918]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوتھائی دینار چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16422) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار یعنی تین درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4919
أَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ , ثُلُثِ دِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے“ یعنی ایک تہائی دینار، یا آدھے دینار اور اس سے زیادہ میں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4919]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(چور کا) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر ایک ڈھال کی قیمت میں (یعنی) تہائی دینار یا نصف دینار یا اس سے زائد میں۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 14 (6790)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1683)، سنن ابی داود/الحدود 11 (4384)، (تحفة الأشراف: 16695) (منکر) (اس کے راوی ’’خالد‘‘ حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کی یہ روایت پچھلی اور اگلی صحیح روایات کے خلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4920
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَتْ عَمْرَةُ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4920]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار کی چوری پر کاٹ دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 13 (6794)، صحیح مسلم/الحدود 1 (القسامة 12) (1683)، سنن ابی داود/الحدود 11 (4383)، سنن الترمذی/الحدود 16(1445)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2585)، (تحفة الأشراف: 17920)، مسند احمد (6/80، 163)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2346)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4922-4925) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4921
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ , وَعَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4921]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر کاٹ دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4919 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4922
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ , فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4922]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر کاٹ دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4920 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4923
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4923]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر کاٹ دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4918 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4925
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْطَعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4925]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری میں (چور کا ہاتھ) کاٹ دیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4920 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4926
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4926]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری میں کاٹا جائے گا۔“ (کم میں نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17946)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4927-4931) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4927
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4927]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری میں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4932
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4932]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری کے بغیر نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 1 (1683)، (تحفة الأشراف: 17951) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4935
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَثَمَنُ الْمِجَنِّ رُبْعُ دِينَارٍ" ,.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا اور ڈھال کی قیمت چوتھائی دینار ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت کے برابر چوری پر کاٹ دیا جائے گا، (اس وقت) ڈھال کی قیمت چوتھائی دینار تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 14 (6791)، (تحفة الأشراف: 17916) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4936
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطَعُ الْيَدَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4936]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری میں (چور کا) ہاتھ کاٹا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4935 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4937
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4937]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوتھائی دینار سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4935 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4938
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، أَنَّ امْرَأَةً أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ الْيَدُ فِي الْمِجَنِّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھال (چوری کی قیمت) میں ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4938]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17996) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4939
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِيمَا دُونَ الْمِجَنِّ"، قِيلَ لِعَائِشَةَ: مَا ثَمَنُ الْمِجَنِّ؟ قَالَتْ: رُبْعُ دِينَارٍ.
عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھال سے کم قیمت کی چیز میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“، عائشہ سے کہا گیا: ڈھال کی قیمت کتنی ہے؟ کہا: چوتھائی دینار۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4939]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھال سے کم کی چوری میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: ڈھال کی قیمت کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: چوتھائی دینار۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 1 (1683)، (تحفة الأشراف: 17896، 18792)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4940)، 4943) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابن اسحاق‘‘ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، لیکن باب کی سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4940
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَان بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4940]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری کے علاوہ (کم میں) نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4941
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ مَوْلَى الْأَخْنَسِيِّينَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي الْمِجَنِّ أَوْ ثَمَنِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب وہ ڈھال یا اس کی قیمت کے برابر ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4941]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھال یا اس کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16367) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4942
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تُحَدِّثُ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي الْمِجَنِّ أَوْ ثَمَنِهِ"، وَزَعَمَ أَنَّ عُرْوَةَ، قَالَ: الْمِجَنُّ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ صرف ڈھال یا اس کی قیمت میں کاٹا جائے گا“۔ راوی عثمان بن ابی الولید بیان کرتے ہیں کہ عروہ نے کہا: ڈھال چار درہم کی ہوتی ہے۔ عثمان کہتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عمرہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عائشہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ صرف چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4942]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(چور کا) ہاتھ ڈھال یا اس کی قیمت سے کم کی چوری میں نہیں کاٹا جائے گا۔“ (راوی حدیث عثمان بن ابو الولید کا خیال ہے کہ) حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ ڈھال چار درہم کی ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ وحدیث سلیمان بن یسار انظر حدیث رقم: 4939 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4943
قَالَ: وَسَمِعْتُ قَالَ: وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَزْعُمُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَهُ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ پانچ انگلیوں یعنی ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا مگر پانچ درہم میں۔ ہمام کہتے ہیں: میں عبداللہ داناج سے ملا، انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: پانچ کو پانچ میں ہی کاٹا جائے گا۔ یعنی ہاتھ پانچ درہم میں کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4943]
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پانچ (انگلیاں) نہیں کاٹی جائیں گی مگر پانچ (درہم کی چوری) میں۔ ہمام نے کہا کہ میں عبداللہ داناج سے ملا تو انہوں نے مجھے سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: پانچ نہیں کاٹی جائیں گی مگر پانچ میں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4939 (صحیح) (یہ اثر مرفوع حدیث کے مخالف ہے)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ
حدیث نمبر: 4945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عِيسَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ فِي قِيمَةِ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ درہم کی قیمت (والی چیز) میں ہاتھ کاٹا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4945]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ درہم قیمت رکھنے والی چیز (کی چوری) میں ہاتھ کاٹا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9324) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عیسیٰ بن ابی عزہ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، فيه علتان: الإنقطاع وعنعنة سفيان الثوري. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
حدیث نمبر: 4985
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ، قَالَ: سُنَّةٌ ," قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ وَعَلَّقَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ".
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4985]
حضرت ابن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”(یہ) سنت ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکا دیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 21 (4411)، سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن ابن ماجہ/الحدود23(2587)، (تحفة الأشراف: 11029) مسند احمد (6/19) (ضعیف) (اس کے راوی ’’حجاج بن ارطاة‘‘ ضعیف اور ’’عبدالرحمن بن محیریز‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4411) ترمذي (1447) ابن ماجه (2587) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359