سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
Chapters on Manners
65. باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ
باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2835
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لانهين ان يسمى رافع، وبركة، ويسار "، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، هكذا رواه ابو احمد، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر، ورواه غيره، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم وابو احمد ثقة حافظ، والمشهور عند الناس هذا الحديث عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم وليس فيه عن عمر.(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ، وَبَرَكَةُ، وَيَسَارٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ) رافع، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے،
۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں،
۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» (عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (وراجع صحیح مسلم/الآدب 2 (2138) (تحفة الأشراف: 10423) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3829)
حدیث نمبر: 2836
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن الربيع بن عميلة الفزاري، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تسم غلامك رباح ولا افلح ولا يسار ولا نجيح "، يقال: اثم هو؟ فيقال: " لا "، قال ابو عيسى: هذا حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحٌ وَلَا أَفْلَحُ وَلَا يَسَارٌ وَلَا نَجِيحٌ "، يُقَالُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَيُقَالُ: " لَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو (کیونکہ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں ۱؎۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الآداب 2 (2137)، سنن ابی داود/ الأدب 70 (4958، 4959)، سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3730) (تحفة الأشراف: 4612)، وسنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: «رباح» فائدہ دینے والا «افلح» فلاح والا «یسار» آسانی «نجیح» کامیاب رہنے والا، ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے: کیا «افلح» یہاں ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3630)
حدیث نمبر: 2837
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن ميمون المكي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " اخنع اسم عند الله يوم القيامة رجل تسمى بملك الاملاك "، قال سفيان: شاهان شاه، واخنع يعني اقبح، هذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ "، قَالَ سُفْيَانُ: شَاهَانْ شَاهْ، وَأَخْنَعُ يَعْنِي أَقْبَحُ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہو گا جس کا نام «ملک الاملاک» ہو گا، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الأدب 114 (6205)، صحیح مسلم/الآداب 4 (2143)، سنن ابی داود/ الأدب 70 (4961) (تحفة الأشراف: 13672)، و مسند احمد (2/244) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (914)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.