🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4066 ترقیم الرسالہ : -- 4138
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ،" أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأُمِّ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأَبِ" ، كَذَا قَالَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے تین دادیوں اور نانیوں کو وارث قرار دیا تھا، جن میں سے دو ماں کی طرف سے تھیں اور ایک باپ کی طرف سے تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4138]
ترقیم العلمیہ: 4066
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2982، 2983، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 84، 88، 92، 100، 101، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12411، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4137، 4138، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19090، 19099، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31937»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4067 ترقیم الرسالہ : -- 4139
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ ، نَا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ، نَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ،" أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں کہ انہوں نے دادا کو باپ کا درجہ دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4139]
ترقیم العلمیہ: 4067
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3658، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8073، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2945، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4139، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16357، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31853، 31854»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4068 ترقیم الرسالہ : -- 4140
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟"، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ:" فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ"، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا: إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" .
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے، تو دیکھا) ان کا سر ایک کنیز کے ہاتھ میں ہے، جو ان کے بالوں کو کنگھی کر رہی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اپنا سر الگ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرنے دو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے، میں آپ کے پاس آ جاتا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک کام سے آپ کے پاس آیا ہوں، میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یا کمی کے مرتکب ہوں، یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے، جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے، اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے، تو میں اس کو مان لوں گا، ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہو گا۔ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: میں تو یہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کر دو گے۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے، جس وقت وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کر دے دیتا ہوں۔ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کر کے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا، اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے، جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے، اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے، اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے، تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے، تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آ گئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی، پھر ارشاد فرمایا: زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے، میں اسے लागو کرتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے، جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، انہوں نے اس کا سارا مال لے لیا، یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروا دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4140]
ترقیم العلمیہ: 4068
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8074، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12555، 12556، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4140، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37071»
«قال ابن حجر: الدارقطني بسند قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 19)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4069 ترقیم الرسالہ : -- 4141
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ وَالأُمِّ مَا كَانَتْ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ (میت کے) سگے بہن بھائیوں کی موجودگی میں دادا بھی حصہ دار ہو گا، خواہ سگے بہن بھائیوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4141]
ترقیم العلمیہ: 4069
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2958، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 58، 59، 60، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12559، 12560، 12562، 12563، 12565، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4141، 4142، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4070 ترقیم الرسالہ : -- 4142
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ، وَالأُمِّ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ، وَالأُمِّ، وَالإِخْوَةَ لِلأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَ الإِخْوَةُ فَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلأُخُوَّةِ مَا بَقِيَ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنَى الأَبِ وَالأُمِّ هُمْ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الأَبِ ذُكُورِهِمْ وَنِسَائِهِمْ، أَنَّ بَنِي الأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدِّ بِبَنِي الأَبِ وَالأُمِّ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلا يَكُونُ لِبَنِي الأَبِ شَيْءٌ مَعَ بَنِي الأَبِ وَالأُمِّ إِلا أَنْ يَكُونَ بَنُو الأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ فَهُوَ لِلأُخُوَّةِ مِنَ الأَبِ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ" .
یونس بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا، جس کے پس ماندگان میں ایک دادا اور سگے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ زہری نے بتایا: سعید بن مسیب، عبیداللہ بن عبداللہ اور قبیصہ بن ذؤیب نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا تھا، دادا سگے بہن بھائیوں اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کے ساتھ حصہ دار ہو گا، جبکہ ایک تہائی مال میں سے مقاسمہ اس کے حق میں بہتر ہو، اگر بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہو، تو دادا کو ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا اور باقی سب بہن بھائیوں کو ایک مذکر کا حصہ دو مؤنث کے برابر کے حساب سے دیا جائے گا، انہوں نے یہ فیصلہ بھی دیا تھا، سگے بہن بھائی صرف باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں، خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث ہوں، البتہ اگر باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی، سگے بہن بھائیوں کے ساتھ موجود ہوں، تو انہیں بھی ان کا حصہ ملے گا، البتہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی سگے بہن بھائیوں کے ہمراہ کچھ حاصل نہیں کریں، ماسوائے اس صورت کے جب باپ کی طرف سے شریک بھائی سگی بہنوں کی طرف (وراثت کو) لوٹا دیں اور سگی بہنوں کے فرض حصے کے بعد اگر کچھ باقی رہ جائے گا، تو وہ باپ کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصے کے اصول کے تحت مل جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4142]
ترقیم العلمیہ: 4070
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2958، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 58، 59، 60، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12559، 12560، 12562، 12563، 12565، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4141، 4142، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ
الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4071 ترقیم الرسالہ : -- 4143
نَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَعْمَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: قاتل کو وراثت نہیں ملے گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4143]
ترقیم العلمیہ: 4071
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6334، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4143، 4144، 4574، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17781، 17782، 17783، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32044»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4072 ترقیم الرسالہ : -- 4144
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ ، نَا أَبُو حُمَةَ ، نَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ" ،.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: قاتل کو (وراثت میں سے) کچھ نہیں ملے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4144]
ترقیم العلمیہ: 4072
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6334، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4143، 4144، 4574، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17781، 17782، 17783، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32044»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4072/2 ترقیم الرسالہ : -- 4145
وَعَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4145]
ترقیم العلمیہ: 4072/2
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3122، 3128، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12370، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4145، 4575، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17766، 17785، 17786، 17787، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32047»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: ليث بن أبي سليم ضعفه الجمهور، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 227)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4073 ترقیم الرسالہ : -- 4146
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: قاتل کو وراثت نہیں ملتی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4146]
ترقیم العلمیہ: 4073
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6335، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2645، 2735، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12371، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4146، 4147، 4572، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8690»
«قال ابن حجر: وفي إسناده إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة تركه أحمد بن حنبل وغيره، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 185)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4074 ترقیم الرسالہ : -- 4147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ ، أنا اللَّيْثُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقَاتِلُ لا يَرِثُ" ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِسْحَاقُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، أَخْرَجْتُهُ فِي مَشَائِخِ اللَّيْثِ لِئَلا يُتْرَكَ مِنَ الْوَسَطِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قاتل (مقتول کا) وارث نہیں بنتا۔ ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں: اسحاق نامی راوی متروک الحدیث ہے، میں نے لیث کے مشائخ میں سے اس سے روایات نقل کی ہیں، تاکہ وہ درمیان میں سے متروک نہ ہو جائے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4147]
ترقیم العلمیہ: 4074
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6335، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2645، 2735، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12371، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4146، 4147، 4572، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8690»
«قال ابن حجر: وفي إسناده إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة تركه أحمد بن حنبل وغيره، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 185)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں