🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. باب مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي
باب: نمازی کے سترہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 685]
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں کہ کون تمہارے آگے سے گزرتا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 47 (499)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (335)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 36 (940)، (تحفة الأشراف: 5011) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161، 162) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: نمازی کو بحالت نماز ایسی جگہ کھڑے ہونا چاہیے جہاں اس کے آگے سے کسی کے گزرنے کا احتمال نہ ہو۔ جگہ اگر کھلی ہو تو کوئی مناسب چیز اسے اپنے سامنے رکھ لینی چاہیے جو گزرنے والوں کے لیے آڑ اور اس کے نماز میں ہونے کی علامت ہو۔ اسے اصطلاحاً سترہ کہتے ہیں۔ یہ بھی ایک تاکیدی سنت ہے۔ نمازی اور سترے کے درمیان فاصلہ تقریباً تین ہاتھ کا ہو، اس سے زیادہ فاصلے پر موجود کوئی چیز یا آڑ مثلاً دیوار یا ستون وغیرہ شرعاً سترہ نہیں کہلاتے، لہذا سترے کے قریب کھڑا ہونا ہی مسنون عمل ہے۔ معلوم ہوا کہ سترہ نہ رکھنے سے نمازی کو نقصان ہوتا ہے۔ یعنی اس کے خشوع خضوع اور اجر میں کمی ہوتی ہے اور یہ سترہ کم از کم فٹ یا ڈیڑھ فٹ کے درمیان کوئی چیز ہونی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (499)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ" آخِرَةُ الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ".
عطاء (عطاء بن ابی رباح) کہتے ہیں کجاوہ کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 686]
جناب ابن جریج، عطاء سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: پالان کی پچھلی لکڑی ایک ذراع (ہاتھ) یا اس سے کچھ زائد ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 19063) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ابن جريج صرح بالسماع عند ابن خزيمة (807 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو برچھی (نیزہ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چہرہ مبارک کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 687]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید پڑھنے کے لیے نکلتے تو حکم دیتے کہ نیزہ ساتھ لے لیا جائے۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے گاڑ دیا جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے۔ سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول ہوتا تھا۔ چنانچہ امراء نے یہیں سے یہ عمل اخذ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 90 (494)، والعیدین 13 (972)، 14 (973)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (501)، تحفةالأشراف (7940)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 9 (1566)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 164 (1305)، مسند احمد (2/98، 142، 145، 151)، سنن الدارمی/ الصلاة 124 (1450) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: یعنی امراء و حکام لوگ جو عید وغیرہ کے موقع پر بھالا نیزہ وغیرہ لے کر نکلنے کا اہتمام کرتے ہیں اس کی اصل یہی ہے۔ نماز فرض ہو یا نفل، سفر ہو یا حضر، ہر موقع پر سترے کا خیال رکھنا چاہیے۔ نیز امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (494) صحيح مسلم (501)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ خَلْفَ الْعَنَزَةِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے سامنے برچھی (بطور سترہ) تھی، اور برچھی کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 688]
جناب عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مکہ کے قریب) وادی بطحاء میں نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھوٹا نیزہ تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں) ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس نیزے کے آگے سے عورت بھی گزرتی تھی اور گدھا بھی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، والصلاة 17 (376)، 93 (495)، 94 (499)، والمناقب 23 (3553)، واللباس 3 (5786)، 42 (5859)، (تحفة الأشراف: 11810)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (250)، سنن الترمذی/الصلاة 32 (197)، سنن النسائی/الطھارة 103 (137)، والأذان 13 (644)، والزینة 123 (3580)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (711)، مسند احمد (4/308)، سنن الدارمی/الصلاة 8 (1235)، 124 (1449) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (495) صحيح مسلم (503)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. باب الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا
باب: سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے (بطور سترہ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر (خط) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 689]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے۔ اگر کچھ نہ ملے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے۔ اگر اس کے پاس عصا (لاٹھی) نہ ہو تو خط ہی کھینچ لے۔ پھر اس کے آگے سے جو بھی گزرے اسے نقصان نہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 36 (943)، (تحفة الأشراف: 12240)، وقد أخرجہ: حم(2/249، 254، 266) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کے روای ابوعمرو اور ان کے دادا حریث کے ناموں میں بڑا اختلاف ہے، نیز یہ دونوں مجہول راوی ہیں، آگے مؤلف اس کی تفصیل دے رہے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (943)
ابن عمرو بن حريث وجده مجهولان (تقريب : 8272،1183)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ،عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ، قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ سُفْيَانُ: قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وسَمِعْت مُسَدَّدًا، قَالَ: قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: الْخَطُّ بِالطُّولِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غير مرة، فقال هكذا يعني بالعرض حورا دورا مثل الهلال، يعني منعطفا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں (کوفہ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس (حدیث خط) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 690]
جناب ابومحمد بن عمرو بن حریث اپنے دادا حریث سے جو بنی عذرہ کے آدمی تھے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور لکیر کھینچنے والی حدیث بیان کی۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی جس سے ہم اس حدیث کو تقویت دے سکیں اور یہ صرف اسی سند سے مروی ہے۔ (ابن مدینی رحمہ اللہ نے کہا) میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ محدثین اس کے راوی میں اختلاف کرتے ہیں (آیا یہ ابومحمد بن عمرو بن حریث ہے یا کوئی اور) تو انہوں نے کچھ سوچا اور پھر کہا: مجھے ابومحمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ اسمٰعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک آدمی آیا اور اس (آنے والے) شیخ نے ابومحمد کو طلب کیا، وہ مل گیا اور اس حدیث کے متعلق پوچھا مگر اسے اشتباہ ہو گیا (یعنی وہ اسے صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے کئی بار خط کھینچنے کا وصف بیان کیا تو کہا کہ اس طرح عرض میں کھینچا جائے جیسے کہ ہلال ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے مسدد سے سنا انہوں نے کہا کہ ابن داود (ابن داود خریبی) نے کہا کہ یہ خط طول میں کھینچا جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا انہوں نے کئی بار اس خط کی صفت یہ بتائی کہ یہ عرض میں ہو اور ہلال کی مانند گولائی میں ہو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12240) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مذکورہ سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (943)
ابن عمرو بن حريث وجده مجهولان (تقريب : 8272،1183)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ"، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ.
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 691]
جناب سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شریک (شریک بن عبداللہ بن ابی نمر، یا شریک بن عبداللہ نخعی کوفی) کو دیکھا کہ انہوں نے ہمیں ایک جنازہ کے اجتماع میں عصر کی نماز پڑھائی تو اپنے سامنے اپنی ٹوپی رکھ لی، یعنی ایک فریضہ میں جس کا وقت ہو چکا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. باب الصَّلاَةِ إِلَى الرَّاحِلَةِ
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 692]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 47 (502)، سنن الترمذی/الصلاة 149 (352)، (تحفة الأشراف: 7908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 50 (430)، مسند احمد (2/106، 129)، سنن الدارمی/الصلاة 126 (1452) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (430) صحيح مسلم (502)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. باب إِذَا صَلَّى إِلَى سَارِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا أَيْنَ يَجْعَلُهَا مِنْهُ
باب: جب ستون یا اس جیسی چیز کی طرف نماز پڑھے تو اسے اپنے کس جانب کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 693]
سیدہ ضباعہ بنت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہا اپنے والد (سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی لکڑی، ستون یا درخت کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ اپنے دائیں یا بائیں ابرو کی طرف رکھتے، بالکل عین سامنے نہ رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11551)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/4) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة میں ولید لین الحدیث اور مہلب اور ضباعہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: تاکہ بت پرستوں سے مشابہت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ضباعة بنت المقداد لاتعرف (تقريب : 8630)
والمھلب بن حجر مجهول (تقريب : 6936)
والوليد بن كامل : لين الحديث (تقريب : 7450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
108. باب الصَّلاَةِ إِلَى الْمُتَحَدِّثِينَ وَالنِّيَامِ
باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
جناب محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے ان سے یعنی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہا کہ مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ سونے والے کے پیچھے (کھڑے ہو کر) نماز پڑھو اور نہ باتوں میں مشغول شخص کے پیچھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (959)، (تحفة الأشراف: 6448) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس حدیث میں عبدالملک و عبداللہ بن یعقوب دونوں مجہول، اور عبداللہ کے شیخ مبہم ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل حدیث نمبر: 375، وصحیح ابی داود: 3؍691)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث طريق حسن عند الطبراني في الأوسط (5242)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»