سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
209. باب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن اور رات کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ فَقُلْتُ: بَلْ، فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي" وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلِّي فِيهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ"؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا۔“ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو“، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1046]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم پیدا کیے گئے، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی۔ جمعہ کے دن صبح ہوتے ہی تمام جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے، سوائے جنوں اور انسانوں کے۔ اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جسے کوئی مسلمان بندہ پا لے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ عزوجل سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عنایت فرما دیتا ہے۔“ جناب کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(کیا) ایسا سال میں ایک دن ہوتا ہے؟“ تو میں نے کہا: ”(نہیں) بلکہ ہر جمعہ کو ہوتا ہے۔“ تب کعب نے تورات پڑھی اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بعد میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو جناب کعب رضی اللہ عنہ سے اپنی مجلس کا بتایا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہوتی ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے ان سے کہا: ”مجھے (بھی) یہ بتا دیجیے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔“ میں نے (ان سے) کہا: ”یہ آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مسلمان بندہ اسے پائے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو۔“ اور اس وقت میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔“ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جو شخص کسی جگہ بیٹھا نماز کا انتظار کر رہا ہو تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے حتیٰ کہ نماز پڑھ لے۔““ میں نے کہا: ”ہاں!“ کہنے لگے کہ ”بس یہی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 2 (491)، سنن النسائی/الجمعة 44 (1431)، (تحفة الأشراف: 2025، 15000)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 37 (935)، والطلاق 24 (5294)، والدعوات 61 (6400)، (في جمیع المواضع مقتصراً علی قولہ: فیہ الساعة …) صحیح مسلم/الجمعة 4 (852)، 5 (854 ببعضہ)، سنن النسائی/الجمعة 4 (1374)، 45 (1431)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 99 (1137)، موطا امام مالک/صلاة الجمعة 7 (16)، مسند احمد (2/230، 255، 257، 272، 280، 284، 401، 403، 457، 469، 481، 489)، سنن الدارمی/الصلاة 204 (1610) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز پڑھتے ہوئے سے یہ مراد نہیں کہ وہ فی الواقع نماز پڑھ رہا ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ بھی اس شخص کے مثل ہے جو نماز کی حالت میں ہو۔ اس ساعت (گھڑی) کے سلسلہ میں علماء کے درمیان بہت اختلاف ہے، راجح عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے کئے منبر پر بیٹھے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک ہے، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعا میں مشغول و منہمک رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1359)
أخرجه الترمذي (491 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1738 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1359)
أخرجه الترمذي (491 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1738 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ" قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَقُولُونَ: بَلِيتَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی ۱؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے“۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ (مر کر) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1047]
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے افضل ایام میں سے جمعے کا دن ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی میں «نَفْخَةٌ» (دوسری دفعہ صور پھونکنا) ہے اور اسی میں «صَعْقَةٌ» ہے (پہلی دفعہ صور پھونکنا، جس سے تمام بنی آدم ہلاک ہو جائیں گے) سو اس دن میں مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیوں کر پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے۔“ (یعنی آپ کا جسم) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے جسم حرام کر دیے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 5 (1375)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1636)، (تحفة الأشراف: 1736)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/الصلاة 206 (1613) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس کی ہولناکی سے سارے لوگ مر جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1375) ابن ماجه (1085،1636) يأتي (1531)
عبد الرحمٰن بن يزيد ھو ابن تميم،غير ابن جابر،كما حققه البخاري وأبو داود وابن أخي حسين الجعفي وغيرھم،انظر النهاية في الفتن والملاحم بتحقيقي (545) وعلل ابن رجب (ص 465467) وھو ضعيف (تقريب التهذيب:4040) وأخطأ من زعم بأنه ابن جابر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
إسناده ضعيف
نسائي (1375) ابن ماجه (1085،1636) يأتي (1531)
عبد الرحمٰن بن يزيد ھو ابن تميم،غير ابن جابر،كما حققه البخاري وأبو داود وابن أخي حسين الجعفي وغيرھم،انظر النهاية في الفتن والملاحم بتحقيقي (545) وعلل ابن رجب (ص 465467) وھو ضعيف (تقريب التهذيب:4040) وأخطأ من زعم بأنه ابن جابر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
210. باب الإِجَابَةِ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے؟
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ يُرِيدُ سَاعَةً لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1048]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن میں بارہ گھڑیاں ہیں، جو بھی مسلمان اس حالت میں پایا جائے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عنایت فرما دیتا ہے، لہٰذا اسے عصر کے بعد کی آخری ساعت میں تلاش کرو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 14 (1390)، (تحفة الأشراف: 3157) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1360)
أخرجه النسائي (1390 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1360)
أخرجه النسائي (1390 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ؟ يَعْنِي السَّاعَةَ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ.
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ (ساعت) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر (بیٹھنے سے لے کر)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1049]
جناب ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے والد سے جمعہ کے بارے میں کچھ سنا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے تھے یعنی قبولیت کی گھڑی کون سی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں! میں نے ان کو سنا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ فرماتے تھے: ”یہ گھڑی امام کے (منبر پر) بیٹھ جانے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک کے مابین ہے۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی منبر پر (بیٹھ جانے سے)۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 4 (853)، (تحفة الأشراف: 9078) (صحیح)» (بعض حفاظ نے اس کو ابوبردہ کا قول بتایا ہے، اور بعض نے اس کو مرفوع حدیث کے مخالف گردانا ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے، (جبکہ ابوہریرہ و جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے یہاں یہ ساعت (گھڑی) دن کی آخری گھڑی ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری)
قال الشيخ الألباني: ضعيف والمحفوظ موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (853)
211. باب فَضْلِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے سنے اور خاموش رہے تو اس کے جمعے سے جمعے تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جو (خطبے کے دوران میں) کنکریوں سے کھیلا اس نے لغو کام کیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 8 (857)، سنن الترمذی/الجمعة 5 (498)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 62 (1025)، 81 (1090)، (تحفة الأشراف: 12504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (758)
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ فَيَرْمُونَ النَّاسَ بِالتَّرَابِيثِ أَوِ الرَّبَائِثِ، وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ فَيَجْلِسُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ الرَّجُلَ مِنْ سَاعَةٍ وَالرَّجُلَ مِنْ سَاعَتَيْنِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ أَجْرٍ، فَإِنْ نَأَى وَجَلَسَ حَيْثُ لَا يَسْمَعُ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ أَجْرٍ، وَإِنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِصَاحِبِهِ صَهٍ فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ شَيْءٌ". ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: بِالرَّبَائِثِ، وَقَالَ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ.
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت (گھڑی) میں آیا، اور کون دوسری ساعت (گھڑی) میں آیا، یہاں تک کہ امام (خطبہ جمعہ کے لیے) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور (دوران خطبہ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن (دوران خطبہ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے «ربائث» ہے، نیز اس میں «مولى امرأته أم عثمان بن عطاء» ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1051]
مولیٰ ام عثمان (زوجہ عطاء) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مسجد کوفہ کے منبر پر سنا، وہ فرما رہے تھے: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازار جاتے ہیں اور لوگوں کو مختلف مشاغل میں الجھا دیتے ہیں اور انہیں جمعے سے تاخیر کرا دیتے ہیں۔ اور ملائکہ (فرشتے) آ کر مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور پہلی ساعت میں پہنچنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور دوسری ساعت میں آنے والوں کے نام لکھتے ہیں حتی کہ امام آ جاتا ہے۔ پس جب کوئی شخص کسی مناسب جگہ بیٹھ جاتا ہے کہ صحیح طور پر (خطبہ) سن سکے، امام کو دیکھ سکے، اور خاموش رہے اور لغو بات (یا کام) نہ کرے تو ایسے شخص کو دو حصے اجر ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور ہو اور ایسی جگہ بیٹھے کہ وہاں سے سن نہ سکتا ہو، لیکن خاموش رہے اور لغو بات (یا کام) نہ کرے تو اس کو ایک حصہ اجر ملتا ہے۔ اور اگر کسی ایسی جگہ بیٹھے جہاں سے وہ صحیح طور پر سن سکتا ہو اور امام کو دیکھ سکتا ہو لیکن کسی لغو کام میں مشغول رہے اور خاموش نہ رہے تو اس کو گناہ کا ایک حصہ ملتا ہے۔ اور اگر کسی نے اپنے ساتھی کو دورانِ جمعہ (خاموش کرانے کے لیے) «صَهْ» ”چپ رہو“ بھی کہہ دیا، تو اس نے لغو کام کیا۔ اور جس نے لغو کام کیا اس کے لیے اس جمعہ میں سے کچھ نہیں ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے آخر میں کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب فرماتے ہوئے سنا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا تو لفظ «رَبَائِثَ» ذکر کیا ہے، اسی طرح «مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ» ہی مولیٰ نے کہا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10340)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93) (ضعیف)» (اس کے راوی عطاء خراسانی ضعیف، اور مولی امرأتہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي امرأته: مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
إسناده ضعيف
مولي امرأته: مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
212. باب التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1052]
سیدنا ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ (صحابی) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غفلت اور سستی سے تین جمعے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الصلاة 242 (الجمعة 7) (500)، سنن النسائی/الجمعة 2 (1370)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (20)، مسند احمد (3/424)، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس مہر کے لگ جانے سے خیر اور ہدایت کی چیز اس کے دل میں داخل نہیں ہو سکے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1371)
أخرجه الترمذي (500 وسنده حسن) والنسائي (1370 وسنده حسن) وابن ماجه (1125 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور
مشكوة المصابيح (1371)
أخرجه الترمذي (500 وسنده حسن) والنسائي (1370 وسنده حسن) وابن ماجه (1125 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور
213. باب كَفَّارَةِ مَنْ تَرَكَهَا
باب: جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْفِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، وَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَوَافَقَهُ فِي الْمَتْنِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1053]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عذر کے بغیر جمعہ چھوڑ دیا ہو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر نہ پائے تو آدھا دینار۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”خالد بن قیس نے ایسے ہی روایت کیا ہے مگر سند میں اختلاف کیا ہے اور متن میں موافقت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 93 (1128)، (تحفة الأشراف: 4631، 19231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/8، 14) (ضعیف)» (قدامہ مجہول راوی ہیں، نیز سمرہ‘‘ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1373ب) ابن ماجه (1128)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
إسناده ضعيف
نسائي (1373ب) ابن ماجه (1128)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ"، وَقَالَ: عَنْ سَمُرَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ.
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے بغیر کسی عذر کے ایک جمعہ رہ گیا ہو، تو وہ ایک درہم یا آدھا درہم یا ایک صاع یا آدھا صاع گندم صدقہ کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس کو سعید بن بشیر نے قتادہ (راوی) سے ایسے ہی روایت کیا ہے، مگر اس نے ایک مد یا آدھا مد کہا ہے اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، ان سے اس حدیث میں اختلاف کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، تو انہوں نے کہا: ”میرے نزدیک ایوب یعنی ابو العلاء کی نسبت ہمام احفظ ہے۔ (یعنی زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔)““ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4631، 19231) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے)»
وضاحت: ۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
214. باب مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ
باب: کن لوگوں پر جمعہ واجب ہے؟
حدیث نمبر: 1055
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ، وَمِنَ الْعَوَالِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور عوالی ۱؎ سے باربار آتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1055]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”لوگ اپنے ڈیروں سے اور بالائے مدینہ (عوالی) سے جمعہ کے لیے آیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 15 (902)، والبیوع 15 (2017)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، (تحفة الأشراف: 16383)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 9 (1380) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عوالی مدینہ منورہ میں قباء سے متصل علاقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (902) صحيح مسلم (847)