🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى بجزء من أجزاء شعب الإقرار-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ایمان کا نام اُس پر بھی بولا جاتا ہے جو اس کے اقرار کی کسی شاخ کے ایک حصے کو انجام دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہیں رکھتا: وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان رکھے اور وہ تقدیر پر ایمان رکھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 178، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 91، 92، 93، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2145، 2145 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 81، وأحمد فى (مسنده) برقم: 769، 1127، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30952»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (104)، «الظلال» (130).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما. منصور هو ابن المعتمر، وربعي هو ابن حِراش.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى بجزء من أجزاء الشعبة التي هي المعرفة-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ایمان کا نام اُس پر بھی بولا جاتا ہے جو معرفت کی کسی شاخ کے ایک حصے کو انجام دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 179
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک، اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 15، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 44، 44، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 179، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5028، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 67، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13011»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر مسلم» (23): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من آمنه الناس على أنفسهم وأملاكهم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ایمان کا نام اُس پر بھی بولا جاتا ہے جس پر لوگ اپنی جان و مال کے حوالے سے اعتماد کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ آمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے کہ دوسرے اپنی جان اور مال کے حوالے سے اس سے امن میں رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 180، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 22، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5010، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2627، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9053، والبزار فى (مسنده) برقم: 8941»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «المشكاة» (33 / التحقيق الثاني)، «الصحيحة» (549).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي. ابن عجلان - واسمه محمد -: صدوق. أخرج له مسلم في "صحيحه" متابعة، وباقي السند على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الإيمان شيء واحد ولا يزيد ولا ينقص-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ ایمان ایک ہی چیز ہے اور نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِيمَانُ سَبْعُونَ أَوِ اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا، أَرْفَعُهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَدْنَاهُ إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الاقْتِصَارُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى هَذَا الْعَدَدِ الْمَذْكُورِ فِي خَبَرِ ابْنِ الْهَادِ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الْعَدَدَ لِلشَّيْءِ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ نَوَّعْنَا لِهَذَا أَنْوَاعًا، سَنَذْكُرُهَا بِفُصُولِهَا فِيمَا بَعْدَ أَنْ شَاءَ الِلَّهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایمان کے 70 (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72 دروازے ہیں، جن میں سب سے بلند «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اس ذکر شدہ عدد پر جو اکتفا کیا گیا ہے، جو ابن ہاد سے منقول روایت میں ہے، یہ ان صورتوں میں سے ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے لیے کوئی عدد ذکر کرتے ہیں، لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ اس عدد کے علاوہ کی نفی کر دی جائے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، اور ہم نے اس کی کئی انواع بیان کی ہیں، جن میں سے چند ایک کا ہم ان کی متعلقہ فصول میں بعد میں ذکر کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 9، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 35،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 166، 167، 181، 190، 191، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5019، 5020، 5021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4676، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2614، 2614 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 57، 57 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9048»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق، تقدم (166).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما. ابن أبي مريم: هو سعيد بن الحكم بن محمد بن سالم بن أبي مريم الجُمَحي بالولاء، أبو محمد المصري ثقة ثبت، ويحيى بن أيوب هو الغافقي أخرج حديثه الجماعة، قال الحافظ في "التقريب": صدوق ربما أخطأ، وابن الهاد هو يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد الليثي أبو عبد الله المدني، روى له الجماعة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن إيمان المسلمين واحد من غير أن يكون فيه زيادة أو نقصان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا ایمان ایک ہی درجہ کا ہے اور اس میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُدْخِلُ الِلَّهِ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنَ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ حَبَّةٌ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَهَا صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کر دے گا، وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت کی وجہ سے داخل کرے گا۔ اور وہ اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دے گا، پھر وہ یہ فرمائے گا: اس شخص کو جہنم سے نکال دو، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہے۔ تو ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر انہیں جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کی گزرگاہ میں سے دانہ پھوٹتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ زرد ہوتا ہے، اور ادھر ادھر جھکتا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 182، 184، 222، 7377، 7379، 7434، 7485، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (842): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم أخرجوا من كان في قلبه حبة خردل من إيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کو نکالو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي رَجَاءِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهِيَرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ، يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، قَامَتِ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا، فَيُقَالُ: اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا، ثُمَّ يُقَالُ: اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا: أَنَا الآنَ أُخْرِجُ بِنِعْمَتِي وَبِرَحْمَتِي، فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُمْ، قَدْ امْتَحَشُوا وَصَارُوا فَحْمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ، أَوْ فِي نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَتَسْقُطُ مُحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ ذَلِكَ النَّهَرِ، فَيَعُودُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ: عُتَقَاءُ اللَّهِ، وَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ" الثَّعَارِيرُ: الْقِثَّاءُ الصِّغَارُ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کر دیا جائے گا اور اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو رسول کھڑے ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے۔ تو یہ کہا جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے کہ اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے، تم اسے (جہنم سے نکال دو) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے، پھر یہ کہا جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، تو تم اسے بھی نکال دو، تو وہ لوگ بہت سے لوگوں کو نکال دیں گے۔ (پھر) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے (لوگوں کو جہنم سے) نکالوں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا، اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں نہر میں ڈالا جائے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، تو ان کا جلا ہوا حصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ «الثَّعَارِيرُ» ثعاریر کی مانند سفید ہو جائیں گے، ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کیے ہوئے ہیں اور (جنت میں) ان کا نام جہنمی ہوگا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الثَّعَارِيرُ» ثعاریر ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6558، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 191، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 183، 7483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14533، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1282»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «ظلال الجنة» (2/ 404 / 841)، «الصحيحة» (3054).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
يحيى بن أبي رجاء: ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 264، وكناه أبا محمد، وقال: يروي عن زهير بن معاوية، وعتاب بن بشير، وأهل بلده، حدثنا عنه أبو عروبة، مات سنة أربعين ومئتين، وباقي رجاله ثقات إلا أن أبا الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس - مدلس وقد عنعن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار بأنهم يعودون بيضا بعد أن كانوا فحما يرش أهل الجنة عليهم الماء-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ وہ لوگ سیاہ ہونے کے بعد سفید ہو جائیں گے اور اہلِ جنت ان پر پانی چھڑکیں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوْ قَالَ: بِخَطَايَاهُمْ، حَتَّى كَانُوا فَحْمًا إِذْنَ فِي الشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَبُثُّوا عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ" ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَادِيَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، تو وہ جہنم میں رہیں گے، ان کو موت نہیں آئے گی اور وہ (ٹھیک طرح سے) زندہ نہیں ہوں گے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ (کا عذاب پہنچے گا) (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ان کی خطاؤں کی وجہ سے ہوگا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر ان لوگوں کو گروہ در گروہ لایا جائے گا، انہیں اہل جنت کے سامنے رکھا جائے گا اور کہا جائے گا: «يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ» اے اہل جنت! تم ان پر پانی بہاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں سے دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یوں لگتا ہے، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ویرانوں میں بھی رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 182، 184، 222، 7377، 7379، 7434، 7485، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1551)، «رفع الأستار» (ص 11): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين غير أبي نضرة - واسمه المنذر بن مالك - فإنه من رجال مسلم، وأبو مسلمة: هو سعيد بن يزيد الأزدي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الإيمان لم يزل على حالة واحدة من غير أن يدخله نقص أو كمال-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ ایمان ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے اور اس میں نہ کمی آتی ہے نہ زیادتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِم ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ لَوْ عَلِمْنَا، مَعْشَرَ الْيَهُودِ، مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ، وَلَوْ نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ:" قَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي أُنْزِلَتْ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ" .
طارق بن شہاب کہتے ہیں: ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کو یہ پتا چل جائے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔ اور اگر اب بھی ہمیں اس دن کا پتا چل جائے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی، تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس دن کے بارے میں پتا ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی اور اس رات کے بارے میں بھی پتا ہے جس میں یہ نازل ہوئی تھی: یہ جمعہ کا دن تھا اور ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں موجود تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 45، 4407، 4606، 7268، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 3017، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 185، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3002، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 193، 278، والحميدي فى (مسنده) برقم: 31»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (2808): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب فرض الإيمان - ذكر خبر ثان يصرح بإطلاق لفظة مرادها نفي الاسم عن الشيء للنقص عن الكمال لا الحكم على ظاهره-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ کسی چیز سے نام کا انکار، حقیقت میں اس کے کمال کے انکار کے معنی میں ہے، نہ کہ ظاہر پر حکم لگانے کے لیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ هِشَامٍ ، كلهم يحدثون، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ" فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَلاغُ، وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں: زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ڈاکہ ڈالنے والا شخص جو کسی کی قیمتی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے، جبکہ مسلمان اس کی طرف دیکھ رہے ہوں، تو وہ ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: اس سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تبلیغ کرنا لازم تھا، اور ہم پر اسے تسلیم کرنا لازم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2475، 5578، 6772، 6810، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 186، 4412، 4454، 5172، 5173، 5979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4885، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2625، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3936، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7438، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1162»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإيمان» لابن أبي شيبة (ص13).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما لولا عنعنة الوليد بن مسلم، لكنه توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. باب فرض الإيمان - ذكر خبر ثالث يصرح بالمعنى الذي ذكرناه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - ایک دوسری خبر کا ذکر جو اسی مفہوم کو صراحت سے بیان کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :، قَالَ وَاقَدْ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَرْجِعُوا بَعْدَي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
واقد بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: میرے بعد دوبارہ زمانہ کفر کی طرح نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1742، 4403 م، 6043، 6166، 6785، 6868، 7077، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 65، 66، 66، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 187، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3295، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4136، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1945، 4686، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3058، 3943، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5682»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» تحت (1974 و 2008)، «الروض» (927): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں