صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن وصف الإسلام والإيمان بذكر جوامع شعبهما-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اسلام اور ایمان کی جامع شاخوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی صفت بیان کرنا۔
حدیث نمبر: 168
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا كَهُمْسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، وَقُلْنَا: لَعَلَّنَا لَقِينَا رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْأَلَهُ عَنِ الْقَدْرِ، فَلَقِيَنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكِلُ الْكَلامَ إِلَيَّ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ ظَهَرَ عِنْدَنَا أُنَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ تَقَفُّرًا، يَزْعُمُونَ أَنْ لا قَدْرَ، وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: فَإِنْ لَقِيتَهُمْ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدْرِ لَمْ يُقَبْلُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَ شَدِيدُ سَوَادِ اللِّحْيَةِ، شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، فَوَضَعَ رُكْبَتَهُ عَلَى رُكْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَالِهِ إِيَّاهُ، وَتَصْدِيقِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي: مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَالِهِ إِيَّاهُ، وَتَصْدِيقِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي: مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ"، قَالَ: فَمَا أَمَارَتُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ"، قَالَ: فَتَوَلَّى وَذَهَبَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ؟" قُلْتُ: لا، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ" .
یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں: میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری حج کرنے کے لیے یا شاید عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم نے یہ سوچا: ہو سکتا ہے، ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی شخص سے ہو جائے، تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کر لیں گے۔ پھر ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا ساتھی یہ چاہے گا کہ اس بات کا آغاز میں کروں۔ ہم نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے ہاں کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں، لیکن وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور معاملہ (کسی گزشتہ تقدیر کے بغیر) نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہو، تو انہیں بتا دینا کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کا نام لے کر عبداللہ بن عمر قسم اٹھاتا ہے، اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے اور وہ تقدیر پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اس کا یہ عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک شخص وہاں آیا جس کی داڑھی انتہائی سیاہ تھی اور اس کے کپڑے انتہائی سفید تھے۔ اس نے اپنا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ ملایا اور عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔“ اس شخص نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں اس شخص کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر اور آپ کی بات کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی۔ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور تقدیر پر ایمان رکھو، خواہ وہ اچھی یا بری ہو، میٹھی ہو، یا کڑوی ہو۔“ اس شخص نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں اس شخص کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر اور آپ کے جواب کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی۔ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بارے میں جس شخص سے سوال کیا گیا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔“ اس شخص نے دریافت کیا: اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ کنیز اپنے آقا کو جنم دے گی۔ یہ کہ تم برہنہ پاؤں، برہنہ جسم یعنی ناکافی لباس والے بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے، وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند عمارات تعمیر کریں گے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص مڑ کر چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تین دن بعد میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے عمر! تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے۔ وہ تمہارے پاس اس لیے آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1، 2504، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 168، 173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5852، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4695، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2610، 2610 م 1، 2610 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 63، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2708، وأحمد فى (مسنده) برقم: 186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (63)، «الصحيحة» (2903): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
39. باب فرض الإيمان - ذكر خبر ثان أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن الإيمان بكماله هو الإقرار باللسان دون أن يقرنه الأعمال بالأعضاء-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - ایک اور خبر کا ذکر جس سے ناواقف محدث یہ وہم کر بیٹھا کہ ایمان کا کمال صرف زبانی اقرار ہے بغیر اعمال کے۔
حدیث نمبر: 169
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهِيَرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وعبد العزيز بن رفيع ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھ لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1237، 2388، 3222، 5827، 6268، 6443، 6444، 7487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 169، 170، 195، 213، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2644، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21717»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (826): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. إبراهيم بن بسطام: ترجمه المؤلف في «الثقات» 8/ 85، فقال: إبراهيم بن بسطام الأُبُلي، يروي عن البصريين، مات بعد سنة خمسين ومئتين، حدثنا عنه أحمد بن يحيى بن زهير وغيره، وباقي رجال السند ثقات.
40. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم من أئمتنا أن هذا الخبر كان بمكة في أول الإسلام قبل نزول الأحكام-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو باطل کرتی ہے کہ یہ حدیث مکہ میں اسلام کے ابتدائی دور میں احکام نازل ہونے سے پہلے تھی۔
حدیث نمبر: 170
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، بِالرَّبَذَةِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَقَبْلُنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا أُمْسِي وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلا أَصْرِفُهُ لِدَيْنٍ"، ثُمَّ مَشَى، وَمَشَيْتُ مَعَهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ:" إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، لا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ"، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَقُلْتُ: أَنْطَلِقُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي فَلَبِثْتُ حَتَّى جَاءَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُدْرِكَكَ، فَذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي، فَقَالَ:" ذَلِكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" ، أَخْبَرْنَاهُ الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
زید بن وہیب بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ربذہ کے مقام پر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چلتا ہوا جا رہا تھا۔ ہمارے سامنے ”اُحد“ پہاڑ آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو، اور پھر شام کے وقت ان میں سے ایک بھی دینار میرے پاس باقی رہے، ماسوائے اس کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھا ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، آپ کے ہمراہ میں بھی چلتا رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے اعتبار سے) قلت والے ہوں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! تم یہیں رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر میں نے ایک آواز سنی، میں نے سوچا میں آگے جاتا ہوں، لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا جو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا، تو میں وہاں ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آواز سنی تھی، پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں، پھر مجھے آپ کا فرمان یاد آ گیا جو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، جو میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص اس حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1237، 2388، 3222، 5827، 6268، 6443، 6444، 7487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 169، 170، 195، 213، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2644، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21717»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
[تنبيه!! ] هذا الحديث فصله الشيخ الألباني جزئين لوجود إسنادين به. الجزء الأول: 170 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ... «وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ» وقال عن هذا الجزء: صحيح - المصدر نفسه، «تخريج فقه السيرة» (446): ق. الجزء الثاني: [170/*] أَخْبَرْنَاهُ الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا ... عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وقال عن هذا الجزء: لم يحكم الشيخ على هذا الجزء. [تنبيه آخر] في «طبعة باوزير» «آتِيَكَ» بدلا من «أُدْرِكَكَ» وكتب الشيخ تعليق على هذه اللفظه فقال: [في الأصل «أتركك»]. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
[تنبيه!! ] هذا الحديث حكم عليه الشيخ شعيب بحكمين لوجود إسنادين به. الإسناد الأول: أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القطان، بالرقة، ... وإن زنى، وإن سرق». الأسناد الثاني: أخبرناه القطان في عقبه، حدثنا هشام بن عمار ... بمثله. وفي كِلا الموضعين قال الشيخ: إسناده صحيح على شرط البخاري. - مدخل بيانات الشاملة -.
41. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن الإيمان هو الإقرار بالله وحده دون أن تكون الطاعات من شعبه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس سے ایک عالم کو یہ وہم ہوا کہ ایمان صرف اللہ کا اقرار ہے، طاعات اس کی شاخوں میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 171
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ" .
ابومالک اشجعی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرے اور اس کے علاوہ جتنی چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے، ان کا انکار کرے، تو اس شخص کا مال اور اس کی جان قابلِ احترام ہوں گے اور اس شخص کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 23، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 171، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16120، 16123، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29538»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (428): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حيان، وأبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق.
42. باب فرض الإيمان - ذكر وصف قوله صلى الله عليه وسلم وحد الله وكفر بما يعبد من دونه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «وحد اللہ وکفر بما یعبد من دونه» کی وضاحت۔
حدیث نمبر: 172
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ الْوَفْدُ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟"، قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ:" مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَدَامَى"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" ، قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ: وَالنَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ:" احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ".
ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتا تھا۔ (یعنی جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے، تو میں ان کا سیکرٹری تھا) ایک مرتبہ ایک خاتون ان کے پاس آئی وہ ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کہاں کا وفد ہے، اور کون سی قوم ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ربیعہ (قبیلے سے ہمارا تعلق ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قوم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم دور دراز کے علاقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار کا قبیلہ حائل ہے۔ اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیجیے، جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتا دیں اور اس کی وجہ سے ہم لوگ جنت میں داخل ہو سکیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور انہیں چار چیزوں سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”صرف اللہ تعالیٰ پر“ ایمان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے؟“ تو ان لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، (مزید احکام یہ ہیں) نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، مزفت اور نقیر (استعمال کرنے سے منع کیا) یہاں شعبہ نامی راوی بعض اوقات لفظ نقیر نقل کرتے ہیں اور بعض اوقات لفظ مقیر نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان باتوں کو یاد کر لو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ان کے بارے میں بتا دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 53، 87، 523، 1398، 3095، 3510، 4368، 4369، 6176، 7266، 7556، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 17، 1990، 1997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 307، 1879، 2245، 2246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 157، 172، 5365، 5403، 7295،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3690، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187، 266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (157).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين؛ أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضبعي.
43. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان والإسلام شعب وأجزاء غير ما ذكرنا في خبر ابن عباس وابن عمر بحكم الأمينين محمد وجبريل عليهما السلام-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ ایمان و اسلام کی شاخیں اور اجزاء وہی نہیں جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہیں بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔
حدیث نمبر: 173
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدْرٌ! قَالَ: هَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي لَقِيتَهُمْ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ يَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ بُرَآءُ مِنْهُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ، وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ، يَتَخَطَّى حَتَّى وَرَكَ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: " الإِسْلامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" الإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ هَذَا، فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ إِنْ شَئْتَ نَبَّأْتُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا"، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ:" رَأَيْتَ الْعَالَةَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، وَكَانُوا مُلُوكًا"، قَالَ: مَا الْعَالَةُ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ؟ قَالَ:" الْعُرَيْبُ"، قَالَ:" وَرَأَيْتَ الأَمَةَ تَلِدُ رَبَّتَهَا، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ نَهَضَ فَوَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطَلَبْنَاهُ كُلَّ مَطْلَبٍ فَلَمْ نَقَدِرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ لَيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ، خُذُوا عَنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَانِي قَبْلُ مَرَّتِي هَذِهِ، وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَفَرَّدَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ بِقَوْلِهِ" خُذُوا عَنْهُ"، وَبِقَوْلِهِ:" تَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ"، .
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! (یعنی انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا:) کچھ لوگ ہیں جو اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا ہمارے ہاں ان لوگوں میں سے کوئی شخص ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تمہاری ان لوگوں کے ساتھ ملاقات ہو تو تم میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم سے بری الذمہ ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ بات بیان کی تھی کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ایک شخص آیا جس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والا بھی نہیں تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تم نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، حج و عمرہ کرو، غسلِ جنابت کرو، وضو مکمل کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: ”جب میں ایسا کر لوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، تم جنت، جہنم اور میزان پر ایمان رکھو، تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو اور تم تقدیر پر ایمان رکھو، خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔“ اس شخص نے دریافت کیا: ”جب میں یہ کر لوں گا تو کیا میں مومن ہوں گا؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم عمل کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: ”اگر میں ایسا کر لوں گا تو کیا میں احسان کرنے والا شمار ہوں گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: ”قیامت کب آئے گی؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔“ اس نے کہا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم غریب، ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں کو دیکھو کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند عمارتیں تعمیر کریں اور وہ بادشاہ بن جائیں۔“ تو اس نے دریافت کیا: ”ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں سے مراد کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عریب (یعنی نچلے طبقے کے عرب)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کنیز کو دیکھو کہ وہ اپنے آقا کو جنم دے تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہوگی۔“ تو اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ پھر وہ واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ ہمیں نہیں ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون تھا؟ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس اس لیے آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں، تو تم اس سے حاصل کر لو۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس ایک مرتبہ سے پہلے کبھی مجھے اسے پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی، لیکن اس مرتبہ میں نے اسے اس وقت پہچانا جب وہ واپس چلا گیا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان تیمی نامی راوی روایت کے یہ الفاظ نقل کرنے میں منفرد ہیں: ”تم اس سے حاصل کر لو۔“ اور یہ الفاظ بھی: ”اور یہ کہ تم عمرہ کرو اور تم غسل کرو اور تم وضو مکمل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1، 2504، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 168، 173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5852، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4695، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2610، 2610 م 1، 2610 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 63، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2708، وأحمد فى (مسنده) برقم: 186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 34)، «الصحيحة» (2903): م دون الزيادة في آخره، وتقدم (168). * قال الشيخ: انظر الحديث رقم (168). قلت: وإسناده صحيح، وكذا هذا. وليس عند مسلم جملة «وتؤمن بالجنة والنار والميزان»، وزاد عليه - أيضا - في الحديث المتقدم - بعد: «خيره وشرّه» -: «حُلوه ومرّه». وهو رواية للبيهقي في «الشعب» (1/ 202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
44. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان بكل ما جاء به المصطفى صلى الله عليه وسلم من الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے، اس سب پر ایمان لانا ایمان ہی کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 174
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَشَهِدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَآمَنَوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" تَفَرَّدَ بِهِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک ان کے ساتھ جنگ کرتا رہوں جب تک وہ یہ اعتراف نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، تو وہ اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں دراوردی نامی راوی منفرد ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 21، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 174، 218، 220، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1432، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3090، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2640، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 71، 3927، والدارقطني فى (سننه) برقم: 892، 1884، وأحمد فى (مسنده) برقم: 68، 8279»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (408): م، وعنده متابع للدراوردي.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
45. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان بكل ما أتى به النبي صلى الله عليه وسلم من الإيمان مع العمل به-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے، اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 175
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَفَرَّدَ بِهِ شُعْبَةُ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الإِيمَانَ أَجْزَاءٌ، وَشُعَبٌ تَتَبَايَنُ أَحْوَالُ الْمُخَاطَبِينَ فِيهَا، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"، فَهَذَا هُوَ الإِشَارَةُ إِلَى الشُّعْبَةِ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي تُشْبِهُ الأَشْيَاءَ الثَّلاثَةَ الَّتِي ذَكَرَهَا فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الإِيمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں، جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں شعبہ نامی راوی منفرد ہے، اور اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہوتے ہیں، جو اس بارے میں مخاطب لوگوں کے احوال کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے: ”یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔“ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وہ نماز قائم کریں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وہ زکاۃ ادا کریں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام نیکیاں، جو ان تین چیزوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ذکر کیا ہے، یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 25، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 22، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 175، 219، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5222، 6597، 16833، والدارقطني فى (سننه) برقم: 898، 899، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8510»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (408): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن محمد بن عرعرة: ثقة، حافظ، تكلم أحمد في بعض سماعه، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
46. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى ببعض أجزائه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس شخص پر ایمان کا نام لگایا جانا جس نے اس کے بعض اجزاء پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 176
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" سَرَّتْكَ حَسَنَاتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَاتُكَ، فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الإِثْمُ؟ قَالَ:" حَاكَ فِي قَلْبِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں، تو تم مومن ہو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے، تو تم اسے چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 176، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 33، 34، 35، 2182، 7139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22589، 22596، 22629، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20104، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7539، 7540، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2993»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (550).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وقد خرج أصحاب الصحاح ليحيى بن أبي كثير بالعنعنة، وجد زيد بن سلام هو ممطور الأسود الحبشي أبو سلام.
47. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى جزءا من بعض أجزائه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس شخص پر ایمان کا اطلاق کیا جانا جس نے ایمان کے بعض حصوں میں سے کسی ایک حصے پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَّ اسْتَكْتَمَنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهِ مَا عَاشَ مُعَاوِيَةُ، فَذَكَرَ عَامِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، وَهُوَ قَاضِي الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدَي يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يَأْمُرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لا إِيمَانَ بَعْدَهُ" قَالَ عَطَاءٌ: فَحِينَ سَمِعْتُ الْحَدِيثَ مِنْهُ انْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ هَذَا؟ كَالْمُدْخَلِ عَلَيْهِ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَطَاءٌ: فَقُلْتُ: هُوَ مَرِيضٌ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَعُودَهُ؟، قَالَ: فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَكْوَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يُقَلِّبُ كَفَّهُ وَهُوَ يَقُولُ: مَا كَانَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عطاء بن یسار، جو مدینہ منورہ کے قاضی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو وہ بات کہیں گے جو وہ کرتے نہیں ہوں گے، اور وہ لوگ ایسے کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا۔ تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، اور جو اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، اس کے بعد ایمان نہیں ہو گا۔“ عطاء نامی راوی کہتے ہیں: جب میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی، تو میں یہ روایت لے کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ عطاء کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ بیمار ہیں، کیا وجہ ہے کہ آپ ان کی عیادت کے لیے نہیں جاتے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم ہمیں ان کے پاس لے جاؤ۔ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف لے گئے، تو ان کے ساتھ میں بھی گیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ان کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا، پھر ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں سے نکلے، تو وہ اپنی ہتھیلی پلٹ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ابن ام عبد (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 50، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 177، 6193، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20235، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4449، 4465، 4488، والبزار فى (مسنده) برقم: 1896، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9784، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد: ورواه مسلم من طريق آخر؛ دون قوله: قال عطاء ... الخ - «التعليق على إصلاح المساجد» (ص 44). * [عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ] قال الشيخ: هو مِن الحفّاظ الأثبات الذين أكثر عنهم المؤلِّف - رحمه الله -، وقد ترجمَه الذهبيّ في «السير» (14/ 136 - 137). ومن فوقه ثقاتٌ مِن رجال البخاري، غير عامر بنِ السِّمْطِ، وهو ثقةٌ، فالإسناد صحيحٌ متصل بسماع عطاء بن يسار مِن ابن مسعود. وله عنه طريق في «مسلم» وغيره، وهو مُخرَّج في «إصلاح المساجد» (ص 44).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد، رجاله رجال الصحيح غير عامر بن السمط، وهو ثقة.