صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان والإسلام اسمان لمعنى واحد-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لابْنِ عُمَرَ: أَلا تَغْزُو؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُنِيَ الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَانِ خَبَرَانِ خَرَجَ خِطَابُهُمَا عَلَى حَسَبِ الْحَالِ، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الإِيمَانَ، ثُمَّ عَدَّهُ أَرْبَعَ خِصَالٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الإِسْلامَ وَعَدَّهُ خَمْسَ خِصَالٍ، وَهَذَا مَا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: بِأَنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ فِي لُغَتِهَا بَعْدَدٍ مَعْلُومٍ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ، وَلَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الإِيمَانَ لا يَكُونُ إِلا مَا عُدَّ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لأَنَّهُ ذَكَرَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ خَبَرٍ أَشْيَاءَ كَثِيرَةً مِنَ الإِيمَانِ لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَلا ابْنِ عَبَّاسٍ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا.
حنظلہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں: میں نے عکرمہ بن خالد کو طاؤس کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دو روایات ہیں جن میں الفاظ کا مخصوص پس منظر ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا ذکر کیا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے چار خصلتوں کا تذکرہ کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا تذکرہ کیا اور اس کے لیے پانچ خصلتوں کا تذکرہ کیا۔ یہ وہ صورت ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں کسی متعین تعداد کے ہمراہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں اور اس متعین تعداد کے تذکرے سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ تعداد کی نفی کر دی جائے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مراد نہیں لیا کہ ایمان سے مراد صرف وہی امور ہوں گے جن کا ذکر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر روایات میں دیگر بہت سی اشیاء کا ایمان کا حصہ ہونے کا ذکر کیا ہے، جن کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ان دو روایات میں نہیں ہے، جنہیں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 8، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 16،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 308، 309،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 158، 1446، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5016، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2609، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4890، والحميدي فى (مسنده) برقم: 720، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 19912»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (781)، ويأتي (1443): ق. تنبيه!! رقم (1443) = (1446) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
29. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن الإيمان والإسلام اسمان بمعنى واحد-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلائِكَتِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الإِسْلامُ؟ قَالَ:" لا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ"، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْعُرَاةَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا الِلَّهِ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف فرما تھے، اس دوران ایک شخص چلتا ہوا آپ کے پاس حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی بارگاہ میں حاضری پر ایمان رکھو اور تم دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز ادا کرو، تم فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بارے میں جس شخص سے دریافت کیا گیا ہے، وہ دریافت کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا، تاہم میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔ جب کنیز اپنے آقا کو جنم دے اور جب تم برہنہ جسم، برہنہ پاؤں (لوگوں) کو حکمران دیکھو (تو یہ قیامت کی نشانیاں ہوں گی)؛ پانچ چیزیں ایسی ہیں، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔“ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے﴾ [سورة لقمان: 34] (اس کے بعد پوری آیت ہے) پھر وہ شخص چلا گیا، لوگوں نے اسے تلاش کیا، وہ انہیں نہیں ملا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے، جو اس لیے آئے تھے تاکہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 50، 4777، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 9، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 159، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5006، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4698، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 64، 4044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3639، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9251»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 32 / 3)، «الصحيحة» (2903): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، جرير: هو ابن عبد الحميد الرازي، وأبو حيان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حيان
30. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن الإسلام والإيمان اسمان بمعنى واحد يشتمل ذلك المعنى على الأقوال والأفعال معا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام اور ایمان ایک ہی معنی کے دو نام ہیں جو اقوال اور افعال دونوں کو شامل ہیں
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لا آتِيَكَ، فَمَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ؟ قَالَ:" الإِسْلامُ"، قَالَ: وَمَا الإِسْلامُ؟، قَالَ:" أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ لِلَّهِ، وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ لِلَّهِ، وَأَنْ تُصَلِّيَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لا يَقَبْلُ الِلَّهِ مِنْ عَبْدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلامِهِ" .
حکیم بن معاویہ اپنے والد (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، جب میں اپنی انگلیوں کی تعداد میں یہ قسم اٹھا چکا تھا کہ میں آپ کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔ آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے۔“ انہوں نے دریافت کیا: اسلام کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے لیے جھکا دو اور تم اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف کر لو، اور تم فرض نماز ادا کرو اور تم فرض زکوٰۃ ادا کرو؛ یہ دو بھائی ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اللہ تعالیٰ کسی بھی ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا جو اسلام قبول کرنے کے بعد شرک کا ارتکاب کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 160، 4175، 7388، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2780، 3666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2142، 2143، 2144، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2192 م، 2424، 3001، 3143، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2802، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 234، 1850، 2536، 4287، 4288، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20330»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح بلفظ «عملاً» مكان: «توبة» - «الصحيحة» (369)، «الإرواء» (5/ 32). * [لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ عَبْدٍ تَوْبَةً] قال الشيخ: كذا في رواية حمَّاد هذه! وكذلك وقع في (المسند) (5/ 2 و3) وغيرِه! وأخشى أن يكون هذا الحَرْفُ من أوهام حمَّاد، وقد كان تغيَّرَ حفظُه في آخره، فقد رواه بهزُ بن حكيم عن أبيه. . . بلفظ: (عملاً). ولم يتنبّه لهذا الفرق بين الروايتين: المعلِّق على (موارد الظمآن) (1/ 130 - 131)!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. وأبو قَزْعة هو سويد بن حُجَيْر البصري، ومعاوية هو ابن حَيْدة بن معاوية بن كعب القشيري، صحأبي نزل البصرة، ومات بخراسان، وهو جد بهز بن حكيم.
31. ذكر الخبر الدال على أن الإيمان والإسلام اسمان بمعنى واحد
اس روایت کا ذکر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 161
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5396، 5397، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2062، 2063، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3417، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 161، 162، 5235، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6741، 6866، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1819، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2086، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3256، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7613، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 25036»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 122): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
32. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن هذا الخطاب مخرجه مخرج العموم والقصد فيه الخصوص أراد به بعض الناس لا الكل-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خطاب عمومی طور پر بیان کیا گیا لیکن اس کا مقصد خصوصی ہے، یعنی اس سے بعض لوگوں کا ارادہ ہے نہ کہ سب کا
حدیث نمبر: 162
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ، فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا، حَتَّى شَرِبَ حِلابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ، فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک کافر شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لیے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا، اس نے اس کا دودھ پی لیا، تو دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا۔ اس نے اس کا دودھ بھی پی لیا یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔ پھر صبح کے وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہ لیا گیا۔ اس نے اس کا دودھ پی لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لیے دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا، تو وہ اسے ختم نہیں کر سکا۔ (تو اس موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مومن ایک آنت میں پیتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5396، 5397، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2062، 2063، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3417، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 161، 162، 5235، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6741، 6866، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1819، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2086، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3256، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7613، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 25036»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
33. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن الإسلام والإيمان بينهما فرقان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے لوگوں کے ایک عالم کو یہ وہم دیا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے
حدیث نمبر: 163
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رِجَالا، وَلَمْ يُعْطِ رَجُلا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا، وَلَمْ تُعْطِ فُلانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ مُسْلِمٌ" قَالَهَا ثَلاثًا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: نَرَى أَنَّ الإِسْلامَ الْكَلِمَةُ، وَالإِيمَانَ الْعَمَلُ.
عامر بن سعد بن وقاص اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطیات دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دے دیا ہے، لیکن فلاں شخص کو کچھ نہیں دیا، حالانکہ وہ مومن ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مومن ہے یا مسلمان ہے؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام سے مراد زبانی طور پر کلمہ پڑھنا ہے، اور ایمان سے مراد عمل کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 27، 1478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 163، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5007، 5008، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11453، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4685، 4683، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1541، 1601، والحميدي فى (مسنده) برقم: 68، 69»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإيمان» لابن أبي شيبة (ص 11 و 12)، «صحيح سنن أبي داود» (4683): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، رجاله رجال الشيخين غير ابن أبي السري، فإنه كثير الأوهام، وقد توبع.
34. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم بعض المستمعين ممن لم يطلب العلم من مظانه أنه مضاد للخبرين اللذين ذكرناهما-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے بعض سننے والوں کو جو علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کرتے، یہ وہم دیا کہ یہ ان دو خبروں کے خلاف ہے جو ہم نے ذکر کیں
حدیث نمبر: 164
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقَدْادِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ وَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقْتُلْهُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلُ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلُ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلُ أَنْ تَقْتُلَهُ" يُرِيدُ بِهِ: أَنَّكَ تُقْتَلُ قَوَدًا، لأَنَّهُ كَانَ قَبْلُ أَنْ أَسْلَمَ حَلالَ الدَّمِ، وَقَتَلْتَهُ بَعْدَ إِسْلامِهِ صِرْتَ بِحَالَةٍ تُقْتَلُ مِثْلَهُ قَوَدًا بِهِ، لا أَنَّ قَتْلَ الْمُسْلِمِ يُوجِبُ كُفْرًا يُخْرِجُ مِنَ الْمِلَّةِ، إِذِ الِلَّهِ قَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى سورة البقرة آية 178، البقرة.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسی صورت حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں کسی کافر کے مد مقابل آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے، اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیتا ہے، پھر (میں اس پر غالب آتا ہوں) تو وہ مجھ سے بچنے کے لیے درخت کے پیچھے جاتا ہے اور کہتا ہے: میں اللہ تعالیٰ کے لیے اسلام قبول کرتا ہوں، تو اس شخص کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے قتل نہ کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا، اور اس نے اس ہاتھ کو کاٹنے کے بعد یہ بات کہی ہے۔ کیا میں اس کو قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے ہو، تو وہ تمہاری اس جگہ پر آ جائے گا، جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے، اور تم اس کی اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جو اس کے کہے ہوئے کلمے سے پہلے اس کا مقام تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے ہو، تو وہ تمہاری اس جگہ پر آ جائے گا، جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے۔“ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: تمہیں قصاص میں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کا خون بہانا جائز تھا، لیکن جب تم نے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم ایسی حالت میں پہنچ جاؤ گے کہ تمہیں اس کے قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔ اس حدیث سے یہ مراد نہیں ہے: کسی مسلمان کو قتل کرنا ایسے کفر کو واجب کر دیتا ہے جو آدمی کو دین سے خارج کر دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] ”اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم قرار دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4019، 6865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 95، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 164، 4750، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2644، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24334، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29546»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن أبي داود» (2376): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، ويزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن موهب الرملي أبو خالد، ثقة، ومن فوقه على شرط الشيخين.
35. باب فرض الإيمان - ذكر إثبات الإيمان للمقر بالشهادتين معا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - دونوں شہادتوں کے اقرار کرنے والے کے لیے ایمان کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 165
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَتْ لِي غُنَيْمَةٌ تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قَبْلُ أُحُدٍ، وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهَا ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ ذَهَبَ الذِّئْبُ مِنْهَا بِشَاةٍ، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلا أَعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا"، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: " أَيْنَ الِلَّهِ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری کچھ بکریاں تھیں جنہیں میری ایک کنیز ”احد“ اور ”جوانیہ“ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں پہنچا، تو پتا چلا کہ ان میں سے ایک بکری کو بھیڑیا لے گیا ہے۔ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آگیا، جس طرح لوگوں کو غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے مکا مارا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: کیا میں اسے آزاد نہ کردوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تُم اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: «أَيْنَ اللهُ؟» ”اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: «فِي السَّمَاءِ» ”آسمان میں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: «مَنْ أَنَا؟» ”میں کون ہوں؟“ اس نے عرض کی: «أَنْتَ رَسُولُ اللهِ» ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تُم اسے آزاد کر دو، وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 537، 537، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2875، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 859، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 165، 2247، 2248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1217، وأبو داود فى (سننه) برقم: 930، 3282، 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15903، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8104»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3161): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، ابن أبي عدي: هو محمد بن إبراهيم.
36. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان أجزاء وشعب لها أعلى وأدنى-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہیں جن میں اعلیٰ اور ادنیٰ درجے ہیں
حدیث نمبر: 166
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا سُهِيَلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَرْفَعُهَا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ إِلَى الشَّيْءِ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ، فَجَعَلَهُ أَعْلَى الإِيمَانِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الشَّيْءِ الَّذِي هُوَ نَفْلٌ لِلْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَوْقَاتِ، فَجَعَلَهُ أَدْنَى الإِيمَانِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، وَكُلَّ شَيْءٍ فَرْضٌ عَلَى بَعْضِ الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، وَكُلَّ شَيْءٍ هُوَ نَفْلٌ لِلْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، كُلُّهُ مِنَ الإِيمَانِ، وَأَمَّا الشَّكُّ فِي أَحَدِ الْعَدَدَيْنِ، فَهُوَ مِنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فِي الْخَبَرِ، كَذَلِكَ قَالَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ سُهِيَلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَرْفُوعًا، وَقَالَ:" الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً"، وَلَمْ يَشُكَّ، وَإِنَّمَا تَنَكَّبْنَا خَبَرَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، وَاقْتَصَرْنَا عَلَى خَبَرِ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ لِنُبَيِّنَ أَنَّ الشَّكَّ فِي الْخَبَرِ لَيْسَ مِنْ كَلامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ كَلامُ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ كَمَا ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایمان کے ساٹھ سے کچھ زیادہ شعبے ہیں، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں، جن میں سب سے بلند ترین «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہنا ہے، اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایمان کا بلند تر درجہ قرار دیا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے جو مخاطب لوگوں کے لیے تمام اوقات میں نفل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایمان کا سب سے نیچے کا درجہ قرار دیا ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض کی گئی ہے، اور ہر وہ چیز جو بعض مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض کی گئی ہے، اور ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں کے لیے ہر حالت میں نفل ہے، یہ سب کی سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک دو عددوں میں سے ایک کے بارے میں شک کا تعلق ہے، تو یہ شک سہیل بن ابوصالح نامی راوی کو اس روایت میں ہوا ہے۔ یہ بات معمر نے سہیل کے حوالے سے اسی طرح بیان کی ہے، اور سلیمان بن بلال نے اسے عبداللہ بن دینار کے حوالے سے ابوصالح کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہیں۔“ انہوں نے کسی شک کے بغیر یہ بات ذکر کی ہے۔ ہم نے اس جگہ پر سلیمان بن بلال کی نقل کردہ روایت کو ترک کر دیا ہے اور سہیل بن ابوصالح کی نقل کردہ روایت پر اکتفا کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے تاکہ ہم یہ بات بیان کر دیں کہ روایت کے الفاظ میں شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ سہیل بن ابوصالح کا کلام ہے، جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 9، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 35،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 166، 167، 181، 190، 191، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5019، 5020، 5021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4676، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2614، 2614 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 57، 57 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9048»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1769): ق، ولفظ: «سبعون» أصح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
37. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سهيل بن أبي صالح-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف سہیل بن ابی صالح نے منفرد طور پر بیان کی
حدیث نمبر: 167
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَدْامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اخْتَصَرَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ هَذَا الْخَبَرَ، فَلَمْ يَذْكُرْ ذِكْرَ الأَعْلَى وَالأَدْنَى مِنَ الشُّعَبِ، وَاقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ السِّتِّينَ دُونَ السَّبْعِينَ، وَالْخَبَرُ فِي بِضْعٍ وَسَبْعِينَ خَبَرٌ مُتَقَصًّى صَحِيحٌ لا ارْتِيَابَ فِي ثُبُوتِهِ، وَخَبَرُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ غَيْرُ مُتَقَصًّى، وَأَمَّا الْبِضْعُ، فَهُوَ اسْمٌ يَقَعُ عَلَى أَحَدِ أَجْزَاءِ الأَعْدَادِ، لأَنَّ الْحِسَابَ بِنَاؤُهُ عَلَى ثَلاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى الأَعْدَادِ، وَالْفُصُولِ، وَالتَّرْكِيبِ، فَالأَعْدَادُ مِنَ الْوَاحِدِ إِلَى التِّسْعَةِ، وَالْفُصُولُ هِيَ الْعَشَرَاتُ وَالْمِئُونُ وَالأُلُوفُ، وَالتَّرْكِيبُ مَا عَدَا مَا ذَكَرْنَا، وَقَدْ تَتَبَّعْتُ مَعْنَى الْخَبَرِ مُدَّةً، وَذَلِكَ أَنَّ مَذْهَبَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ قَطُّ إِلا بِفَائِدَةٍ، وَلا مِنْ سُنَنِهِ شَيْءٌ لا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ، فَجَعَلْتُ أَعُدُّ الطَّاعَاتِ مِنَ الإِيمَانِ، فَهِيَ تَزِيدُ عَلَى هَذَا الْعَدَدِ شَيْئًا كَثِيرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى السُّنَنِ، فَعَدَدْتُ كُلَّ طَاعَةٍ عَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ، فَهِيَ تَنْقُصُ مِنَ الْبِضْعِ وَالسَّبْعِينَ، فَرَجَعْتُ إِلَى مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ مِنْ كَلامِ رَبِّنَا، وَتَلَوْتُهُ آيَةً آيَةً بِالتَّدَبُّرِ، وَعَدَدْتُ كُلَّ طَاعَةٍ عَدَّهَا الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الإِيمَانِ، فَهِيَ تَنْقُصُ عَنِ الْبِضْعِ وَالسَّبْعِينَ، فَضَمَمْتُ الْكِتَابَ إِلَى السُّنَنِ، وَأَسْقَطْتُ الْمُعَادَ مِنْهَا، فَكُلُّ شَيْءٍ عَدَّهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الإِيمَانِ فِي كِتَابِهِ، وَكُلُّ طَاعَةٍ جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ فِي سُنَنِهِ تِسْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً لا يَزِيدُ عَلَيْهَا وَلا يَنْقُصُ مِنْهَا شَيْءٌ، فَعَلِمْتُ أَنَّ مُرَادَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْخَبَرِ أَنَّ الإِيمَانَ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ، فَذَكَرْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ بِكَمَالِهَا بِذِكْرِ شُعْبَةَ فِي كِتَابِ وَصْفُ الإِيمَانِ وَشُعَبِهِ بِمَا أَرْجُو أَنَّ فِيهَا الْغَنِيَّةَ لِلْمُتَأَمِّلِ تَأَمَّلَهَا، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ تِكْرَارهَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الإِيمَانَ أَجْزَاءٌ بِشُعَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ:" الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً: أَعْلاهَا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، فَذَكَرَ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ شُعَبِهِ، هِيَ كُلُّهَا فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ: وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَالإِيمَانُ بِمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنْ أَجْزَاءِ هَذِهِ الشُّعْبَةِ، وَاقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ جُزْءٍ وَاحِدٍ مِنْهَا، حَيْثُ قَالَ:" أَعْلاهَا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ سَائِرَ الأَجْزَاءِ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ كُلُّهَا مِنَ الإِيمَانِ، ثُمَّ عَطَفَ فَقَالَ:" وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ"، فَذَكَرَ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ شُعْبَةٍ هِيَ نَفْلٌ كُلُّهَا لِلْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَوْقَاتِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ سَائِرَ الأَجْزَاءِ الَّتِي هِيَ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ وَكُلَّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الشُّعَبِ الَّتِي هِيَ مِنْ بَيْنِ الْجُزْأَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ اللَّذَيْنِ هُمَا مِنْ أَعْلَى الإِيمَانِ وَأَدْنَاهُ كُلُّهُ مِنَ الإِيمَانِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ"، فَهُوَ لَفْظَةٌ أُطْلِقَتْ عَلَى شَيْءٍ بِكِنَايَةِ سَبَبِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْحَيَاءَ جِبِلَّةٌ فِي الإِنْسَانِ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُكْثِرُ فِيهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقِلُّ ذَلِكَ فِيهِ، وَهَذَا دَلِيلٌ صَحِيحٌ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ، لأَنَّ النَّاسَ لَيْسُوا كُلُّهُمْ عَلَى مَرْتَبَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحَيَاءِ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ اسْتِوَاؤُهُمْ عَلَى مَرْتَبَةٍ وَاحِدَةٍ فِيهِ، صَحَّ أَنَّ مَنْ وُجِدَ فِيهِ أَكْثَرُ، كَانَ إِيمَانُهُ أَزِيدَ، وَمَنْ وُجِدَ فِيهِ مِنْهُ أَقَلُّ، كَانَ إِيمَانُهُ أَنْقَصَ، وَالْحَيَاءُ فِي نَفْسِهِ: هُوَ الشَّيْءُ الْحَائِلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَبَيْنَ مَا يُبَاعِدُهُ مِنْ رَبِّهِ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ تَرْكَ الْمَحْظُورَاتِ شُعْبَةً مِنَ الإِيمَانِ بِإِطْلاقِ اسْمِ الْحَيَاءِ عَلَيْهِ، عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایمان کے ساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سلیمان بن بلال نے اس روایت کو مختصر کیا ہے، انہوں نے سب سے بلند اور سب سے نیچے والے شعبے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے ستر کی بجائے صرف ساٹھ کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے، جبکہ روایت میں ستر اور کچھ شعبے بھی منقول ہیں، اور یہ ایسی روایت ہے جو تفصیلی ہے اور صحیح ہے، اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں ہے۔ سلیمان بن بلال کی نقل کردہ روایت مختصر ہے اور تفصیلی نہیں ہے، جہاں تک لفظ «بِضْعٌ» (کچھ) کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسا اسم ہے جو اعداد کے اجزاء میں سے کسی ایک پر واقع ہوتا ہے، کیونکہ حساب کی بنیاد تین چیزوں پر ہے: اعداد پر، فصول پر اور ترکیب پر۔ جہاں تک اعداد کا تعلق ہے تو وہ ایک سے لے کر نو تک ہوتے ہیں، جہاں تک فصول کا تعلق ہے تو وہ دہائیاں، سینکڑے اور ہزار ہوتے ہیں، جہاں تک ترکیب کا تعلق ہے تو وہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے (وہ ترکیب ہے)۔ میں ایک طویل عرصے تک اس روایت کے مفہوم کی تحقیق کرتا رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی بات کی ہے وہ کسی فائدے ہی کی وجہ سے کی ہو گی اور آپ کے طریقے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مفہوم معلوم نہ ہو، تو میں نے ایمان کی نیکیوں کو گننا شروع کیا تو وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھیں، پھر میں نے سنت کی طرف رجوع کیا اور میں نے ان تمام نیکیوں کو گننا شروع کیا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے حصے کے طور پر شمار کیا ہے تو یہ ستر اور اس کی تعداد سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے دو جلدوں کے درمیان پروردگار کے کلام کی طرف رجوع کیا، میں نے ایک ایک آیت کو غور سے پڑھا اور ہر اس نیکی کو شمار کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ایمان کے حوالے سے کیا ہے تو وہ بھی ستر اور اس سے کچھ کم تھیں، پھر میں نے کتاب کو سنت کے ساتھ ملایا اور ان میں سے تکرار کے ساتھ آنے والی چیزوں کو ساقط کر دیا، تو ہر وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حصہ اپنی کتاب میں شمار کیا ہے اور ہر وہ نیکی جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا حصہ اپنی سنت میں قرار دیا ہے وہ 79 شعبے تھے، نہ اس سے زیادہ تھے نہ اس سے کم تھے۔ تو مجھے پتا چل گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت میں مراد یہ ہے کہ ایمان کے ستر اور کچھ شعبے کتاب و سنت میں منقول ہیں، تو میں نے یہ مسئلہ مکمل طور پر ایمان کے شعبوں کے تذکرے کے ہمراہ کتاب (ایمان کی صفت اور اس کے شعبے) میں ذکر کر دیا ہے۔ مجھے یہ امید ہے کہ اس میں غور و فکر کرنے والے شخص کے لیے کفایت ہو جائے گی اور اب مجھے اس بحث کو یہاں دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کی دلیل کہ ایمان کے شعبوں کے حوالے سے اجزاء ہوتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے جو عبداللہ بن دینار کے حوالے سے منقول روایت میں ہے: ”ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہوتے ہیں، جن میں سب سے بلند اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے شعبوں کے اجزاء میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے جو سارے کا سارا تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، یا فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر یا جنت پر یا جہنم پر اور اس جیسی دیگر چیزوں پر ایمان رکھنا اس شعبے کے اجزاء میں سے ایک ہے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف ایک جز پر اکتفا کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: اس کا سب سے بلند تر شعبہ ”اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اجزاء اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ تمام کے تمام ایمان کا حصہ ہیں، پھر آپ نے عطف کیا اور لفظ «وَاو» استعمال کیا اور فرمایا: ”اس میں سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعبوں میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے جو نفل ہے اور یہ تمام اوقات میں مخاطب لوگوں کے لیے نفل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ تمام اجزاء جو اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان دو ذکر شدہ اجزاء کے درمیان موجود شعبوں کے تمام اجزاء میں سے ہر ایک جز، اس کا تذکرہ ان دو روایات میں ہے جو ایمان کا بلند تر مرتبہ اور کمترین مرتبہ ہیں، یہ سب کے سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے: ”حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے“، تو یہ ایسے الفاظ ہیں جن کا اطلاق کسی چیز پر اس کے سبب کے کنائے کے ساتھ کیا گیا ہے، اس کی صورت یوں ہے کہ حیا ایک جبلت ہے جو انسان میں موجود ہوتی ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں یہ زیادہ ہوتی ہے اور کچھ میں یہ کم ہوتی ہے، تو یہ اس چیز کی صحیح دلیل ہے کہ ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور اس میں کمی بھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ حیا کے اعتبار سے ایک ہی مرتبے کے نہیں ہوتے، تو جب ایمان کے ایک مرتبے کے بارے میں ان لوگوں کا برابر ہونا ناممکن ہے تو یہ بات درست ہو گی کہ جس میں یہ زیادہ پائی جائے گی اس کا ایمان زیادہ ہو گا اور جس میں یہ کم پائی جائے گی اس کا ایمان کم ہو گا، تو اس کا ایمان ناقص ہو گا، اور حیا اپنے وجود کے اعتبار سے ایک ایسی چیز ہے جو آدمی اور اس چیز کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے جو چیز آدمی کو اس کے پروردگار سے دور کرتی ہے اور ممنوعہ چیزوں سے تعلق رکھتی ہے، تو گویا کہ اللہ کے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے اور اس کے لیے آپ نے لفظ «حَیَاء» استعمال کیا ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 9، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 35،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 166، 167، 181، 190، 191، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5019، 5020، 5021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4676، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2614، 2614 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 57، 57 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9048»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.