🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الفطرة-
فطرت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1220): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، موسى بن مروان: هو أبو عمران التمارالبغدادي، يروي عن جمع، وروى عنه جمع، وذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 161، وأرّخ وفاته سنة أربعين ومئتين، وباقي السند على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب الفطرة - ذكر إثبات الألف بين الأشياء الثلاثة التي ذكرناها-
فطرت کا بیان - اس بیان کا ذکر جس میں ان تین چیزوں کے درمیان الف (الفِ وصل) ثابت کرنے کا بیان ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ" أَرَادَ بِهِ: عَلَى الْفطْرَةِ الَّتِي فَطَرَهُ الِلَّهِ عَلَيْهَا جَلَّ وَعَلا يَوْمَ أَخْرَجَهُمْ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، لِقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30، يَقُولُ: لا تَبْدِيلَ لِتِلْكَ الْخِلْقَةِ الَّتِي خَلَقَهُمْ لَهَا، إِمَّا لِجَنَّةٍ، وَإِمَّا لِنَارٍ، حَيْثُ أَخْرَجَهُمْ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَقَالَ: هَؤُلاءِ لِلْجَنَّةِ، وَهَؤُلاءِ لِلنَّارِ، أَلا تَرَى أَنَّ غُلامَ الْخَضِرِ قَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَبَعَهُ الِلَّهِ يَوْمَ طَبَعَهُ كَافِرًا" وَهُوَ بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُؤْمِنَيْنِ، فَأَعْلَمَ الِلَّهِ ذَلِكَ عَبْدَهُ الْخَضِرَ وَلَمْ يُعْلِمْ ذَلِكَ كَلِيمَهُ مُوسَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے جو فطرت اللہ تعالیٰ نے اس دن مقرر کی تھی، جب ان لوگوں کو سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے نکالا تھا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 30] اللہ کی (مقرر کردہ) وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ وہ یہ فرماتا ہے: اس خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جس کے لیے اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا ہے، خواہ وہ جنت کے لیے ہو، خواہ وہ جہنم کے لیے ہو، اس وقت جب اس نے انہیں سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا، اور یہ فرمایا تھا: یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور یہ لوگ جہنم کے لیے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا: سیدنا خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کر دیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ نے اسے فطری طور پر کافر بنایا تھا۔ حالانکہ وہ مومن ماں باپ کے درمیان تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سیدنا خضر علیہ السلام کو اس بارے میں علم دیا، حالانکہ اس نے اپنے کلیم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس بارے میں علم نہیں دیا۔ جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب الفطرة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به حميد بن عبد الرحمن-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس گمان کو باطل کرتا ہے کہ اسے صرف حمید بن عبدالرحمن نے روایت کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تَنْتِجُونَ إِبِلَكُمْ هَذِهِ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟" ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيرَةَ: فَاقْرَءُوا إِنْ شَئْتُمْ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الآمِرِ، كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، فَأَطْلَقَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ التَّهَوُّدِ وَالتَّنَصُّرِ وَالتَّمَجُّسِ عَلَى مَنْ أَمَرَ وَلَدَهُ بِشَيْءٍ مِنْهَا بِلَفْظِ الْفِعْلِ، لا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ هُمُ الَّذِينَ يُهَوِّدُونَ أَوْلادَهُمْ أَوْ يُنَصِّرُونَهُمْ أَوْ يُمَجِّسُونَهُمْ، دُونَ قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي سَابِقِ عِلْمِهِ فِي عَبِيدِهِ، عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا، وَهَذَا كَقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّتِهِ"، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْحَالِقَ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَفْسَهُ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حِينَ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلاةِ فَخُطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً"، يُرِيدُ: أَنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ، لا أَنَّ الْخُطْوَةَ تَحُطُّ الْخَطِيئَةَ، أَوْ تَرْفَعُ الدَّرَجَةَ، وَهَذَا كَقَوْلِ النَّاسِ: الأَمِيرُ ضَرَبَ فُلانًا أَلْفَ سَوْطٍ، يُرِيدُونَ: أَنَّهُ أَمَرَ بِذَلِكَ لا أَنَّهُ فَعَلَ بِنَفْسِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جس طرح تمہارے اونٹوں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، تو کیا تمہیں ان میں سے کوئی ایسا نظر آتا ہے، جس کے کان کٹے ہوئے ہوں؟ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی: تم لوگ چاہو، تو (اس حدیث کی تائید میں) یہ آیت تلاوت کر سکتے ہو: ﴿یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ فطرت ہے، جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی﴾ [سورة الروم: 30] ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں یہ ان باتوں میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کرتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں یہودی بنانے یا عیسائی بنانے یا مجوسی بنانے کے لفظ کا اطلاق اس شخص پر کیا ہے، جو اپنے بچے کو ان میں سے کسی ایک چیز کا حکم دیتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استعمال فعل کے لفظ کے ذریعے کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مشرکین اپنی اولاد کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا عیسائی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنا دیتے ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے علاوہ ہوتا ہے، جو اس کے اپنے بندوں کے بارے میں علم کے حوالے سے ہے۔ یہ اس کے مطابق ہو گا، جس کا ذکر ہم اپنی کتابوں میں دوسری جگہ کر چکے ہیں۔ اور یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان کے مطابق ہو گا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈوایا۔ اس سے مراد یہ ہے: سر مونڈوانے والے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ فعل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ نہیں کیا تھا۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلتا ہے، تو اس کے دونوں قدم، ان میں سے ایک برائی کو مٹا دیتا ہے، اور دوسرا درجے کو بلند کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ قدم اس برائی کو مٹاتا ہے یا درجے کو بلند کرتا ہے۔ اور یہ لوگوں کے اس مقولے کی طرح ہو گا کہ امیر نے فلاں شخص کو ایک سو کوڑے مارے۔ اس سے مراد یہ ہے: امیر نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس نے خود ایسا کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الفطرة - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أنه مضاد للخبرين اللذين ذكرناهما قبل-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دے سکتا ہے کہ وہ پچھلی دو خبروں کے مخالف ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" الِلَّهِ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہو جانے والے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے جو انہوں نے عمل کرنا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (208 - 211): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الفطرة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو کسی ناواقف محدث کو یہ گمان دے سکتا ہے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خبر کے مخالف ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْهِيَثَمِ وَكَانَ عَاقِلا، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، قَالَ: أَفْضَى بِهُمُ الْقَتْلُ إِلَى أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ خِيَارُكُمْ أَوْلادَ الْمُشْرِكِينَ، مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ حَتَّى يُعْرِبَ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي خَبَرِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ هَذَا:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ" أَرَادَ بِهِ: الْفطْرَةِ الَّتِي يَعْتَقَدْهَا أَهْلُ الإِسْلامِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ حَيْثُ أَخْرَجَ الْخَلْقَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَإِقْرَارُ الْمَرْءِ بِتِلْكَ الْفطْرَةِ مِنَ الإِسْلامِ، فَنَسْبُ الْفطْرَةِ إِلَى الإِسْلامِ عِنْدَ الاعْتِقَادِ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ.
حسن رحمہ اللہ، سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، جو ایک شاعر تھے اور یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس مسجد میں وعظ کہنا شروع کیا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ صورتحال ایسی ہو گئی کہ (مشرکین کے) نابالغ بچوں کو قتل کرنا پڑ گیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ جس بھی بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بولنا شروع کرتا ہے تو اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: جس بھی بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس کا اعتقاد اہل اسلام رکھتے ہیں، جس کے بارے میں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (بنی نوع انسان) کو سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا، تو آدمی کا اس فطرت کا اقرار کرنا اسلام کا حصہ ہے، تو اس فطرت کی نسبت اعتقاد کے وقت مجاورت کے طور پر اسلام کی طرف کی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 132، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2581، 2582، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8562، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15828، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33803»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (402).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الفطرة - ذكر الخبر المصرح بأن قوله صلى الله عليه وسلم الله أعلم بما كانوا عاملين كان بعد قوله كل مولود يولد على الفطرة-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «الله أعلم بما كانوا عاملين» آپ کے فرمان «كل مولود يولد على الفطرة» کے بعد فرمایا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيَمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، قَالَ:" الِلَّهِ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں، جس طرح اونٹنی صحیح و سالم بچے کو جنم دیتی ہے، کیا تمہیں ان میں سے کوئی کان کٹا ہوا ملتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے بچے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کمسنی میں انتقال کر جائے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب الفطرة - ذكر العلة التي من أجلها قال صلى الله عليه وسلم أوليس خياركم أولاد المشركين-
فطرت کا بیان - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أوليس خياركم أولاد المشركين» .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ أَقْوَامٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلاسِلِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِبَ رَبُّنَا" مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهِيَأُ عِلْمُ الْمُخَاطَبِ بِمَا يُخَاطَبُ بِهِ فِي الْقَصْدِ، إِلا بِهَذِهِ الأَلْفَاظِ الَّتِي اسْتَعْمَلَهَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ، وَالْقَصْدُ فِي هَذَا الْخَبَرِ السَّبْيُ الَّذِي يَسْبِيهُمُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دَارِ الشِّرْكِ مُكَتَّفِينَ فِي السَّلاسِلِ يُقَادُونَ بِهَا إِلَى دُورِ الإِسْلامِ حَتَّى يُسْلِمُوا فَيَدْخُلُوا الْجَنَّةَ، وَلِهَذَا الْمَعْنَى أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ فِي خَبَرِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ" أَوَ لَيْسَ خِيَارَكُمْ أَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ"، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ أُطْلِقَتْ أَيْضًا بِحَذْفِ" مِنْ" عَنْهَا، يُرِيدُ: أَوَ لَيْسَ مِنْ خِيَارِكُمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ہمارا پروردگار ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے، جنہیں بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جایا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ہمارا پروردگار ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے، کیونکہ جب کسی شخص کے ساتھ کلام کیا جاتا ہے تو وہی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہوتے ہیں اور اس روایت میں جکڑے جانے سے مراد یہ ہے: مسلمانوں نے ان لوگوں کو مشرکین کے علاقوں سے قیدی بنایا ہو گا، انہیں زنجیروں میں باندھا گیا ہو گا اور پھر اسلامی سلطنت کی طرف لایا گیا ہو گا، یہاں تک کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی یہی مراد ہے: کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ ان الفاظ سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے: یہاں لفظ «مِنْ» کو محذوف سمجھا جائے اور مراد یہ ہو: مشرکین کی اولاد میں سے کچھ لوگ تمہارے بہترین لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3010، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 134، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8128، 9394، 9915، 10026، والبزار فى (مسنده) برقم: 9585، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35250»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (573): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الفطرة - ذكر خبر أوهم من لم يحسن طلب العلم من مظانه أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کو، جو علم کو صحیح مقام سے حاصل نہ کرے، یہ وہم دے سکتا ہے کہ یہ پچھلی خبروں کے مخالف ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ" . أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنِ الزُّهْرِيِّ ، عَودًا وَبَدْءًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِيَ، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ" وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ، قَالَ:" هُمْ مِنْهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے دوران کسی عورت کو مقتول پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3014، 3015، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1744، ومالك فى (الموطأ) 635، 1626، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 135، 4785، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8564، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2668، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1569، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2841، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4830، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33784»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1210)، «صحيح أبي داود» (2394).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الفطرة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ناواقف محدث کو یہ گمان دے سکتا ہے کہ یہ پہلے ذکر کی گئی خبروں کے مخالف ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنِ الزُّهْرِيِّ ، عَودًا وَبَدْءًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِيَ، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ" وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ، قَالَ:" هُمْ مِنْهُمْ" . قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت ابواء یا شاید ودان کے مقام پر موجود تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حمار وحشی کا گوشت پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم نے تمہیں یہ واپس نہیں کرنا تھا، لیکن ہم احرام (باندھے ہوئے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اس آبادی کے بارے میں دریافت کیا گیا جہاں رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے اور اس حملے میں ان کی خواتین اور بچے مارے جاتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ان کا حصہ ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے: چراگاہ، صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1825، 2370، 2573، 2596، 3012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1193، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1289، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 136، 137، 3967، 3969، 4684، 4786، 4787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2371، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2818، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3787، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2672، 3083، 3084، والترمذي فى (جامعه) برقم: 849، 1570، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2839، 3090، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2631، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4577، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16683، والحميدي فى (مسنده) برقم: 799»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2397 و 2705): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب الفطرة - ذكر الخبر المصرح بأن نهيه صلى الله عليه وسلم عن قتل الذراري من المشركين كان بعد قوله صلى الله عليه وسلم هم منهم-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمانا آپ کے اس فرمان «هم منهم» کے بعد تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ"، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ: أَنَقْتُلُهُمْ مَعَهُمْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ"، ثُمَّ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا ہم ان لوگوں کو ان کے ساتھ قتل کر دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! یہ ان لوگوں کا حصہ ہیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1825، 2370، 2573، 2596، 3012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1193، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1289، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 136، 137، 3967، 3969، 4684، 4786، 4787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2371، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2818، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3787، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2672، 3083، 3084، والترمذي فى (جامعه) برقم: 849، 1570، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2839، 3090، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2631، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4577، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16683، والحميدي فى (مسنده) برقم: 799»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2397).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، محمد بن عمرو هو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدني، قال الحافظ في"التقريب": صدوق له أوهام، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں