🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب فرض الإيمان - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لمن شهد بالرسالة له وعلى من أبى ذلك-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی جنہوں نے آپ کی رسالت کی گواہی دی اور ان پر بددعا فرمائی جنہوں نے انکار کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " الِلَّهِمْ مَنْ آمَنَ بِكَ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ، فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ وَلَمْ يَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ، فَلا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَلا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَكْثِرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا" .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے اللہ! جو شخص تجھ پر ایمان لائے اور اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے لیے محبوب کر دے اور اپنے فیصلے (یعنی موت کو) اس کے لیے آسان کر دے اور دنیا کو اس کے لیے تھوڑا کر دے، اور جو شخص تجھ پر ایمان نہ لائے اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری کو اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور تو اپنے فیصلے (یعنی اس شخص کی موت) کو اس کے لیے آسان نہ کرنا اور اس کے لیے (دنیا کی) پریشانیاں اور مشکلات کو زیادہ کر دینا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 208، والطبراني فى(الكبير) برقم: 808»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1338).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يزيد - وهو ابنُ خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب - ثقة، وما فوقه من رجال الصحيح، وأبو هانئ: هو حميد بن هانئ، وأبو علي: هو عمرو بن مالك الهمداني الجنبي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. باب فرض الإيمان - ذكر وصف الدرجات في الجنان لمن صدق الأنبياء والمرسلين عند شهادته لله جل وعلا بالوحدانية-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو لوگ اللہ جل وعلا کی وحدانیت کی گواہی کے وقت انبیا و مرسلین کی تصدیق کرتے ہیں، ان کے لیے جنت میں درجات کا بیان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 209
أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَرَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ لا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ؟ قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنَوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اہلِ جنت بالا خانے میں (یعنی اپنے سے اوپر کے مرتبے میں رہنے والے لوگوں) کو یوں دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ مشرق یا مغرب کے افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے، ان دونوں درجات میں رہنے والے لوگوں کے درمیان اتنا فرق ہو گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ انبیاء کی مخصوص منازل ہوں گی؟ جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہو گی۔ (تو انہیں اس کا یہ اجر و ثواب ملے گا) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6555، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2830، 2830، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 209، 7392، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2872، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23341، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7528، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5762، 5776، 5878، 5940، 5998»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. * [وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ - بِأَنْطَاكِيَةَ -] قال الشيخ: تابعهُ ابنُ أبي داودَ في «البعث» (126/ 73): حدثنا الربيع بن سليمان المُراديّ. . . به. ورجالُ الإسناد ثقات، غيرَ أيوبَ بن سويدٍ، فقال الحافظ: «صدوق يخطئ». قلت: وأنا أخشى أن يكون وَهِمَ فيه على مالكٍ، فقد تابعه عبد الرحمن بنُ إسحاقَ - فيما يأتي برقم (7349) -، ويعقوبُ بنُ عبد الرحمن - عند أحمدَ (5/ 340) -، ووهيبٌ - عند الدارمي (2/ 336) - ثلاثتُهم عن أبي حازمٍ. . . به دونَ قولِه: «لتفاضل. . » إلخ. وهذا إسنادُ صحيحٌُ على شرطِ الشيخين. وقد أخرجاهُ، والمصنِّف (7350) من طريقٍ أخرى من حديث أبي سعيدٍ الخدريّ. . . مرفوعاً، وفيه الزيادةُ كما سترى هناك. فأخشى على أيُّوبَ أن يكونَ دخلَ على حديثِه حديثُ أبي سعيدٍ هذا! والله أعلم. تنبيه!! رقم (7349) = (7392) من «طبعة المؤسسة». رقم (7350) = (7393) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، رجاله ثقات خلا أيوب بن سُوَيد، قال الحافظ في "التقريب": صدوق يخطئ. وأبو حازم هو الأعرج سلمة بن دينار التمار.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الجنة إنما تجب لمن أتى بما وصفنا من شعب الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جنت صرف اسی کے لیے واجب ہے جو ایمان کی بیان کردہ شاخوں پر عمل کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعاِذْ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ"، قَالَ:" فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَغْفِرُ لَهُمْ وَلا يُعَذِّبُهُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ كُلُّهَا مُخْتَصَرَةٌ غَيْرُ مُتَقَصَّاةٍ، وَأَنَّ بَعْضَ شُعَبِ الإِيمَانِ أَتَى الْمَرْءُ بِهِ لا تُوجِبُ لَهُ الْجَنَّةَ فِي دَائِمِ الأَوْقَاتِ، أَلا تَرَاهُ، صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا؟ وَعِبَادَةُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ، وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ، وَعَمَلٌ بِالأَرْكَانِ، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ لَمَّا سَأَلُوهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَقِّهِمْ عَلَى اللَّهِ، فَقَالُوا: فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ؟ وَلَمْ يَقُولُوا: فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ قَالُوا ذَلِكَ، وَلا أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَفِيمَا قُلْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْجَنَّةَ لا تَجِبُ لِمَنْ أَتَى بِبَعْضِ شُعَبِ الإِيمَانِ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، بَلْ يُسْتَعْمَلُ كُلُّ خَبَرٍ فِي عُمُومِ مَا وَرَدَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ فِيهِ، عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ لوگ ایسا کریں، تو پھر ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ کہ) اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے اور ان کو عذاب نہ دے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات جنہیں ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ مختصر ہیں، وہ تفصیلی نہیں ہیں اور ایمان کے بعض شعبے ایسے ہیں کہ جب آدمی ان کا ارتکاب کرتا ہے، تو تمام اوقات میں اس کے لیے جنت واجب نہیں ہوتی۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ کا حق یہ قرار دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ کی عبادت زبان کے ذریعے اقرار، دل کے ذریعے تصدیق اور اعضا کے ذریعے عمل ہے۔ پھر مسلمانوں نے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ پر اپنے حق کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے دریافت کیا کہ ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ ایسا کریں۔ ان لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ یہ کہہ دیں۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کا انکار بھی نہیں کیا۔ تو ہم نے جو یہ بات بیان کی ہے، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جنت اس شخص کے لیے واجب نہیں ہوتی ہے، جو ایمان کے کچھ شعبوں کو تمام حالتوں میں بجا لاتا ہے بلکہ ہر روایت کا اپنا عموم ہوتا ہے، اور اس کے حکم کا مخصوص پس منظر ہوتا ہے، جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2856، 5967، 6267، 6267 م، 6500، 7373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 30، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 210، 200، 362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2643، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4296، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19864، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22413، والحميدي فى (مسنده) برقم: 373»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (721/ 943): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب فرض الإيمان - ذكر إيجاب الشفاعة لمن مات من أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم وهو لا يشرك بالله شيئا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص امتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے شرک کیے بغیر مرے، اس کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 211
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَنَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قَدْامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُعَاذْ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالا: لا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي، فَمِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، قَالَ: فَلَبِثْنَا يَسِيرًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ، فَيُخَيِّرُنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ؟ قَالَ:" فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي"، قَالَ: فَلَمَّا رَكِبُوا، قَالَ:" فَإِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا، ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی بازو کو بچھا لیا (یعنی آرام کرنے لگا)۔ راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی موجود نہیں ہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے نکلا تو مجھے سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما کھڑے نظر آئے۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے، وہ چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی۔ راوی کہتے ہیں: ہم کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے میری اُمت کے نصف حصے کے حساب اور شفاعت کے بغیر جنت میں داخل ہو جانے (یا مطلق طور پر مجھے) شفاعت کرنے کے بارے میں اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر، اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ گزارش کرتے ہیں، آپ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کر لیں، جو آپ کی شفاعت کے اہل ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میری شفاعت کے اہل ہو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں یہاں موجود تمام لوگوں کو اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری اُمت کے ہر فرد کو نصیب ہو گی، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 211، 6463، 6470، 7207، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 36، 221، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2441، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4317، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24610»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (818)، وسيأتي بأتم منه (6436 و 7163). تنبيه!! رقم (6436) = (6470) من «طبعة المؤسسة». رقم (7163) = (7207) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير عبد الواحد بن غياث، وهو صدوق. وأبو المليح: هو ابن أسامة بن عمير، أو عامر بن عمير بن حنيف بن ناجية الهذلي: اسمه عامر، وقيل: زيد، وقيل: زياد، وأبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب فرض الإيمان - ذكر كتبة الله جل وعلا الجنة وإيجابها لمن آمن به ثم سدد بعد ذلك-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے جنت کو ان کے لیے لکھ دیا اور واجب کر دیا جو ایمان لائے اور اس پر ثابت قدم رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رِفَاعَةُ بْنُ عَرَابَةَ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأِذْنُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ أَبْغَضَ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ؟" قَالَ: فَلَمْ نَرَ مِنَ الْقَوْمِ إِلا بَاكِيًا، قَالَ: يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌِ فِي نَفْسِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَانَ حَلَف َقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ثُمَّ يُسَدَّدَ إِلا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلا عَذَابٍ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ لا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ" . ثُمَّ قَالَ: " مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ، يَنْزِلُ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ" .
سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینی شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا کرنا شروع کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ، تمہارے نزدیک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ (یعنی تم لوگ میرے ساتھ نہیں چلنا چاہ رہے) راوی کہتے ہیں: حاضرین میں سے ہر شخص مجھے روتا ہوا نظر آیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا، میرے خیال میں اس کے بعد آپ سے جو شخص اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ آپ جب بھی قسم اٹھاتے تھے، تو یہ کہتے تھے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس کے بعد وہ ٹھیک رہے۔ (یعنی اسلامی احکام پر عمل کرتا رہے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور مجھے یہ امید ہے، وہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک تم لوگ اور تمہارے نیک بیوی بچے جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ نہیں جاتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: جب نصف رات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب رات ہو جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں سے اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں دریافت نہیں کرتا۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کروں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں اس کی مغفرت کر دوں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے دعا کرتا ہے، تو میں اس کی دعا قبول کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 212، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10236، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1522، 1523، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1367، 2090، 2091، 4285، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16466»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2405).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن إيجاب الجنة لمن حلت المنية به وهو لا يجعل مع الله ندا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا خَلاّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالُوا: سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ" قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" يُرِيدُ بِهِ: إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ شَيْئًا أَوْعَدْتُهُ عَلَيْهِ دُخُولَ النَّارِ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَمَاتَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ، وَإِنْ عُذِّبَ قَبْلُ دُخُولِهِ إِيَّاهَا مُدَّةً مَعْلُومَةً.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری اُمت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے زید نامی راوی سے کہا: یہ روایت تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو، جس کے حوالے سے میں نے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا اور وہ اس حالت میں مر جاتا ہے وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک متعین مدت تک عذاب دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1237، 2388، 3222، 5827، 6268، 6443، 6444، 7487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 169، 170، 195، 213، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2644،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21717»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة»، انظر (169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، خلاد بن أسلم: ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذْ بْنِ جَبَلٍ، وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذْ بْنَ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ:" بَخٍ بَخٍ سَأَلْتَ عَنْ أَمْرٍ عَظِيمٍ، وَهُوَ يَسِيرٌ لِمَنْ يَسَّرَهُ الِلَّهِ بِهِ، تُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَلا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ.
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسے کسی عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے اور یہ اس کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ اسے آسان کر دے۔ تم فرض نمازیں ادا کرو، زکاۃ ادا کرو اور (کسی کو) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اس سے مراد شرک کو ترک کرنے کا حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 214، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2421، 3569، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2223، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2616، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 72، 3973، والدارقطني فى (سننه) برقم: 900، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22439»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح. [وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ] قال الشيخ: إسناده حسنٌ من طريقِ عُميرِ بنِ هانئٍ، للخلافِ المعروفِ في ابنِ ثَوبان - واسمُه: عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان -. وإسناده عن مكحول كذلك، لأن مكحولاً وصم بالتدليس، وقد عنعن. وللحديثِ طرقٌ، صحَّح بعضها الترمذي وغيرُه، كما في تعليقي على كتاب «الإيمان» لابن أبي شيبةَ (2/ 2 - 3).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. ابن ثوبان: هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، العنسي الدمشقي، قال الحافظ في "التقريب": صدوق يخطئ. وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الله جل وعلا قد يجمع في الجنة بين المسلم وقاتله من الكفار إذ سدد بعد ذلك وأسلم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا مسلمان اور اس کے کافر قاتل کو بھی جنت میں جمع کر سکتا ہے اگر قاتل بعد میں سیدھے راستے پر آ جائے اور اسلام قبول کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَضْحَكُ الِلَّهِ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، وَكِلاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ: يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ الِلَّهِ عَلَى الْقَاتِلِ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے، جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2826، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1890، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1673،وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 215، 4666، 4667، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3165، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 191، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2549، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18603، 18604، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7444، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1155»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1074): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. باب فرض الإيمان - ذكر أمر الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بقتال الناس حتى يؤمنوا بالله-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے قتال کریں یہاں تک کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ مِنْ حَقِّ الْمَالِ، وَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا" قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا ابوبکر! آپ لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ اعتراف نہ کر لیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، جو شخص یہ کہہ دے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اس کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسا بکری کا بچہ (عناق) دینے سے انکار کریں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اندازہ لگا لیا کہ جنگ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرحِ صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہی بات درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1399، 1456، 6924، 7284، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 20، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 216، 217، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، 3091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1556، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 118، 245»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (407)، «صحيح أبي داود» (1391): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح؛ عمرو بن عثمان بن سعيد: هو ابن كثير بن دينار القرشي، مولاهم، صدوق، وأبوه ثقة، وباقي السند على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الخير الفاضل من أهل العلم قد يخفى عليه من العلم بعض ما يدركه من هو فوقه فيه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ علم کے بڑے فاضل شخص پر بھی بعض اوقات وہ بات مخفی رہ سکتی ہے جو اس سے بڑے عالم کو معلوم ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے اور عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے نہیں کہہ دیتے، جو شخص یہ کہہ دے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور اس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسی رسی دینے سے انکار کر دیں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اندازہ لگا لیا کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرحِ صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہ موقف درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1399، 1456، 6924، 7284، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 20، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 217، 216، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، 3091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1556، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 118، 245»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر ما قبله: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں