🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. النَّهْيُ عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ
فخر و نمائش کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والوں کے کھانے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7348
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن بُرْقان، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن مَطْعَمينِ: الجلوسِ على مائدة يُشرَبُ عليها الخمرُ، أو يأكلَ الرجلُ وهو منبطحٌ على بَطْنِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7171 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے کھانوں سے منع فرمایا ہے: ایک اس دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا جس پر شراب پی جا رہی ہو، اور دوسرا یہ کہ آدمی اپنے پیٹ کے بل لیٹ کر کھانا کھائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7348]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، جعفر بن برقان - وهو الجزري - ضعف الأئمة روايته عن الزهري، وقالوا: يضطرب فيها، وقد ضعَّف هذا الحديث غير واحد من أهل العلم منهم أبو داود فقال عقبه: لم يسمعه جعفر من الزهري، وهو منكر. وضعفه كذلك أبو حاتم كما في "العلل" (3/ 1474) كما بينّا ذلك في "سنن أبي داود".» [ترقيم الرساله 7348] [ترقيم الشركة 7267] [ترقيم العلميه 7171]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. فَضِيلَةُ إِطْعَامِ الطَّعَامِ
کھانا کھلانے کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7349
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقذ الخَوْلاني بمِصْر، حدثنا إدريس بن يحيى الخَوْلاني، حدثني رجاء بن أبي عطاء، عن واهب بن عبد الله الكَعْبي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: قال رسول الله ﷺ:"من أطعمَ أخاه خُبزًا حتى أشبَعَه، وسَقَاه ماءً حتى يَروِيَه، بعَّده اللهُ عن النار سبعَ خنادقَ، بُعْدُ ما بين خَندقَينِ مسيرةُ خمس مئة سنة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7172 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو روٹی کھلائی یہاں تک کہ اسے سیر کر دیا، اور اسے پانی پلایا یہاں تک کہ اسے سیراب کر دیا، تو اللہ اسے جہنم کی آگ سے سات خندقوں کے برابر دور کر دے گا، اور دو خندقوں کے درمیان کی مسافت پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7349]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، رجاء بن أبي عطاء المصري، قال ابن حبان في "المجروحين" 1/ 30: يروي عن المصريين الأشياء الموضوعة، لا يحل الاحتجاج به بحال، وساق له هذا الحديث، ثم قال: وهذا شيء ليس من حديث رسول الله ﷺ. وقال الحاكم نفسه في "المدخل إلى الصحيح" (60): رجاء بن أبي عطاء ...» [ترقيم الرساله 7349] [ترقيم الشركة 7268] [ترقيم العلميه 7172]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7350
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا العلاء بن [عمرو] (2) الحنفي، حدثنا وكيع، عن عُبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَلِيح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الكفّاراتُ: إطعامُ الطعامِ، وإفشاءُ السلام، والصلاةُ بالليل والناسُ نِيامٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7173 - عبيد الله بن أبي حميد قال أحمد تركوا حديثه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہوں کا کفارہ بننے والے اعمال یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کو عام کرنا اور رات کو اس وقت نماز (تہجد) پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7350]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عبيد الله بن أبي حميد متروك، وفي سماع أبي المليح - وهو ابن أسامة الهذلي - من أبي هريرة نظر. ومتن الحديث قد وقع فيه هنا اختصار مخلّ، وجاء على الجادّة بتمامه في رواية الحنّائي كما سيأتي. والعلاء بن عمرو الحنفي قال صالح جزرة: لا بأس به، ...» [ترقيم الرساله 7350] [ترقيم الشركة 7269] [ترقيم العلميه 7173]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7351
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همّام بن يحيى، عن قَتَادة، عن أبي ميمونة، عن أبي هريرة قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أنبِئْني عن أمرٍ إذا أخذتُ به دخلتُ الجنة، قال:"أَفشِ السلامَ، وأطعمِ الطعامَ، وصِلِ الأرحامَ، وقمْ بالليل والناسُ نِيامٌ، وادخُل الجنَّةَ بسلام" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7174 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے اپنا کر میں جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور رات کو اس وقت (نماز کے لیے) کھڑے ہو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7351]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو ميمونة: هو الفارسي المدني، ومنهم من فرّق بين الفارسي والأبّار، واختلفوا في اسمه على أقوال، وهو ثقة.» [ترقيم الرساله 7351] [ترقيم الشركة 7270] [ترقيم العلميه 7174]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. زَكَاةُ الْمُسْلِمِ الْمُعْدَمِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ
نادار مسلمان کی زکوٰۃ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7352
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا السَّمْح حدَّثه، أنَّ أبا الهيثم حدَّثه، عن أبي سعيد الخُدْري، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"أيُّما (1) رجلٍ كسب مالًا من حلال، فأطعمَ نفسَه وكَسَاها فمَن دونَه من خلقِ الله، فإنّه له زكاةٌ، وأيُّما رجلٍ مسلم لم يكن له صدقةٌ، فليقُلْ في دعائه: اللهمَّ صلِّ على محمدٍ عبدِك ورسولِك، وصلِّ على المؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات، فإنَّه له زكاةٌ"، وقال:"لا يَشبعُ مؤمن يَسمعُ خيرًا حتى يكونَ مُنتهاه الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7175 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی شخص نے حلال مال کمایا، پھر اس سے اپنی ذات کو کھلایا اور پہنایا اور اپنے ماتحت اللہ کی دیگر مخلوق کو بھی کھلایا پہنایا، تو یہ اس کے لیے زکوٰۃ (پاکیزگی کا ذریعہ) ہے، اور جس مسلمان شخص کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی دعا میں یہ کہے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ» اے اللہ! اپنے بندے اور اپنے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما، اور تمام مومن مردوں، مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر اپنی رحمتیں نازل فرما، تو یہ کلمات اس کے لیے زکوٰۃ بن جائیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مومن خیر کی بات سن کر کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا آخری ٹھکانا جنت ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7352]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السمح» [ترقيم الرساله 7352] [ترقيم الشركة 7271] [ترقيم العلميه 7175]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. حِكَايَةُ إِيثَارِ الصَّحَابِيِّ فِي الضِّيَافَةِ
مہمان نوازی میں صحابی رضی اللہ عنہ کے ایثار کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7353
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا فُضيل بن مرزوق، حدثنا عَديّ بن ثابت، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أصابني الجَهْدُ، فأرسلَ إلى نسائِه فلم يَجِدْ عندهنَّ شيئًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"ألَا رجلٌ يُضِيفُ هذا الليلةَ ﵀"، فقام رجلٌ من الأنصار فقال: أنا يا رسولَ الله. فذهب إلى أهله، فقال لامرأته: ضيفُ رسول الله ﷺ لا تَدَّخريهِ شيئًا، قالت: والله ما عندي إلَّا قوتُ الصِّبْية، قال: فإذا أراد الصِّبيةُ العَشَاءَ فنوِّميهم وتعالَيْ فأطفِئي السِّراج، ونَطْوي بطونَنا الليلةَ، ففعلَتْ ثم غَدًا الرجلُ على رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"لقد عَجِبَ اللهُ - أي: لقد ضَحِكَ اللهُ ﷿ من فلانٍ وفلانةَ"، وأنزل الله تبارك تعالى: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [الحشر: 9] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7176 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سخت بھوک اور مشقت کی حالت میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کے ہاں قاصد بھیجا مگر ان کے پاس کچھ نہ ملا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس رات اس کی مہمانی کرے؟ اللہ اس پر رحم فرمائے، تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور اپنی اہلیہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو اور کوئی چیز بچا کر نہ رکھو، اہلیہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس بچوں کی خوراک کے علاوہ کچھ نہیں ہے، انہوں نے کہا: جب بچے رات کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا اور تم آ کر چراغ بجھا دینا، ہم اس رات فاقہ کر لیں گے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اگلی صبح وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فلاں مرد اور فلاں عورت (تم دونوں میاں بیوی) کے عمل سے بہت خوش ہوا (یا مسکرایا)، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود فاقہ کشی میں ہوں [سورة الحشر: 9] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7353]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل فضيل بن مرزوق، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 7353] [ترقيم الشركة 7272] [ترقيم العلميه 7176]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7354
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا محمد بن فَضَاء (2) ، حدثني أبي، عن علقمة بن عبد الله المُزَنِي، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا اشترى أحدُكم لحمًا فلْيُكثِرْ (3) مَرَقَه، فإن لم يُصِبْ أحدُكم لحمًا أصاب مَرَقًا، وهو أحد اللَّحمَين" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7177 - محمد بن فضاء الأزدي ضعفه ابن معين
علقمہ بن عبداللہ المزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس کا شوربہ زیادہ رکھے، کیونکہ اگر کسی کو گوشت کی بوٹی نہ مل سکی تو اسے شوربہ تو مل ہی جائے گا، اور وہ (شوربہ) بھی دو قسم کے گوشتوں میں سے ایک (یعنی گوشت کا نعم البدل) ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7354]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، قال البخاري كما في "علل الترمذي": محمد بن فضاء ضعيف، وأبوه فضاء مجهول، والحديث الذي روى عن علقمة بن عبد الله المزني لا يعرف عن علقمة إلّا من هذا الطريق.» [ترقيم الرساله 7354] [ترقيم الشركة 7273] [ترقيم العلميه 7177]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. تَعْلِيمُ النَّبِيِّ إِعْتَاقَ الْعَبْدِ
نبی کریم ﷺ کی غلام آزاد کرنے سے متعلق تعلیم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7355
أخبرنا عَبْدان بن يزيد (1) بن يعقوب الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس العسقلاني، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الملك بن عُمَير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في ساعةٍ لا يَخرجُ فيها ولا يَلْقاه فيها أحدٌ، فأتاه أبو بكر فقال:"ما جاءَ بك يا أبا بكر؟" فقال: خرجتُ للُقيِّ رسولِ الله ﷺ والنظرِ في وجهه والسلامِ عليه، فلم يَلبَث أن جاء عمرُ فقال له:"ما جاءَ بك يا عمرُ؟" قال: الجوعُ يا رسولَ الله، قال:"وأنا قد وَجَدتُ بعضَ ذاكَ"، فانطَلَقوا (2) إلى منزل أبي الهيثم بن التَّيِّهان الأنصاري، وكان رجلًا كثيرَ النَّخل والشَّاءِ، ولم يكن خدمٌ، فلم يَجِدوه، فقالوا لامرأته: أين صاحبُك؟ فقالت: انطلقَ يستعذبُ لنا الماءَ، فلم يَلبَثوا أن جاء أبو الهيثم بقِربة يَزْعُبُها، فوَضَعَها، ثم جاء فالتَزَمَ رسولَ الله ﷺ ويُفدِّيه بأبيه وأمّه، فانطلق بهم إلى حديقة، فبسط لهم بِساطًا، ثم انطلق إلى نخلة فجاء بقِنْوٍ فوضعه، فقال رسول الله ﷺ:"أفلا انتَقَيتَ لنا من رُطَبه؟" فقال: يا رسولَ الله، إني أردتُ أن تَخَيَّروا من بُسْرِه ورُطَبه، فأكلوا وشربوا من ذلك الماء، فقال رسول الله ﷺ:"هذا واللهِ النعيمُ الذي أنتم عنه مسؤولون يومَ القيامة: ظِلُّ بارد، ورُطَبٌ طيِّب، وماءٌ بارد". فانطلق أبو الهيثم ليصنع لهم طعامًا، فقال له رسول الله ﷺ:"لا تذبحَنَّ ذاتَ دَرٍّ"، فذبح لهم عناقًا أو جَدْيًا، فأتاهم به فأكلوا، فقال له رسول الله ﷺ:"هل لك خادمٌ؟" قال: لا، قال:"فإذا أتانا سَبْيٌ فأْتِنا"، فأُتِيَ رسولُ الله ﷺ برأسين ليس معهما ثالث، فأتاه أبو الهيثم، فقال له رسول الله ﷺ:"اختَرْ منهما" فقال: يا رسولَ الله، اختَرْ لي، فقال رسول الله ﷺ:"المستشارُ مؤتَمَنٌ، خُذْ هذا، فإني رأيتُه يُصلِّي، واستَوصِ به معروفًا". فانطلق أبو الهيثم بالخادم إلى امرأته، فأخبرها بقول رسولِ الله ﷺ، فقالت له امرأتُه: ما أنتَ ببالغِ ما قال فيه رسولُ الله ﷺ إلَّا أن تُعتِقَه، فقال: هو عَتيقٌ. فقال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا ولا خليفةً إلَّا وله بِطانَتانِ: بطانةٌ تأمرُه بالمعروف وتَنْهاه عن المنكر، وبطانةٌ لا تَأْلُوه خَبَالًا، من يُوقَ بِطانةَ السُّوءِ فقد وُقِيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن عُبيد وعبد الله بن كَيسان عن عِكْرمة عن ابن عباس، أتمَّ وأطولَ من حديث أبي هريرة هذا. أمّا حديث يونس بن عُبيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ [ص:146] _x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی گھڑی میں گھر سے باہر تشریف لائے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر نہیں نکلا کرتے تھے اور نہ ہی کوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا تھا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کیا چیز لے آئی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے، آپ کے چہرہِ انور کی زیارت کرنے اور آپ کو سلام پیش کرنے کے لیے نکلا ہوں، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اے عمر! تمہارے آنے کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی اسی کا کچھ احساس ہوا ہے، پھر وہ سب مل کر سیدنا ابو الہیثم بن التیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر چلے گئے، وہ کھجوروں کے بہت سے باغات اور بکریوں کے مالک تھے لیکن ان کے پاس کوئی خادم نہ تھا، انہوں نے انہیں گھر پر نہ پایا تو ان کی اہلیہ سے دریافت کیا: تمہارے صاحبِ خانہ کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ ایک وزنی مشکیزہ اٹھائے ہوئے آ گئے، انہوں نے اسے رکھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور اپنے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرنے لگے، پھر وہ انہیں اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے بچھونا بچھایا، پھر وہ ایک کھجور کے درخت کی طرف گئے اور ایک خوشہ توڑ کر لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ہمارے لیے اس میں سے پکی ہوئی کھجوریں نہیں چن لیں؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ تھا کہ آپ گدر اور پکی ہوئی کھجوروں میں سے خود اپنی پسند سے انتخاب فرما لیں، چنانچہ ان سب نے وہ کھجوریں کھائیں اور اس پانی میں سے پیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ وہ نعمت ہے جس کے متعلق تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [سورة التكاثر: 8] : ٹھنڈا سایہ، عمدہ پکی ہوئی کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔ پھر ابو الہیثم رضی اللہ عنہ ان کے لیے کھانا تیار کرنے چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خبردار! دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے بکری کا بچہ یا پٹھا ذبح کیا اور اسے تیار کر کے ان کے پاس لے آئے تو ان سب نے کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا کوئی خادم ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم ہمارے پاس آنا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا، ابو الہیثم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہی میرے لیے پسند فرما دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ» جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے، تم اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ اس خادم کو لے کر اپنی اہلیہ کے پاس پہنچے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے آگاہ کیا، تو ان کی اہلیہ نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کے معیار تک نہیں پہنچ سکتے سوائے اس کے کہ اسے آزاد کر دیں، انہوں نے کہا: یہ اللہ کے لیے آزاد ہے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی یا خلیفہ مبعوث نہیں کیا مگر اس کے دو طرح کے رازدان ہوتے ہیں: ایک وہ رازدان جو اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے بگاڑنے اور فتنے میں ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، اور جسے برے ساتھیوں سے بچا لیا گیا وہ (ہر شر سے) محفوظ ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یونس بن عبید اور عبد اللہ بن کیسان نے عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔ جہاں تک یونس بن عبید کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7355]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7355] [ترقيم الشركة 7274] [ترقيم العلميه 7178]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7356
فأخبَرَنيهِ محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا عبد الله بن عيسى أبو خلف الخزّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم من بيته عند الظَّهيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال:"يا أبا بكر، ما أخرَجَك هذه الساعةَ؟" قال: أخرجني الذي أخرجَك يا رسولَ الله، ثم جاء عمرُ، فقال:"ما أخرَجَك يا ابنَ الخطاب؟" فقال: أخرجني الذي أخرجكما، ثم ذكر الحديث بطوله، وزاد فيه:"فلما خرجَ رسولُ الله ﷺ أخذ بعِضَادَتَي الباب وردَّها، فقال:"أكلَ طعامَكم الأبرارُ، وأفطرَ عندكم الصائمونَ، وصلَّتْ عليكم الملائكةُ" (1) . وأمَّا حديث عبد الله بن كَيْسان:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کس چیز نے نکالا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کھانا کھانے کے بعد) باہر نکلے تو دروازے کے دونوں بازوؤں کو تھام لیا اور فرمایا: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا، تمہارے پاس روزے داروں نے افطار کیا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7356]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف. وسلف مكررًا برقم (5334).» [ترقيم الرساله 7356]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7357
فأخبرَناه أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان، حدثنا عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ أبو بكر بالهاجرة من المسجد، فسمع بذلك عمرُ فخرج، فقال: يا أبا بكر، ما أخرجَك هذه الساعةَ؟ فقال: ما أخرَجَني إلَّا ما أجدُ من حاقِّ الجُوع، فقال: وأنا والذي نفسي بيده ما أخرجني غيرُه، فبينما هما كذلك إذ خرج عليهما النبيُّ ﷺ، فقال:"ما أخرَجَكما هذه الساعةَ؟" فقالا: والله ما أخرَجَنا إِلَّا ما نجدُ من حاقٌّ الجوع في بطوننا، فقال:"وأنا والذي نفسي بيده ما أخرَجَني غيرُه، فقوما فانطَلِقا حتى نأتيَ بابَ أبي أيوب الأنصاريِّ، وكان يدَّخِرُ للنبيِّ ﷺ طعامًا كان أو لَبنًا، فأبطأَ عنه يومئذٍ، فلم يأتِ لحِينِه (2) فأطعَمَه أهلَه، وانطَلَقَ إلى نخلِه يعملُ فيها، فذكر الحديث بطوله، وزاد فيه: فلما أدركا الطعامَ ووُضِع بين يدي النبيِّ ﷺ وأصحابه، أخذَ من الجَدْي فجعله في رغيف، ثم قال:"يا أبا أيوب، أبلِغْ بهذا فاطمةَ، فإنها لم تُصِبْ مثلَ هذا منذ أيام"، فذهب به أبو أيوب إلى فاطمة، فلما أكلوا وشَبِعُوا، قال النبي ﷺ:"خبزٌ ولحمٌ وتمرٌ وبُسْرٌ ورُطَب!"، ودَمَعَت عيناه، وقال:"والذي نفس محمد بيده، إنَّ هذا لَهُو الذي تُسألون عنه يوم القيامة، قال الله ﷿: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [التكاثر: 8] فهذا النَّعيم الذي تُسألون عنه يوم القيامة"، فكبُرَ ذلك على أصحابه، فقال:"بلى، إذا أصبتُم مثلَ هذا فضربتُم بأيديكم، فقولوا: باسم الله وبركة الله، فإذا شبعتُم، فقولوا: الحمدُ الله الذي هو أشبَعَنا وأَرْوانا وأنعمَ علينا وأفضلَ، فإنَّ هذا كَفَافُ هذا" (1) ، وذكر حديث الوليدةِ باسم أبي أيوب، والمعاني قريبة. وقد رُوي هذا الحديث عن عبد الله بن عمر عن النبي ﷺ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوپہر کی سخت گرمی میں مسجد سے باہر نکلے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو وہ بھی نکل آئے اور پوچھا: اے ابوبکر! آپ اس وقت کیوں نکلے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے سخت بھوک نے ہی نکالا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے بھی اسی نے نکالا ہے، وہ دونوں اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے نکالا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمیں پیٹ کی سخت بھوک کے علاوہ کسی چیز نے نہیں نکالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے بھی اسی نے نکالا ہے، پس تم دونوں اٹھو اور چلو، یہاں تک کہ وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا یا دودھ بچا کر رکھتے تھے، لیکن اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر کر دی اور اپنے معمول کے وقت پر نہ آئے تو انہوں نے وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیا اور خود کھجوروں کے باغ میں کام کرنے چلے گئے، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب کھانا تیار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے بچے کا گوشت لیا اور اسے روٹی کے ٹکڑے پر رکھا، پھر فرمایا: اے ابو ایوب! یہ فاطمہ تک پہنچا دو کیونکہ اسے کئی دنوں سے ایسا کھانا میسر نہیں آیا، چنانچہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، پھر جب سب نے کھانا کھایا اور سیر ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روٹی، گوشت، خشک کھجور، گدر اور تازہ کھجور!، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا [سورة التكاثر: 8] تو یہ وہ نعمت ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا، یہ بات آپ کے صحابہ پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، (تم سے پوچھا جائے گا) لیکن جب تمہیں ایسا رزق ملے اور تم اس کی طرف ہاتھ بڑھاؤ تو کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ» اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کی برکت پر، اور جب سیر ہو جاؤ تو کہو: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هُوَ أَشْبَعَنَا وَأَرْوَانَا وَأَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر کیا، سیراب کیا اور ہم پر انعام و فضل فرمایا، کیونکہ یہ (شکر) اس (سوال) کا بدل اور کفایت کرنے والا ہو جائے گا۔ نیز انہوں نے سیدنا ابو ایوب کے نام سے باندی والی حدیث بھی ذکر کی جس کے معنی قریب ہی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7357]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن كيسان، وقد أخطأ في تسمية المأتي إليه، فجعله أبا أيوب، والصواب أنه أبو الهيثم بن التيِّهان، كما سلف بيانه عند الحديث (7261)، وهناك ذكرنا من أخرجه.» [ترقيم الرساله 7357]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن كيسان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں