سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ
باب: عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنِ الْأَنْصَارِ، أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3581]
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جس کسی کو ہماری طرف سے کوئی عملداری سونپی گئی ہو، پھر اس نے اس کے محاصل میں سے کوئی سوئی یا اس سے بھی کم یا زیادہ کو چھپا لیا، تو وہ طوق ہے جسے پہنے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہو گا۔“ تو کالے سے رنگ کا، ایک انصاری جوان کھڑا ہو گیا، گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ یوں یوں فرما رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) میں یہی کہتا ہوں۔ جس کو ہم نے کوئی کام سونپا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے محاصل، تھوڑے ہوں یا زیادہ، سب لے آئے۔ اور پھر اس میں سے جو اسے (حق الخدمت) دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے اس سے رک جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 7 (1833)، (تحفة الأشراف: 9880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1833)
مشكوة المصابيح (3752)
مشكوة المصابيح (3752)
6. باب كَيْفَ الْقَضَاءُ
باب: فیصلہ کرنے کے آداب۔
حدیث نمبر: 3582
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيّ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنِ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی“ وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3582]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر روانہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نو عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۔ جب مقدمے کے دو فریق تمہارے سامنے بیٹھیں تو اس وقت تک ہرگز فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے سے سن نہ لینا جیسے کہ پہلے سے سنا ہو۔ بلاشبہ یہی چیز زیادہ لائق ہے کہ فیصلہ تمہارے لیے واضح ہو جائے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”چنانچہ میں وہاں قاضی بنا رہا یا (فرمایا) مجھے اس کے بعد فیصلہ کرنے میں کوئی تردد نہیں ہوا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 5 (1331)، مسند احمد (1/111) وعبداللہ بن أحمد فی زوائدی الأحد (1/149)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2310)، (تحفة الأشراف: 10081، 10113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83) والحاکم (3/135) بسند آفریة انقطاع (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1331)
شريك مدلس وعنعن وحنش بن المعتمر ضعيف ضعفه الجمھور
وللحديث شواھد معنوية عند ابن ماجه (2310 سنده ضعيف) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
ترمذي (1331)
شريك مدلس وعنعن وحنش بن المعتمر ضعيف ضعفه الجمھور
وللحديث شواھد معنوية عند ابن ماجه (2310 سنده ضعيف) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
7. باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّار".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں انسان ہی ہوں ۱؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3583]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک بشر ہوں، تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنی حجت پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان ہو اور پھر میں اس سے سننے کے مطابق فیصلہ کر دوں، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس سے کچھ نہ لے۔ بلاشبہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 16 (2458)، الشھادات 27 (2680)، الحیل 10 (6967)، الأحکام 20 (7169)، 29 (7181)، 31 (7185)، صحیح مسلم/الأقضیة 3 (1713)، سنن الترمذی/الأحکام 11 (1339)، سنن النسائی/ القضاة 12(5403)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 5 (2317)، (تحفة الأشراف: 18261)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 1 (1)، مسند احمد (6/307،320) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میں انسان ہوں اور انسان کو معاملہ کی حقیقت اور اس کے باطنی امر کا علم نہیں ہوتا، اس لیے کتاب اللہ کے ظاہر کے موافق لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں گا، اگر کوئی شخص اپنی منہ زوری اور چرب زبانی سے دھوکا دے کر حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ لے لے اور دوسرے کا حق چھین لے تو وہ مال اس کے حق میں اللہ کے نزدیک حرام ہو گا اور اس کا انجام جہنم کا عذاب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے اور لوگوں کو غیب کا حال معلوم نہیں ظاہر پر فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کی ہر بات معلوم نہیں، موجودہ زمانہ کی عدالتی کارروائیوں اور وکلاء کی چرب زبانیوں اور رشوتوں اور سفارشوں کے نتیجہ میں ہونے والی جیت سے خوش ہونے والے مسلمانوں کے لئے اس ارشاد نبوی میں بہت بڑی موعظت اور نصیحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6967) صحيح مسلم (1713)
حدیث نمبر: 3584
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ لَهُمَا لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَبَكَى الرَّجُلَانِ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لَكَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا، فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهَمَا، ثُمَّ تَحَالَّا.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر (مال) کو تقسیم کر لو، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3584]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا میراث کے معاملے میں جھگڑا تھا اور ان کے پاس سوائے اپنے اپنے دعوے کے اور کوئی گواہ نہ تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کی مثل بیان کیا۔ چنانچہ وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: ”میرا حق تیرے لیے ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”جب تم ایسا کرتے ہو تو آپس میں تقسیم کر لو اور حق کا قصد کرو، پھر آپس میں قرعہ ڈال لو (حصے کی تعیین کے لیے)، پھر ممکنہ زیادتی ایک دوسرے سے معاف کرا لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/320) (صحیح)» (سیاق حدیث میں زائد چیزیں ہیں، اس لئے شیخ البانی نے اسامة بن زید لیثی کے حفظ پر نقد کرتے ہوئے اس حدیث کی تصحیح نہیں کی ہے) (الصحیحة: 455)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3770)
مشكوة المصابيح (3770)
حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيث، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3585]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ ان دو آدمیوں کا وراثت میں جھگڑا تھا اور بھی چند دوسری چیزیں تھیں جن کے نشانات مٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں مجھ پر کچھ نازل نہ ہوا ہو اس میں، میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18174) (صحیح)» (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3770)
انظر الحديث السابق (3584)
مشكوة المصابيح (3770)
انظر الحديث السابق (3584)
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَوَ هُوَ عَلَى الْمِنْبَر:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا لِأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ".
ابن شہاب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: ”لوگو! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3586]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے برسر منبر فرمایا: ”اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بالکل برحق ہوا کرتی تھی کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ سمجھاتا تھا اور ہماری رائے ظن و گمان اور تکلف محض ہوتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19406) (ضعیف)» (زہری کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی ہم معاملہ کو سمجھ کر اور غور و فکر کرکے کوئی رائے قائم کرتے ہیں پھر اس پر بھی اطمینان نہیں کہ وہ درست ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال المنذري: ’’ ھذا منقطع،الزهري لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه ‘‘ (عون المعبود 329/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
قال المنذري: ’’ ھذا منقطع،الزهري لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه ‘‘ (عون المعبود 329/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ الشَّامِيُّ" وَلَا إِخَالُنِي رَأَيْتُ شَأْمِيًّا أَفْضَلَ مِنْهُ" يَعْنِي حُرَيْزَ بْنَ عُثْمَانَ.
معاذ بن معاذ کہتے ہیں ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے (یعنی حریز بن عثمان سے) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3587]
احمد بن عبدہ الضبی کہتے ہیں کہ ہمیں معاذ بن معاذ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ”مجھے ابوعثمان شامی (حریز بن عثمان) نے بیان کیا“ اور (معاذ بن معاذ نے کہا کہ) ”میں کسی شامی کو حریز بن عثمان سے افضل نہیں سمجھتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ناسخین کی غلطی سے کسی دوسری حدیث کی سند کی بابت یہ کلام یہاں درج ہو گیا ہے، یا اس سند سے مروی حدیث درج ہونے سے رہ گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
8. باب كَيْفَ يَجْلِسُ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَىِ الْقَاضِي
باب: دونوں فریق (مدعی اور مدعا علیہ) قاضی کے سامنے کس طرح بیٹھیں؟
حدیث نمبر: 3588
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3588]
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ”مدعی اور مدعا علیہ دونوں قاضی کے سامنے بیٹھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5286)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/4) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
9. باب الْقَاضِي يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ
باب: غصے کی حالت میں قاضی کا فیصلہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَهُوَ غَضْبَانُ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3589]
جناب عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کی طرف لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حکم (فیصلہ کرنے والا) غصے کی حالت میں دونوں فریقوں میں فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 13(7158)، صحیح مسلم/الأقضیة 7 (1717)، سنن الترمذی/الأحکام 7 (1334)، سنن النسائی/آداب القضاة 17 (5408)، 31 (5423)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 4 (2316)، (تحفة الأشراف: 11676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7158) صحيح مسلم (1717)
10. باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنِ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42، فَنُسِخَتْ، قَالَ: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ سورة المائدة آية 48".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) منسوخ ہے، اور اب یہ ارشاد ہے «فاحكم بينهم بما أنزل الله» تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے“ (سورۃ المائدہ: ۴۸)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3590]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] ”اگر یہ (یہود) آپ کے پاس آئیں تو آپ ان میں فیصلہ فرمائیں یا اعراض کر لیں۔“ پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور فرمایا ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [سورة المائدة: 48] ”آپ ان میں فیصلہ فرمائیں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6263) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن