🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ
باب: منصب قضاء طلب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3571
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3571]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قاضی کا عہدہ لیا تو وہ چھری کے بغیر ہی ذبح کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 2 (1325)، (تحفة الأشراف: 13002)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2308)، مسند احمد (2/365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث الآتي (3572) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، وَالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3572]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا اسے چھری کے بغیر ہی ذبح کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2308)، (تحفة الأشراف: 12995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3733)
أخرجه ابن ماجه (2308 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ
باب: قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِه، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ، يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3573]
جناب (عبداللہ بن بریدہ) بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنت میں ہے اور دو آگ میں۔ جنت میں جانے والا وہ ہے جس نے حق پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا، اور جس نے حق پہچانا اور پھر فیصلے میں ظلم کیا تو وہ آگ میں ہے، اور جس نے جاہل ہوتے ہوئے لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی آگ میں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس موضوع میں یہ حدیث صحیح ترین ہے، یعنی ابن بریدہ کی حدیث کہ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2315)، (تحفة الأشراف: 2009)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 1 (1322) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2315)
خلف بن خليفة صدوق اختلط في الآخر ورواه الترمذي (1322م) من طريق آخر ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ، فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3574]
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب سوچ بچار اور اجتہاد سے کام لے اور درست نتیجے پر پہنچے تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے، اور جب کوئی خوب سوچ بچار اور اجتہاد سے کام لے اور اس سے خطا ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (یزید بن عبداللہ بن الہاد نے کہا) میں نے یہ روایت ابوبکر بن حزم کو بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاعتصام 21(7352)، صحیح مسلم/الأقضیة 6 (1716)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2314)، (تحفة الأشراف: 15437، 10748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/198، 204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب حاکم یا قاضی نے فیصلہ کرنے میں غور و خوض کر کے قرآن و حدیث اور اجماع سے اس کا حکم نکالا تو اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کے لیے دوگنا اجر و ثواب ہے، اور اگر فیصلہ غلط ہے تب بھی اس پر اس کو ایک ثواب ہے، اور کوشش کے بعد غلطی اور چوک ہونے پر وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، اسی طرح وہ مسئلہ جو قرآن و حدیث اور اجماع امت میں صاف مذکور نہیں اگر اس کو کسی مجتہد عالم نے قرآن اور حدیث میں غور کر کے نکالا اور حکم صحیح ہوا تو وہ دوگنے اجر کا مستحق ہو گا، اور اگر مسئلہ میں غلطی ہوئی تو ایک اجر کا مستحق ہوا، لیکن شرط یہ ہے کہ اس عالم میں زیر نظر مسئلہ میں اجتہاد کی اہلیت و استعداد ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7352) صحيح مسلم (1716)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3575]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں میں قضا کا منصب طلب کیا حتیٰ کہ اسے حاصل کر لیا، پھر اس کا عدل کرنا ظلم کرنے پر غالب رہا، تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب رہا، اس کے لیے جہنم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14845) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی موسیٰ بن نجدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن نجدة : مجهول (تق : 7020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 44 ـ 47 هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ المائدہ کی یہ تینوں آیات: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] «إِلَى قَوْلِهِ» ان کے ارشاد تک ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] یہودیوں کے قبائل بالخصوص قریظہ اور بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238،271) (حسن، صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ
باب: عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَزْرَقِ، قَالَ:" دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ، فَقَالَا: أَلَا رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ: أَنَا، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ".
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر (عہد نبوی میں) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3577]
جناب عبدالرحمن بن بشر الانصاری الازرق کہتے ہیں (کہ غالباً کوفہ میں) بابِ کندہ کی طرف سے دو آدمی آئے جبکہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ حلقے میں تشریف فرما تھے۔ ان دونوں نے کہا: کیا کوئی ہم میں فیصلہ نہیں کر دیتا؟ حلقے میں سے ایک آدمی نے کہا: میں کر دیتا ہوں۔ تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کنکریوں کی مٹھی بھری اور اسے دے ماری اور فرمایا: «مَهْ» باز رہو۔ فیصلہ کرنے میں جلد بازی (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں) ناپسند سمجھی جاتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9997) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة رجاء اور عبدالرحمن دونوں لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جلد بازی میں اکثر غلطی ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ"، وقَالَ وَكِيعٌ: عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3578]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے قاضی کا عہدہ طلب کیا اور اس کے لیے لوگوں سے مدد چاہی (سفارشیں کرائیں) تو یہ منصب اور کام اسی پر ڈال دیا جائے گا۔ (اللہ کی طرف سے اس کی کوئی مدد نہ ہو گی) اور جس نے اسے طلب کیا نہ لوگوں سے مدد چاہی، تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے سیدھی راہ سجھاتا رہتا ہے۔ وکیع نے اس روایت کی سند یوں بیان کی ہے «عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » اور ابوعوانہ نے کہا «عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ» [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 1 (1323)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2309)، (تحفة الأشراف: 256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 220) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی بلال لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی سفارشیں کرائے گا۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1323،1324) ابن ماجه (2309)
عبد الأعلي الثعلبي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ نَسْتَعْمِلَ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3579]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اس منصب اور کام کا طلب گار ہوگا ہم اسے ہرگز نہیں دیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الإجارة 1 (2661)، المرتدین 2 (6923)، صحیح مسلم/ الإمارة 3 (1733)، سنن النسائی/ الطہارة 4 (4)، (تحفة الأشراف: 9083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/409)، وأعادہ المؤلف فی الحدود (4354) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6923) صحيح مسلم (1824)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي كَرَاهِيَةِ الرِّشْوَةِ
باب: رشوت کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3580
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 9 (1337)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 2 (2313)، (تحفة الأشراف: 8964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 190، 194، 212) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3753)
أخرجه الترمذي (1337 وسنده حسن) وابن ماجه (2313 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1196)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں