سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ
باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي.
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
سلیمان بن بلال نے ربیعہ سے ابومصعب الزہری کی مذکورہ بالا سند سے اسی کے ہم معنی روایت کیا، سلیمان نے کہا: ”میں سہیل سے ملا اور ان سے یہ حدیث دریافت کی تو انہوں نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ میں نے کہا: ”مجھے ربیعہ نے آپ کے واسطے سے روایت کی ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اگر ربیعہ نے تمہیں بتایا ہے کہ اس نے مجھ سے روایت کی ہے تو اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3610)
انظر الحديث السابق (3610)
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ، يَقُولُ:" بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ، إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ بَيِّنَتُكَ؟، قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ، لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلَ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا، قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُه، فَقَالَ لِي: احْبِسْهُ، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ".
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون تمہارا گواہ ہے؟“ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟“ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے“۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ“ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: ”تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟“ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے“ اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: ”جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو“ وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3612]
سیدنا زبیب بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک لشکر بنو عنبر کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے طائف کے مضافات میں (مقام رکبہ) رکبہ مقام پر اس قبیلے کو جا پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئے۔ میں سوار ہوا اور ان سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ آپ کا لشکر ہمارے ہاں پہنچا اور اس نے ہمیں پکڑ لیا حالانکہ ہم نے (پہلے ہی) اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنے جانوروں کے کان بھی کاٹ ڈالے تھے۔“ جب بنو عنبر کے لوگ پہنچ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے کہ تم پکڑے جانے سے پہلے ان ایام میں مسلمان ہو چکے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے گواہ کون ہیں؟“ میں نے عرض کیا کہ بنو عنبر کا ایک فرد سمرہ اور ایک دوسرے آدمی کا نام لیا۔ چنانچہ اس دوسرے نے شہادت دی لیکن سمرہ نے شہادت دینے سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے گواہی دینے سے انکار کیا ہے، لہٰذا تجھے اپنے دوسرے گواہ کے ساتھ قسم اٹھانی ہو گی۔“ میں نے کہا: ہاں (اٹھاؤں گا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے قسم لی اور میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم لوگ فلاں فلاں روز اسلام قبول کر چکے تھے اور اپنے جانوروں کے کان کاٹ چکے تھے۔ (یہ اسلام اور عدم اسلام کے درمیان فرق کرنے کا ایک انداز تھا۔) تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے مجاہدین سے) فرمایا: ”جاؤ اور ان سے نصف نصف اموال لے لو اور ان کی اولادوں کو ہاتھ مت لگاؤ۔ (انہیں غلام مت بناؤ) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل (اور اس کی محنت) کو ضائع نہیں فرماتا ہے تو ہم تم سے ایک رسی بھی نہ لیتے۔“ زبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر مجھے میری والدہ نے بلایا اور بتایا کہ اس آدمی نے مجھ سے میری توشک لی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اسے روکو۔“ تو میں نے اس کو گریبان سے پکڑ لیا اور اپنی جگہ پر اس کے ساتھ رکا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑے دیکھا تو فرمایا: ”تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟“ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”اس کی ماں کی توشک جو تو نے اس سے لی ہے اس کو واپس کر دو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلوار اتاری اور مجھے دے دی اور اسے فرمایا: ”جاؤ اور غلے کے چند صاع اور مزید بھی دو۔“ چنانچہ اس نے مجھے کئی صاع جَو بھی دے دیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3619) (ضعیف) (اس کے رواة ”عمار“ اور ’’شعیث‘‘ دونوں لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”ركبة“: طائف کے نواح میں ایک جگہ ہے۔
۲؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
۲؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمار بن شعيث لم أجد من وثقه صراحة فھو : مجهول الحال كما في التحرير (4837)
والحديث مع ذلك حسنه ابن عبد البر!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
عمار بن شعيث لم أجد من وثقه صراحة فھو : مجهول الحال كما في التحرير (4837)
والحديث مع ذلك حسنه ابن عبد البر!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
22. باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ
باب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3613]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ایک اونٹ یا کسی جانور کا دعویٰ کیا لیکن کسی کے پاس گواہ نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دونوں کے مابین (آدھا آدھا) کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف والإرواء: 2656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/402) (ضعیف)» (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسی اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3614]
جناب سعید (سعید بن ابی بردہ) رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3613)
انظر الحديث السابق (3613)
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ.
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3615]
جناب قتادہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا جو مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور ان دونوں نے دو دو گواہ بھی پیش کر دیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے مابین نصف نصف کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3613، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3772)
انظر الحديث السابق (3613)
مشكوة المصابيح (3772)
انظر الحديث السابق (3613)
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو، جس کا بھی نکل آئے، تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔“ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا"، قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَقَالَ: إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں“ (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3617]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دونوں قسم کھانا ناپسند کریں یا دونوں ہی قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لیں۔“ سلمہ (سلمہ بن شبیب) نے کہا: ”ہمیں معمر نے خبر دی کہ جب دونوں قسم کھانے پر مجبور کر دیے جائیں تو قرعہ ڈال لیں (کہ کون قسم کھائے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الشہادات 24 (2674)، (تحفة الأشراف: 14698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/317)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6001) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله عند البخاري (2574) بغير ھذا اللفظ
أصله عند البخاري (2574) بغير ھذا اللفظ
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
جناب سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے حجاج بن منہال رحمہ اللہ کی سند سے اس حدیث کے مثل روایت کیا، انہوں نے کہا کہ ”دو آدمیوں نے ایک جانور کے سلسلے میں جھگڑا کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
23. باب الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ قسم کھائے۔
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3619]
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ”(جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو) مدعا علیہ قسم کھائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرھن 6 (2514)، الشھادات 20 (2668)، تفسیر آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الأقضیة 1 (1711)، سنن الترمذی/الأحکام 12 (1342)، سنن النسائی/آداب القضاة 35 (5427)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 7 (2321)، (تحفة الأشراف: 5752، 5792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/342، 351، 356، 363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2514، 1711)
24. باب كَيْفَ الْيَمِينُ
باب: قسم کیسے کھائی جائے؟
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ:" احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ"، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: ”اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھوائی کہ ”تو اللہ کی قسم کھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کہ تیرے پاس اس مدعی کی کوئی شے نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”راوی ابویحییٰ کا نام زیاد ہے جو کوفی ہے اور ثقہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5431)، وقد أخرجہ: مسند احمد 1/288) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)