🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب إِذَا كَانَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ذِمِّيًّا أَيَحْلِفُ
باب: مدعی علیہ ذمی ہو تو اسے قسم کھلائی جائے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ:" كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں (سورة آل عمران: ۷۷)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3621]
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے مابین زمین کی شراکت داری تھی، جو وہ مجھے دینے سے انکاری ہو گیا۔ تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا کوئی تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: قسم اٹھاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میرا مال مار لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو بات کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ المساقاة 4 (2356)، الرہن 6 (2515، 2516)، الشہادات 19 (2266، 2267)، التفسیر 3 (4549)، الأیمان 11 (6659، 6660)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/ الإیمان 61 (138)، سنن الترمذی/ البیوع 42 (129)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 7 (2322)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2616، 2617) صحيح مسلم (138)
مشكوة المصابيح (3775)
انظر الحديث السابق (3243)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ
باب: آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3622]
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو کندہ اور حضرموت کے دو آدمی اپنی ایک زمین کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ زمین یمن میں تھی۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے! اس کے والد نے میری زمین غصب کر لی تھی اور وہ اب اس کے قبضے میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (حضرمی) سے پوچھا: کیا تیرا کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ لیکن میں اسے (کندی کو) اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا یہ نہیں جانتا کہ یہ میری زمین ہے اور اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر رکھی تھی؟ چنانچہ وہ کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اور (ابن قیس رضی اللہ عنہ نے) آگے حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3244)، (تحفة الأشراف: 159) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3776)
انظر الحديث السابق (3244)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ".
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3623]
سیدنا علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرموت اور بنو کندہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی میری زمین پر قابض ہو گیا ہے جو کہ میرے والد کی تھی۔ کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میرے قبضے میں ہے، میں ہی اسے کاشت کر رہا ہوں، اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: کیا تیرا کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تیرے لیے اس کی قسم ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاجر آدمی ہے، اسے کوئی پروا نہیں کہ کیا قسم کھا رہا ہے۔ اسے کسی چیز کا پرہیز اور ڈر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے اس سے بس یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3245)، (تحفة الأشراف: 11768) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (139)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ
باب: ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلْيَهُودِ:" أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3624]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی، تم لوگ زانی کے بارے میں تورات میں کیا پاتے ہو؟ اور قصہ رجم کے بارے میں حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (488)، (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف) (اس کا راوی'' رجل من مزینة '' مبہم ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث السابق نحوه (488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3625]
جناب زہری نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا جو صاحب علم اور حافظ تھا، اس نے سعید بن مسیب سے روایت کیا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (488)، (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں بھی وہی مجہول راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث السابق نحوه (488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا:" أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ؟" قَالَ: ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا ۱؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3626]
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صوریا (یہودی) سے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر کو شق کیا، تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور من و سلویٰ نازل کیا اور تمہارے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی، کیا تم اپنی کتاب میں رجم کا حکم پاتے ہو؟ اس نے کہا: آپ نے مجھے بڑی عظیم ذات کی یاد دلائی ہے اور میرے لیے ممکن نہیں کہ آپ کو جھٹلا سکوں۔ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفر بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل ہے)
وضاحت: ۱؎: ایک یہودی عالم کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد وقتادة مدلسان وعنعنا
والسند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى حَقِّهِ
باب: آدمی اپنے حق کے لیے قسم کھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عليْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3627]
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں فیصلہ کیا۔ تو مقدمہ ہار جانے والے نے پیٹھ پھیری اور کہا: «حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ» مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عاجزی (اور محنت و کوشش نہ کرنے) پر ملامت فرماتا ہے۔ تمہیں چاہیے کہ دانائی (معاملات میں سوجھ بوجھ، محنت اور کوشش) سے کام لو، پھر جب کوئی معاملہ تم پر غالب آ جائے تو کہو: «حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10910)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/25) (ضعیف) (اس کے راوی'' بقیہ'' ضعیف ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ورواية بقية بن الوليد الحمصي عن بحير بن سعد محمولة علي السماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ
باب: قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ"، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ.
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3628]
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اور اس کو سزا دینا حلال ہے۔ یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 98 (4693)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2427)، (تحفة الأشراف: 4838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 388، 389) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2919)
أخرجه النسائي (4693 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (2427 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟".
حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اس کو پکڑے رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3629]
ہرماس بن حبیب ایک دیہاتی آدمی تھا، وہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتا ہے کہ میں اپنے ایک مقروض کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس کے ساتھ چمٹا رہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2428)، (تحفة الأشراف: 15544) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ہرماس اور حبیب دونوں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2428)
ھرماس بن حبيب : مجهول (ديوان الضعفاء للذھبي : 323) وأبوه مجهول (تق : 1114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3630
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ".
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3630]
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت (شبہ) میں قید کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدیات 21 (1417)، سنن النسائی/قطع السارق 2 (4890)، (تحفة الأشراف: 11382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/2، 4، 4/447) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3785)
أخرجه الترمذي (1417 وسنده حسن) ورواه النسائي (4879، 4880 وسندھما حسن) عبد الرزاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1003)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں