🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ
باب: کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ، وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ".
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3601]
سلیمان بن موسیٰ نے اپنی سند سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کسی خائن مرد یا عورت، زانی مرد یا عورت یا اپنے بھائی کے بارے میں بغض و عداوت رکھنے والے کی گواہی جائز نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8711) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3782)
سنده قوي وانظر الحديث السابق (3600)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب شَهَادَةِ الْبَدَوِيِّ عَلَى أَهْلِ الأَمْصَارِ
باب: شہریوں کے خلاف دیہاتی کی گواہی کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3602
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3602]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کسی دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی جائز نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 30 (2367)، (تحفة الأشراف: 14231) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3783)
أخرجه ابن ماجه (2367 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ
باب: رضاعت (دودھ پلانے) کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3603
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِيهِ صَاحِبٌ لِي عَنْهُ، وَأَنَا لِحَدِيثِ صَاحِبِي أَحْفَظُ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ وَقَدْ قَالَتْ: مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے ۱؎، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3603]
جناب ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور مجھے یہ روایت میرے ایک اور ساتھی نے بھی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی اور اپنے ساتھی کی روایت مجھے زیادہ یاد ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، تو ہمارے پاس ایک کالی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک وہ جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا خبر؟ حالانکہ اس نے جو کہنا تھا کہہ دیا ہے، اس عورت (اپنی بیوی) کو چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏خ العلم 26 (88)، البیوع 3 (2052)، الشھادات 4 (2640)، 13 (2659)، 14 (2660)، النکاح 23 (5104)، سنن الترمذی/الرضاع 4 (1151)، سنن النسائی/النکاح 57 (3332)، (تحفة الأشراف: 9905)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/7، 8، 384)، سنن الدارمی/النکاح 51 (2301) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی) کی گواہی کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5104)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمُانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: نَظَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى،الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَصْحَابِ أَيُّوبَ.
اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3604]
ابن ابی ملیکہ نے بواسطہ عبید بن ابی مریم سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، ابن ابی ملیکہ نے کہا: میں نے یہ روایت سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے مگر مجھے عبید کا بیان زیادہ ضبط ہے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا اور کہا: یہ ایوب کے معتمد شاگردوں میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9905) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (5104) وانظر الحديث السابق (3603)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ،" أَنَّ رَجُلًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاء هَذِهِ، وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَأَخْبَرَاهُ، وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، وَوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا وَلَا غَيَّرَا، وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا".
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3605]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان کی «دَقُوقَاء» مقام پر وفات ہو گئی۔ اسے کوئی مسلمان نہ ملا جو اس کی وصیت پر گواہ ہوتا، تو اس نے اہل کتاب کے دو آدمیوں کو گواہ بنایا۔ پھر وہ دونوں کوفہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی اور اس کا ترکہ اور وصیت بھی پیش کی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بعد نہیں ہوا ہے۔ تو انہوں نے عصر کے بعد ان سے اللہ کے نام کی قسم لی کہ انہوں نے کسی قسم کی خیانت، جھوٹ یا تبدیلی نہیں کی ہے، کچھ چھپایا ہے نہ کوئی تغییر کی ہے، اور اس میت کی وصیت اور ترکہ یہی کچھ ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی گواہی کو قبول کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9013) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد إن كان الشعبي سمعه من أبي موسى
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زكريا بن أبي زائدة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/47 وھو من الثالثة)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَعُدَيِّ بْنِ بَدَّاءٍ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعُدَيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيهِمْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: (۱۰۶) انہی کی شان میں اتری ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3606]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کی معیت میں سفر پر نکلا۔ (دورانِ سفر) سہمی کی وفات ہو گئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو (وارثوں نے) چاندی کا ایک پیالہ گم پایا جس پر سونے کے پترے چڑھے ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم لی۔ پھر بعد میں وہ جام مکہ میں مل گیا۔ (جن کے پاس سے ملا) انہوں نے کہا: ہم نے یہ تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ پھر مرنے والے سہمی کے وارثوں میں سے دو نے قسم کھائی اور کہا: ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور یہ جام ہمارے آدمی کا ہے۔ چنانچہ انہی کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [سورة المائدة: 106] ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 35 (2780)، سنن الترمذی/التفسیر 20 (3060)، (تحفة الأشراف: 5551) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں اس واقعہ کے وقت نصرانی تھے، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2780)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب إِذَا عَلِمَ الْحَاكِمُ صِدْقَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ
باب: ایک گواہ کی صداقت پر حاکم کو یقین ہو جائے تو اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ، فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ، فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسِ وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ: أَوْ لَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلَى، قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا، فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ؟، فَقَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ".
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3607]
جناب عمارہ بن خزیمہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدوی سے گھوڑا خریدا اور بدوی سے کہا کہ میرے ساتھ آؤ تاکہ تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلے جبکہ اعرابی آہستہ آہستہ چلا، تو لوگ اس بدوی کے سامنے آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، تو اس بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز سن کر رک گئے اور فرمایا: کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا؟ بدوی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں نے تو اسے تم کو نہیں بیچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، میں نے تم سے خرید لیا ہے۔ بدوی کہنے لگا: چلو گواہ لاؤ۔ تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ بیچ دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنا پر (یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں جھوٹ نہیں بول سکتے اور آپ ہمیں وہ کچھ بتاتے ہیں جو ہم ملاحظہ نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود ہم وہ سب کچھ تسلیم کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں تسلیم کر سکتے۔) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 79 (4651)، (تحفة الأشراف: 15646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/215) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (4651 وسنده صحيح) الزھري صرح بالسماع عند أحمد (5/215، 216)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ
باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكَّيُّ، قَالَ عُثْمَانُ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3608]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا۔ (مدعی سے قسم لی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأقضیة 2 (1712)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2370)، (تحفة الأشراف: 6299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248، 315، 323) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مدعی کے پاس ایک ہی گواہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے حلف لیا، اور یہ حلف ایک گواہ کے قائم مقام مان لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1712)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَمْرٌو: فِي الْحُقُوقِ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا (نہ کہ حدود میں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3609]
جناب عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ سلمہ (سلمہ بن شبیب رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے، عمرو نے کہا کہ (مالی) حقوق میں۔ (اس طرح سے فیصلہ کیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6299) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3609)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلَا أَحْفَظُهُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلًا عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3610]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا (یعنی مدعی سے قسم لی)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھے اس روایت میں مزید کہا کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے عبدالعزیز سے روایت کیا، عبدالعزیز نے کہا کہ میں نے سہیل بن ابی صالح سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے (میرے شاگرد) ربیعہ الرائی نے بیان کیا اور وہ میرے نزدیک ثقہ اور معتمد ہے، کہا کہ میں (سہیل) ہی نے ربیعہ کو یہ حدیث بیان کی تھی جو مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ جناب سہیل بیمار ہو گئے تھے، جس سے ان کی یادداشت زائل ہو گئی اور انہیں اپنی کئی حدیثیں بھول گئی تھیں، چنانچہ سہیل اس کے بعد یوں سند بیان کیا کرتے تھے کہ مجھے ربیعہ نے مجھ سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 13 (1343)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2368)، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2368 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1343 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں