سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ
باب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2347]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہن) میں قرعہ ڈالتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، المغازي 34 (4141)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، التوبة 10 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/151، 197، 269)، سنن الدارمی/النکاح 26 (2245)، الجہاد 31 (2467)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 1970) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ:" أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2348]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی خدمت میں تین مرد حاضر کیے گئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا۔ (اب اس عورت کے بچے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا تھا) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں سے پوچھا: ”کیا تم دونوں اس (تیسرے) شخص کے حق میں بچے کا اقرار کرتے ہو؟“ ان دونوں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر دو آدمیوں (دوسرے اور تیسرے) سے فرمایا: ”کیا تم تسلیم کرتے ہو کہ بچہ اس (پہلے) کا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ (اسی طرح تیسرے اور پہلے کو مخاطب کر کے پوچھا) حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بھی (کوئی سے) دو سے سوال کرتے: ”کیا تم تسلیم کرتے ہو کہ بچہ اس (تیسرے ساتھی) کا ہے؟“ تو دونوں کہتے: ”نہیں۔“ چنانچہ آپ نے ان (تینوں) کے درمیان قرعہ ڈالا اور جس کے نام کا قرعہ نکلا بچہ اسی کا قرار دے دیا اور اس کے ذمے دو تہائی دیت ڈال دی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کر ہنسے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 32 (2270)، سنن النسائی/الطلاق 50 (3518)، (تحفة الأشراف: 3670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/373، 474) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
21. بَابُ: الْقَافَةِ
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ،" أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: ”عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بہت خوش خوش تشریف لائے اور آپ فرما رہے تھے: ”عائشہ! تمہیں نہیں معلوم کہ آج مجزز مدلجی میرے پاس آیا تو اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ چادر اوڑھے (لیٹے) ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے سر چھپا رکھے تھے اور ان کے پاؤں نظر آ رہے تھے تو (مجزز) نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3355)، فضائل الصحابہ 17 (3731)، الفرائض 31 (6771)، صحیح مسلم/الرضاع 11 (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2267)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 51 (3423، 3524)، (تحفة الأشراف: 16433)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/82، 226) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہر چند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ:" فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور اسے کہا: ”ہمیں بتا کہ مقام ابراہیم پر جس شخص کا نشان ہے، ہم میں سے کس کا نشان قدم اس سے زیادہ ملتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اگر تم ہموار ریتلی زمین پر ایک چادر کھینچ کر (اسے بالکل ہموار کر دو، پھر) اس (ریت) پر چلو تو میں تمہارے سوال کا جواب دے دوں گی۔“ انہوں نے چادر کھینچی، پھر لوگ اس (ہموار ریت) پر چلے۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کے نشان کو دیکھ کر کہا: ”یہ صاحب اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد تقریباً بیس سال یا (کم و بیش) جتنا اللہ نے چاہا، اتنا عرصہ گزرا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نبوت عطا فرما کر) مبعوث فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: 6130، ومصباح الزجاجة: 824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332) (منکر ضعیف)ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
22. بَابُ: تَخْيِيرِ الصَّبِيِّ بَيْنَ أَبَوَيْهِ
باب: بچے کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہے۔
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ:" يَا غُلَامُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: ”بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2351]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اس کے والد اور والدہ کے درمیان انتخاب کا موقع دیا اور فرمایا: ”لڑکے! یہ تیری والدہ ہے اور یہ تیرا والد ہے (تو جس کے ساتھ چاہے چلا جا۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277)، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن النسائی/الطلاق 5 (3526)، (تحفة الأشراف: 15463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2339) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ". فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ.
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس کو ہدایت دے“، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2352]
حضرت عبدالحمید بن سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والدین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، ان میں سے ایک کافر تھا اور ایک مسلمان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اختیار دیا تو وہ کافر کی طرف مائل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ تو وہ مسلمان کی طرف مائل ہو گیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مسلمان) کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشرا ف: 15586، مصباح الزجاجة: 852)، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 26 (2244)، سنن النسائی/الطلاق 52 (3525)، (تحفة الأشراف: 3594) (صحیح)» (سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 41 19)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
23. بَابُ: الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان۔
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2353]
حضرت عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مسلمانوں کے درمیان صلح درست ہے سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 17 (1352)، (تحفة الأشراف: 10775) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
24. بَابُ: الْحَجْرِ عَلَى مَنْ يُفْسِدُ مَالَهُ
باب: جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے۔
حدیث نمبر: 2354
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال:" إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2354]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک صاحب تھے، ان کی عقل کمزور تھی اور وہ خرید و فروخت کرتے تھے (تو دھوکا کھا جاتے تھے)، ان کے گھر والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان پر پابندی لگا دیجئے“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلب فرمایا اور خرید و فروخت سے منع کر دیا، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت سے صبر نہیں کر سکتا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو خرید و فروخت کرے تو کہہ دیا کر: «لَا خِلَابَةَ» ”دھوکا نہ کرنا“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 68 (3501)، سنن الترمذی/البیوع 28 (1250)، سنن النسائی/البیوع 10 (4490)، (تحفة الأشراف: 1175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہو گا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہو گا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2355
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ ، قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ:" إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا".
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2355]
محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”وہ میرے پر دادا حضرت منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کے سر میں شدید زخم آیا تھا (جو دماغ کی جھلی تک پہنچا) اس سے ان کی زبان میں بھی لکنت پیدا ہو گئی تھی، اس کے باوجود وہ تجارت ترک نہیں کرتے تھے اور ان سے ہمیشہ دھوکا ہو جاتا تھا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لین دین کرو تو کہہ دیا کرو: «لَا خِلَابَةَ» ”دھوکا نہیں“، پھر تم جو چیز بھی خریدو، اس میں تمہیں تین دن تک (واپس کرنے کا) اختیار ہو گا، اگر پسند آئے تو رکھ لو، ناپسند ہو تو اس کے مالک کو واپس کر دو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 19428، ومصباح الزجاجة: 826) (حسن)» (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، کما تقدم، تراجع الألبانی: رقم: 102)
وضاحت: ۱؎: پس یہ اختیار خاص کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بے وقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
25. بَابُ: تَفْلِيسِ الْمُعْدَمِ وَالْبَيْعِ عَلَيْهِ لِغُرَمَائِهِ
باب: مفلس آدمی کو دیوالیہ قرار دے کر اس کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو ادائیگی کرنا۔
حدیث نمبر: 2356
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ" يَعْنِي الْغُرَمَاءَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”تم لوگ اسے صدقہ دو“ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے“ یعنی قرض خواہوں کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2356]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے (نباغ کے) پھل خریدے جن میں اسے بہت خسارہ ہوا اور وہ بہت مقروض ہو گیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ دو۔“ لوگوں نے اسے صدقہ دیا لیکن اس سے اس کا پورا قرض ادا نہیں ہو سکتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ ملتا ہے لے لو، اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 4 (1556)، سنن ابی داود/البیوع 60 (3469)، سنن الترمذی/الزکاة 24 (655)، سنن النسائی/البیوع 28 (4534)، 93 (4682)، (تحفة الأشراف: 4270)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 56، 58) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اب وہ مفلس ہو گیا تو قرض خواہوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس جو مال ہو وہ لے لیں، مگر مکان رہنے کا اور ضروری کپڑا اور سردی کا کپڑا، اور سد رمق کے موافق خوراک اس کی اور اس کے گھر والوں کی یہ چیزیں قرض میں نہیں لی جائیں گی۔ (الروضۃ الندیۃ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم