🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: الْعِتْقِ
باب: غلام آزاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، قَالَ: قُلْتُ لِكَعْبٍ: يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمٍ مِنْهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْهُ".
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو گا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2522]
حضرت شرحبیل بن سمط کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائیے، اور احتیاط کیجئے (کہ حدیث میں کمی و بیشی نہ ہو جائے۔) انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: جس نے ایک مسلمان مرد کو آزاد کیا تو وہ جہنم سے (بچانے کے لیے) اس کا فدیہ بن جائے گا۔ اس (غلام) کی ہر ہڈی کے بدلے میں آقا کی ہر ہڈی آزاد ہو گی۔ اور جس نے دو مسلمان عورتوں کو آزاد کیا تو وہ جہنم سے اس کا فدیہ بن جائیں گی۔ ان میں دونوں کی دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی آزاد ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 14 (3967)، سنن النسائی/الجہاد 26 (3146)، (تحفة الأشراف: 11163)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 9 (1634)، مسند احمد (4/235، 236) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3967)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2523]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا غلام (لونڈی) آزاد کرنا افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کی نظر میں زیادہ عمدہ ہو، اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 2 (2518)، صحیح مسلم/الإیمان 35 (84)، سنن النسائی/الجہاد 17 (3131)، (تحفة الأشراف: 12004) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں ہمیشہ عمدہ اور قیمتی چیز دینا بہتر ہے، کیونکہ وہ شہنشاہ بے پرواہ ہے اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں، اور ادب بھی یہی ہے کہ اس کے نام پر وہی چیز دیں جو نہایت محبوب اور مرغوب اور قیمتی ہو: «لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ» (سورة آل عمران: 92)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ
باب: محرم رشتہ دار کی ملکیت میں آ جانے پر ان کے آزاد ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَاصِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2524]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن گیا تو (اس کا) وہ (رشتے دار) آزاد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/العتق 7 (3949)، سنن الترمذی/الأحکام 28 (1365)، (تحفة الأشراف: 4580، 4585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/15، 18، 20) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے، اور حاکم نے صحیح، اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے، حالانکہ سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ کا ہے، دوسری کوئی حدیث ان سے نہیں سنی ہے، لیکن حدیث اپنے طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1746)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2525
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2525]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن گیا تو (اس کا) وہ (رشتے دار) آزاد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7157، ومصباح الزجاجة: 895)، سنن الترمذی/الأحکام 28 (1365 تعلیقاً) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: الإرواء: 1746)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَاشْتَرَطَ خِدْمَتَهُ
باب: غلام کو آزاد کرتے ہوئے خدمت کی شرط لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2526
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ:" أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ".
‏‏‏‏ - [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2526]
حضرت حضرت ابو عبدالرحمٰن سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کیا تھا اور یہ شرط لگا دی تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2526]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ
باب: ساجھے کا غلام ہو اور ساجھی دار اپنا حصہ آزاد کر دے تو ایسے غلام کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی (مشترک) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2527]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلام میں سے اپنا حصہ، یا فرمایا: ایک حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنا مال خرچ کر کے (دوسرے شریکوں کو ان کا حصہ دے کر) اسے آزادی دلائے۔ اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس (اتنا) مال نہ ہو تو غلام سے اس کی قیمت کے لیے مزدوری کروائی جائے گی لیکن اس پر (اس کی طاقت سے) زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، العتق 5 (2526، 2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن ابی داود/العتق 3 (3934)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1348)، (تحفة الأشراف: 12211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 347، 426، 468، 472، 531) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2528
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ إِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2528]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگا کر اس (آزاد کرنے والے) کے ذمے ڈالی جائے گی۔ اگر اس کے پاس اتنا مال ہوا جس سے اس (غلام) کی قیمت ادا ہو سکے تو وہ شریکوں کو ان کے حصے (نقد رقم کی صورت میں) ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ (غلام کا) جتنا (حصہ) آزاد ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 4 (2522)، الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأإیمان 12 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3940)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/ البیوع 104 (4703)، موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (2/2، 15، 34، 77، 105، 112، 142، 156) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ
باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2529
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ"، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا غلام آزاد کیا جس کے پاس کچھ مال تھا تو غلام کا مال بھی اس غلام کا ہے الا یہ کہ مالک اس کے مال کی شرط لگا لے تو پھر اسے مل جائے گا۔ (حدیث کے دوسرے راوی) ابن لہیعہ نے (اپنی روایت میں) «إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» کی بجائے «إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ (جبکہ مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/العتق 11 (3962)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 17 (2379)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ: يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ" فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ؟
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہو گا، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2530]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمیر! میں تجھے دل کی خوشی سے آزاد کرتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا ہے: جس شخص نے کسی غلام کو آزاد کیا اور اس کے مال کا ذکر نہ کیا تو وہ مال اس کا ہے۔ تو مجھے بتا دو کہ کون کون سا مال تمہارا ہے؟ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9493، ومصباح الزجاجة: 896) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1748)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن إبراهيم بن عمران بن عمير: ذكره ابن الجارود في الضعفاء ووثقه ابن وحده (تقريب: 329)
وجده عمير مولي ابن مسعود: مجهول (تقريب: 5192)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2530M
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2530M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9493، ومصباح الزجاجة: 897)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف