🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيبًا
باب: اسلام کی شروعات اجنبی حالت میں ہوئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , وسويد بن سعيد , قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا , وَسَيَعُودُ غَرِيبًا , فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3986]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام شروع میں اجنبی تھا، اور وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، اس لیے اجنبیوں کو مبارک ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 65 (145)، (تحفة الأشراف: 13447) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3987
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , وَابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا , فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3987]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام شروع میں اجنبی تھا، اور وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، اس لیے اجنبیوں کو مبارک ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 855، ومصباح الزجاجة: 1401) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا , وَسَيَعُودُ غَرِيبًا , فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ" , قَالَ: قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3988]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی کے طور پر شروع ہوا، اور وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، تو اجنبیوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: اجنبی (غرباء) کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبائل سے الگ ہونے والے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان 13 (2629)، (تحفة الأشراف: 9510)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/398)، سنن الدارمی/الرقاق 42 (2797) (صحیح)» ‏‏‏‏ «قال قيل ومن الغرباء قال النزاع من القبائل» کا ٹکڑا یعنی غرباء کی تعریف ضعیف ہے، تراجع الألبانی: رقم: 175)
وضاحت: ۱؎: یعنی مسافر، پردیسی جن کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہو، شروع میں اسلام ایسے ہی لوگوں نے اختیار کیا تھا جیسے بلال، صہیب، سلمان، مقداد، ابوذر رضی اللہ عنہم وغیرہ اور قریشی مہاجر بھی اجنبی ہو گئے تھے اس لئے کہ قریش نے ان کو مکہ سے نکال دیا تھا، تو وہ مدینہ میں اجنبی تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قال قيل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن وكيع ضعيف
حفص بن غياث و سليمان الأعمش و أبو إسحاق مدلسون و لم أجد تصريح سماعھم
والحديث السابق (الأصل: 3986) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: مَنْ تُرْجَى لَهُ السَّلاَمَةُ مِنَ الْفِتَنِ
باب: جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي , فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ , وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ , إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ , الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا , وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا , وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى , يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3989]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ایک دن مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہوئے ایک ارشاد کی وجہ سے رونا آ رہا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تھوڑا سا دکھاوا بھی شرک ہے۔ اور جو کوئی اللہ کے کسی دوست سے دشمنی رکھتا ہے، وہ (گویا) اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وہ گمنام متقی نیک لوگ پسند ہیں جو غیر حاضر ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا، اگر موجود ہوں تو انہیں بلایا نہیں جاتا، نہ انہیں پہچانا جاتا ہے۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں۔ وہ ہر ایک غبار آلود تاریک فتنے سے نکل جاتے ہیں (اور فتنوں سے متاثر ہو کر گمراہ نہیں ہوتے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11305، ومصباح الزجاجة: 1402) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عیسیٰ بن عبد الرحمن ضعیف و متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عيسي بن عبد الرحمٰن الزرقي: متروك (تقريب: 5306)
ولبعض الحديث شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3990
حدثنا هشام بن عمار حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي حدثنا زيد بن أسلم عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة» .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3990]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں ایک بھی سواری کے قابل نہ ملے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6740)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 35 (6498)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 60 (2547)، سنن الترمذی/الأمثال 7 (2872)، مسند احمد (2/70، 123، 139) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سواری میں استعمال ہونے والا جانور نرم مزاج اور سیدھا ہوتا ہے، لیکن عملاً کمیاب، ایسے سیکڑوں آدمیوں میں سے کوئی کوئی ہوتا ہے، جو دوستی اور تعلقات کو استوار کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں مختلف انداز کی کمیاں پائی جاتی ہیں، کامل و مکمل اور بھر پور شخصیت والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الرقاق کے باب «رفع الامانہ» میں اسی لئے ذکر کیا ہے کہ اخیر امت میں لوگ اس باب میں بھی کمیاب ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: افْتِرَاقِ الأُمَمِ
باب: امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3991
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحْمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَفَرَّقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3991]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی اکہتر (71) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15099)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 1 (4596)، سنن الترمذی/الإیمان 18 (2640)، مسند احمد (2/332) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَافْتَرَقَتْ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ , وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ , وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" الْجَمَاعَةُ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر (۷۱) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر (۷۰) جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر (۷۱) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر (۷۲) فر قے جہنم میں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الجماعة» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3992]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے، (ان میں سے) ایک فرقہ جنتی تھا اور ستر جہنمی۔ عیسائی بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہوئے، (ان میں سے) اکہتر جہنمی تھے اور ایک جنتی۔ «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میری امت ضرور تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، (ان میں سے) ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور بہتر جہنم میں۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْجَمَاعَةُ» جماعت۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10908، ومصباح الزجاجة: 1403) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عباد بن یوسف کندی مقبول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی اہل سنت و الجماعت جنہوں نے حدیث اور قرآن کو نہیں چھوڑا اس وجہ سے اہل سنت ہوئے، اور جماعت المسلمین کے ساتھ رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , كُلُّهَا فِي النَّارِ , إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ «الجماعة» ہے، (وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3993]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر (71) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ایک کے سوا وہ سب فرقے جہنم میں جائیں گے، اور وہ جماعت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1314، ومصباح الزجاجة: 1404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/120) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس نے مسلمانوں کی جماعت اور امام وقت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر زمانہ میں امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ رہے،یہ مضمون اہل سنت والجماعت کے علاوہ کسی اور فرقہ اور جماعت پر صادق نہیں آتا، اس لیے معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت ہی ناجی جماعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3994
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتَتَّبِعُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ , وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ , وَشِبْرًا بِشِبْرٍ , حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى؟ قَالَ:" فَمَنْ إِذًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے اگر وہ ہاتھ پھیلانے کے مقدار چلے ہوں گے ۱؎، تو تم بھی وہی مقدار چلو گے، اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہوں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے، اور اگر وہ ایک بالشت چلے ہوں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب اور کون ہو سکتے ہیں؟ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3994]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ پہلوں کے طریقے کی (پوری طرح) پیروی کرو گے، جیسے باع باع کے برابر، ہاتھ ہاتھ کے برابر، بالشت بالشت کے برابر ہوتی ہے، حتیٰ کہ اگر وہ کسی سانڈے کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہودیوں اور عیسائیوں کی (پیروی کریں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کن کی؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15120، ومصباح الزجاجة: 1405)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتصام 14 (7319)، مسند احمد (2/450، 527) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی قدم بہ قد م، «باع» : کہتے ہیں دونوں ہاتھ کی لمبائی کو، «ذراع» : ایک ہاتھ اور «شبر» ایک بالشت۔
۲؎: یہود اور نصاریٰ نے یہ کیا تھا کہ تورات اور انجیل کو چھوڑ کر اپنے مولویوں اور درویشوں کی پیروی میں غرق ہو گئے تھے، اور اسی کو دین و ایمان جانتے تھے، مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا کہ قرآن و حدیث کا پڑھنا پڑھانا اور ان پر عمل کرنا اور کرانا بالکل چھوڑ دیا، اور قرآن و حدیث کی جگہ دوسرے ملاؤں کی کتابیں ایسی رائج اور مشہور ہو گئیں کہ بکثرت مسلمان انہی کتابوں پر چلنے لگے الا ماشاء اللہ، ایک طائفہ قلیلہ اہل حدیث کا (شکر اللہ سعیم) کہ ہر زمانہ میں وہ قرآن و حدیث پر قائم رہا۔، فاسد آراء اور باطل قیاس کی طرف انہوں نے کبھی التفات نہیں کیا، جاہل و بے دین اور بدعت و شرک میں مبتلا سادہ لوح مسلمانوں نے اس گروہ سے دشمنی کی، اعداء اسلام نے بھی دشمنی میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی، لیکن ان سب کی دشمنی اور عداوت سے ان اہل حق کو کبھی نقصان نہ ہو سکا، اور یہ فرقہ حقہ قیامت تک اپنے دلائل حقہ کے ساتھ غالب اور قائم رہے گا، اس کے دلائل و براہین کا کسی کے پاس جواب نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: فِتْنَةِ الْمَالِ
باب: مال دولت کا فتنہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ , فَقَالَ:" لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ , أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا , أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ , حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتِ امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا , اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ , ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ , فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ , وَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اللہ کی قسم، لوگو! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا خیر (مال و دولت) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا: تم نے کیسے کہا تھا؟ میں نے عرض کیا: کیا خیر (یعنی مال و دولت کی زیادتی) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے، اور کیا وہ مال خیر ہے؟ ہر وہ سبزہ جسے موسم بہار اگاتا ہے، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر، پاخانہ پیشاب کرے، اور جگالی کر کے ہضم کر لے، اور واپس آ کر پھر کھائے، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا، تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3995]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں صرف دنیا کی زینت (اور مال و دولت) سے خطرہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں عطا فرمائے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر سے بھی شر حاصل ہو جاتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: تم نے کیا سوال کیا؟ اس نے کہا: میں نے کہا تھا: کیا خیر سے بھی شر حاصل ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر (حلال مال) سے خیر ہی حاصل ہوتا ہے، کیا وہ خیر ہے؟ (دنیا کا ہر مال خیر نہیں ہوتا۔) موسم بہار میں جو سبزہ اگتا ہے اس سے جانور اپھارے کا شکار ہو کر مر جاتا ہے یا مرنے کے قریب ہو جاتا ہے، مگر وہ چرنے والا جانور (بچ جاتا ہے) جو کھاتا ہے، پھر جب اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں تو دھوپ کی طرف منہ کر کے گوبر اور پیشاب کرتا ہے، پھر جگالی کرتا ہے، اس کے بعد دوبارہ کھانے لگتا ہے۔ جو شخص جائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اسے اس میں برکت ہوتی ہے، اور جو شخص ناجائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کھاتا رہتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 41 (1052)، (تحفة الأشراف: 4273)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 28 (921)، الزکاة 47 (1465)، الجہاد 37 (2842)، الرقاق 7 (6427)، سنن النسائی/الزکاة 81 (2582)، مسند احمد (3/7، 91) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں