🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب في التجارات
تجارتوں کے بارے میں باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً أَوْ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ كَسَمْرَاءَ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مصراة (وہ جانور، جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے اختیار ہے، اگر رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور کھجوروں کا ایک صاع ساتھ دے، نہ کہ گندم کا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 26/1524»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ" ، قَالَ وَهْبٌ: يَعْنِي الْبُرَّ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مصراة (وہ جانور جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر رکھنا چاہتا ہے، تو رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ دے، گندم نہ دے۔ وہب کہتے ہیں: سمراء سے مراد گندم ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1524»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ كَانَ سَفَعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةُ، فَثَقُلَتْ لِسَانُهُ وَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا ابْتَاعَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْ وَقُلْ لا خِلابَةَ" ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لا خِيَابَةَ لا خِيَابَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حیان بن منقذ کے سر میں زخم تھا (جس کی وجہ سے) ان کی زبان اٹکتی تھی اور وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خریداری میں تین دن کا اختیار دے دیا، نیز فرمایا: خریدتے وقت کہہ دیا کیجیے، بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔ میں نے سنا: وہ ’لا خذابة، لا خذابة‘ کہا کرتے تھے (یعنی ’لا خلابة‘ نہیں کہہ سکتے تھے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الحميدي: 662، مسند الإمام أحمد: 129/2، سنن الدارقطني: 55,54/3، السنن الكبرى للبيهقي: 273/5، اس حدیث کو امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (4934) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 22/2) نے صحیح کہا ہے، سفیان بن عیینہ کی متابعت ہوتی ہے، مسند الامام احمد (129/2) میں محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يُبَايِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يُبَايِعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک انصاری آدمی تجارت کرتا تھا، لیکن اس کی بات کمزور ہوتی تھی، اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص پر پابندی لگا دیجیے، کیونکہ وہ تجارت تو کرتا ہے، مگر اس کی بات کمزور ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیع کرنے سے منع کر دیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بیع کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ چھوڑ نہیں سکتے، تو یوں کہہ دیا کریں کہ (سودا) نقد ہوگا اور دھوکہ نہیں دینا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده: مسند الإمام أحمد: 217/3، سنن أبي داود: 3501، سنن النسائي: 4490، سنن الترمذي: 1250، سنن ابن ماجه: 2354، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5049) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (101/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے، اس سند میں سعید بن ابی عروہ اور قتادہ کی تدلیس ہے۔ البتہ صحیح بخاری (2117) اور صحیح مسلم (1533) میں اس کا ایک شاہد ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: ثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلانَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَيْخًا مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْحِلْسَ وَالْقَدَحَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِاثْنَتَيْنِ، قَالَ: هُمَا لَكَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کمبل اور پیالہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ فرمایا: درہم سے زائد کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: درہم سے زائد کون دے گا؟ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں یہ دونوں چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ فرمایا: یہ آپ کی ہوگئیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 114/3، سنن ابی داود: 1641، سنن الترمذي: 1218، سنن ابن ماجه: 2198، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ نے المختارة (2265، 2266) میں ذکر کیا ہے۔ ابوبکر حنفی حسن الحدیث ہیں، ان کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ثابت نہیں، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات (566/5) میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کی حدیث کی تحسین کی ہے، جو کہ ضمنی توثیق ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ، كَانَ تَاجِرًا وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أحَدٍ حَتَّى يَذَرَ، إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ .
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شہر نامی شخص سے سنا جو کہ تاجر تھا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ (بولی لگانے) کے متعلق پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے سودے پر سودا کرے، حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے، غنائم اور وراثتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن الدارقطني: 11/3»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ، فَمَنْ تَلْقَى جَلَبًا فَاشْتَرَى مِنْهُ فَالْبَائِعُ بِالْخِيَارِ إِذَا وَقَعَ السُّوقَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آگے بڑھ کر قافلے والوں سے مال خریدنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی آدمی آگے بڑھ کر قافلے والوں سے مال خرید لیتا ہے، تو بازار میں آنے کے بعد بیچنے والے کو (بیع توڑنے کا) اختیار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَدْخُلَ الأَسْوَاقَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار پہنچنے سے پہلے تجارتی قافلے سے سامان خریدنے سے منع فرمایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2165، صحیح مسلم: 1412-1514»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2160-2162، صحیح مسلم: 1520»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يُصِيبُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ ایک دوسرے سے (فائدہ) حاصل کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1522»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں