الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
46. باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذِّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
Chapter: The Talbiyah and the Takbir when going from Mina to 'Arafat on the day of 'Arafat
حدیث نمبر: 3095
Save to word اعراب
حدثنا احمد بن حنبل ، ومحمد بن المثنى ، قالا: حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا سعيد بن يحيى الاموي ، حدثني ابي ، قالا جميعا: حدثنا يحيى بن سعيد ، عن عبد الله بن ابي سلمة ، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر ، عن ابيه ، قال: " غدونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من منى إلى عرفات، منا الملبي، ومنا المكبر ".حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ہم صبح کو چلے منیٰ سے عرفات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔
حدیث نمبر: 3096
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، وهارون بن عبد الله ، ويعقوب الدورقي ، قالوا: اخبرنا يزيد بن هارون ، اخبرنا عبد العزيز بن ابي سلمة ، عن عمر بن حسين ، عن عبد الله بن ابي سلمة ، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر ، عن ابيه ، قال: " كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غداة عرفة، فمنا المكبر، ومنا المهلل، فاما نحن فنكبر "، قال: قلت: والله لعجبا منكم كيف لم تقولوا له: ماذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع؟.وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ "، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ: مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے عرفہ کی صبح کو سو کوئی ہم میں سے «الله اكبر» کہتا تھا کوئی «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» اور ہم ان میں تھے جو «الله اكبر» کہتے تھے میں نے ان سے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے دیکھا۔ (سبحان اللہ! سنت سے محبت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل دریافت کیوں نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے)۔
حدیث نمبر: 3097
Save to word اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن محمد بن ابي بكر الثقفي ، انه سال انس بن مالك ، وهما غاديان من منى إلى عرفة: كيف كنتم تصنعون في هذا اليوم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: " كان يهل المهل منا، فلا ينكر عليه، ويكبر المكبر منا، فلا ينكر عليه ".وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ".
‏‏‏‏ محمد بن ابوبکر ثقفی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور دونوں منیٰ سے عرفات کو جاتے تھے کہ تم لوگ کیا کرتے تھے آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ سو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کوئی ہم میں سے «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» اللہ کہتا تھا سو اس کو کوئی منع نہ کرتا تھا اور کوئی ہم میں سے «الله اكبر» کہتا تھا تب بھی کوئی اس کو منع نہ کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 3098
Save to word اعراب
وحدثني سريج بن يونس ، حدثنا عبد الله بن رجاء ، عن موسى بن عقبة ، حدثني محمد بن ابي بكر ، قال: قلت لانس بن مالك : غداة عرفة ما تقول في التلبية هذا اليوم؟ قال: " سرت هذا المسير مع النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه، فمنا المكبر، ومنا المهلل، ولا يعيب احدنا على صاحبه ".وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرفہ کی صبح تلبیہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو پھر آپ نے فرمایا کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو کوئی ہم میں سے تکبیر کہتا اور کوئی تہلیل اور کوئی بھی اپنے ساتھی پر عیب نہ لگاتا تھا۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.