الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
كتاب الطب
کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
Chapters on Medicine
30. بَابُ: أَبْوَالِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کے پیشاب کے حکم کا بیان۔
Chapter: Camel urine
حدیث نمبر: 3503
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا نصر بن علي الجهضمي , حدثنا عبد الوهاب , حدثنا حميد , عن انس , ان ناسا من عرينة قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتووا المدينة، فقال صلى الله عليه وسلم:" لو خرجتم إلى ذود لنا , فشربتم من البانها وابوالها" ففعلوا.
(مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا , فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" فَفَعَلُوا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا)، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 67 (237)، الزکاة 68 (1501)، الجہاد 152 (3018)، المغازي 37 (4192، 4193)، الطب 5 (5685)، 6 (5686)، 29 (5727)، الحدود 1 (6802)، 2 (6803)، 3 (6804)، 4 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، سنن الترمذی/الحدود 3 (4364)، الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن النسائی/الطہارة 191 (306)، (تحفة الأشراف: 728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/161، 163، 170، 233) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2578)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ ﷺ نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.