سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
208. بَابُ إِكْرَامِ الْخَيْلِ وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا
باب: گھوڑوں کی عزت اور دیکھ بھال کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2440 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3617
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، " يَنْهَى عَنْ رَكْضِ الْفَرَسِ، إِلا فِي حَقٍّ" .
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”گھوڑے کو دوڑانا صرف حق کے لیے جائز ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2441 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3618
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّا لَنَقْطَعُ الأَوْتَارَ مِنْ أَعْنَاقِ رِكَابِنَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم اپنے گھوڑوں کی گردنوں سے دھاگے کے ہار کاٹتے تھے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: هشيم بن بشير کا شمار مدلسین میں ہوتا ہے۔ اور مدلس راوی جب "عن" کے ساتھ روایت کرے تو اس کی روایت تب تک قابل قبول نہیں ہوتی جب تک تصریح بالسماع نہ ہو۔ لہٰذا یہاں جب تصریح بالسماع (حدثنا/أنا/سمعت) نہیں ہے، تو سند میں انقطاع ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2442 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3619
نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَجُزُّوا أَعْرَافَ الْخَيْلِ ؛ فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا، وَلا أَذْنَابَهَا ؛ فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی گردن کے بال نہ کاٹو کیونکہ وہ ان کا لباس ہیں، اور نہ دم کاٹو کیونکہ وہ ان کا دفاع ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
أحوص بن حكيم بن عمير: عمرو بن الأسود ضعيف۔
راشد بن سعد: قال ابن حجر: ثقة، كثير الإرسال، یہاں ارسال کر رہے ہیں صحابی کا واسطہ نہیں ہے۔
أحوص بن حكيم بن عمير: عمرو بن الأسود ضعيف۔
راشد بن سعد: قال ابن حجر: ثقة، كثير الإرسال، یہاں ارسال کر رہے ہیں صحابی کا واسطہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
مرسل ضعيف
209. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑوں کے حق میں دعا کرنے سے متعلق وارد روایات کا بیان۔
ترقیم دار السلفیہ: 2443 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3620
نا نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِي ذَرٍّ وَهُوَ يُمَرِّغُ فَرَسًا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ يَمْسَحُ بِثَوْبِهِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ، إِنَّكَ لَتُحِبُّ فَرَسَكَ هَذَا! قَالَ:" نَعَمْ , وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى هَذَا قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ!" قُلْتُ: وَهَلْ يَدْعُو الْخَيْلُ؟! قَالَ:" نَعَمْ، مَا مِنْ فَرَسٍ إِلا وَلَهُ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَمِنْهَا مَا يُسْتَجَابُ لَهُ، وَمِنْهَا مَا لا يُسْتَجَابُ لَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ، مَلَّكْتَنِي ابْنَ آدَمَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَمَا أَرَى فَرَسِي هَذَا إِلا قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ" .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ اپنے گھوڑے کو مٹی میں لوٹا رہے تھے اور اپنے کپڑے سے صاف کر رہے تھے، کہا گیا: ”آپ اپنے گھوڑے سے محبت کرتے ہیں؟“ فرمایا: ”ہاں، ہر گھوڑے کی دعا ہوتی ہے، اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اپنے مالک کو اس سے محبت دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2443، 2444، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21842»
فرج بن فضالة، عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعفاء
فرج بن فضالة، عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعفاء
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2444 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3621
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّهُ مُرَّ بِهِ عَلَى رَجُلٍ بِالْمِضْمَارِ وَمَعَهُ فَرَسُهُ، فَمَسَكَ بِرَسَنِهِ عَلَى ظِلِّ كَثِيبٍ، فَأَرْسَلَ غُلامَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي ذَرٍّ، فَأَقْبَلَ ابْنُ حُدَيْجٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَى هَذَا الْفَرَسَ قَدْ عَنَّاكَ، وَمَا أَرَى عِنْدَهُ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ :" هَذَا فَرَسٌ قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ حُدَيْجٍ: وَمَا دُعَاءُ بَهِيمَةٍ مِنَ الْبَهَائِمِ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ إِلا أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ كُلَّ سَحَرٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ، خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عَبِيدِكَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي فِي يَدَيْهِ، اللَّهُمَّ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
معاویہ بن حدیج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں مضمضمار کے مقام پر ایک شخص کے پاس سے گزرا جس کے ساتھ اس کا گھوڑا تھا، وہ گھوڑے کو ایک ٹیلے کے سائے میں تھامے کھڑا تھا۔ میں نے اپنے غلام کو بھیجا کہ جا کر معلوم کر کہ یہ کون ہے؟ تو پتا چلا کہ یہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ذر! میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ گھوڑا تمہیں تھکا رہا ہے اور تمہارے پاس کچھ نہیں۔ ابو ذر نے کہا کہا کہا کہ یہ گھوڑا ایک دعا والا گھوڑا ہے۔ ابن حدیج نے کہا: ’جانوروں کی بھی کوئی دعا ہوتی ہے؟‘ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر گھوڑا سحر کے وقت اللہ سے دعا کرتا ہے کہ: اے اللہ! تو نے مجھے ایک اپنے بندے کے سپرد کیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے اس کی نظروں میں اس کے بیٹے، گھر والوں اور مال سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2443، 2444، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21842»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
210. بَابُ حَبْسِ الدَّوَابِّ وَالسِّلَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں سواریوں اور ہتھیاروں کو روک رکھنا (یعنی وقف کرنا)۔
ترقیم دار السلفیہ: 2445 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3622
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: " لا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْ حَبْسِ الدَّوَابِّ، وَلا تُبَدِّلُوهَا" .
حضرت مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”وقف کردہ جانور بیچنا جائز نہیں، نہ انہیں بدلا جائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2446 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3623
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَهُ دَرَقَةٌ، فَقَالَ: لَوْلا أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِي:" احْبِسْ سِلاحَكَ" لأَعْطَيْتُهَا بَعْضَ بَنِيِّ .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میرے پاس ایک ڈھال تھی، اگر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے نہ کہا ہوتا کہ اسلحہ روکے رکھو، تو میں اسے اپنے کسی رشتہ دار کو دے دیتا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: إسناد صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 110)
قال ابن حجر: إسناد صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 110)
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2447 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3624
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو:" أَنَّ الْخَيْلَ الَّتِي حَمَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَرَجَتْ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ وُسِمَتْ فِي أَفْخَاذِهَا عُدَّةً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت صفوان بن عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اللہ کے راستے میں جن گھوڑوں پر جہاد کیا تھا، ان پر اللہ کے لیے نشان لگا ہوا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
211. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّمْيِ وَفَضْلِهِ
باب: تیر اندازی اور اس کی فضیلت کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2448 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3625
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 أَلا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ" .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ» ۖ سنو: قوت تیر اندازی ہے، سنو: قوت تیر اندازی ہے، سنو: قوت تیر اندازی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1917، 1918، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4697، 4709، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3286، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2514، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3083، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2448، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2813، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 999، 2448، 2449،وأحمد فى «مسنده» برقم: 17704، والطبراني فى «الكبير» برقم: 911، 912»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2449 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3626
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرَضُونَ يَكْفِيكُمُ اللَّهُ، فَلا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ" .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے کہا: ”تمہارے لیے زمینیں فتح ہوں گی، اللہ تمہيد كفایت کرے گا،”لہٰذا بعد:ہ اپنے تروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرو۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1917، 1918، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4697، 4709، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3286، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2514، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3083، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2448، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2813، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 999، 2448، 2449،وأحمد فى «مسنده» برقم: 17704، والطبراني فى «الكبير» برقم: 911، 912»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح