صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
39. باب الخوف والتقوى - ذكر الخبر الدال على أن أولياء المصطفى صلى الله عليه وسلم هم المتقون دون أقربائه إذا كانوا فجرة
خوف اور تقویٰ کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی دوست و مددگار متقی لوگ ہیں، نہ کہ آپ کے وہ قریبی رشتہ دار جو گناہگار ہوں
حدیث نمبر: 647
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ رُهَيْمٍ ، بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ مُعَاذٌ رَاكِبٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" يَا مُعَاذُ، إِنَّكَ عَسَى أَنْ لا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا، لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِي" فَبَكَى مُعَاذٌ خَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْمَدِينَةِ، فقَالَ: " إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي، وَإِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ، مَنْ كَانُوا حَيْثُ كَانُوا، اللَّهُمَّ إِنِّي لا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ، وَايْمُ اللَّهِ لَيَكْفُئُونَ أُمَّتِي عَنْ دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلقین کرنے کے لیے ان کے ساتھ نکلے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت سوار تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے نیچے (پیدل) چل رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو۔ ہو سکتا ہے، اب کی بار تمہارا گزر میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو۔“ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے خوف سے رونے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: ”میرے اہل بیت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ باقی سب لوگوں کے مقابلے میں میرے زیادہ قریب ہیں، حالانکہ میرے سب سے زیادہ قریب پرہیزگار لوگ ہیں، خواہ وہ جو کوئی بھی ہوں اور خواہ وہ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں۔ اے اللہ! میں ان کے لیے ایسی کسی چیز کے فساد کو حلال قرار نہیں دیتا جسے تو نے صالح قرار دیا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ میری امت کے دین کے حوالے سے اسی طرح اوندھے ہوں گے، جس طرح میدان میں برتن کو الٹا دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20208، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22476» «رقم طبعة با وزير 646»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (485)، «المشكاة» (5127 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، عاصم بن حميد السكوني ذكره المؤلف في "الثقات"، وقال الدارقطني: ثقة، وأبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني.
40. باب الخوف والتقوى - ذكر البيان بأن من اتقى الله مما حرم عليه كان هو الكريم دون النسيب الذي يقارف ما حظر عليه
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو اللہ سے اس کے حرام کردہ سے بچتا ہے وہی کریم ہے نہ کہ وہ رشتہ دار جو ممنوعہ کام کرتا ہے
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ:" أَتْقَاهُمْ"، قَالُوا: لَسْنَا عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ:" فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَنِي؟ خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کر رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم عربوں کے بڑوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہو؟ تم میں سے جو لوگ زیادہ بہتر (شمار ہوتے ہیں) وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے جبکہ وہ (دینی تعلیمات کی) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3353، 3374، 3383، 3490، 4689، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2378، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 648، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11185، 11186، والدارمي فى (مسنده) برقم: 229، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9698» «رقم طبعة با وزير 647»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (56): ق، وتقدم (92).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، فإن محمد بن سنان- وهو الباهلي- من رجال البخاري، ومن فوقه على شرطهما.
41. باب الخوف والتقوى - ذكر رجاء مغفرة الله جل وعلا لمن غلبت عليه حالة خوف الله جل وعلا على حالة الرجاء
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس امید کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس کی مغفرت کرے گا جس پر اللہ کے خوف کی حالت رجاء کی حالت پر غالب ہو
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ النَّاسِ رَجُلٌ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالا وَوَلَدًا، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، جَمَعَ بَنِيهِ، فقَالَ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، فقَالَ: إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ، وَإِنَّ رَبَّهُ يُعَذِّبُهُ، فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي رِيحٍ عَاصِفٍ، قَالَ اللَّهُ: كُنْ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ، قَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنْ يَلْقَاهُ غَيْرَ أَنْ غُفِرَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایک شخص تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں وسعت عطا کی تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا، تو اس نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور دریافت کیا: میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین باپ تھے، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لیے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی ہے، تو اب اس کا پروردگار اسے عذاب دے گا، تو جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا دینا اور پھر مجھے پیس کر تیز چلتی ہوئی ہوا میں اڑا دینا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم کھڑے ہو جاؤ، تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کی: تیرے خوف کی وجہ سے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3478، 6481، 7508، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2757، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 649، 650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11265» «رقم طبعة با وزير 648»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3048): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
42. باب الخوف والتقوى - ذكر الخبر الدال على أن خوف الله جل وعلا إذا غلب على المرء قد يرجى له النجاة في القيامة
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر اللہ کا خوف آدمی پر غالب ہو جائے تو قیامت کے دن اس کے لیے نجات کی امید کی جا سکتی ہے
حدیث نمبر: 650
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ، قَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: يَا بَنِيَّ، أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِذَا أَنَا مِتُّ، فَاحْرَقُونِي واسْحَقُونِي، فَإِذَا كَانَ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ فَذُرُّونِي، قَالَ: فَمَاتَ، فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ، فقَالَ لَهُ: كُنْ، فَكَانَ كَأَسْرَعِ مِنْ طَرْفَةِ الْعَيْنِ، فقَالَ اللَّهُ: يَا عَبْدِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ فقَالَ: مَخَافَتُكَ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَمَا تَلافَاهُ أَنْ غُفِرَ لَهُ" قَالَ الْمُعْتَمِرُ :، قَالَ أَبِي : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، وَزَادَ فِيهِ:" وَذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لیے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی تھی۔ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا: جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا کر مجھے پیس دینا اور جب تیز ہوا چل رہی ہو، تو مجھے اڑا دینا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ شخص فوت ہو گیا۔ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ہو جاؤ، تو وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے (انسان بن کر کھڑا ہو گیا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے! تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیرے خوف کی وجہ سے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔“ معتمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے یہ روایت ابوعثمان نہدی کو سنائی، تو انہوں نے کہا: سلیمان نے یہ حدیث مجھے اسی طرح سنائی تھی، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے تھے: ”تم لوگ مجھے دریا میں ڈال دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3478، 6481، 7508، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2757، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 649، 650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11265» «رقم طبعة با وزير 649»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، صالح بن حاتم بن وردان روى عنه جمع، وقال أبو حاتم: شيخ، وذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 318، وقال ابنُ قانع: صالح، واحتج به مسلم، ومن فوقه على شرطهما.
43. باب الخوف والتقوى - ذكر البيان بأن هذا الرجل كان ينبش القبور في الدنيا
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ یہ آدمی دنیا میں قبریں کھودتا تھا
حدیث نمبر: 651
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُوُفِّيَ رَجُلٌ كَانَ نَبَّاشًا، فقَالَ لِوَلَدِهِ: احْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ، فَسُئِلَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ، قَالَ: فَغَفَرَ لَهُ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک کفن چور کا انتقال ہو گیا، اس نے اپنے بیٹے سے کہا: تم مجھے جلا دینا پھر مجھے پیس کر مجھے ہوا میں اڑا دینا۔ اس سے دریافت کیا گیا تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تیرے خوف کی وجہ سے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2077، 2391، 3450، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1560، 2934، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 651، 5047، 6799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2239، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2079، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4315، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1307، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2588، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2420، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17338» «رقم طبعة با وزير 650»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (648). تنبيه!! رقم (648) = (649) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
44. باب الخوف والتقوى - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة الغفلة ولزوم الانتباه لورد هول المطلع
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ غفلت سے بچے اور ہوش کے عظیم مقام کے لیے ہمیشہ بیدار رہے
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ سورة مريم آية 39، قَالَ:" فِي الدُّنْيَا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ﴾ [سورة مريم: 39] کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جب معاملے کا فیصلہ ہو جائے گا اور وہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ دنیا کے بارے میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4730، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2849، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 652، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2558، 3156، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2853، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9029» «رقم طبعة با وزير 651»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 10)، «مختصر مسلم» (2149).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
45. باب الخوف والتقوى - ذكر الإخبار عن الخصال التي يجب على المرء تفقدها من نفسه حذر إيجاب النار له بارتكاب بعضها
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات سے ان خصلتوں کی جانچ کرے تاکہ ان میں سے بعض کے ارتکاب سے جہنم کا واجب ہونے سے بچے
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلانِ آخَرَانِ أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُهُ عَبْدِي حَلالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْكَ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ يَقْظَانَ وَنَائِمًا، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَتْرُكُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: فَاسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُوكَ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَقَالَ: أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُصَّدِّقٌ وَقَالَ: أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ: رَجُلٌ جَائِرٌ لا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ، وَرَجُلٌ لا يُمْسِي وَلا يُصْبِحُ إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَالضَّعِيفُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا"، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ، أَوْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ وَالشِّنْظِيرُ: الْفَاحِشُ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ" .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جن چیزوں کا علم دیا ہے اور تم ان سے ناواقف ہو، آج میں اس جگہ تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دے دوں۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندے کو عطیے کے طور پر دی ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (مسلمان) پیدا کیا ہے، پھر شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے دین کے حوالے سے انہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کے لیے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لیے حلال قرار دی ہیں اور انہیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی کو میرا شریک بنا دیں حالانکہ میں نے اس بارے میں کوئی مضبوط دلیل نازل نہیں کی ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”اللہ تعالیٰ اہل زمین کی طرف دیکھ کر تمام اہل عرب اور عجمیوں پر ناراض ہوا، سوائے اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والے چند لوگوں کے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے محمد! میں نے تمہیں اس لیے مبعوث کیا ہے، تاکہ میں تمہیں آزمائش میں مبتلا کروں اور تمہاری وجہ سے لوگوں کو آزماؤں اور میں نے تم پر ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا (یعنی وہ بالکل ختم نہیں ہو گی)، بیدار شخص اور سویا ہوا شخص اس کی تلاوت کرے گا۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں (یعنی ان سے قتال کروں)، میں نے عرض کی: اے میرے رب! اس صورت میں تو وہ لوگ میرا سر کچل دیں گے اور وہ اسے (پیس کر) روٹی بنا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم بھی انہیں نکالنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکلنے پر مجبور کیا تھا، اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو ہم تمہاری مدد کریں گے، اور تم خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا، اور تم ایک لشکر کو بھیجو ہم اس کے پانچ گنا مزید بھیج دیں گے، اور جو شخص تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اس کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت تین قسم کے ہیں۔ ایسا امام جو عادل ہو، تصدیق کرنے والا ہو اور اسے خیر کی توفیق دی گئی ہو، ایک وہ شخص جو مہربان ہو، رقیق القلب ہو، ہر قریبی رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے (نرم دل ہو)، اور ایک وہ شخص جو پاک دامن ہو، عیال دار (غریب) ہو اور سوال نہ کرنے والا ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم پانچ قسم کے ہیں۔ وہ کمزور جس میں سمجھ بوجھ نہ ہو، جو تمہارے تابع ہیں، وہ نہ اہل طلب کرتے ہیں اور نہ مال (یعنی تمہارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں)، ایسا خیانت کار جس کا لالچ پوشیدہ نہ ہو خواہ وہ بہت ہی معمولی سی چیز ہو اس میں خیانت کرے، اور ایسا شخص جو صبح و شام تمہارے اہل اور تمہارے مال کے بارے میں تمہیں دھوکا دیتا ہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل اور جھوٹ کا ذکر کیا، اور ” «الشَّنْظِيرُ» ”بدزبان اور فحش گو“ کا تذکرہ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2865، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 653، 654، 7453، 7482، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7097، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4895، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17756» «رقم طبعة با وزير 652»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (17): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح غير العلاء بن زياد، فقد روى له النسائي وابن ماجة، وهو ثقة.
46. باب الخوف والتقوى - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به قتادة بن دعامة
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر قتادہ بن دعامہ نے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 654
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، وَإِنَّهُ، قَالَ لِي: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلالٌ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَتَى أَهْلَ الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ يَبْعَثَنِي، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّهُ، قَالَ لِي: قَدْ أَنْزَلْتُ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ فَاقْرَأْهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا وَإِنِّي قُلْتُ: أَيْ رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً وَإِنَّهُ قَالَ لِي: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُونَكَ، وَأَنْفِقْ نُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ" .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں آج تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دوں جو علم مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا ہے: میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے اور میں نے اپنے بندوں کو جو چیز بھی عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔ شیاطین لوگوں کے پاس آتے ہیں اور انہیں دین کے حوالے سے گمراہ کر دیتے ہیں، وہ ان کے لیے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لیے حلال قرار دی ہیں اور وہ ان لوگوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک ٹھہرائیں جس کے بارے میں میں نے کوئی حکم نازل نہیں کیا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کرنے سے پہلے زمین کی طرف توجہ کی اور تمام اہل عرب اور تمام عجمیوں پر ناراضی کا اظہار کیا، البتہ اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اللہ نے مجھ سے فرمایا: میں نے ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا، تم سونے اور بیداری کی حالت میں اس کی تلاوت کرو۔ اللہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں، میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اس صورت میں وہ میرے سر کو کچل کر اسے پیس کے رکھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکالا تھا، اور تم ان سے جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی، اور تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے، اور تم لشکر کو بھیجو ہم اس جیسے پانچ بھیجیں گے، اور جو شخص تمہاری اطاعت کرتا ہے اس شخص کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2865، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 653، 654، 7453، 7482، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7097، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4895، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17756» «رقم طبعة با وزير 653»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - هو طرف من الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، المعلى بن مهدي روى عنه جمع، وذكره ابن أبي حاتم في «الجرح والتعديل» 8/ 335، فقال: سألت أبي عنه، فقال: شيخ موصلى أدركته، ولم أسمع منه، يحدث أحياناً بالحديث المنكر. وذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 182، 183، وقال الإمام الذهبي: «صدوق في نفسه». وحكيم بن الأثرم كذا ورد في الأصل زيادة «بن» بين حكيم والأثرم، والصواب أنه حكيم الأثرم كما ورد في تهذيب الكمال وفروعه، ونقل المزي عن محمد بن يحيى الذهلي قال: قلت لعلي ابن المديني: حكيم الأثرم من هو؟ قال: أعيانا هذا، وفي رواية قال: لا أدري من أين هو. ونقل مغلطاي عن ثقات ابن خلفون قول ابن المديني: حكيم الأثرم لا أدري ابن من هو، وهو ثقة. أما ابن حبان فقد سمى أباه حكيماً، فقال في «الثقات» 6/ 215: حكيم بن حكيم الأثرم يروي عن الحسن وأبي تميمة الهجيمي، عداده في أهل البصرة، روى عنه حماد بن سلمة وعوف الأعرابي. وقال الذهبي في «الكاشف»: وقال ابن حجر في «التقريب»: فيه لين. وباقي رجاله ثقات. أبو شهاب هو موسى بن نافع الحنَّاط، والحسن هو البصري.
47. باب الخوف والتقوى - ذكر ما يجب على المرء من مجانبة أفعال يتوقع لمرتكبها العقوبة في العقبى بها
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ ان افعال سے بچے جن کے مرتکب کے لیے آخرت میں سزا کی توقع ہو
حدیث نمبر: 655
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَقُولُ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْ رُؤْيَا"؟ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ:" إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا، قَالا لِي: انْطَلِقْ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ، فَتُدَهْدِهَهُ الصَّخْرَةُ هَهُنَا، فَيَقُومُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ أَحْسِبُهُ قَالَ: حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، فَإِذَا هُوَ يَأْتِيَ أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْجَانِبُ الأَوَّلُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟ قَالا: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، قَالَ عَوْفٌ: أَحْسِبُ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ، فَاطَّلَعْنَا فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا بِنَهْرٍ لَهِيبٍ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ تَضَوْضَوْا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ، وَإِذَا عِنْدَ شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي جَمَعَ الْحِجَارَةَ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلا مَرْآهُ، فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولا فِي السَّمَاءِ، وأَرَى حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا وَأَتَيْنَا دَوْحَةً عَظِيمَةً لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلا أَحْسَنَ، قَالا لِي: ارْقَ فِيهَا، قَالَ: فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ، وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَقُلْنَا: مَا مِنْهَا رِجَالٌ، شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَ: قَالا لَهُمُ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ، فَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ:، قَالا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَ:، قَالا لِي: هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي أَدْخُلْهُ، قَالَ:، قَالا لِي: أَمَّا الآنَ فَلا، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ، قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟ قَالَ:، قَالا لِي: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ: أَمَّا الرَّجُلُ الأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرُهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ فَتَبْلُغُ الآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَيَلْتَقِمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: فقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ، وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ، فَهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دریافت کیا کرتے تھے: ”کیا کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ شخص اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گزشتہ رات دو فرشتے میرے پاس آئے، وہ میرے پاس بھیجے گئے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلئے! میں ان دونوں کے ساتھ چل پڑا، ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے سرہانے پتھر لیے کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنا پتھر اس شخص کے سر پر مار کر اس پتھر کے ذریعے اس کے سر کو کچل دیتا تھا، پھر پتھر لڑھکتا ہوا دور چلا جاتا تھا، وہ شخص اس پتھر کو لینے کے لیے جاتا تھا اور اسے پکڑ کر واپس اس شخص کے پاس آتا تھا (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) یہاں تک کہ وہ شخص پہلے کی طرح ٹھیک ہو جاتا تھا، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی عمل کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں ان دونوں کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرے شخص کے پاس لوہے کا بنا ہوا آنکڑا تھا۔ وہ اس کے منہ کے ایک کنارے کی طرف آتا تھا اور اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اور پھر اس کے نتھنے کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا اور اس کی آنکھ کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا، پھر وہ دوسری طرف آتا تھا اور اس کے ساتھ اسی طرح کرتا تھا جس طرح پہلی طرف کیا تھا، پھر جب وہ دوسری طرف سے فارغ ہوتا تھا تو پہلی والی طرف پہلے کی طرح ٹھیک ہو چکی ہوتی تھی، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے ساتھ چلتا رہا، پھر ہم تندور جیسی عمارت کے پاس آئے۔ (عوف نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں) اس میں سے چیخ و پکار اور آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں کچھ برہنہ مرد اور خواتین تھیں اور اس تندور کے نیچے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ جب کوئی شعلہ ان لوگوں کے پاس آتا تھا تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم ایک نہر کے پاس آئے۔ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) جس کا پانی خون کی طرح سرخ تھا۔ اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور اس نہر کے کنارے پر ایک اور شخص موجود تھا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے۔ وہ تیرنے والا شخص جب اس شخص کے پاس آتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو وہ اپنا منہ اس شخص کے سامنے کھولتا تھا اور وہ دوسرا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ہم چلتے رہے، پھر ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جس کی شکل انتہائی بدصورت تھی، تم نے زندگی میں جو بھی بدصورت ترین شخص دیکھا ہو گا وہ اس کی مانند تھا، وہ شخص ایک آگ کے پاس تھا، وہ اسے جلانے کی کوشش کرتا تھا اور اس کے گرد دوڑتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے! پھر ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم ایک باغ میں آئے جس میں ہر طرف بہار آئی ہوئی تھی اور اس باغ کے درمیان میں ایک طویل شخص کھڑا ہوا تھا، وہ اتنا اونچا تھا کہ مجھے اس کا سر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے ارد گرد اس کے ڈھیر سارے بچے دیکھے، لیکن میں نے ان میں سے کوئی بھی بچہ اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ پھر ہم لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم ایک بڑے پھیلے ہوئے درخت کے پاس آ گئے۔ میں نے اس سے بڑا اور اس سے خوبصورت درخت کبھی نہیں دیکھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ اس پر چڑھ جائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم اس پر چڑھ گئے تو ہم ایک شہر میں پہنچ گئے جس کی عمارتیں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے۔ ہم نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم نے وہاں ایسے لوگ دیکھے جن میں سے نصف ایسے ہوں گے جو تم نے سب سے زیادہ خوبصورت لوگ دیکھے ہوں اور نصف ایسے ہیں جو تم نے سب سے زیادہ بدصورت دیکھے ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ جاؤ اور اس نہر میں داخل ہو جاؤ۔ وہ نہر چوڑی تھی اور بہہ رہی تھی، اس کا پانی سفیدی کے اعتبار سے خالص دودھ کی طرح تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں داخل ہو گئے۔ پھر جب وہ لوگ واپس آئے تو ان کی خرابی ختم ہو چکی تھی اور ان کی شکلیں انتہائی خوبصورت ہو چکی تھیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ جنتِ عدن ہے اور یہ آپ کا ٹھکانہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے نگاہ اٹھا کر بلندی کی طرف دیکھا تو وہاں ایک محل تھا جو سفید بادل کی مانند تھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ آپ کی رہائش گاہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے کہا: «بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا» ”اللہ تعالیٰ تم دونوں میں برکت نصیب فرمائے“ مجھے موقع دو کہ میں اس کے اندر چلا جاؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے مجھ سے کہا: ابھی نہیں، لیکن آپ اس میں داخل ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گزشتہ رات جو حیران کن چیزیں دیکھی ہیں، تو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو ان فرشتوں نے مجھ سے کہا: ہم آپ کو اس کی حقیقت بتاتے ہیں۔ جہاں تک اس پہلے شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کے سر کو پتھر کے ذریعے کچلا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اور پھر اسے پرے کر دیا اور یہ فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کی باچھوں کو گدی تک اور اس کی آنکھوں کو گدی تک اور اس کے نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جو اپنے گھر سے نکلتا تھا اور ایک جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ دنیا میں پھیل جاتا تھا۔ جہاں تک ان برہنہ مردوں اور خواتین کا تعلق ہے جو تندور نما عمارت کے اندر موجود تھے، تو یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں تھیں۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو نہر میں تھا اور پتھر منہ میں لے رہا تھا، تو یہ سود کھانے والا شخص تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو انتہائی بدصورت تھا اور جو آگ کے پاس تھا اور اسے دہکاتا تھا، تو یہ «مَالِكٌ» ”مالک“ تھا جو جہنم کا داروغہ ہے۔ جہاں تک اس طویل شخص کا تعلق ہے جو باغ میں تھا، تو وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے۔ جہاں تک ان کے ارد گرد موجود بچوں کا تعلق ہے، تو ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین کی اولاد کا کیا حکم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کی اولاد بھی (فطرت پر پیدا ہوتی ہے)۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن میں سے آدھے لوگ خوبصورت تھے اور آدھے لوگ بدصورت تھے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیکیوں کے ساتھ برے اعمال بھی کیے، ان سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 845، 1143، 1386، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 655، 4659، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20411» «رقم طبعة با وزير 654»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (137): خ. * [فَتَلَقَّانَا فِيهَا] قال الشيخ: تحرفت في طبعتي «الإحسان» إلى: «فقلنا: ما منها»!! والتصويب من صحيح البخاري (7047).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عيسى بن أحمد روى له الترمذي والنسائي، وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين.
48. باب الخوف والتقوى - ذكر البيان بأن الواجب على المسلم أن يجعل لنفسه محجتين يركبهما إحداهما الرجاء والأخرى الخوف
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے لیے دو راستے بنائے، ایک رجاء کا اور دوسرا خوف کا
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود سزا کا پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص جنت سے ناامید نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3265، 6000، 6469، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2752، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 345، 656، 6147، 6148، 7462، 7463، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 185،والترمذي فى (جامعه) برقم: 2589، 3541، 3542، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7445» «رقم طبعة با وزير 655»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1634): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.