صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الأمر للمرء إذا أنعم الله عليه أن يرى أثر نعمته عليه-
- اس باب میں بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی پر نعمت فرمائے تو اسے اپنی حالت پر اس نعمت کا اثر ظاہر کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5416
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالُ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ مَالٍ؟ قُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالاً، فَلْيُرَ عَلَيْكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلاً نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي، وَلَمْ يَقْرِنِي، فَنَزَلَ بِي، أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ؟ قَالَ:" لا، بَلْ أَقْرِهِ" ، أَبُو الأَحْوَصِ: عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ.
ابواحوص عوف بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میری حالت بکھری ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال عطا کیا ہے؛ اونٹ بھی، غلام بھی اور بکریاں بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہو تو اس کا نشان تم پر نظر آنا چاہیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس کے ہاں میں مہمان بنتا ہوں اور وہ میری عزت افزائی نہیں کرتا اور نہ ہی میری مہمان نوازی کرتا ہے، پھر ایک مرتبہ وہ میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے تو کیا میں اس کے طرز عمل کا بدلہ دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔“ ابواحوص عوف بن مالک بن نضلہ رحمہ اللہ کے والد رضی اللہ عنہ صحابی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3410، 5416، 5417، 5615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 66، 7457، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3797، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4063، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2109، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16132» «رقم طبعة با وزير 5392»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (75).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
2. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من إظهار نعمة الله جل وعلا وانتفاعه بها في داريه-
- اس باب میں بیان ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار کرے اور ان سے اپنے گھروں میں فائدہ اٹھائے۔
حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ، فَقَالَ:" مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً، أَحَبَّ أَنْ تُرَى بِهِ" .
ابواحوص اپنے والد (مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں والے دیہاتی کی شکل میں ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ہر طرح کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو نعمت عطا فرمائے تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی وہ نعمت اس بندے پر نظر آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3410، 5416، 5417، 5615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 66، 7457، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3797، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4063، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2109، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16132» «رقم طبعة با وزير 5393»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
3. ذكر الاستحباب للمرء أن ترى عليه أثر نعمة الله وإن كانت تلك النعمة في رأي العين قليلة-
- اس باب میں ذکر ہے کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ اللہ کی نعمت کا اثر اس پر نظر آئے، خواہ وہ نعمت ظاہراً تھوڑی ہو۔
حدیث نمبر: 5418
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ، إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا، فَالْتَمَسْتُ فِيهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ، فَكَسَرْتُهُ، ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ جَابِرٌ: وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ لِيَذْهَبَ يَرْعَى ظَهَرْنَا، قَالَ: فَجَهَّزْتُهُ، ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلُقَا، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا، قَالَ: فَادْعُهُ، فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ، فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ، أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَكَذَا كَانَتْ نِيَّةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِدَايَةِ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ؛ لأَنَّ جَابِرًا مَاتَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ، وَمَاتَ أَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ سَنَةَ بِضْعٍ وَخَمْسِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَكَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِذْ ذَاكَ، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَهُوَ كَبِيرٌ، وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ وَمِئَةَ، وَقَدْ عُمِّرَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ انمار کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سائے کی طرف تشریف لے آئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (سواری سے) نیچے اتر آئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھ کر اپنے توشہ دان کی طرف آیا، میں نے اس میں تلاش کیا تو مجھے اس میں ککڑی ملی، میں نے اسے توڑا اور پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جسے ہم سامان تیار کر کے دے دیتے تھے اور وہ ہمارے سواری کے جانوروں کو چرنے کے لیے لے جایا کرتا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس کا سامان تیار کیا پھر وہ اس کو اپنی پشت پر لاد کر چل پڑا، اس کے جسم پر دو چادریں تھیں جو پرانی ہو چکی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا: ”اس کے پاس ان دو چادروں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے پاس سامان میں دو اور کپڑے ہیں جو میں نے اسے پہننے کے لیے دیے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے بلاؤ اور اسے یہ ہدایت کرو کہ وہ ان کپڑوں کو پہن لے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے بلایا، اس نے وہ دو کپڑے پہن لیے، پھر وہ جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کی گردن پر مارے، کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے؟“ اس شخص نے یہ بات سن لی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی راہ میں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں۔“ پھر وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغاز میں یہی نیت تھی۔ زید بن اسلم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے احادیث کا سماع کیا ہے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا انتقال 79 ہجری میں ہوا تھا اور اسلم کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں 50 ہجری کے آس پاس ہوا تھا۔ مروان بن حکم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا، تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے، وہ بڑی عمر کے آدمی تھے جب کہ زید بن اسلم کا انتقال 136 ہجری میں ہوا، ان کی عمر کافی زیادہ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5418]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5418، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7462، 7463» «رقم طبعة با وزير 5394»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [مَالِكٍ] قال الشيخ: في «الموطأ» (3/ 101 - 102). ومن طريقه: الحاكم (4/ 183)، والبزار (3/ 368 / 2963)، وإسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين. وإنما لم يصححه الحاكم من هذا الوجه؛ للخلاف في سماع زيد بن أسلم من جابر، فنفاه ابن معين، واثبته المؤلف للمعاصرة، وكذا ابن عبد البر في «التمهيد» (3/ 251)، وعزاه لجمع لكنه كان قد ذكر في (المقدمة) (1/ 36) ما يدل على أنه كان يدلس، وذكره العلائي في «المراسيل» (ص 216/ 211). ولعل تدليس زيد من النوع المغتفر لقلته، ولذلك ذكره الحافظ في المرتبة الأولى من رسالته «طبقات المدلسين». على أن الحاكم والبزار (2962) قد وصلاه من طريق هشام بن سعد، عن زيد بن سعد عن عطاء بن يسار، عن جابر. والبزار - أيضا - (2964) من طريق محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم، عن عطاء ... به. وإسناد هشام حسن، وصححه الحاكم. والآخر فيه عنعنة ابن أسحاق. فإذا كان زيد لم يسمعه من جابر؛ فيكون الواسطة بينهما عطاء بن يسار، وهو ثقة اتفاقا، والله - سبحانه وتعالى أعلم -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
4. ذكر البيان بأن أثر النعمة يجب أن ترى على المنعم عليه في نفسه ومواساته عما فضل إخوانه-
- اس باب میں بیان ہے کہ نعمت کا اثر انسان کی ذات میں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی میں ظاہر ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالاً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا زَادَ لَهُ" ، فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ، حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لا حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس اضافی بوجھ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس بوجھ نہ ہو، اور جس شخص کے پاس اضافی زادِ راہ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہ ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی مختلف اصناف کا ذکر کیا یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم میں سے کسی کو بھی کوئی اضافی چیز رکھنے کا حق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1728، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5419، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1663، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7876، 19728، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11466، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1064» «رقم طبعة با وزير 5395»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1466): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
5. ذكر ما يقول المرء عند كسوته ثوبا استجده-
- اس باب میں ذکر ہے کہ نیا لباس پہننے کے وقت انسان کو کیا کہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5420
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا الْقَمِيصَ، أَوِ الرِّدَاءَ، أَوِ الْعِمَامَةَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ اس کا نام لیتے تھے (مثلاً قمیص یا چادر یا عمامہ) پھر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5420، 5421، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7501، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10068، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4020، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1767، 1767 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11420» «رقم طبعة با وزير 5396»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «المشكاة» (4342)، «مختصر الشمائل» (47/ 50).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
6. ذكر ما يجب على المرء أن يبتدئ بحمد الله جل وعلا عند سؤاله ربه جل وعلا ما ذكرناه-
- اس باب میں ذکر ہے کہ جب بندہ اپنے رب سے کچھ مانگے تو اسے اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5421
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا، فَلَكَ الْحَمْدُ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے کا نام لے کر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تو نے مجھے یہ (چادر یا قمیص) پہنائی ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5420، 5421، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7501، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10068، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4020، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1767، 1767 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11420» «رقم طبعة با وزير 5397»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات
7. ذكر ما يستحب للمرء عند لبسه الثياب أن يبدأ بالميامن من بدنه-
- اس باب میں ذکر ہے کہ لباس پہنتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 5422
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا، بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قمیص پہنتے تھے تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1090، 5422، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9590، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4141، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8772» «رقم طبعة با وزير 5398»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4330 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
8. ذكر الأمر بلبس البياض من الثياب إذ البيض منها خير الثياب-
- اس باب میں ذکر ہے کہ سفید کپڑے پہننے کا حکم ہے کیونکہ سفید کپڑے سب سے بہتر ہیں۔
حدیث نمبر: 5423
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدَ، يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سفید کپڑے پہنو اور سفید کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہے اور تمہارے سرموں میں سب سے بہترین اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5423، 6072، 6073، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1312، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5128، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9344، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3878، 4061، والترمذي فى (جامعه) برقم: 994، 1757، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1472، 3497، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6051، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2075، والحميدي فى (مسنده) برقم: 530» «رقم طبعة با وزير 5399»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (82)، «المشكاة» (1638)، «مختصر الشمائل» (43 و 44 و 54).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
9. ذكر الإباحة للمرء لبس الثياب التي لها أعلام إذا كانت يسيرة لا تلهيه-
- اس باب میں ذکر ہے کہ کپڑوں پر معمولی نقش و نگار یا باریک نشان رکھنے میں کوئی حرج نہیں اگر وہ انسان کو غفلت میں نہ ڈالیں۔
حدیث نمبر: 5424
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَلَمِ فِي إِصْبَعَيْنِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو انگلیوں جتنے نشان (یعنی کپڑے پر ریشمی پٹی) لگانے کی اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5828، 5829، 5830، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2069، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5424، 5441، 5454، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5327، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4042، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1721، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2820، 3593، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4275، وأحمد فى (مسنده) برقم: 93، 248» «رقم طبعة با وزير 5400»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2684): م أتم منه، ويأتي (5417). تنبيه!! رقم (5417) = (5441) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
10. ذكر إباحة لبس المرء العمائم السود ضد قول من كرهه من المتصوفة-
- اس باب میں ذکر ہے کہ سیاہ عمامہ پہننے کی اجازت ہے، برخلاف ان صوفیوں کے قول کے جنہوں نے اسے مکروہ کہا۔
حدیث نمبر: 5425
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حَمَّادِ ابْنِ أُخْتِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1358، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3722، 5425، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2869، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4076، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1735، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1982، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2822، 3585، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6060، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15133» «رقم طبعة با وزير 5401»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (67/ 92): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم