المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ
جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا۔
حدیث نمبر: 409
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا أبو داود سليمان بن داود الطَّيالسي، حدثنا علي بن المبارَك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سَلَّام، عن جدِّه قال: حدثني الحارث الأشعَري قال: قال رسول الله ﷺ:"آمرُكم بخمس كَلِماتٍ أمرَني اللهُ بهنَّ: الجماعةِ، والسمعِ، والطاعةِ، والهجرةِ، والجهادِ في سبيل الله، فمن خَرَجَ من الجماعة قِيدَ شِبْر، فقد خَلَعَ رِبْقةَ الإسلام من رأسِه إلّا أن يَرجعَ" (1) . وهكذا رواه بطوله معاويةُ بن سَلَّام وأبَانُ بن يزيد العطَّار عن يحيى بن أبي كثير. أما حديث معاوية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 404 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 404 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: جماعت (کے ساتھ رہنا)، سننا، اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا؛ پس جو جماعت سے ایک بالشت برابر بھی نکلا، اس نے اسلام کا پٹہ اپنے سر سے اتار دیا الا یہ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر ما بعده» [ترقيم الرساله 409] [ترقيم الشركة 403] [ترقيم العلميه 404]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 410
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، أخبرنا محمد بن غالب، أنَّ حفص بن عمر العُمَري حدثهم، قال: حدثنا معاوية بن سلَّام، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني زيد بن سلَّام، أنه سمع أبا سلَّام يقول: حدثني الحارث الأشعَري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله أمَرني بخمسٍ أعملُ بهنَّ …" فذكر الحديث بطوله (2) . وأما حديث أبانَ بن يزيد عن يحيى:
حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے جن پر میں عمل کرتا ہوں...“ (پھر پوری طویل حدیث ذکر کی)۔
اسے معاویہ بن سلام اور ابان بن یزید عطار نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 410]
اسے معاویہ بن سلام اور ابان بن یزید عطار نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، حفص بن عمر العُمري هذا لعله هو حفص بن عمر بن سويد أبو عمر الخطّابي العدوي البغدادي، ترجمه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 14/ 423 - 425، والخطيب في "تاريخ بغداد" 9/ 89، وذكرا أنه روى عن معاوية بن سلام، إلّا أنهما لم يأثُرا فيه جرحًا أو تعديلًا، وباقي رجاله ثقات- وانظر ما بعده-» [ترقيم الرساله 410] [ترقيم الشركة 404]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 411
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا تَميم بن محمد، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا أبانُ بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أنَّ زيدًا حدَّثه، أنَّ أبا سلّام حدَّثه، أنَّ الحارث الأشعري حدَّثه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله أمرَ يحيى بنَ زكريا بخمسٍ فقال: تعملُ بهنَّ وأْمُرْ بني إسرائيل أن يعملوا بهنَّ" فذكر الحديث، وقال فيه:"إنَّ الله أمَرَني بخمسٍ" فذكره بطوله (1) .
هذا حديث صحيح على ما أصَّلْناه في الصحابة إذا لم نجد لهم إلّا راويًا واحدًا، فإنَّ الحارث الأشعريَّ صحابيٌّ معروف سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: الحارث الأشعريُّ له صُحْبة. ولهذه اللفظة من من الحديث شاهد عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 406 - لم يخرجاه لأن الحارث تفرد عنه أبو سلام
هذا حديث صحيح على ما أصَّلْناه في الصحابة إذا لم نجد لهم إلّا راويًا واحدًا، فإنَّ الحارث الأشعريَّ صحابيٌّ معروف سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: الحارث الأشعريُّ له صُحْبة. ولهذه اللفظة من من الحديث شاهد عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 406 - لم يخرجاه لأن الحارث تفرد عنه أبو سلام
حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کا حکم دیں...“ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مجھے بھی پانچ باتوں کا حکم دیا ہے...“ (پھر پوری طویل حدیث ذکر کی)۔
یہ حدیث ان اصولوں کے مطابق صحیح ہے جو ہم نے صحابہ کے بارے میں طے کیے ہیں کہ اگر کسی صحابی سے صرف ایک ہی راوی ملے تب بھی وہ مقبول ہے، کیونکہ حارث اشعری ایک معروف صحابی ہیں اور امام یحییٰ بن معین نے بھی ان کی صحابیت کی تصدیق کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 411]
یہ حدیث ان اصولوں کے مطابق صحیح ہے جو ہم نے صحابہ کے بارے میں طے کیے ہیں کہ اگر کسی صحابی سے صرف ایک ہی راوی ملے تب بھی وہ مقبول ہے، کیونکہ حارث اشعری ایک معروف صحابی ہیں اور امام یحییٰ بن معین نے بھی ان کی صحابیت کی تصدیق کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو سلّام: هو ممطور الحبشي جدُّ زيد بن سلّام» [ترقيم الرساله 411] [ترقيم الشركة 405] [ترقيم العلميه 406]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
44. مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا دَخَلَ النَّارَ
جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 412
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غنَّام بن حفص بن غِيَاث، حدثني أَبي، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن عاصم، عن أبي صالح، عن معاوية قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن فارق الجماعةَ شِبرًا، دَخَلَ النار" (2) . الحديث الخامس فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّة:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسلمانوں کی جماعت کو ایک بالشت کے برابر بھی چھوڑا، وہ آگ میں داخل ہوا۔“
اجماع کے حجت ہونے پر یہ پانچویں دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 412]
اجماع کے حجت ہونے پر یہ پانچویں دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة حال غنام بن حفص، وأبو بكر بن أبي دارم متكلَّم فيه- عاصم: هو ابن أبي النّجود، وأبو صالح: هو ذكوان السَّمّان، ومعاوية: هو ابن أبي سفيان-، والمحفوظ في الحديث ما أخرجه أحمد 28/ (16876) عن أسود بن عامر، وابن حبان (4573) من طريق محمد بن يزيد ...» [ترقيم الرساله 412] [ترقيم الشركة 406]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة حال غنام بن حفص
45. مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ
جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور امارت کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 413
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم الدَاربردي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدثنا القَعنَبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا القَعنَبي، حدثنا أسامة بن زيد، عن أبيه، جدّه، عن عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من فارَقَ أُمّتَه، أو عادَ أعرابيًّا بعد هجرتِه، فلا حُجَّةَ له" (1) . قد اتَّفق الشيخانٍ (2) على إخراج حديث غَيْلان بن جَرير عن زياد بن رِيَاح عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"مَن فارقَ الجماعةَ فمات مات مَوْتةً جاهليّة"، وهذا المتنُ غيرُ ذاك. الحديث السادس فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 408 - اتفقا على إخراج أبي هريرة في مثل هذا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 408 - اتفقا على إخراج أبي هريرة في مثل هذا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنی امت (کی جماعت) سے الگ ہوا، یا ہجرت کے بعد دوبارہ اعرابی (بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی) کی طرف لوٹ گیا، تو (قیامت کے دن) اس کے پاس کوئی عذر (دلیل) نہیں ہوگا۔“
شیخین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ ”جو جماعت سے الگ ہو کر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا“، مگر یہ متن اس سے مختلف ہے۔ یہ اجماع کے حجت ہونے پر چھٹی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 413]
شیخین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ ”جو جماعت سے الگ ہو کر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا“، مگر یہ متن اس سے مختلف ہے۔ یہ اجماع کے حجت ہونے پر چھٹی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أسامة بن زيد: وهو ابن أسلم العَدَوي، مولى عمر أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري، والقعنبي: هو عبد الله بن مسلمة» [ترقيم الرساله 413] [ترقيم الشركة 407] [ترقيم العلميه 408]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أسامة بن زيد: وهو ابن أسلم العَدَوي
حدیث نمبر: 414
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان القارئ، حدثنا كثير بن أبي كثير أبو النَّضْر (1) ، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش قال: أتيتُ حُذيفةَ بن اليَمَان لياليَ سارَ الناسُ إلى عثمان، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن فارَقَ الجماعةَ واستَذَلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجَّةَ له" (2) . تابعه أبو عاصم عن كَثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 409 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 409 - صحيح
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ میں ان دنوں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کے خلاف خروج) کے لیے چل پڑے تھے، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور امارت (حکومت/نظمِ ریاست) کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (اپنے بچاؤ کے لیے) کوئی دلیل نہیں ہوگی۔“
یہ اجماع کے حجت ہونے پر ساتویں دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 414]
یہ اجماع کے حجت ہونے پر ساتویں دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل كثير أبي النضر» [ترقيم الرساله 414] [ترقيم الشركة 408] [ترقيم العلميه 409]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 415
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا كَثير بن أبي كَثير، حدثني رِبْعيُّ بن حِراش: أنه أتى حذيفةَ بن اليَمَان يزورُه - وكانت أختُه تحتَ حذيفة - فقال له حذيفة: يا ربعيُّ، ما فعل قومُك؟ وذلك زمنَ خَرَجَ الناسُ إلى عثمان، قال: قد خرج منهم ناس قال: فسمَّى منهم نفرًا، فقال حذيفة: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن فارقَ الجماعةَ واستَذَلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجَّةَ له عند الله" (3) .
هذا حديث صحيح، فإنَّ كثير بن أبي كثير كوفيٌّ سكن البصرةَ، روى عنه يحيى بن سعيد القطّان وعيسى بن يونس، ولم يُذكَر بجَرْح. الحديث السابع فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّة:
هذا حديث صحيح، فإنَّ كثير بن أبي كثير كوفيٌّ سكن البصرةَ، روى عنه يحيى بن سعيد القطّان وعيسى بن يونس، ولم يُذكَر بجَرْح. الحديث السابع فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّة:
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے (حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن ربعی کے نکاح میں تھی)، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا؟ (یہ وہ وقت تھا جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نکلے تھے)، ربعی نے کہا: ان میں سے کچھ لوگ نکل کھڑے ہوئے ہیں اور چند کے نام لیے؛ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص جماعت سے جدا ہوا اور حکومت کو ذلیل سمجھا، وہ اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوگا کہ اللہ کے پاس اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح ہے، کثیر بن ابی کثیر ثقہ ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 415]
یہ حدیث صحیح ہے، کثیر بن ابی کثیر ثقہ ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كسابقه، ومحمد بن معاذ في هذه الطبقة يغلب على ظننا أنه ابن يوسف أبو بكر السلمي المروزي، وهذا قد روى عنه غير واحد من الحفّاظ كمحمد بن نصر المروزي وغيره، إلا أننا لم نقف له على ترجمة، لكنه متابع فيما يرويه من الأحاديث، فأقل أحواله أن يكون حسن الحديث ...» [ترقيم الرساله 415] [ترقيم الشركة 409]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 416
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة، أخبرني أبو هانئ، أنَّ أبا علي الجَنْبي عمرو بن مالك، حدَّثه عن فَضَالة بن عُبيد، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"ثلاثةٌ لا تَسأَل عنهم: رجل فارقَ الجماعة وعصى إمامَه فمات عاصيًا، وأَمَةٌ أو عبدٌ أَبَقَ من سيِّدِه فمات، وامرأةٌ غاب عنها زوجُها وقد كَفَاها مُوْنةَ الدنيا فتبَرَّجَت بعده؛ فلا تَسأَلْ عنهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2) ، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2) ، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں (ان کی ہلاکت کے سبب) مجھ سے نہ پوچھو (یعنی وہ برباد ہونے والے ہیں): ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہوا اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی نافرمانی کی حالت میں مر گیا؛ دوسرا وہ غلام یا لونڈی جو اپنے مالک سے بھاگ گیا اور اسی حال میں مرا؛ اور تیسری وہ عورت جس کا شوہر غائب (سفر پر) ہو اور اس نے اس کے دنیاوی اخراجات کا پورا انتظام کر رکھا ہو مگر وہ اس کے پیچھے بناؤ سنگھار کر کے (غیر مردوں کے سامنے) ظاہر ہو؛ پس ان کے بارے میں نہ پوچھو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 416]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، حيوة: هو ابن شريح، وأبو هانئ: هو حميد بن هانئ» [ترقيم الرساله 416] [ترقيم الشركة 410] [ترقيم العلميه 411]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
46. الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا
فرض نماز سے فرض نماز، جمعہ سے جمعہ، اور مہینہ سے مہینہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں۔
حدیث نمبر: 417
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن عبد الله بن السائب الأنصاري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الصلاةُ المكتوبةُ إلى الصلاة المكتوبة التي بعدها كفَّارةٌ لما بينهما، والجُمُعة إلى الجمعة، والشهرُ إلى الشهر - من شهر رمضانَ إلى شهر رمضان - كفَّارةٌ لما بينهما"، ثم قال بعد ذلك:"إلّا من ثلاث"، فعرفتُ أنَّ ذلك من أمرٍ حَدَثَ، فقال:"إلّا من الإشراك بالله، ونَكْثِ الصَّفْقة، وتَرْكِ السُّنَّة" قلت: يا رسول الله، أمّا الإشراك بالله فقد عَرَفْناه، فما نَكْثُ الصَّفْقة وتركُ السُّنّة؟ قال:"أمّا نَكْثُ الصَّفْقة: أن تبايعَ رجلًا بيمينِك، ثم تُخالِفَ إليه فتقابلَه بسيفك، وأمّا تركُ السُّنّةِ: فالخروجُ من الجماعة" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بعبد الله بن السائب بن أبي السائب الأنصاري (1) ، ولا أعرفُ له علَّةً. الحديث التاسع في أنَّ الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 412 - على شرط مسلم ولا أعرف له علة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بعبد الله بن السائب بن أبي السائب الأنصاري (1) ، ولا أعرفُ له علَّةً. الحديث التاسع في أنَّ الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 412 - على شرط مسلم ولا أعرف له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرض نماز سے دوسری فرض نماز تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ، اور ایک مہینہ (رمضان) سے دوسرا رمضان گناہوں کا کفارہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے تین گناہوں کے“، تو میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی خاص بات ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، عہد و بیعت کو توڑنا، اور سنت کو چھوڑ دینا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرک تو ہم جانتے ہیں، یہ ”عہد توڑنا“ اور ”سنت چھوڑنا“ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عہد توڑنا یہ ہے کہ تم کسی شخص (امیر) کے ہاتھ پر بیعت کرو پھر اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جاؤ، اور سنت چھوڑنا یہ ہے کہ جماعت سے نکل جاؤ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 417]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، غريب بهذا السِّياق، سعيد بن مسعود: هذا هو ابن عبد الرحمن المروزي، ذكره الخليلي في "الإرشاد في معرفة علماء الحديث" (818) ووثّقه، وترجم له الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 12/ 504 وقال: أحد الثقات، وسماه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 4/ 95 سعدًا، وقال: هو صدوق؛ ...» [ترقيم الرساله 417] [ترقيم الشركة 411] [ترقيم العلميه 412]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
47. أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ
تم ایک دوسرے پر گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 418
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا خَلّاد بن يحيى قال. وأخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا داود بن عمرو الضَّبِّي؛ قالا: حدثنا نافع بن عمر الجُمَحي، حدثنا أُميَّة بن صفوان، عن أبي بكر بن أبي زهير الثقفي، عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ بالنَّبَاءَة - أو بالنَّباوَة - يقول:"يُوشِكُ أن تَعرِفوا أهلَ الجنة من أهل النار" أو قال:"خِيارَكم من شِرَارِكم" قيل يا رسول الله، بماذا؟ قال:"بالثَّناءِ الحَسَن، والثناءِ السَّيِّئ، أنتم شهداءُ بعضُكم على بعضٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقال البخاري: أبو زهير الثقفي سمع النبيَّ ﷺ واسمه معاذ. فأما أبو بكر بن أبي زهير فمن كبار التابعين، وإسناد الحديث صحيح ولم يُخرجاه. فقد ذكرنا تسعةَ أحاديث بأسانيدَ صحيحةٍ يُستَدلُّ بها على الحُجَّة بالإجماع، واستقصيتُ فيه تحرِّيًا لمذاهب الأئمة المتقدِّمين ﵃. هذه أخبار صحيحة في الأمر بتوقير العالِم عند الاختلافِ إليه والقعودِ بين يديه، ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 413 - صحيح فَصْلٌ: فِي تَوْقِيرِ الْعَالِمِ «هَذِهِ خْبَارٌ صَحِيحَةٌ فِي الْأَمْرِ بِتَوْقِيرِ الْعَالِمِ عِنْدَ الِاخْتِلَافِ إِلَيْهِ وَالْقُعُودِ بَيْنَ يَدَيْهِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»
هذا حديث صحيح الإسناد، وقال البخاري: أبو زهير الثقفي سمع النبيَّ ﷺ واسمه معاذ. فأما أبو بكر بن أبي زهير فمن كبار التابعين، وإسناد الحديث صحيح ولم يُخرجاه. فقد ذكرنا تسعةَ أحاديث بأسانيدَ صحيحةٍ يُستَدلُّ بها على الحُجَّة بالإجماع، واستقصيتُ فيه تحرِّيًا لمذاهب الأئمة المتقدِّمين ﵃. هذه أخبار صحيحة في الأمر بتوقير العالِم عند الاختلافِ إليه والقعودِ بين يديه، ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 413 - صحيح فَصْلٌ: فِي تَوْقِيرِ الْعَالِمِ «هَذِهِ خْبَارٌ صَحِيحَةٌ فِي الْأَمْرِ بِتَوْقِيرِ الْعَالِمِ عِنْدَ الِاخْتِلَافِ إِلَيْهِ وَالْقُعُودِ بَيْنَ يَدَيْهِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»
ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد (معاذ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ نباءہ (یا نباوہ) میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم جنتیوں کو دوزخیوں سے پہچان لیا کرو گے“ یا فرمایا: ”اپنے میں سے بہتر لوگوں کو برے لوگوں سے پہچان لو گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ فرمایا: ”لوگوں کی اچھی تعریف اور بری تعریف کے ذریعے، کیونکہ تم ایک دوسرے پر (اللہ کے) گواہ ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری کے مطابق ابوزہیر (معاذ) ثقفی صحابی ہیں، اور ابوبکر بن ابی زہیر کبار تابعین میں سے ہیں۔ یہ نویں حدیث ہے جو اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 418]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری کے مطابق ابوزہیر (معاذ) ثقفی صحابی ہیں، اور ابوبکر بن ابی زہیر کبار تابعین میں سے ہیں۔ یہ نویں حدیث ہے جو اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر بن أبي زهير، فهو تابعي روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأمية بن صفوان - وهو ابن عبد الله بن صفوان بن أمية الجمحي - روى عنه جمع وذكره ابن حبان أيضًا في "الثقات"، وباقي رجاله ثقات-» [ترقيم الرساله 418] [ترقيم الشركة 412] [ترقيم العلميه 413]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره