🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ .
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گمشدہ سواری مل جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7802
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبَّار، حدثنا النَّضر بن شُميل بن خَرَشَة بن يزيد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن النُّعمان بن بَشير أنَّه سمعه يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما يسافرُ رجلٌ في أرضٍ تَنُوفةٍ فقال تحتَ شجرة، ومعه راحلتُه عليها زادُه وطعامُه، فاستيقظ وقد أفلتَتْ راحلتُه، فعَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، ثم عَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، فالتَفَتَ فإذا هو بها تَجُرُّ خِطامَها، فما هو أشدَّ فَرَحًا بها من الله بتوبةِ عبدِه إذا تابَ إليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث البراء بن عازب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7610 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی شخص کسی چٹیل اور خطرناک میدان میں سفر کر رہا ہو اور وہ کسی درخت کے سائے میں سستانے کے لیے رکے، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کا زادِ راہ اور کھانا پینا لدا ہو، پھر وہ سو کر اٹھے تو دیکھے کہ اس کی سواری غائب ہو چکی ہے، وہ (تلاش میں) کسی اونچی جگہ چڑھے مگر اسے کچھ نظر نہ آئے، پھر دوسری اونچی جگہ چڑھے وہاں بھی اسے کچھ دکھائی نہ دے، پھر وہ اچانک مڑ کر دیکھے تو وہ سواری اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہو، تو اسے اس سواری کے ملنے پر جتنی شدید خوشی ہوگی، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جب وہ اس کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7802]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه على حمّاد بن سلمة وعلى شيخه سماك بن حرب، والراجح وقفه» [ترقيم الرساله 7802] [ترقيم الشركة 7709] [ترقيم العلميه 7610]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7803
أخبرناه أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم (1) بن أبي غَرَزة، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم، قالا: حدثنا عُبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ:"كيف تقولون بفَرَح رجلٍ انفلتَتْ راحلتُه تجُرُّ زِمامَها بأرض قَفْرٍ ليس بها طعامٌ ولا شرابٌ، وعليها له طعامٌ وشرابٌ، فطَلَبها حتى شقَّ عليه، ثم مرَّتْ بجذْلِ شجرةٍ فتعلَّق زِمامُها، فوجدَها معلَّقةً به؟" قلنا: شديدٌ يا رسولَ الله، قال:"أمَا واللهِ، اللهُ أشدُّ فَرَحًا بتوبة عبدِه من الرَّجل براحلتِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7611 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی سواری کسی بیابان زمین میں جہاں نہ کھانا ہو نہ پانی، اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی بھاگ جائے جبکہ اس کا سارا کھانا پینا اسی پر لدا ہو، وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے نڈھال ہو جائے، پھر وہ سواری کسی درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی لگام وہاں پھنس جائے اور وہ اسے وہاں بندھا ہوا پا لے؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے بہت زیادہ خوشی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی اپنی سواری ملنے والی خوشی سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7803]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7803] [ترقيم الشركة 7710] [ترقيم العلميه 7611]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. النَّدَمُ تَوْبَةٌ .
ندامت (شرمندگی) ہی توبہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7804
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عبد الكريم الجَزَري، عن زياد بن أبي مريم، عن عبد الله ابن مَعْقِل قال: دخلتُ أنا وأَبي على عبد الله بن مسعود، فقال له أَبي: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول:"النَّدمُ توبةً؟" قال: نعم، أنا سمعتُه يقول:"النَّدم توبةٌ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7612 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میرے والد نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7804]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، زياد بن أبي مريم روى عنه جمع، ووثقه العجلي وابن حبان والدارقطني، فأقلُّ أحواله أن يكون حسن الحديث، لكن اختلف في إسناده على عبد الكريم الجزري، وحاصل الخلاف أنَّ جماعة رووه عن عبد الكريم فقالوا: عن زياد ابن أبي مريم» [ترقيم الرساله 7804] [ترقيم الشركة 7711] [ترقيم العلميه 7612]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7805
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان قال: سمعتُه من عبد الكريم الجَزَري يقول: أخبَرَناه زيادُ بن أبي مريم -قال: إن كان سعيدُ بن جُبير لَيستحيي أن يُحدِّث بحديثٍ وأنا جالسٌ، زيادٌ يقوله- عن عبد الله بن مَعقِل قال: دخلتُ مع أَبي على عبد الله، فقال أبي: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"النَّدم توبةٌ؟ قال: نعم، أنا سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"النَّدمُ توبةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة، إنما اتَّفقا على حديث الإفك، وقولِ رسول الله ﷺ لعائشةَ ﵂:"إنْ كنتِ بريئةً فسيُبَرِّتُكِ اللهُ، وإنْ كنتِ أَلمَمتِ بذنبٍ فاستغفرِي اللهَ وتوبي إليه، فإنَّ العبد إذا اعترف بذنبِه ثم تابَ، تاب اللهُ عليه" (1) .
سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے حدیثِ افک پر اتفاق کیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: اگر تم اس معاملے سے بَری ہو تو اللہ عنقریب تمہاری برات ظاہر فرما دے گا، اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7805]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح كسابقه» [ترقيم الرساله 7805] [ترقيم الشركة 7712]

الحكم على الحديث: حديث صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7806
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي. وحدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يحيى بن أيوب، عن حُمَيد الطَّويل، قال: قلتُ لأنس بن مالك: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول:"النَّدم توبةٌ"؟ قال: نعم (2) . و
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7614 - هذا من مناكير يحيى بن أيوب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7806]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عثمان بن صالح السهمي ويحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 7806] [ترقيم الشركة 7713] [ترقيم العلميه 7614]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. مَنْ أَلَمَّ فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ .
جس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے، اسے چاہیے کہ اللہ کے پردے میں چھپا رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7807
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أنس بن عِيَاض، عن يحيى بن سعيد، حدثني عبد الله بن دِينار، عن عبد الله بن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ قامَ بعد أن رُحِمَ الأسلميُّ فقال:"اجتَنِبُوا هذه القاذورةَ التي نهى اللهُ عنها، فمَن ألمَّ فليَستتِرْ بسَتْرِ الله، وليَتُبْ إلى الله، فإِنَّه من يُبْدِ لنا صَفْحتَه نُقِمْ عليه كتابَ الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7615 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اسلمی شخص پر رحم کیے جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ان گندگیوں (گناہوں) سے بچو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، پس جس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے پردے میں چھپا رہے اور اللہ کے حضور توبہ کرے، کیونکہ جو بھی ہمارے سامنے اپنی صورتِ حال ظاہر کرے گا (اقرارِ جرم کرے گا) تو ہم اس پر اللہ عزوجل کی کتاب (کی حد) نافذ کر دیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7807]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على يحيى بن سعيد» [ترقيم الرساله 7807] [ترقيم الشركة 7714] [ترقيم العلميه 7615]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. اسْتَقِمْ وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ .
استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو بہتر بناؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7808
حدثني محمد بن صالح بن هانئ [حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني وبشر بن سهل اللَّبّاد، قالا: حدثنا عبد الله بن صالح] (1) حدثنا حَرْملة بن عِمران التُّجِيبي، أنَّ أبا السِّمْط (2) سعيد بن أبي سعيد المَهْري حدّثه عن أبيه، عن عبد الله ابن عمرو: أنَّ معاذ بن جبل أراد سفرًا، فقال: يا رسولَ الله، أَوصِني، قال:"اعبُدِ اللهَ ولا تُشْرِكْ به شيئًا" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال:"إذا أسأتَ فأحسِنْ" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال:"استقِمْ ولتُحسِّنَ خُلُقَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7616 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی برائی ہو جائے تو (اس کے بعد) کوئی نیکی کر لیا کرو۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو عمدہ بناؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7808]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وسلف تخريجه والكلام عليه برقم (180)» [ترقيم الرساله 7808] [ترقيم الشركة 7715] [ترقيم العلميه 7616]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. خَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ .
بہترین گناہگار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7809
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا علي بن مَسْعَدة الباهلي، عن قَتَادة عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"كلُّ بني آدم خطَّاءٌ، وخيرُ الخطَّائينَ التَّوّابون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7617 - علي بن مسعدة لين
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام بنی آدم خطا کار ہیں، اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7809]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لتفرُّد علي بن مسعدة به، وهذا الرجل ليس بالقوي، ولا يقبل إلا فيما توبع عليه، وصرَّح ابن عدي بأنَّ أحاديثه ليست محفوظة، وأورد هذا الحديث منها، ونقل ابن قدامة المقدسي في العاشر من "المنتخب" (33) عن أبي عبد الله أحمد بن حنبل أنه قال الحديث: منكر» [ترقيم الرساله 7809] [ترقيم الشركة 7716] [ترقيم العلميه 7617]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7810
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزَّاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد الرازي، حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد ابن إسحاق، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، حدثني عمرو ابن العاص، أنَّه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ ابنِ آدمَ يأتي يومَ القيامة وله ذنبٌ إِلَّا ما كان من يحيى بن زكريا" قال: ثم دلى رسول الله ﷺ بيده إلى الأرض فأخذ عُوَيدًا صغيرًا، ثم قال:"وذلك أنَّه لم يكُنْ له ما للرجالِ إلَّا مثلُ هذا العُودِ، وبذلك سمَّاه الله سيِّدًا وحَصُورًا ونبيًّا من الصالحين" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7618 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر ابنِ آدم قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کر کے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی اور فرمایا: اور یہ اس لیے کہ ان کے پاس وہ (قوتِ مردمی) نہیں تھی جو مردوں کے پاس ہوتی ہے مگر صرف اس لکڑی کے برابر، اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں سید، حصور (خواہشات سے رکا ہوا) اور صالحین میں سے ایک نبی قرار دیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7810]
تخریج الحدیث: «خبر مضطرب الإسناد، رجاله لا بأس بهم، لكن اختُلف على يحيى بن سعيد ثم على سعيد ابن المسيب في رفعه ووقفه ووصله وإرساله كما سلف بيانه في الرواية (3451)» [ترقيم الرساله 7810] [ترقيم الشركة 7717] [ترقيم العلميه 7618]

الحكم على الحديث: خبر مضطرب الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. عِصْمَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ .
نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی جاہلیت کے کاموں سے عصمت (حفاظت) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7811
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبَّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن الحسن بن محمد بن علي [عن أبيه] (1) عن جدِّه عليِّ بن أبي طالب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما هَمَمْتُ بما كان أهلُ الجاهليّة يَهُمَّون به إِلَّا مَرَّتين مِن الدَّهر، كلاهما يَعصِمُني اللهُ تعالى منهما: قلتُ ليلةً لفتًى كان معي من قُريش في أعلى مكةَ في أغنامٍ لأهلِها تَرْعَى: أَبْصِرْ لي غنمي حتى أسمُرَ هذه الليلةَ بمكةَ كما يَسمُرُ الفِتيانُ، قال: نَعَمْ، فخرجتُ، فلما جئتُ أدنَى دارٍ من دُور مكةَ، سمعتُ غِناءً وصوت دُفوف وزَمِيرًا، فقلتُ: ما هذا؟ قالوا: فلانٌ تزوَّج فلانةَ؛ لرجل من قريش تزوَّج امرأةً، فلَهَوتُ بذلك الغِناء (2) وذلك الصوتِ حتى غَلَبَتْني عَيْني، فنمتُ فما أيقَظَني إلَّا مسُّ الشَّمس، فرجعتُ فسمعتُ مثلَ ذلك، فقيل لي مثلُ ما قيل لي، فلهوتُ بما سمعتُ [حتى] غلبَتْني عيني، فما أيقَظَني إلَّا مَسُّ الشَّمس، ثم رجعتُ إلى صاحبي، فقال: ما فعلتَ؟ فقلتُ: ما فعلتُ شيئًا" قال رسولُ الله ﷺ:"فوالله ما هَمَمتُ بعدَها بسوءٍ ممّا يَعمَلُ أهلُ الجاهلية حتى أكرَمَني اللهُ تعالى بنُبوّتِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7619 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں والے کاموں کا کبھی ارادہ نہیں کیا سوائے زندگی میں دو مرتبہ کے، اور ان دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے محفوظ رکھا۔ ایک رات میں نے قریش کے ایک نوجوان سے، جو مکہ کے بالائی علاقے میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرانے میں میرے ساتھ تھا، کہا: میری بکریوں کی نگرانی کرنا تاکہ میں آج کی رات مکہ میں جا کر اسی طرح قصہ گوئی کی محفلوں میں شرکت کروں جیسے دوسرے نوجوان کرتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میں نکلا۔ جب میں مکہ کے سب سے قریبی گھر کے پاس پہنچا تو میں نے گانے بجانے، دف کی آواز اور بانسری کے سر سنے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: قریش کے ایک شخص کی فلاں عورت سے شادی ہو رہی ہے۔ میں اس گانے اور آواز کی محفل میں مگن ہو گیا یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، مجھے سورج کی حدت نے ہی بیدار کیا۔ میں (اگلے دن) واپس گیا تو میں نے پھر ویسے ہی آوازیں سنیں اور مجھے ویسا ہی بتایا گیا، میں پھر اسے سننے میں مشغول ہوا یہاں تک کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے سورج کی گرمی نے ہی جگایا۔ پھر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس پہنچا تو اس نے پوچھا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی اہل جاہلیت والے کسی برے کام کا ارادہ نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7811]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق» [ترقيم الرساله 7811] [ترقيم الشركة 7718] [ترقيم العلميه 7619]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں