المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. ذِكْرُ مِائَةِ رَحْمَةٍ لِلَّهِ وَتَقْسِيمِهَا .
اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 7822
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2) ، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟" قالوا: بلى، قال:"لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہنے لگا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحم فرما اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات، جنات، انسان اور چوپائے آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس محفوظ ہیں، (اب بتاؤ) یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7822]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7822]
تخریج الحدیث: «إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188)» [ترقيم الرساله 7822] [ترقيم الشركة 7729] [ترقيم العلميه 7630]
الحكم على الحديث: إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب
16. ارْحَمْ مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ .
تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
حدیث نمبر: 7823
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الشَّيباني، حَدَّثَنَا علي بن الحسن الهِلالي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن إبراهيم، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"ارحَمْ مَن فِي الأَرْضِ يَرحَمْكَ مَن في السَّماء" (4)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7631 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7631 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زمین والوں پر رحم کرو، وہ جو آسمان میں ہے تم پر رحم فرمائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7823]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7823]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو عبيدة» [ترقيم الرساله 7823] [ترقيم الشركة 7730] [ترقيم العلميه 7631]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7824
أخبرني إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم العَدْل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن أبي عثمان، عن أبي هريرة قال: قال خَليلي وصَفِيِّي صاحبُ هذه الحُجْرة ﷺ:"ما نُزِعَتِ الرَّحمةُ إِلَّا مِن شَقِيٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل اور برگزیدہ دوست، اس حجرے کے مالک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمت صرف بدبخت کے دل سے ہی نکالی جاتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ ابو عثمان، مغیرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں نہ کہ نہدی، اگر یہ نہدی ہوتے تو میں اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7824]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ ابو عثمان، مغیرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں نہ کہ نہدی، اگر یہ نہدی ہوتے تو میں اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7824]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي عثمان: وهو التَّبان» [ترقيم الرساله 7824] [ترقيم الشركة 7731] [ترقيم العلميه 7632]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
17. مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ مَا يَغْلِبُهُ .
اللہ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کے لیے اسے مغلوب کرنے والی چیز پیدا نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7825
أخبرني الحسين بن علي الدَّارمي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا عمر بن حفص الشَّيْباني، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحيم بن كَرْدَم بن أَرطَبَانَ ابْنُ عَمِّ ابن عَون، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"ما خلقَ اللهُ من شيء إلَّا وقد خَلَقَ له ما يَغلِبُه، وخلق رحمتَه تَغلِبُ غضبَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے اس کے لیے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو اس پر غالب آ جائے، اور اس نے اپنی رحمت کو پیدا کیا جو اس کے غضب پر غالب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7825]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7825]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الرحيم بن كردم روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: كان يخطئ، وقال أبو أحمد الحاكم: لا يتابع على حديثه، وقال أبو حاتم: مجهول! وقد خالفه معمر فرواه في "جامعه" (21017)، وعنه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 354» [ترقيم الرساله 7825] [ترقيم الشركة 7732] [ترقيم العلميه 7633]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7826
أخبرنا أبو علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي، حَدَّثَنَا يحيى بن حَكيم، حَدَّثَنَا خالد بن الحارث، حَدَّثَنَا شُعبة، أخبرني عَدِيُّ بن ثابت وعطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس - قال شعبةُ: ذكرَ أحدُهما عن رسول الله ﷺ - قال:"إنَّ جبريلَ ﵇ جعلَ يَدُسُّ في فَمِ فرعونَ الطِّينَ خَشْيةَ أن يقولَ: لا إله إلَّا الله، فيرَحِمَهُ اللهُ ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث علي بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7634 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث علي بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7634 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں اس خوف سے مٹی بھرنے لگے کہ کہیں وہ ”لا الہ الا اللہ“ نہ کہہ دے اور اللہ عزوجل اس پر رحم فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7826]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7826]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا كما سلف بيانه وتخريجه برقم (189) و (190)» [ترقيم الرساله 7826] [ترقيم الشركة 7733] [ترقيم العلميه 7634]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفً
حدیث نمبر: 7827
أخبرَناه الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس: أنَّ جبريلَ ﵇ قال للنبيِّ ﷺ: لو رأيتَني وأنا آخُذُ من حالِ البحرِ فأدُسُّه في فِي فِرعونَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کاش آپ مجھے دیکھتے جب میں سمندر کی سیاہ مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7827]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل علي بن زيد: وهو ابن جُدعان» [ترقيم الرساله 7827] [ترقيم الشركة 7734] [ترقيم العلميه 7635]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
18. مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ .
جس کے حساب میں جرح (بحث) کی گئی وہ ہلاک ہو گیا
حدیث نمبر: 7828
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة الدمشقي، حَدَّثَنَا أحمد بن خالد الوَهْبي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاتِه:"اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا"، فلما انصرف قلتُ: يا رسولَ الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال:"يُنظَرُ في كتابِه ويُتجاوَزُ له عنه، إنه من نُوقِشَ الحسابَ يا عائشةُ هَلَكَ، وكلُّ ما يُصيبُ المؤمنَ كَفَّرَ اللهُ عنه حتَّى الشوكةُ تَشُوكُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کسی نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! میرا حساب آسانی کے ساتھ لینا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کیا جائے گا، اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ تو ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7828]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7828]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة دعائه في الصلاة بـ "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا" فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191)» [ترقيم الرساله 7828] [ترقيم الشركة 7735] [ترقيم العلميه 7636]
الحكم على الحديث: حديث صحيح د
19. حِكَايَةُ عَابِدٍ عَبَدَ اللَّهَ خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ فَتُوُفِّيَ سَاجِدًا .
ایک عابد کا قصہ جس نے پانچ سو سال اللہ کی عبادت کی اور سجدے کی حالت میں فوت ہوا
حدیث نمبر: 7829
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح المصري، حَدَّثَنَا سليمان بن هَرِمٍ القرشي. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكير، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن سليمان بن هَرِم، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: خرجَ علينا النَّبِيُّ ﷺ فقال:"خَرَجَ من عندي خَليلي جبريلُ آنفًا، فقال: يا محمدُ، والذي بعثَك بالحقِّ، إِنَّ الله عبدًا من عَبيدِه عَبَدَ الله تعالى خمسَ مئةِ سنةٍ على رأس جبلٍ في البَحْر، عَرْضُه وطولُه ثلاثون ذِراعًا في ثلاثين ذِراعًا، والبحرُ محيطٌ به أربعةُ آلافِ فَرْسخٍ من كلِّ ناحية، وأخرجَ الله تعالى له عَينًا عَذْبةً بِعَرْضِ الإصبَع تَبِضُّ بماءٍ عَذْب، فتستنقِعُ في أسفل الجبل، وشجرةَ (2) رمَّانٍ تُخرِج له كلَّ ليلة رُمَّانةً فتُغذِّيه يومَه، فإذا أمسى نزلَ فأصاب من الوَضُوء، وأخذ تلك الرُّمانةَ فأكلَها، ثم قامَ لصلاتِه، فسأل ربَّه ﷿ عندَ وقتِ الأجَلِ أن يَقبِضَه ساجدًا، وأن لا يجعلَ للأرض ولا لشيء يُفسِده عليه سبيلًا حتَّى يَبعثَه وهو ساجد. قال: ففعل، فنحن نمرُّ عليه إذا هَبَطْنا وإذا عَرَجْنا، فنجدُ له في العِلْم أَن يُبعَثَ يومَ القيامة فيُوقفَ بين يدي الله ﷿، فيقول له الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةِ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الله ﷿ للملائكة: قايِسُوا عبدي بنِعمتي عليه وبعملِه، فتُوجَدُ نعمةُ البَصَر قد أحاطَتْ بعبادة خمسِ مئة سنةٍ، وبقيَت نعمةُ الجسد فضلًا عليه، فيقولُ: أَدخِلوا عبدي النَّار، قال: فيُجَرُّ (1) إلى النار، فينادي: ربِّ برحمتِكَ أدخِلني الجنَّةَ، فيقول: رُدُّوه، فيقفُ بين يديه، فيقول: يا عبدي، مَن خلقَك ولم تكُ شيئًا؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فيقول: كان ذلك من قِبَلِك أو برحمتي؟ فيقول: بل برحمتِكَ، فيقول: مَن قَوَّاك لعبادة خمسِ مئة عام؟ فيقول: أنت يا ربِّ، فيقول: مَن أنزلَك في جبل وَسَطَ اللُّجَّة، وأخرجَ لك الماءَ العَذْبَ من الماء المالح، وأخرجَ لك كلَّ ليلةٍ رُمَّانةً وإنما تخرُجُ مرةً في السَّنة، وسألتَني أن أقبضِكَ ساجدًا، ففعلتُ ذلك بك؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فقال الله ﷿: فذلك برحمتي، وبرحمتي أُدخِلُك الجنَّةَ، أَدِخلوا عبدي الجنَّةَ، فنِعْمَ العبدُ كنتَ يا عبدي، فيُدخِله اللهُ الجنَّةَ، قال جِبريلُ ﵇: إنما الأشياءُ برحمةِ الله تعالى يا محمدُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”ابھی ابھی میرے پاس میرے جگری دوست جبریل علیہ السلام آئے تھے، انہوں نے کہا: اے محمد! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ تھا جس نے پانچ سو سال تک سمندر کے بیچ ایک پہاڑ کی چوٹی پر اللہ کی عبادت کی، جس کی چوڑائی اور لمبائی تیس تیس ہاتھ تھی، اور اس کے چاروں طرف چار چار ہزار فرسخ تک سمندر ہی سمندر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے انگلی کے برابر میٹھے پانی کا ایک چشمہ جاری کر رکھا تھا جس سے میٹھا پانی رستا رہتا اور پہاڑ کے دامن میں جمع ہو جاتا، اور انار کا ایک درخت تھا جو اسے ہر رات ایک انار دیتا جس سے وہ دن بھر اپنی غذا پوری کرتا۔ جب شام ہوتی تو وہ نیچے اتر کر وضو کرتا، وہ انار توڑ کر کھاتا اور پھر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا۔ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے رب سے یہ سوال کیا کہ وہ اسے سجدے کی حالت میں موت دے، اور زمین یا کسی دوسری چیز کو اسے خراب کرنے کا موقع نہ دے یہاں تک کہ وہ سجدے ہی کی حالت میں اٹھایا جائے۔“ (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: ”اللہ نے ایسا ہی کیا، چنانچہ جب ہم زمین پر اترتے ہیں یا آسمان پر چڑھتے ہیں تو اس کے پاس سے گزرتے ہیں۔ ہمیں علم الہیٰ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب اسے اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت کے ساتھ جنت میں لے جاؤ۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! بلکہ میرے عمل کے بدلے۔ تب اللہ فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں داخل کرو۔ وہ پھر کہے گا: اے میرے رب! بلکہ میرے عمل کی وجہ سے۔ تب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا: میرے بندے کی نعمتوں اور اس کے عمل کا موازنہ کرو۔ چنانچہ جب موازنہ کیا جائے گا تو صرف آنکھ کی بینائی کی ایک نعمت ہی اس کی پانچ سو سال کی عبادت پر بھاری نکلے گی اور ابھی پورے جسم کی نعمتیں تو زائد باقی رہ جائیں گی۔ تب اللہ فرمائے گا: میرے بندے کو جہنم میں لے جاؤ۔ اسے جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا تو وہ پکار اٹھے گا: اے میرے رب! اپنی رحمت کے طفیل مجھے جنت میں داخل فرما۔ اللہ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ۔ پھر وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا تو اللہ فرمائے گا: اے میرے بندے! تجھے کس نے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے۔ اللہ فرمائے گا: کیا یہ تیری طرف سے تھا یا میری رحمت سے؟ وہ عرض کرے گا: بلکہ تیری رحمت سے۔ اللہ فرمائے گا: تجھے پانچ سو سال تک عبادت کی قوت کس نے دی؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تو نے۔ اللہ فرمائے گا: تجھے گہرے سمندر کے بیچ پہاڑ پر کس نے اتارا؟ تیرے لیے کڑوے (کھارے) پانی سے میٹھا پانی کس نے نکالا؟ اور تیرے لیے ہر رات انار کس نے پیدا کیا جب کہ وہ سال میں صرف ایک بار اگتا ہے؟ اور تو نے مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ میں تجھے سجدے کی حالت میں موت دوں تو میں نے تیرے ساتھ ویسا ہی کیا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تو ہی (کرنے والا ہے)۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو یہ سب میری رحمت سے ہوا، اور اب میری ہی رحمت سے میں تجھے جنت میں داخل کروں گا، میرے بندے کو جنت میں لے جاؤ، تم بہت اچھے بندے تھے۔ پھر اللہ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: ”اے محمد! تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے وابستہ ہیں۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، کیونکہ سلیمان بن ہرم العابد اہل شام کے زاہدین میں سے ہیں اور لیث بن سعد مجہول راویوں سے روایت نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7829]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، کیونکہ سلیمان بن ہرم العابد اہل شام کے زاہدین میں سے ہیں اور لیث بن سعد مجہول راویوں سے روایت نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7829]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل سليمان بن هرم، قال العقيلي: مجهول في الرواية حديثه غير محفوظ، وقال الأزدي: لا يصح حديثه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص" وفي "ميزان الاعتدال"» [ترقيم الرساله 7829] [ترقيم الشركة 7736] [ترقيم العلميه 7637]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف من أجل سليمان بن هرم
20. مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ .
جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا اور اس کے لیے جنت واجب ہو گئی
حدیث نمبر: 7830
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حَدَّثَنَا الحسن بن أحمد بن الليث، حَدَّثَنَا أحمد بن [أبي] سُرَيج (1) ، أخبرنا عمر (2) بن يونس اليَمَامي، حَدَّثَنَا يحيى بن شُعْبة بن يزيد، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري، عن أبيه، عن جدِّه، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال: لا إله إلَّا اللهُ، دخلَ الجنَّةَ - أو وَجَبَتْ له الجنَّةُ -. ومَن قال: سبحانَ الله وبحمدِه مئةَ [مرّة، كَتَبَ اللهُ له مئةَ] (3) ألفَ حسنةٍ وأربعًا وعشرين ألفَ حسنةً" قالوا: يا رسولَ الله، إذًا لا يَهلِكَ منا أحدٌ! قال:"بلى إنَّ أحدَكم لَيجيءُ بالحسناتِ لو وُضِعتْ على جبلٍ أثقَلَته، ثم [تجيءُ] (4) النِّعَمُ فتذهبُ بتلك، ثم يتطاولُ الربُّ بعد ذلك برحمتِه" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ لحديث سليمان بن هَرِم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7638 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ لحديث سليمان بن هَرِم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7638 - صحيح
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کہا، وہ جنت میں داخل ہو گیا - یا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی - اور جس نے سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» کہا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو ہم میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوگا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، (سنو!) تم میں سے ایک شخص اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ اگر وہ کسی پہاڑ پر رکھ دی جائیں تو اسے بوجھل کر دیں، پھر اللہ کی نعمتیں آئیں گی اور وہ ان نیکیوں کو لے جائیں گی (یعنی ان کے مقابلے میں آ جائیں گی)، پھر اس کے بعد رب اپنی رحمت سے اسے نوازے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور سلیمان بن ہرم کی حدیث کے لیے شاہد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7830]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور سلیمان بن ہرم کی حدیث کے لیے شاہد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7830]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يحيى بن شعبة بن يزيد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات" 9/ 253، وتحرَّف فيه شعبة إلى: سعيد، ولم يذكر في الرواة عنه غير عمر بن يونس اليمامي، وقد روى عنه آخر عند الطبراني في "الكبير" (4726)، فهو مجهول الحال» [ترقيم الرساله 7830] [ترقيم الشركة 7737] [ترقيم العلميه 7638]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
21. الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ .
عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے
حدیث نمبر: 7831
أخبرنا أبو العباس السَّيَّاري، حَدَّثَنَا أبو المُوجَّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو بكر بن أبي مريم الغسَّاني، عن ضَمْرة بن حَبيب، عن شدَّاد بن أَوس قال: قال رسول الله ﷺ:"الكَيِّسُ مَن دانَ نفسَه وعَمِلَ لما بعدَ الموت، والعاجزُ من أتْبعَ نفسَه هواها، وتَمَنَّى على الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7639 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7639 - صحيح
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز و نادان وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ عزوجل سے محض امیدیں وابستہ کر لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7831]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7831]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم» [ترقيم الرساله 7831] [ترقيم الشركة 7738] [ترقيم العلميه 7639]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف