المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. حِكَايَةُ حُمَّرَةٍ شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ عِنْدَ فَقْدِ فَرْخَيْهِ .
ایک چڑیا کا قصہ جس نے اپنے بچے چھن جانے پر نبی کریم ﷺ سے شکایت کی
حدیث نمبر: 7792
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن مُرَي بن قَطَري، عن عَدِيِّ بن حاتم قال: قلت: يا رسولَ الله، إِنَّا نَصيدُ الصيدَ فلا نجدُ سِكّينًا إِلَّا الظَّرَارَ (1) وشِقَّةَ العصا، فقال:"أمِرَّ الدَّمَ بما شِئتَ، واذكر اسم الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شکار کرتے ہیں تو ہمیں چھری نہیں ملتی سوائے تیز دھار پتھر یا لکڑی کے ٹکڑے کے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس چیز سے چاہو خون بہا دو (یعنی ذبح کر لو) اور اللہ عزوجل کا نام لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب الذبائح یہاں مکمل ہوئی، اب کتاب التوبہ والانابہ شروع ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7792]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب الذبائح یہاں مکمل ہوئی، اب کتاب التوبہ والانابہ شروع ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7792]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 7792] [ترقيم الشركة 7699] [ترقيم العلميه 7600]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
1. باب:
باب:
حدیث نمبر: 7793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أفتَفعَلون؟" قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال:"إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو صفا پہاڑ سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7793]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7793]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7793] [ترقيم الشركة 7700] [ترقيم العلميه 7601]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُهُ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ .
انسان کی خوش بختی یہ ہے کہ اس کی عمر طویل ہو اور اللہ اسے رجوع و انابت کی توفیق دے
حدیث نمبر: 7794
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا كَثير بن زيد، حدثنا الحارث بن أبي يزيد، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله: [سمعت رسول الله ﷺ] (3) يقول:"إنَّ من سَعادةِ المرءِ أنْ يَطُولَ عُمُرُه ويرزقَه الله الإنابةَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7602 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7602 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی کی خوش بختی میں سے یہ ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اللہ اسے اپنی طرف رجوع (توبہ) کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7794]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7794]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، إسحاق بن محمد الفروي ليِّن لكنه متابع، وكثير بن زيد ليس بذاك القوي لكن حديثه يحتمل التحسين، والحارث بن أبي يزيد» [ترقيم الرساله 7794] [ترقيم الشركة 7701] [ترقيم العلميه 7602]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3. إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ .
اللہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا اللہ کی عبادت کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 7795
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن الغاز، عن حَيَّان أبي النَّضر أنه حدّثه قال: سمعتُ واثلةَ بن الأسقع يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﵎: أنا عندَ ظَنِّ عبدي بي، فليَظُنَّ بي ما شاءَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7603 - صحيح وعلى شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7603 - صحيح وعلى شرط مسلم
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ میرے بارے میں رکھتا ہے، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7795]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7795]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك» [ترقيم الرساله 7795] [ترقيم الشركة 7702] [ترقيم العلميه 7603]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7796
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي وأبو مسلم، قالا: حدثنا حجَّاجُ بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، محمد بن واسع، عن شُتَير بن نَهَار، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بالله تعالى من حُسْن عبادةِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا اللہ کی بہترین عبادت میں سے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7796]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7796]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرد شتير بن نهار» [ترقيم الرساله 7796] [ترقيم الشركة 7703] [ترقيم العلميه 7604]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7797
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى ابن أبي مَسَرَّة (1) ، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا همَّام بن يحيى، عن عاصم، عن المَعْرور بن سُوَيد، أنَّ أبا ذرٍّ قال: حدثنا الصادقُ المصدوقُ ﷺ فيما يروي عن ربِّه ﵎ أنه قال:"الحَسَنةُ بعَشْر أمثالِها أو أَزِيدُ، والسيئةُ واحدةٌ أو أغفِرُها. ولو لَقِيتَني بقُرَابِ الأرض خطايا ما لم تُشرِكْ بي، لَقِيتُك بقُرَابها مغفرةً" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7605 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7605 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”نیکی کا بدلہ دس گنا ہے یا میں اس سے بھی زیادہ کر دوں گا، اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر ایک گناہ ہے یا میں اسے معاف کر دوں گا۔ اور اگر تم مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملو بشرطیکہ تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تم سے اتنی ہی بڑی مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7797]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7797]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 7797] [ترقيم الشركة 7704] [ترقيم العلميه 7605]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
4. قَالَ اللَّهُ لَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً .
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے، بشرطیکہ شرک نہ کیا ہو، تو میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا
حدیث نمبر: 7798
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِرَاس المكي الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا يزيد بن عبد الصمد الدِّمشقي، حدثنا أبو مُسهر عبد الأعلى بن مُسهِر، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي ذرٍّ، عن رسول الله ﷺ، عن الله ﵎ أنه قال:"يا عبادي، إنَّكم الذين تُخطئِون بالليل والنهار، وأنا الذي أغفِرُ الذنوبَ ولا أبالي، فاستغفِرُوني أغفِرْ لكم. يا عبادي، كلُّكم جائعٌ إلَّا من أطعمتُ، فاستَطعمِوني أُطعِمْكم. يا عبادي، كلُّكم عارٍ إِلَّا من كَسَوتُ، فاستَكسُوني أَكسُكُمْ. يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أتقى قلبِ رجلٍ منكم، لم يَزِدْ ذلك في مُلْكي شيئًا، يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أفجَرِ قلبِ رجلٍ منكم، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكي شيئًا، يا عبادي لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم اجتَمَعوا في صعيدٍ واحدٍ فسألوني، فأعطيتُ (1) كلَّ إنسان منهم ما سألَ، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكى شيئًا إلَّا كما يَنقُصُ البحرُ إِنْ يُعْمَسُ فيه المِخيَطُ غَمسةً واحدةً. يا عبادي، إنَّما هي أعمالُكم أحفَظُها عليكم، فمن وَجَدَ خيرًا فليَحمَدِ اللهَ تعالى، ومن وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلَّا نفسَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل سے روایت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے میرے بندو! تم لوگ رات اور دن گناہ کرتے ہو، اور میں وہ ہوں جو تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہوں اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، پس تم مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، پس تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اولین اور آخرین، اور تمہارے انسان اور جن، تم میں سے کسی ایک سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کے دل کی طرح (متقی) ہو جائیں، تو یہ میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اولین اور آخرین، اور تمہارے انسان اور جن، تم میں سے کسی ایک سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل کی طرح ہو جائیں، تو یہ میری بادشاہت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کرے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اولین اور آخرین، اور تمہارے انسان اور جن، ایک ہی میدان میں جمع ہو جائیں اور مجھ سے سوال کریں، اور میں ہر انسان کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں، تو یہ میرے پاس موجود خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں کرے گا جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سے اس کے پانی میں آتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جنہیں میں تمہارے لیے محفوظ کر رہا ہوں، پس جو شخص (جزا میں) بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، اور جو اس کے علاوہ کچھ اور پائے تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7798]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7798]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7798] [ترقيم الشركة 7705] [ترقيم العلميه 7606]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
5. دَوَاءُ الذُّنُوبِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - .
گناہوں کی دوا اللہ عزوجل سے استغفار کرنا ہے
حدیث نمبر: 7799
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن بشر بن مَطَر، حدثنا خالد بن خِدَاش الزَّهْراني، حدثنا بشَّار بن الحَكَم، عن ثابت البُناني، عن أنس ابن مالك: أنَّ أبا ذرٍّ الغِفاري بالَ قائمًا، فانتَضَحَ من بَوْلِه على ساقَيْه وقَدَمَيه، فقال له رجلٌ: إنه قد أصابَ من بولك قدمَيْك وساقَيْك، فلم يَرُدَّ عليه شيئًا حتى انتهى إلى دار قوم، فاستوهبهم طَهُورًا، فأخرجوا إليه، فتوضأ وغَسَلَ ساقيه وقَدَميه، ثم أقبلَ على الرَّجل، فقال: ماذا قلتَ؟ فقال: أمَّا الآنَ فقد فعلت فقال أبو ذرٍّ: هذا دواءُ هذا، دواءُ الذُّنوب أن تستغفرَ الله ﷿ (1) . هذا وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح عن أنس عن أبي ذر، وهذا موضعُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو ان کے پیشاب کے کچھ چھینٹے ان کی پنڈلیوں اور قدموں پر پڑ گئے، ایک شخص نے ان سے کہا کہ آپ کے پیشاب کے چھینٹے آپ کے قدموں اور پنڈلیوں پر لگ گئے ہیں، انہوں نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ ایک قوم کے گھر پہنچے اور ان سے وضو کا پانی مانگا، انہوں نے پانی پیش کیا تو انہوں نے وضو کیا اور اپنی پنڈلیاں اور قدم دھوئے، پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: اب تو آپ نے (دھو کر) وہ کام کر لیا ہے، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس (ظاہری ناپاکی) کا علاج یہی ہے، اور گناہوں کا علاج یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کرو۔“
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی سند سیدنا انس سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے، اور یہی اس کا (مناسب) مقام ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7799]
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی سند سیدنا انس سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے، اور یہی اس کا (مناسب) مقام ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7799]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، من أجل بشار بن الحكم» [ترقيم الرساله 7799] [ترقيم الشركة 7706] [ترقيم العلميه 7607]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 7800
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے سے گناہ سرزد ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب نے فرمایا: میرے بندے کو یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، چنانچہ اللہ نے اسے معاف کر دیا، پھر وہ جب تک اللہ نے چاہا (گناہوں سے) رکا رہا، پھر اس سے دوبارہ کوئی گناہ ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب عزوجل نے فرمایا: میرے بندے کو علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا، اب وہ جو چاہے کرے، پھر اس نے تیسری بار گناہ کیا اور عرض کیا: رب! میرا گناہ معاف کر دے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (اے بندے!) تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7800]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7800] [ترقيم الشركة 7707] [ترقيم العلميه 7608]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7801
حدثنا علي بن حَمشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جابر بن مرزوق المكيّ، عن عبد الله بن عبد العزيز بن عبد الله ابن عمر بن الخطّاب، عن أبي طُوَالة، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أذنب ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا إن شاء أن يغفرَه له غفرَه له، وإنْ شاءَ عذَّبَه، كان حقًّا على الله أن يَغْفِرَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کوئی گناہ ہوا اور اسے یہ علم ہو کہ اس کا ایک رب ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر یہ حق ہے کہ وہ اسے معاف فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7801]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7801]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا،، ومتنه منكر كما قال الذهبي، جابر بن مرزوق المكي هو الجُدِّي جهّله أبو حاتم، وقال ابن حبان في "المجروحين": يأتي بما لا يشبه حديث الثقات الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به» [ترقيم الرساله 7801] [ترقيم الشركة 7708] [ترقيم العلميه 7609]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا