المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ
جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا
حدیث نمبر: 8050
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدْل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا عمرو بن أبي عمرو، عن المطَّلِب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن أبي موسى الأشعري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن أحبَّ دُنياه أضرَّ بآخرتِه، ومن أحبَّ آخرتَه أضرَّ بدُنياه، فأثِرُوا (2) ما يبقى على ما يَفنَى" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7853 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7853 - فيه انقطاع
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا، اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، پس تم باقی رہنے والی چیز (آخرت) کو اس چیز (دنیا) پر ترجیح دو جو فنا ہونے والی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8050]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8050]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبد الله بن حنطب لم يسمع من أبي موسى الأشعري» [ترقيم الرساله 8050] [ترقيم الشركة 7952] [ترقيم العلميه 7853]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
6. الْأَمْرَاضُ كَفَّارَاتٌ
بیماریاں (گناہوں کا) کفارہ بن جاتی ہیں
حدیث نمبر: 8051
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد عن سعد (1) بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن زينب بنت كعب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رجلٌ: يا رسولَ الله [أرأيتَ هذه الأمراض التي تُصيبُنا، ماذا لنا بها؟ قال:"كفَّاراتٌ"، فقال أبي بن كعب: يا رسولَ الله] (2) وإِن قَلَّتْ؟ قال:"شَوكةٌ فما فوقَها". قال: فدعا أبيٌّ على نفسه أن لا يُفارِقَه الوعكُ حتى يموت بعد أن لا يشغلُه عن حجٍّ ولا عُمرة، ولا جهاد في سبيل الله ﷿، ولا صلاةٍ مكتوبة في جماعة، قال: فما مسَّ رجلٌ جلدَه بعدها إلَّا وجدَ حرَّها حتى مات (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان بیماریوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بدلے ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اگرچہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ کانٹا چبھنا ہو یا اس سے بڑھ کر۔“ (یہ سن کر) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں یہ دعا مانگی کہ انہیں موت تک بخار نہ چھوڑے بشرطیکہ وہ بخار انہیں حج، عمرہ، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرض نماز سے نہ روکے، چنانچہ اس کے بعد (بخار کی شدت کی وجہ سے) جب بھی کوئی شخص ان کے بدن کو چھوتا تو اس کی تپش محسوس کرتا تھا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8051]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8051]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل زينب بنت كعب، فقد روى عنها اثنان وذكرها ابن حبان في "الثقات"، وهي زوجة أبي سعيد صحابي الحديث، كما أن سعد بن إسحاق الراوي عنها هو ابن أخيها» [ترقيم الرساله 8051] [ترقيم الشركة 7953] [ترقيم العلميه 7854]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل زينب بنت كعب
7. إِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ يُكْتَبُ عَمَلُهُ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
جب مومن بیمار ہوتا ہے تو اس کے (نیک) اعمال لکھے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے یا وفات پا جائے
حدیث نمبر: 8052
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) ، المروزي، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني رِشْدين، عن عمرو بن الحارث، أخبرني يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ أبا الخير حدَّثه، أنه سمع عُقبة بن عامر الجُهَني يُحدِّث عن النبيِّ ﷺ قال:"ليسَ من عمل يوم إلَّا وهو يُختَمُ عليه، فإذا مَرِضَ المؤمنُ قالت الملائكةُ: يا ربَّنا، عبدُك فلانٌ قد حَبَسته، فيقول الربُّ: اختِمُوا له على مثلِ عملِه حتى يَبْرأ أو يموتَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7855 - رشدين واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7855 - رشدين واه
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دن کا عمل (شام کو) سربمہر کر دیا جاتا ہے، پس جب مومن بیمار ہوتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! آپ نے اپنے فلاں بندے کو (بیماری کے ذریعے) روک لیا ہے، تو رب کریم فرماتا ہے: اس کے لیے ویسا ہی عمل لکھ کر مہر لگا دو جیسا وہ (تندرستی میں) کیا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے یا وفات پا جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8052]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8052]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل رشدين» [ترقيم الرساله 8052] [ترقيم الشركة 7954] [ترقيم العلميه 7855]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8053
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا عبد الله بن ناجيَةَ، حدثنا عُبيد الله بن عمر، القَوَاريري، حدثنا عبدُ الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الواحد بن زيد، حدثني أسلم الكوفي، عن مُرَّة، الطيِّب عن زيد بن أرقَم قال: كُنَّا مع أبي بكر الصدِّيق فدَعَا بشراب، فأُتِيَ بماء وعَسَل، فلما أدْناه من فيهِ بكى وبكى حتى أبكى أصحابَه، فسكتوا وما سكتَ، ثم عاد فبكى حتى ظنُّوا أنهم لن يَقِدروا على مسألته، قال: ثم مَسَحَ عينيه، فقالوا: يا خليفةَ رسولِ الله ما أبكاكَ؟ قال: كنتُ مع رسولَ الله ﷺ فرأيتُه يَدفَعُ عن نفسه شيئًا، ولم أرَ معه أحدًا، فقلت: يا رسولَ الله، ما الذي تَدفَعُ عن نفسِك؟ قال:"هذه الدنيا مُثِّلتْ لي، فقلت لها: إليكِ عني، ثم رَجَعَتْ، فقالت: إن أفلَتَّ مني، فلن يَنفلِتَ منّي مَن بعدَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7856 - عبد الصمد تركه البخاري وغيره
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7856 - عبد الصمد تركه البخاري وغيره
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے پینے کے لیے کچھ منگوایا، ان کی خدمت میں شہد ملا ہوا پانی پیش کیا گیا، جب انہوں نے اسے اپنے منہ کے قریب کیا تو وہ اس قدر روئے کہ اپنے ساتھیوں کو بھی رلا دیا، پھر سب خاموش ہو گئے مگر ان کا رونا بند نہ ہوا، وہ دوبارہ اس قدر روئے کہ ساتھیوں کو گمان ہوا کہ شاید اب وہ ان سے کچھ پوچھ نہ سکیں گے، پھر انہوں نے اپنی آنکھیں پونچھیں، لوگوں نے عرض کی: اے خلیفہ رسول! آپ کس بات پر روئے؟ انہوں نے فرمایا: میں (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کسی چیز کو ہٹا رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی دوسرا موجود نہ تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنے آپ سے کس چیز کو دور فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا میرے سامنے ایک صورت بنا کر پیش کی گئی تھی تو میں نے اسے کہا: مجھ سے دور ہو جا، پھر وہ واپس پلٹی اور کہنے لگی: اگر آپ مجھ سے بچ نکلے ہیں تو آپ کے بعد آنے والے مجھ سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8053]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8053]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل عبد الواحد بن زيد: وهو أبو عبيدة البصري، وشيخه أسلم الكوفي مجهول؛ تفرَّد بالرواية عنه عبد الواحد بن زيد وقال البزار: ليس بالمعروف، كما قال الذهبي في "الميزان"» [ترقيم الرساله 8053] [ترقيم الشركة 7955] [ترقيم العلميه 7856]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف من أجل عبد الواحد بن زيد: وهو أبو عبيدة البصري
8. إِنْ أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا
جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے بچا لیتا ہے
حدیث نمبر: 8054
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا محمد بن جَهْضَم، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن قَتَادةَ بن النُّعمان قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا أَحَبَّ الله عبدًا، حَمَاهُ الدنيا كما يَحمِي أحدُكم مريضَه الماءَ (2) " (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا (کی لذتوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8054]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8054]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في الجملة، وقد سلف الكلام عليه برقم (2007)» [ترقيم الرساله 8054] [ترقيم الشركة 7956] [ترقيم العلميه 7857]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8055
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال:"ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک پر نمایاں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کاش آپ اس سے زیادہ نرم بستر اختیار فرما لیتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا لینا دینا، اور دنیا کو مجھ سے کیا سروکار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے دن میں سفر کر رہا ہو اور کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کے لیے رکے، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8055]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8055]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8055] [ترقيم الشركة 7957] [ترقيم العلميه 7858]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8056
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب (2) حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن عمرو بن مُرَّة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أن النبيَّ ﷺ قال: ما لي وللدُّنيا، مَثَلي ومَثَلُ الدنيا كَمَثَل راكبٍ قالَ في [ظلِّ] (3) شجرةِ في يومٍ صائفٍ، فراحَ وتَرَكَها (4) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق، میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جس نے گرمی کے دن میں کسی درخت کے سائے تلے قیلولہ (آرام) کیا، پھر وہاں سے چل دیا اور اسے وہیں چھوڑ دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8056]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،والمسعودي» [ترقيم الرساله 8056] [ترقيم الشركة 7958]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8057
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ وأبو الحسن علي بن بُنْدار الزاهد، قالا: أخبرنا أبو العبّاس محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا إبراهيم بن عمرو (5) السَّكسكي، حدثنا أبي، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن طلبَ ما عندَ الله كانت السماءُ ظِلالَه، والأرضُ فِراشَه، لم يَهتَمَّ بشيءٍ من أمر الدنيا؛ فهو لا يَزرَعُ الزرعَ، وهو يأكلُ الخبزَ، وهو لا يَغرِسُ الشجرَ، ويأكلُ الثمار، توكُّلًا على الله تعالى، وطلبَ مَرْضاته، فضَمَّنَ الله السماواتِ السبعَ والأرضينَ السبعَ رِزقَه، فهم يَتعَبونَ فيه، ويأتُون به حلالًا، ويَستَوفي هو رزقَه بغير حسابٍ عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد للشاميين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7860 - بل منكر أو موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد للشاميين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7860 - بل منكر أو موضوع
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس ثواب کا طلبگار ہو جو اللہ کے پاس ہے تو آسمان اس کا سایہ اور زمین اس کا بستر بن جاتی ہے، وہ دنیا کے کسی معاملے کی فکر نہیں کرتا؛ وہ کھیتی نہیں اگاتا لیکن روٹی کھاتا ہے، وہ درخت نہیں لگاتا لیکن پھل کھاتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی رضا کی طلب کی بدولت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو اس کے رزق کا ضامن بنا دیتا ہے، پس وہ لوگ اس کے رزق کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور اسے حلال طریقے سے اس تک پہنچاتے ہیں، اور وہ اپنا رزق اللہ کے ہاں بغیر کسی حساب کے پورا پورا پاتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔“
شامی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8057]
شامی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8057]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، ومتنه منكر، قال ابن حبان في "المجروحين" 1/ 112: إبراهيم بن عمرو بن بكر السكسكي يروي عن أبيه الأشياء الموضوعة التي لا تعرف من حديث أبيه، وأبوه أيضًا لا شيء في الحديث، فلست أدري أهو الجاني على أبيه أو أبوه الذي كان يخصُّه بهذه الموضوعات» [ترقيم الرساله 8057] [ترقيم الشركة 7959] [ترقيم العلميه 7860]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
9. حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ
دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے
حدیث نمبر: 8058
أخبرنا أحمد (2) بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُرَيح بن عُبيد: أَنَّ أبا مالك الأشعري لما حَضَرتَه الوفاةُ قال: يا معشرَ الأشعريِّين، ليبلِّغِ الشاهدُ منكم الغائبَ، أنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"حُلوة الدنيا مُرَّة الآخرة، ومُرَّة الدنيا حُلْوةُ الآخرة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7861 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7861 - صحيح
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! تم میں سے جو موجود ہے وہ یہ بات غائب لوگوں تک پہنچا دے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے، اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8058]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8058]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد روايته عن أبي مالك الأشعري منقطعة مرسلة فيما قال أبو حاتم الرازي أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، وصفوان بن عمرو: هو السكسكي» [ترقيم الرساله 8058] [ترقيم الشركة 7960] [ترقيم العلميه 7861]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
10. النَّهْيُ عَنِ الرِّيَاءِ
ریاکاری (دکھاوے) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8059
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن المغيرة الخُراساني، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"بَشِّرْ هذه الأمَّةَ بالسَّناءِ والرِّفعةِ والنَّصرِ والتَّمكينِ في الأرض، ومن عَمِلَ منهم عملَ الآخرةِ للدنيا لم يكن له في الآخرة نصيبٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7862 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7862 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کو بلندی، رفعت، نصرت اور زمین میں غلبہ و اقتدار کی خوشخبری دے دو، اور (یاد رکھو کہ) ان میں سے جس شخص نے آخرت کا کوئی عمل دنیا (حاصل کرنے) کے لیے کیا تو آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8059]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8059]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، المغيرة الخراساني هو المغيرة بن مسلم القسملي، وأبو العالية: هو رُفيع بن مِهْران الرِّياحي» [ترقيم الرساله 8059] [ترقيم الشركة 7961] [ترقيم العلميه 7862]
الحكم على الحديث: إسناده قوي