🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8040
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير (4) ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أبو عامر الخزَّاز، عن كثير بن شِنْظير، عن الحسن، عن عمران بن حصين قال: ما خَطَبَنا رسولُ اللهِ ﷺ خُطبةً إِلَّا أَمَرَنا بالصدقة، ونهانا عن المُثْلة، قال: وقال:"إِنَّ مِن المُثْلِةِ أَن يَخزِمَ أَنفَه، وإنَّ من المُثْلِةِ أن يَنذِرَ الرجلُ أن يَحُجَّ ماشيًا، فمن نَذَرَ أن يحُجَّ ماشيًا فليُهِدِ هَدْيًا وليَركَب" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب النذور [كتاب الرقاق]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7843 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جب بھی کوئی خطبہ دیا تو اس میں ہمیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا اور مثلہ (انسانی اعضاء کو کاٹنے یا بگاڑنے) سے منع فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: بلاشبہ (جانور یا انسان کی) ناک چھیدنا بھی مثلہ میں شامل ہے، اور کسی شخص کا یہ نذر ماننا کہ وہ پیدل حج کرے گا یہ بھی مثلہ (جسم کو بلاوجہ مشقت میں ڈالنا) ہے، پس جس نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہو اسے چاہیے کہ وہ ہدی (قربانی کا جانور) ذبح کرے اور (حج کے لیے) سوار ہو کر جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8040]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: "إنَّ من المثلة … إلخ"، وهذا إسناد ضعيف، أبو عامر الخزاز وهو صالح بن رستم» [ترقيم الرساله 8040] [ترقيم الشركة 7942] [ترقيم العلميه 7843]

الحكم على الحديث: صحيح دون قوله: "إنَّ من المثلة … إلخ"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8041
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر (1) ، عن الوليد بن عمران (2) ، عن عمرو بن مُرَّة الجَمَلي، عن معاذ بن جَبَل: أنه قال لرسول الله (3) ﷺ حين بعثَه إلى اليمن: يا رسولَ الله، أَوصِني، قال:"أخلِصْ دينَك، يَكفِكَ العملُ القليلُ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7844 - غير صحيح
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے دین کو (ریاکاری سے) خالص کر لو، تمہیں تھوڑا عمل بھی (نجات کے لیے) کافی ہو جائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8041]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعمرو بن مرة الجملي لم يدرك معاذًا» [ترقيم الرساله 8041] [ترقيم الشركة 7943] [ترقيم العلميه 7844]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان میں رہتے ہیں: صحت اور فرصت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8042
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مكيُّ بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هندٍ، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَتانِ مَغبونٌ فيهما كثيرٌ من الناس: الصِّحةُ والفَرَاغُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7845 - ذا في البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: ایک صحت اور دوسری فراغت۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8042]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8042] [ترقيم الشركة 7944] [ترقيم العلميه 7845]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8043
أخبرني الحسن بن حَلِيم (2) المَرْوَزي، أخبرنا أبو الموجه، أخبرنا عبدانُ [أخبرنا عبد الله بن المبارَك] (3) أخبرنا عبد الله بن أبي هند، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ لرجلٍ وهو يَعِظُه:"اغتِنمْ خمسًا قبلَ خمسٍ: شبابَك قبلَ هَرَمِكَ، وصِحَّتَك قبلَ سَقَمِك، وغِناكَ قبلَ فقرِك، وفَراغَك قبلَ شُغلِك، وحياتَك قبلَ موتِك" (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7846 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو فقر و تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8043]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن كان محفوظًا كما هو بين أيدينا في النسخ الحاضرة من "المستدرك" إلَّا أنَّ البيهقي» [ترقيم الرساله 8043] [ترقيم الشركة 7945] [ترقيم العلميه 7846]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8044
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي سَعْدَوَيهِ، حدثنا زكريا بن منظور بن ثَعلَبة بن أبي مالك، حدثنا أبو حازم، عن سهل بن سعد قال: مرَّ رسول الله ﷺ بذي الحُلَيفة، فرأى شاةً شائلةً برِجْلها، فقال:"أترَوْنَ هذه الشاةَ هيِّنةً على صاحبِها؟ قالوا: نعم، قال:"والذي نفسي بيده، لَلدُّنيا أهون على الله من هذه على صاحبِها، ولو كانت الدنيا تعدِلُ عند الله جناحَ بَعْوضةٍ ما سَقَى كافرًا منها شَرْبةَ ماء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7847 - زكريا بن منظور ضعفوه
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ کے مقام سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مری ہوئی بکری دیکھی جس کی ٹانگ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں بے قیمت اور ذلیل ہے؟ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے قیمت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ہے، اور اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل زكريا بن منظور، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8044] [ترقيم الشركة 7946] [ترقيم العلميه 7847]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الْأَنْبِيَاءُ أَشَدُّ بَلَاءً ثُمَّ الصَّالِحُونَ
انبیاء علیہم السلام پر سب سے سخت آزمائش آتی ہے، پھر نیک لوگوں پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8045
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا بشر بن موسى، حدثنا خالد بن خِدَاش بن عَجْلان المُهلَّبي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: دخلتُ على النبيِّ ﷺ وهو محمومٌ، فوضعت يدي من فوقَ القَطِيفة، فوجدتُ حرارةَ الحُمَّى، فقلت: ما أَشدَّ حُمَّاك يا رسولَ الله! قال:"إِنَّا كذاكَ معشرَ الأنبياء، يُضاعَفُ علينا الوجعُ ليُضاعَفَ لنا الأجرُ" قال: فقلتُ: يا رسولَ الله، أيُّ الناس أشدُّ بلاء؟ قال:"الأنبياءُ" قلتُ: ثم مَن؟ قال:"ثمَّ الصالحون، إنْ كان الرجلُ لَيُبتَلى [بالفقر حتى (1) ، ما يجدُ إِلَّا العَبَاءةَ فيَجُوبُها ويَلْبَسُها، وإن كان أحدُهم لَيُبتَلى] بالقَمْل حتى يقتلَه القملُ، وكان ذلك أحبَّ إليهم من العَطاءِ إليكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، میں نے اپنا ہاتھ کمبل کے اوپر رکھا تو مجھے بخار کی تپش محسوس ہوئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو کتنا شدید بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت کا حال ایسا ہی ہوتا ہے، ہم پر تکلیف و بیماری دوگنی کر دی جاتی ہے تاکہ ہمارے لیے اجر و ثواب بھی دوگنا کر دیا جائے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کی، میں نے عرض کی: پھر کن کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں کی، بلاشبہ (پچھلی امتوں میں) کسی شخص کو فقر و فاقہ کے ذریعے آزمایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے ایک کمبل کے سوا کچھ میسر نہ ہوتا جسے وہ پھاڑ کر (بجائے لباس کے) پہن لیتا، اور ان میں سے کوئی جوؤں کے ذریعے آزمایا جاتا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتیں، اور ان بزرگوں کو آزمائش و بلا (اس قدر) پسند تھی جتنا تمہیں مال و عطا پسند ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8045]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد، كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (120)» [ترقيم الرساله 8045] [ترقيم الشركة 7947] [ترقيم العلميه 7848]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8046
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وإبراهيم بن إسماعيل القارئ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوَحَاظي، حدثنا أبو إسماعيل السَّكُوني قال: سمعتُ مالكَ بن أدَّى (3) يقول: سمعت النُّعمان بن بَشِيرٍ يقول وهو على المنبر: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ألا إنه لم يبق من الدنيا إِلَّا مثلُ الذُّباب تَمُورُ في جَوِّها، فاللهَ الله في إخوانِكم من أهل القُبور، فإِنَّ أعمالَكم تُعرَضُ عليهم" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7849 - فيه مجهولان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آگاہ رہو! دنیا میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا مگر اتنا ہی جیسے وہ مکھیاں جو فضا میں ادھر ادھر اڑ رہی ہوں، پس اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو جو قبروں والے ہیں (یعنی فوت ہو چکے ہیں)، کیونکہ تمہارے اعمال ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8046]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو إسماعيل السكوني وشيخه مالك بن أدى مجهولان قاله أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 9/ 336، وبهما أعلَّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8046] [ترقيم الشركة 7948] [ترقيم العلميه 7849]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. قَلْبُ ابْنِ آدَمَ مِثْلُ الْعُصْفُورِ يَتَقَلَّبُ
ابن آدم کا دل چڑیا کی طرح ہے جو مسلسل بدلتا (الٹتا پلٹتا) رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8047
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثني سُوَيد بن سعيد، حدثني بَقيَّة بن الوليد، عن بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي عُبيدة بن الجرَّاح، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ قلب ابن آدم مثلُ العُصفور، يتقلَّبُ في اليوم سبعَ مرّات" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7850 - فيه انقطاع
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابنِ آدم کا دل ایک چڑیا کی مانند ہے جو دن میں سات مرتبہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8047]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، خالد بن مَعْدان لم يدرك أبا عبيدة بن الجراح، وبقية بن الوليد فيه ضعف مدلِّس وقد عنعن، ثم قد خالفه من هو أوثق منه فوَقَفه على أبي عبيدة، كما سيأتي، وسُويد بن سعيد فيه ضعف لكنه متابع» [ترقيم الرساله 8047] [ترقيم الشركة 7949] [ترقيم العلميه 7850]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8048
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو عَقيل الثَّقفي، عن بُرْد (1) بن سِنَان، حدثنا بُكَير بن فَيروز يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن خَافَ أدلجَ، ومن أدلَجَ بَلَغَ المنزل، ألا إِنَّ سِلْعَةَ الله غاليةٌ، ألا إِنَّ سِلْعَةَ الله غاليةٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7851 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (دشمن کے حملے سے) ڈرتا ہے وہ رات کے ابتدائی حصے میں ہی (سفر پر) نکل پڑتا ہے، اور جو وقت پر نکل پڑتا ہے وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے، آگاہ رہو! اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، خبردار! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے (اور وہ جنت ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8048]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله بما بعده، وهذا إسناد ضعيف من أجل يزيد بن سنان وهو التميمي» [ترقيم الرساله 8048] [ترقيم الشركة 7950] [ترقيم العلميه 7851]

الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله بما بعده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8049
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن الهِلَالي حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفَيل بن أُبي (3) بن كعب، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن خَافَ أَدلَجَ، ومن أدلَجَ بلغَ المنزل، ألا إِنَّ سِلعةَ الله غاليةٌ، ألا إِنَّ سِلعةَ الله غاليةٌ؛ الجنةُ. جاءتِ الراجفةُ تَتْبَعُها الرادِفةُ، جاء الموتُ بما فيه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7852 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خوف کھاتا ہے وہ رات کے پہلے پہر ہی کوچ کر جاتا ہے، اور جو کوچ کر جائے وہ منزل کو پا لیتا ہے، آگاہ رہو! اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، یاد رکھو! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے اور وہ جنت ہے؛ لرزا دینے والی (قیامت) آگئی جس کے پیچھے ایک اور لرزہ طاری کرنے والی ہے، موت اپنی تمام تر سختیوں کے ساتھ آپہنچی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8049]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله بما قبله من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل» [ترقيم الرساله 8049] [ترقيم الشركة 7951] [ترقيم العلميه 7852]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں