🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب النَّهْىِ عَنْ كَثِيرٍ، مِنَ الإِرْفَاهِ
باب: (کبھی کبھار کنگھی کرنے کا بیان)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پابندی سے) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4159]
سیدنا عبداللہ مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس کے کہ ایک دن چھوڑ کر ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/اللباس 22 (1756)، سنن النسائی/الزینة 7 (5059)، (تحفة الأشراف: 9650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (756 ا) نسائي (5058)
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
وحديث النسائي (8/ 132 ح 5061 وسنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4160
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْأَرْضِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ، قَالَ: فَمَا لِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً؟ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا".
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ (مزید) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4160]
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک آدمی سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جبکہ وہ مصر میں (امیر) تھے۔ وہاں پہنچے تو ان سے کہا: میں تمہیں بلاوجہ ملنے نہیں آیا ہوں بلکہ میں نے اور تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں خوب یاد ہوگی۔ انہوں نے کہا: کون سی حدیث؟ فرمایا: فلاں فلاں! پھر کہا: اور کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ تم اس علاقے کے امیر ہو؟ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بہت زیادہ اسباب عیش جمع کرنے اور بہت زیادہ زیب و زینت سے منع فرمایا کرتے تھے۔ پھر پوچھا: کیا وجہ ہے کہ تمہارے جوتے نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی رہا کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11028)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن إياس الجريري اختلط (انظر الكواكب النيرات ص 178189 وتقدم : 1555) ولم يثبت تحديثه به قبل اختلاطه
وحديث النسائي (185/8 ح 5241) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4161
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَسْمَعُونَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ يَعْنِي التَّقَحُّلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيُّ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4161]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دنیا کا (اسباب عیش و تنعم کا) ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَلَا تَسْمَعُونَ؟ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ» کیا تم سنتے نہیں ہو؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ بلاشبہ سادگی ایمان کا حصہ ہے، بلاشبہ سادگی ایمان کا حصہ ہے۔ یعنی زیب و زینت اور تنعم کو چھوڑ دینا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے راوی حدیث کے متعلق کہا کہ یہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الزھد 4 (4118)، (تحفة الأشراف: 1745) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4118)
ابن إسحاق عنعن
وحديث الطحاوي (مشكل الآثار: 1/ 478،6/ 151) والطبراني (الكبير: 1/ 272 ح 790،وسنده حسن) يغني عنه و لفظ الطبراني: قال رسول اللّٰه ﷺ: ((إن البذاذة من الإيمان،إن البذاذة من الإيمان))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ الطِّيبِ
باب: خوشبو کا استعمال مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4162
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكَّةٌ يَتَطَيَّبُ مِنْهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشبو کی ایک ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4162]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاص مرکب خوشبو تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خوشبو لگایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (216)، (تحفة الأشراف: 1611) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4444)
أخرجه الترمذي في الشمائل بتحقيقي (215 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي إِصْلاَحِ الشَّعْرِ
باب: بالوں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4163
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ، فَلْيُكْرِمْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4163]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بال رکھے ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں بنا سنوار کر رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12691) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ،" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ، فَقَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ، كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ رِيحَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ.
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4164]
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مہندی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، کیونکہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو ناپسند تھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس عورت کا مقصد سر کے بالوں کو مہندی لگانا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 19 (5093)، (تحفة الأشراف: 17959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/117، 210) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5093)
كريمة : لم أجد من و ثقها وقال الحافظ : مقبولة (تق : 8673) أي مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي، قَالَ:" لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4165]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت تک تمہاری بیعت نہیں لوں گا جب تک کہ تم اپنی ہتھیلیوں کو رنگ نہ لو، یہ تو گویا درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17994) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟ قَالَتْ: بَلِ امْرَأَةٌ، قَالَ: لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4166]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا، اس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خط تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ ہاتھ مرد کا ہے یا عورت کا؟ اس نے کہا: عورت کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو رنگ لیتی۔ یعنی مہندی لگاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 18 (5092)، (تحفة الأشراف: 17868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/262) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5092)
صفية بنت عصمة : لا تعرف ومطيع :لين لحديث (تق : 8624،6820)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ:" إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ".
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4167]
حمید بن عبدالرحمٰن نے سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا، انہوں نے منبر پر اپنے محافظ کے ہاتھ سے بالوں کا ایک گچھا پکڑا اور کہا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی چیزوں سے منع فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل تبھی ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے ان کا استعمال شروع کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3468)، واللباس 83 (5932)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، سنن الترمذی/الأدب 32 (2781)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 13 (5247)، (تحفة الأشراف: 11407)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الشعر 1 (2)، مسند احمد (4/95، 97، 98) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3468) صحيح مسلم (2127)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4168]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر جو کسی کے بالوں میں بال جوڑے اور اس عورت پر جو یہ کام کروائے، اور اس عورت پر جو جسم گودے اور اس پر جو اپنا جسم گدوائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2783)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 17 (5253)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1987)، (تحفة الأشراف: 8137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں میں اور بال ملا کر لمبے کرنا اور اپنا بدن گودوانا اور اس میں نیل بھرنا حرام ہے، اور جس کے بال جوڑے جائیں اور جو عورت بال جوڑے اور جو عورت اپنا بدن گودوائے اور نیل بھروائے اور جو عورت گودے اور نیل بھرے ان پر لعنت پڑتی ہے، اس لیے عورتوں کو ایسے کام کرنے اور کرانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5947) صحيح مسلم (2124)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں