الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
22. بَابُ جَوَازِ تَعْلِيقِ الْإِحْرَامِ وَهُوَ أَنْ يُحْرِمَ بِإِحْرَامٍٍ كَإِحْرَامِ فُلَانٍ فَيَصِير مُحْرِمًا بِإِحْرَامٍ مِثْلَ إِحْرَامِ فُلَانٍ
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
Chapter: It is permissible to base one's intention for Ihram on the intention of another
حدیث نمبر: 2957
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قال ابن المثنى: حدثنا محمد بن جعفر ، اخبرنا شعبة ، عن قيس بن مسلم ، عن طارق بن شهاب ، عن ابي موسى ، قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو منيخ بالبطحاء، فقال لي: " احججت؟ "، فقلت: نعم، فقال: " بم اهللت؟ "، قال: قلت: لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " فقد احسنت، طف بالبيت، وبالصفا والمروة، واحل "، قال: فطفت بالبيت وبالصفا والمروة ثم اتيت امراة من بني قيس ففلت راسي، ثم اهللت بالحج، قال: فكنت افتي به الناس حتى كان في خلافة عمر رضي الله عنه، فقال له رجل: يا ابا موسى او يا عبد الله بن قيس رويدك بعض فتياك، فإنك لا تدري ما احدث امير المؤمنين في النسك بعدك، فقال: يا ايها الناس من كنا افتيناه فتيا فليتئد فإن امير المؤمنين قادم عليكم فبه فائتموا، قال: فقدم عمر رضي الله عنه، فذكرت ذلك له، فقال: إن ناخذ بكتاب الله فإن كتاب الله يامر بالتمام، وإن ناخذ بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يحل حتى بلغ الهدي محله،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: " أَحَجَجْتَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَقَدْ أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ "، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ،
‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ بٹھائے ہوئے بطحائے مکہ میں تھے اور مجھ سے فرمایا: تم نے حج کی نیت کی؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا احرام باندھا؟ میں نے عرض کی کہ میں نے کہا: لبیک مانند لبیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا خوب کیا، اب بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کا اور احرام کھول ڈالو۔ اس لیے کہ ان کے ساتھ ہدی تو تھی ہی نہیں، پھر میں نے طواف کیا بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا اور قبیلہ بنی قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے سر کی جوئیں دیکھ دیں، پھر میں نے حج کی لبیک پکاری اور میں لوگوں کو بھی فتویٰ دیتا تھا (کہ جو حج کو آئے بے ہدی کے وہ عمرہ کر کے احرام کھول ڈالے پھر یوم الترویہ میں حج کا احرام باندھ لے) یہاں تک کہ جب خلافت ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تو ایک شخص نے مجھ سے کہا: اے ابوموسیٰ! یا کہا اے عبداللہ بن قیس! تم اپنے بعض فتوے کو روک رکھو اس لیے کہ تم کو معلوم نہیں کہ امیرالمؤمنین نے کون سی نئی بات نکالی نسک میں تمہارے پیچھے (معلوم ہوا کہ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ خلفا کی بات کو بھی احداث جانتے تھے اور نو پیدا خیال کرتے تھے اور سنت میں داخل نہ جانتے تھے اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی جماعت تراویح جس کو آپ نے مقرر فرمایا تھا «نِعْمَتِ الْبِدْعَتهُ ھٰذهٖ» فرمایا اور یہ نہ کہا «نِعْمَتِ السُّنَةُ ھٰذهٖ» حالانکہ اصل تراویح کی سنت سے ثابت تھی بلکہ اصل جماعت کی بھی ثابت تھی مگر صرف دوام اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا اور دوام کا حکم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیا اتنے سے تغیر کو جو ان کی جانب سے تھا آپ کو پسند نہ آیا کہ اس کو سنت میں داخل کریں۔ سبحان اللہ! کیا ادب تھا صحابہ کو جناب راست مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اسی سے معلوم ہوا کہ قول صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حجت نہیں ورنہ خلفاء کی بات کو احداث نہ کہتے) تب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! جن کو میں نے فتویٰ دیا ہے (یعنی احرام کھولنے کا) تو وہ تامل کریں اس لیے کہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں سو تم ان کی پیروی کرو، کہا راوی نے پھر آئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور میں نے ان سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب پر چلیں تو وہ حکم فرماتی ہے پورا حج و عمرہ بجا لانے کا اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا جب تک قربانی نہ پہنچ گئی اپنی جگہ پر۔
حدیث نمبر: 2958
Save to word اعراب
وحدثناه عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة في هذا الإسناد نحوه.وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
‏‏‏‏ شعبہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2959
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الرحمن يعني ابن مهدي ، حدثنا سفيان ، عن قيس ، عن طارق بن شهاب ، عن ابي موسى رضي الله عنه، قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو منيخ بالبطحاء، فقال: " بم اهللت؟ "، قال: قلت: اهللت بإهلال النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " هل سقت من هدي؟ "، قلت: لا، قال: " فطف بالبيت وبالصفا والمروة، ثم حل "، فطفت بالبيت وبالصفا والمروة، ثم اتيت امراة من قومي فمشطتني وغسلت راسي، فكنت افتي الناس بذلك في إمارة ابي بكر وإمارة عمر، فإني لقائم بالموسم إذ جاءني رجل، فقال: إنك لا تدري ما احدث امير المؤمنين في شان النسك، فقلت: ايها الناس من كنا افتيناه بشيء فليتئد فهذا امير المؤمنين قادم عليكم فبه، فائتموا فلما قدم، قلت: يا امير المؤمنين ما هذا الذي احدثت في شان النسك؟، قال: إن ناخذ بكتاب الله فإن الله عز وجل قال: واتموا الحج والعمرة لله سورة البقرة آية 196 وإن ناخذ بسنة نبينا عليه الصلاة والسلام فإن النبي صلى الله عليه وسلم لم يحل حتى نحر الهدي،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ؟ "، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ "، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي، فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ، فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ، فَائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ؟، قَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ سورة البقرة آية 196 وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ،
‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے (یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا اہلال کیا تم نے؟ میں نے عرض کی جو اہلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔ اور میں نے طواف کیا ویسا ہی پھر میں ایک عورت کے پاس آیا اپنی قوم کی اس نے میرے سر میں کنگھی کر دی اور میرا سر دھویا غرض میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا آگے وہی مضمون ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 2960
Save to word اعراب
وحدثني إسحاق بن منصور ، وعبد بن حميد ، قالا: اخبرنا جعفر بن عون ، اخبرنا ابو عميس ، عن قيس بن مسلم ، عن طارق بن شهاب ، عن ابي موسى رضي الله عنه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني إلى اليمن، قال: فوافقته في العام الذي حج فيه، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا ابا موسى كيف قلت حين احرمت؟ "، قال: قلت: لبيك إهلالا كإهلال النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " هل سقت هديا؟ "، فقلت: لا، قال: " فانطلق فطف بالبيت وبين الصفا والمروة، ثم احل "، ثم ساق الحديث بمثل حديث شعبة وسفيان.وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ "، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہوا اتنی بات زیادہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کو بھیجا تھا اور میں اس سال آیا جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا آگے وہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
حدیث نمبر: 2961
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قال ابن المثنى: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن الحكم ، عن عمارة بن عمير ، عن إبراهيم بن ابي موسى ، عن ابي موسى ، انه كان يفتي بالمتعة، فقال له رجل: رويدك ببعض فتياك، فإنك لا تدري ما احدث امير المؤمنين في النسك بعد، حتى لقيه بعد فساله، فقال عمر : " قد علمت ان النبي صلى الله عليه وسلم قد فعله واصحابه، ولكن كرهت ان يظلوا معرسين بهن في الاراك، ثم يروحون في الحج تقطر رءوسهم ".وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے متعہ کا (جیسا اوپر گزرا کہ حج کو عمرہ کر کے فسخ کر ڈالنا اور پھر یوم الترویہ میں حج کا احرام باندھنا) تو ایک شخص نے کہا: تم اپنے بعض فتوے کو روک رکھو اس لیے کہ تم کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین نے کون سی نئی بات نکالی نسک میں۔ پھر وہ ملے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کیا اور ان کے اصحاب نے ایام حج میں مطلق عمرہ بجا لانے کو اور پھر اس سال حج کرنے کو بھی متعہ کہتے ہیں۔ مگر میں جو منع کرتا ہوں تو اس لیے کہ مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ عورتوں کے ساتھ شب باشی پیلو کے درختوں میں کریں۔ پھر حج کو جائیں کہ ان کے سر سے پانی ٹپکتا ہو (اور اس حال میں عرفات کو جائیں)۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.